نماز میں ناف سے نیچے ہاتھ باندھنے سے متعلق ۔حدیث علیؓ۔کے راوی ۔عبد الرحمان بن اسحاق ۔پر کچھ بحث

'متن الحدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن عثمان, ‏اپریل 12, 2016۔

  1. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    208
    موصول پسندیدگیاں:
    200
    صنف:
    Male
    نماز میں ناف سے نیچے ہاتھ باندھنے سے متعلق ۔حدیث علیؓ۔کے راوی ۔عبد الرحمان بن اسحاق ۔پر کچھ بحث

    حدثنا أبو معاوية عن عبد الرحمن بن إسحاق عن زياد بن زيد السوائي عن أبي جحيفة عن عليؓ قال
    من سنة الصلاة وضع الأيدي على الأيدي تحت السرر
    (المصنف ابن ابی شیبۃ)

    اس حدیث کےایک راوی عبد الرحمٰن بن اسحاق واسطی پر جرح ہے ۔
    محترم اشماریہ بھائی کے سوال پہ ۔کچھ تحقیق کرنے لگا تو بات بہت طویل ہوگئی ۔۔۔اس کے نتیجے میں یہ بے ترتیب مضمون مرتب ہوگیا۔۔

    اس بار ے میں کچھ عرض کرنے سے پہلے ایک بات خاص طور پہ یاد رکھیے گا کہ ۔۔۔اس مسئلے میں ۔۔۔ ۔۔میرے نزدیک میرے جیسے عامی جاہل کا اس بارے میں کلام کرنا جائز نہیں ۔۔۔۔لیکن پھر بھی اس لئے اس میں جرات کی ہے ۔۔۔کہ یہ مسئلہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ۔۔کوئی نئی بات میں ثابت نہیں کرنے لگا۔۔۔یہ ثابت شدہ مسئلہ ہے ۔۔۔میرے کلام کرنے سے اس میں کوئی کمی یا اضافہ نہیں ہوگا۔۔۔

    تحت السرۃ ۔۔۔پر سلف و خلف کا شرقاََ غرباََ عمل ہے ۔۔۔
    اور مجھے یہی رائے بہتر لگتی ہے کہ حدیث علیؓ ۔۔۔حسن ہے ۔۔اور اس کی تائید میں کئ روایات ہیں ۔

    ۱۔ ، حدیث وائلؓ۔۔۲ مختلف روایتوں سے ، حدیث ابی ہریرۃؓ ، حضرت علی ؓ سے مروی دو اور روایتیں ۔حدیث انسؓ وغیرہ
    ۲۔ تعامل امت میں صرف دو ہی طریقے رائج رہے ۔۔۔فوق السرۃ اور تحت السرۃ۔۔یا دونوں میں اختیار
    ۳۔ ائمہ اجتہاد اور ان کے متبعین کا اس پر عمل ۔۔خصوصاََ امام ابو حنیفہؒ اور امام احمدؒ،امام سفیان ثوریؒ۔۔۔
    ایک اور مجتہد اور محدث امام اسحاقؒ کا اس کو حدیث کے لحاظ سے قوی کہنا۔
    ۴۔ اس بارے میں کبار تابعین سے صحیح سند سے روایات اور ان کا عمل موجود ہیں ۔
    ۵۔ اس کی روایات صحت میں اور عمل میں اور تعداد میں دوسری روایات سے زیادہ۔۔

    کہنے کا مقصد ہے یہ چیز ثابت شدہ ہے ۔۔۔اس لئے میں اس میں ویسے ہی علمی گفتگو کے لئے کلام کر رہا ہوں ۔۔۔اور اس میں میری جہالت کی وجہ سے غلطی ہونے کابھی کافی امکان ہے ۔

    ویسے تو آپ کے سامنے مجھ سے زیادہ بہتر حوالے موجود ہوں گے ۔۔۔اس کی دلیل اوپر کا آپ کا مضمون ہے ۔۔۔میں اس بارے میں کیا نئی با ت کرسکوں گا۔ لیکن کچھ نئے انداز سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس بارے میں صرف جارحین اور معدلین کے عدد سے ہی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔۔۔خصوصاََ ’’فی الباب‘‘
    سلف کے اصول حدیث آج کل سے بہت مختلف نظر آتے ہیں ۔۔آج کل تو اصول حدیث کا وہ حال کر دیا گیا ہے کہ کیا کہیں ۔۔۔

    بہت کوشش کی کہ جواب مختصر دے دیا جائے لیکن۔۔۔
    اس بارے میں لکھنے کے لئے کتب دیکھنے لگا تو ۔۔۔ایک دو حوالوں میں ہی پھنس کر رہ گیا۔۔۔طوالت اختیار کرگیا۔۔۔

    مختصراََ یہ کہ عبد الرحمان بن اسحاقؒ ۔۔۔ابو شیبہ واسطی ۔۔۔حسن الحدیث ہے ۔۔۔اور اس کی یہ حدیث حسن ہے ۔۔۔
    اور اکثر کے نزدیک ۔۔۔ تصریحاََ نہیں عملاََ۔۔۔فی الباب سب سے صحیح ہے ۔


    عبد الرحمٰن بن اسحاق واسطی جس پر کلام کرنا ہے ۔۔۔ اس پر تعدیلی اقوال سے زیادہ اس پہ جروح کو دیکھنا پڑے گا۔۔۔
    جروح زیادہ تر تو نقل در نقل ہوئی ہیں ۔۔۔اس میں بنیادی طور پہ دیکھنا ہے کہ ان پر جرح ہے کیا اور کسی نے مفسر جرح بھی کی ہے ۔
    تو بعد کے علما جن کی جرح مفسر نہیں ان پر فی الحال گفتگو رہنے دیں ۔۔۔تمام جروح کو آپ غور سے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ مرکزی جرح امام احمد بن حنبلؒ کی ہے ۔۔۔اور بظاہر مفسر بھی ہے ۔۔۔اس لئے اس پر گفتگو کرتے ہیں۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۱۔ امام احمدبن حنبلؒ ۔۔۔

    اس بارے میں کچھ حوالے ۔۔۔جامع العلوم امام احمدؒ ۔۔ج۱۷ سےپیش کرتا ہوں آپ اس پہ مجموعی حوالے سے غور کریں ۔۔۔
    امام احمد ؒ کے سامنے دو راوی ہیں ۔۔۔ایک عبد الرحمٰن بن اسحاق مدنی ۔۔۔۔او ر ایک عبد الرحمٰن بن اسحاق واسطی۔۔۔۔یہ واسطی ۔۔تحت السرۃ ۔۔۔کا راوی ہے ۔ان پر امام احمدؒ کے اقوال ملاحظہ ہوں۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (۱)۔ عبد الرحمٰن بن اسحاق مدنی
    ۱۔ليس به باس
    ٢۔ یہ مدنی ہے ۔۔واسطی سے اوپر ہے ۔۔اور ابی الزناد سے مدنی روایت کرتا ہے ۔۔
    ۳۔ صالح الحدیث
    ۴۔ لیس بہ باس
    ۵۔ یہ ابی الزناد سے احادیث منکرۃ روایت کرتا ہے ۔۔۔۔صالح الحدیث ہے ۔
    ۶۔ رجل صالح ۔ مقبول

    خلاصہ ۔۔۔عبد الرحمٰن بن اسحاق مدنی ثقہ راوی ہے اور عبد الرحمان بن اسحاق سے زیادہ قوی ہے ۔۔۔
    لیکن ابی الزناد سے احادیث منکرۃ روایت کرتا ہے ۔

    نوٹ ۔ یہ صحیح مسلم کابھی راوی ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (۲)۔ عبد الرحمٰن بن اسحاق واسطی۔۔راوی حدیث ۔۔۔تحت السرۃ
    ۱۔منکر الحدیث
    ۲۔ضعیف
    ۳۔نعمان بن سعد الذی یحدث عن علی۔۔۔مقارب الحدیث لا باس بہ ۔ولکن الشأن في عبد الرحمن بن اسحاق ..لہ احادیث مناکیر
    ۴۔قال ابو داود۔۔احمد یضعف عبد الرحمٰن

    ۵۔ عبد اللہ بن احمدبن حنبل نے امام احمدؒ سے جو رائے نقل کی ہے وہ یہ ہے ۔
    ایک روایت میں متروک کہا ۔۔لیکن اس کی مراد واضح نہیں ۔۔۔اور یہ مطلق متروک نہیں ۔دوسری روایت میں تفصیل ہے
    انہوں نے والد سے اس راوی کے بارے میں پوچھا۔۔تو انہوں نے فرمایا کہ یہ ابوشیبہ واسطی ہے اور اس سے ابن ادریس ، ابومعاویہ اور ابن فضیل روایت کرتے ہیں ۔اور۔۔
    وھو الذی یحدث عن النعمان بن سعد عن المغیرہ ۔۔۔احادیث مناکیر۔
    لیس ھو بذاک فی الحدیث
    اور مدنی(جو دوسرا راوی ہے) وہ مجھے اس واسطی سے زیادہ پسند (اعجب إلي)ہے ۔

    خلاصہ۔۔۔۔اس میں ضعیف، لیس بذاک ، متروک۔۔میں وجہ بیان کوئی نہیں ہوئی یعنی مفسر نہیں ۔ ۔۔۔

    دوسری روایتوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ منکر روایتیں بیان کرتا ہے ۔۔۔خاص طور پہ جو یہ نعمان بن سعد سے بیان کرے ۔۔۔
    اس پہ یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ ۔۔۔تحت السرۃ والی روایت بھی ۔۔۔نعمان سے ہے ۔۔۔
    لیکن اول تو اس کی دوسری سند بھی ہے جس میں نعمان بن سعد نہیں ۔۔۔جو کہ مسند احمد میں ہے اگرچہ وہ زوائد عبد اللہ بن احمد ۔۔۔میں سے ہے لیکن
    مسائل امام احمد بروایت عبد اللہ میں وہ امام احمدؒ سے ہی روایت ہے ۔

    اور یہ دونوں سندیں ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں ۔

    دوسرا امام احمد ؒ نے جو یہ فرمایا کہ احادیث مناکیر۔۔۔تو وہ مطلق نعمان کی روایت نہیں بلکہ واسطی عن نعمان عن المغیرہ ؓکی سند میں ہے ۔۔۔نعمان عن علی ؓ کی سند میں نہیں
    ورنہ ان کے بیٹے
    عبد اللہ بن امام احمدؒ نے زوائد مسند احمد میں۔۔۔
    ۷یا ۸ روایات عبد الرحمٰن بن اسحاق عن نعمان بن سعد ۔۔کی سند سے بیان کی ہیں ۔۔۔
    دوسرے محدثین کی اصطلاح سے قطع نظر امام احمدؒ کی منکر کی اصطلاح مختلف ہے ۔
    ثقہ کے تفرد پر بھی منکر کا اطلاق کرتے ہیں ۔
    جیسا کہ اوپر عبد الرحمٰن بن اسحاق مدنی ۔۔۔ثقہ راوی پر بھی فلاں سند سے منکر روایات کی جرح کی۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس معاملے میں کامل ابن عدی کو بھی دیکھیں ۔۔مختلف تراجم میں عبد الرحمٰن واسطی کا ذکر ہے ۔۔۔

    ۱۔ إسحاق بن الحارث الكوفي.کے ترجمہ میں

    قال البُخارِيّ: إسحاق بن الحارث الكوفي روى عنه ابنه عَبد الرحمن، وَعَبد الرحمن ضعفه أحمد.
    قال الشيخ: وهذا الذي قاله البُخارِيّ من ذكر عَبد الرحمن هو عَبد الرحمن بن إسحاق الكوفي، يُكَنَّى أبا شيبة، يحدث عن النعمان بن سعد عَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّه عليه وسلم بأحاديث لاَ يُتَابَعُ عَليها،
    وعَبد الرحمن أشهر من أبيه إسحاق وأكثر رواية


    اس میں بھی ضعفہ احمد تو ہے ۔۔۔لیکن آگے اس کی وضاحت ابن عدی نے کی کہ ۔۔۔نعمان بن سعد عن علیؓ والی سند سے احادیث میں اس کے متابع نہیں ہیں ۔
    ابھی اس کی روایات کا تتبع نہیں کیا۔۔۔شاید یہ بھی دعوی صحیح نہ ہو۔۔۔
    لیکن ۔۔۔تحت السرۃ ۔۔۔والی سند میں تو متابع ہے ۔۔۔جو کہ دونوں سندیں ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں ۔

    اور کامل ابن عدی۔۔۔میں ۔۔۔۔عبد الرحمٰن بن اسحاق مدنی کے ترجمہ میں یہ فرماتے ہیں

    وفي حديثه بعض ما ينكر، ولاَ يتابع عليه والأكثر منه صحاح، وَهو صالح الحديث كما قَالَ ابْن حنبل.

    اور واسطی کے ترجمہ میں

    وفي بعض ما يرويه لا يتابعه الثقات عليه وتكلم السلف فيه وفيمن كان خيرا منه، ومَنْ تقدم من الرجال أضعف من عَبد الرحمن بن إسحاق المديني الذي يعرف بعباد وعباد عندهم أصلح منه.

    جس کا حاصل جو مجھے سمجھ میں آتا ہے ۔۔واسطی کی کئی احادیث میں متابعت نہیں ۔۔۔تو مدنی کی بھی نہیں
    ۔۔۔مدنی صالح ہے ۔۔۔جیسا کہ احمدؒ نے کہا۔۔۔اور واسطی پہ سلف نے کلام کیا ہے (اس سے بھی مراد خصوصا احمدؒ ہیں ۔ اور ان کی جرح مطلق نہیں ۔۔۔اور باقی اگر کسی کی جرح ہے تو مفسر نہیں )
    مدنی کے مقابلے میں یہ کم درجے کا ہے اور مدنی اس سے زیادہ صالح ہے ۔
    --------------------
    ۲۔امام یحیی بن معین۔۔
    ان کی جروح کے جو الفاظ ہیں ۔۔ان میں جرح مفسر کوئی نہیں ۔یعنی وجہ بیان نہیں ہوئ۔
    بہر حال اس کی زیادہ تحقیق نہیں کی۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۳۔ امام بخاریؒ سے جرح ۔۔۔فیہ نظر ۔۔نقل کی جاتی ہے ۔۔۔
    متاخرین مختلف تشریحات سے کرتے ہیں ۔۔۔کہ یہ بہت سخت جرح ہے ۔۔۔اس سے مراد یہ ہے ۔۔۔لیکن
    تاریخ ، اور ضعفا۔۔کی مراجعت کے بعد معلوم ہوگیا کہ وہ بھی اس معاملے میں امام احمد ؒ کا ہی قول منکر الحدیث اور فیہ نظر نقل کرتے ہیں ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۴۔ ابوداؤدؒ
    انہوں نے بھی جرح امام احمد سے نقل کی ہے اپنی سنن میں
    قال أبو داود: سمعتُ أحمد بن حنبل يُضعفُ عبد الرحمن بن إسحاق الكوفي.

    اب سنن ابو داؤد میں دیکھیں تو
    وضع الیدین کی ۴ روایتیں ۔۔۔لؤلؤی کے نسخے میں تو ہے ہی نہیں ۔
    دوسری روایات میں سے اور تحفۃ الاشراف سے آج کے محققین استدراک کر دیتے ہیں ۔۔
    بہرحال ان میں کچھ اس ترتیب سے ہیں ۔

    ۱ ۔ تحت السرۃ والی حدیث ۔۔۔عبد الرحمن ابن إسحاق، عن زياد بن زيد کی سند سےمرفوع روایت بیان کی۔۔اور سکوت کیا
    ۲۔ پھر فوق السرۃ کی موقوف روایت بیان کی اور سکوت کیا۔
    ۳۔پھر فرمایا۔۔۔
    قال أبو داود: وروي عن سعيد بن جُبير: فوق السُّرَّة. وقال أبو مِجلَز: تحت السُّرَّة.
    وروي عن أبي هريرة وليس بالقوي.


    758 -۔۔۔۔۔۔عبد الرحمن ابن إسحاق الكوفي، عن سيار أبي الحكم، عن أبي وائل، قال:
    قال أبو هريرة: أخذُ الأكُفِّ على الأكف في الصلاة تحتَ السُّرَّة
    قال أبو داود: سمعتُ أحمد بن حنبل يُضعفُ عبد الرحمن بن إسحاق الكوفي.


    اب ادھر جو جرح کی اس کو ۲ روایتیں پہلے کی روایت سے جوڑنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ ورنہ پہلی روایت پہ ہی فرما دیتے کہ ۔۔روی عن علیؓ و لیس بالقوی۔۔لیکن انہوں نے ابو ہریرہؓ والی روایت کے طریق پر عبد الرحمن پر اعتراض کیا۔۔۔

    جیسا کہ آپ میری پوری بحث میں دیکھ رہے ہیں ۔۔کہ عبد الرحمٰن ضعیف مطلق نہیں ۔۔۔بعض اسانید کے طریق میں ہے
    چناچہ ابوداود ؒ کی بھی یہی مراد ہوگی ۔
    اور ۔۔امام احمد ؒ سے جو یضعف نقل کیا۔۔وہ بھی اس کی تائید کرتا ہے ۔۔کیونکہ امام احمدؒ پر ہم بحث کر آئے ہیں ۔۔واللہ اعلم

    اور چلتے چلتے ایک اور چیز جو نظر پڑی ۔۔کہ یہ میں شیخ شعیب ارنووط جو آج کل بڑے محقق ہیں ۔۔ان کی تحقیق ابو داؤد سے نقل کر رہا ہوں ۔تو میں نے دیکھا کہ انہوں نے تحت السرۃ والی کی تخریج میں نعمان بن سعدؒ کو مجہول کہہ دیاہے ۔۔جو کہ غلط ہے ۔۔۔امام احمد ؒ نے ان کی توثیق کی ہے ۔۔۔جیسا کہ اوپر نقل کیا۔۔ نعمان بن سعد الذی یحدث عن علی۔۔۔مقارب الحدیث لا باس بہ۔

    اور ذہبیؒ نے کاشف میں ۔۔۔وثق۔۔۔سے ذکر کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    الغرض۔۔۔امام احمدؒ ۔۔۔واحد ہیں جن کی جرح مفسر نظر آتی تھی ۔۔یعنی ۔۔۔منکر الحدیث ۔۔۔تو اوپر کی تحقیق سے یہ بظاہر سامنے آتا ہے کہ ان کے نزدیک عبد الرحمن بن اسحاق واسطی ۔۔اتنا قوی راوی نہیں لیکن ۔۔۔مطلقاََ ضعیف بھی نہیں ہے ۔۔۔اسی لئے وہ مدنی ثقہ(صحیح مسلم کا بھی راوی) انہیں واسطی کے مقابلے میں زیادہ پسند ہے ۔۔اب یہ پسند اور ناپسند میں تقابل نہیں بلکہ زیادہ پسند۔۔۔اور پسند میں تقابل ہے ۔۔۔ ۔

    اور اس حدیث کو ان کے بیٹے ۔۔مسائل احمد برویات عبد اللہ میں بطور دلیل پیش کرتے ہیں ۔۔۔

    اگرچہ امام احمد کے نزدیک اس مسئلہ میں وسعت ہے ۔۔۔لیکن ان کی تحت السرۃ والی روایت ہی بعد میں حنابلہ نے ترجیح دی

    ان کے سب سے مشہور متن ۔۔الخرقی۔۔میں یہی بیان ہوئی۔۔۔اور ان کی مذہب کی سب سے قوی کتاب ۔۔۔الخرقی کی شرح المغنی ابن قدامہ میں یہی روایت دلیل کے طور پر بیان ہوئی ۔۔۔

    ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ ۔۔شرح عمدۃ الفقہ۔ ۔۲۔ ۶۶۲میں فرمایا ہے ۔۔
    ويجعلهما تحت سرته, أو تحت صدره, من غير كراهةٍ لواحدٍ منهما, والأول أفضل في إحدى الروايات عنه, اختارها الخرقي والقاضي وغيرهما. رواه أحمد وأبو داود والدارقطني عن أبي جحيفة قال: قال علي رضي الله عنه: «إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ وَضْعُ الأَكُفِّ تَحْتَ السُّرَّةِ» , ويذكر ذلك من حديث ابن مسعودٍ عن النبي صلى الله عليه وسلم, وقد احتج به الإمام أحمد.

    وروى ابن بطة عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: «مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الصَّلاَةِ تَحْتَ السُّرَّةِ» , والصحابي إذا قال: «السنة» انصرف إلى سنة النبي صلى الله عليه وسلم,


    حافظ ابن تیمیہؒ نے نہ صرف بغیر جرح کئے خود استدلال کیا ہے ۔۔۔بلکہ احتج بہ الامام احمد ۔۔۔بھی فرمایا ہے ۔۔

    اسی روایت کو حافظ ابن قیمؒ نے ۔۔صحیح حدیث علیؒ۔۔۔فرمایا۔۔۔

    مولانا سرفرازصفدرؒ نے خزائن السنن میں تحت السرۃ کے دلائل دیتے ہوئے حدیث علیؓ کے متعلق جو یہ فرمایا کہ ہم نے عبد الرحمن بن اسحاق والی ضعیف سند پیش نہیں کی بلکہ ابن قیمؒ کا حوالہ پیش کیا ہے۔۔۔اور ابن قیم ؒ ۔۔کے پیش نظر کوئی اور سند ہے ۔۔۔اسی لئے انہوں نے اس کی تصحیح کی ۔۔۔(مفہوم)‘‘

    یہ میرے ذاتی خیال میں تکلف ہی ہے ۔ ۔۔

    ایسا نہیں بلکہ ابن قیمؒ کی مراد یہی سند ہے ۔۔۔اور یہ فی الباب سب سے صحیح ہے ۔۔۔

    واللہ اعلم ۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۵۔ امام اسحاق بن راہویہؒ

    انہوں نے عبد الرحمٰن بن اسحاق کی روایت اس سند سے اپنی مسند میں بیان کی ہے ۔۔

    2305 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْعَبْسَمِيَّةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔

    اگرچہ مسانید کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں صحت کا اہتمام نہیں ہوتا ۔۔۔لیکن امام احمدؒ اور امام اسحاقؒ کی مسند کے بارے میں ائمہ نے یہ کہا ہے کہ یہ دونوں ۔۔۔ایسی نہیں ہیں ۔۔۔بلکہ انہوں نے مقبول احادیث ہی روایت کی ہیں ۔۔

    اگرچہ ان میں ضعیف راوی ہوتے تو ہیں خصوصاََ مسند احمد میں ۔۔۔لیکن

    خاص اس مسئلہ میں اس کی زبردست تائید ۔۔۔اس سے ہوتی ہے کہ مسائل احمد و اسحاق بن راھویہ۲۔۳۳۲میں امام اسحاقؒ سے روایت ہے

    قال إسحاق ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔تحت السرة أقوى في الحديث وأقرب إلى التواضع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۶۔ ابن خزیمہؒ کی رائے۔۔

    انہوں نے اپنی کتاب صحیح ابن خزیمہ میں اس کی روایت بھی لی ہے اور اس پر کلام بھی کیا ہے ۔بلکہ اس کی روایت پر باب بھی قائم کیا ہے ۔

    (187) بَاب ذِكْر مَا أَعَدَّ اللَّه - جَلَّ وَعَلَا - فِي الْجَنَّةِ مِنَ الْغُرَفِ لِمُدَاوِمِ صِيَامِ التَّطَوُّعِ إِنْ صَحَّ الْخَبَر، فَإِنَّ فِي الْقَلْبِ مِنْ عَبْد الرَّحْمَن بْنِ إِسْحَاقَ أَبِي شَيْبَةَ الْكُوفِيِّ، وَلَيْسَ هُوَ بِعَبْد الرَّحْمَن بْنِ إِسْحَاقَ الْمُلَقَّبِ بِعَبَّادٍ الَّذِي رَوَى عَنْ سَعِيدِ الْمَقْبُرِيِّ وَالزُّهْرِي وَغَيْرهِمَا هُوَ صَالِحُ الْحَدِيثِ، مَدَنِيٌّ سَكَنَ وَاسِطَ، ثُمَّ انْتَقَلَ إِلَى الْبَصْرَةِ، وَلَسْتُ أَعْرِفُ ابْنَ مُعَانِقٍ وَلَا أَبَا مُعَانِقٍ الَّذِي رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ

    2136 - قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَّا خَبَر عَبْد الرَّحْمَن بْنِ إِسْحَاقَ أَبِي شَيْبَةَ، فَإِنَّ ابْنَ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَبْد الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:

    "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرَفًا يُرَى ظُهُورُهَا مِنْ بُطُونِهَا، وَبُطُونُهَا مِنْ ظُهُورِهَا".

    اس میں انہوں نے ۔۔اس راوی کی طرف سے کھٹکے کا اظہار تو کیا ہے لیکن وجہ بیان نہیں کی۔۔
    اپنی کتاب ۔۔۔التوحید ابن خزیمہ میں یہ کلام کیا ہے ۔۔۔

    وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، هَذَا هُوَ أَبُو شَيْبَةَ الْكُوفِيُّ، ضَعِيفُ الْحَدِيثِ، الَّذِي رَوَى عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَارًا مُنْكَرَةً،

    یعنی ان کا بھی اعتراض منکر اخبار روایت کرنے والا ہے ۔۔۔اس پر بحث ہو چکی
    اس کے باوجود جو اپنی صحیح میں اس کی روایت نقل کی ہے ۔۔۔تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اتنا ضعیف نہیں ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۶۔ البزارؒ ۔۲۹۲ھ ۔۔۔

    ان کی رائے ۔۔۔مسند البزار- البحر الزخار ۲۔۲۷۷

    وَمَا رَوَى النُّعْمَانُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ

    اس باب میں کئی احادیث امام بزارؒ نے ۔۔۔عبد الرحمٰن بن اسحاق عن نعمان بن سعد عن علیؓ کی سند سے روایت کیں ہیں ۔

    اور پہلی حدیث میں ہی ۔۔۔عبد الرحمٰن کی توثیق کی ہے ۔

    حدیث696 -۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّؓ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو شَيْبَةَ، وَهُوَ وَاسِطِيٌّ
    حَدَّثَ عَنْهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، وَالْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، وَمَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ
    صَالِحُ الْحَدِيثِ


    اور پھر کئی روایات اسی سند سے بیان کی ہیں ۔۔اور اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ تقریباََ تمام احادیث کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ
    لَا نَعْلَمُ يُرْوَى هَذَا ۔۔۔۔إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

    اس سے بھی ہمارے نظریے کو تقویت ملتی ہے کہ عبد الرحمٰن بن اسحاق سے کچھ منفرد احادیث مروی ہیں ۔ بعض محدثین نے اس پر ہی ان پر جرح کر دی ہے ۔آگے امام بزارؒ نے وضاحت کی ہے کہ یہ کس درجے کا ثقہ ہے ۔

    2324 - ۔۔۔۔۔۔عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْحَكَمِ، وَهُوَ ابْنُ أَخِي عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدِ اسْتَجَنَّ بِجُنَّةٍ كَثِيفَةٍ مِنَ النَّارِ مَنْ سَلَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فِي الْإِسْلَامِ» . وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا نَحْفَظُ لَهُ طَرِيقًا عَنْ عُثْمَانَ إِلَّا هَذَا، وَلَا يُحْفَظُ هَذَا اللَّفْظُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَإِنْ كَانَ قَدْ رُوِيَ نَحْوُ مَعْنَاهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وُجُوهٍ،
    وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ كُوفِيُّ يُقَالُ لَهُ أَبُو شَيْبَةَ،
    حَدَّثَ عَنْهُ مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، وَالْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَغَيْرَهُمْ،
    وَلَيْسَ حَدِيثُهُ حَدِيثَ حَافِظٍ، وَقَدِ احْتُمِلَ حَدِيثُهُ


    الغرض معمولی جرح کے ساتھ ۔۔۔وہ صالح الحدیث ہے ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    7۔ الطحاوی۳۲۱ھ

    شرح معانی الآثار ۔۔حدیث ۸۹۶

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أُمِّهَا، قَالَتْ: عَلَّمَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ , وَقَالَتْ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا أُمَّ سَلَمَةَ إِذَا كَانَ عِنْدَ أَذَانِ الْمَغْرِبِ فَقُولِي اللهُمَّ هَذَا عِنْدَ اسْتِقْبَالِ لَيْلِكَ وَاسْتِدْبَارِ نَهَارِكَ وَأَصْوَاتِ دُعَاتِكَ وَحُضُورِ صَلَاتِكَ اغْفِرْ لِي» فَهَذِهِ الْآثَارُ تَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ أَرَادَ بِمَا يُقَالُ عِنْدَ الْأَذَانِ , الذِّكْرَ فَكُلُّ الْأَذَانِ ذِكْرٌ غَيْرُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ , حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ فَإِنَّهُمَا
    بَابُ مَا يَنْبَغِي أَنْ يُقَالَ: فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ


    عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ. فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ , وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهَدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ»
    ۔۔۔۔۔۔۔۔


    قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: فَذَهَبَ قَوْمٌ إِلَى هَذِهِ الْآثَارِ إِلَى أَنَّهُ لَا بَأْسَ أَنْ يَدْعُوَ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ بِمَا أَحَبَّ , وَلَيْسَ فِي ذَلِكَ عِنْدَهُمْ شَيْءٌ مُوَقَّتٌ , وَاحْتَجُّوا فِي ذَلِكَ بِهَذِهِ الْآثَارِ.

    اس میں ان کی احادیث سے احتجاج کیا گیا ہے ۔
    اور اس کے علاوہ۔۔۔ احکام القرآن ۔۔۔ میں انہوں نے نہ صرف ۔۔تحت السرۃ کی حدیث سے استدلال کیا ۔۔۔
    بلکہ اس کو علی الصدر کی روایت پر ترجیح دی۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    الترمذیؒ۲۷۹ھ

    ان کا بھی کلام معتدل ہے ۔۔۔
    741 - ۔۔۔۔۔ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّؓ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ»

    1984 - ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

    لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ
    وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الحَدِيثِ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ هَذَا مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَهُوَ كُوفِيٌّ،
    وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ القُرَشِيُّ مَدَنِيُّ وَهُوَ أَثْبَتُ مِنْ هَذَا، وَكِلَاهُمَا كَانَا فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ

    2052 - ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ القَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ۔۔۔۔: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ

    2432 - ۔۔۔۔عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ المُغِيرَةِ ۔۔۔۔

    «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ المُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ»
    2527 - ۔۔۔عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ۔۔۔
    «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ هَذَا مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَهُوَ كُوفِيٌّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ القُرَشِيُّ مَدِينِيٌّ وَهُوَ أَثْبَتُ مِنْ هَذَا»
    2550 - ۔۔۔۔ أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ۔۔۔۔
    «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ»
    3563 - ۔۔۔۔أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَلِيٍّ۔۔۔۔
    : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

    اس کے علاوہ بھی روایتیں ہیں ۔

    سب کا حاصل یہی ہے کہ ان کے نزدیک بھی واسطی کی احادیث میں کچھ غرابت ہے (اور غرابت صحت کے منافی نہیں)۔۔۔البتہ اس پر کچھ حفظ کی وجہ سے کلام ہے ۔۔۔لیکن پھر بھی اس کی منفرد حدیث بھی حسن ہے ۔

    اور امام ترمذیؒ نے اگرچہ وضع الیدین کی کوئی حدیث تو بیان نہیں کی ۔۔۔لیکن تعامل کے اعتبار سے مذاہب صرف دو ہی بیان کئے

    فوق السرۃ اور تحت السرۃ۔۔۔اور دونوں پر عمل کرنے کی گنجائش بھی۔۔۔

    اتنے تجزیے کے بعد اب روایتی جملہ کہ ترمذی متساہل ہیں کہ کوئی معنی نہیں ۔۔جو ہم ہر جگہہ ہی بول دیتے ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    العجلىؒ۲۶۱ھ

    یعنی انہوں نے اپنی کتاب ۔۔۔الثقات۔ص۲۸۷ میں اس کا ذکر کیا

    عبد الرحمن بن إسحاق بن سعد، أبو شيبة الواسطي: ضعيف،جائز الحديث، يكتب حديثه

    یعنی مختلف فیہ ہوا۔۔مختلف فیہ حسن ہوتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    ضياء الدين المقدسي 643ھ ۔۔۔صاحب المختارۃ

    انہوں نے احادیث احکام پہ ایک کتاب لکھی ہے ۔۔جس میں بغیر سند کے احادیث روایت کی ہیں ۔۔اورپچھلی کتب کے حوالے دیتے ہیں ۔۔اس میں وہ جرح بھی پچھلے ائمہ سے ہی نقل کرتے ہیں ۔۔۔۔السنن والأحكام عن المصطفىﷺ۔۔۔۔۔ج۲۔ص۳۶

    اس میں وضع الیدین کے باب کا عنوان رکھا ہے ۔۔’’باب فی وضع الیدین فوق السرۃ او تحتھا‘‘

    اس کے تحت صرف دو حدیثیں ہی پیش کی ہیں ۔۔صحیح ابن خزیمہ کی علی الصدر والی اور اس پر جرح نقل نہیں کی ۔

    پھر عبد الرحمٰن بن اسحاق والی تحت السرۃ والی نقل کی اور اس پر امام احمدؒ ، یحییؒ کی جرح نقل کی۔۔

    اس میں غور کرنے کی بات ہے کہ علی الصدر والی سے استدلال فوق السرۃ پہ کرتے ہیں ۔۔اور تحت السرۃ والی بھی قابل احتجاج سمجھتے ہیں ۔۔جیسا کہ باب کے عنوان سے ظاہر ہے ۔۔۔

    اور پھر دوسری اور زیادہ مشہور کتاب ۔۔۔

    الأحاديث المختارة أو المستخرج من الأحاديث المختارة مما لم يخرجه البخاري ومسلم في صحيحيهما

    جس میں انہوں نے اپنی شرط پہ صحیح احادیث جمع کی ہیں جو بخاری و مسلم میں نہیں ہیں ۔

    اس میں وہ علی الصدر والی روایت نقل نہیں کرتے ۔۔جبکہ ۔۔عبد الرحمٰن بن اسحاقؒ والی ۔۔۔تحت السرۃ ۔۔کی روایت دو سندوں سے نقل کرتے ہیں ۔۔۔یعنی ان کے نزدیک صحیح اور قابل احتجاج ہیں ۔۔

    771 - أَخْبَرَنَا الُمَبَارَكُ بْنُ أَبِي الْمَعَالِي بِبَغْدَادَ أَنَّ هِبَةَ اللَّهِ أَخْبَرَهُمْ قِرَاءَةً عَلَيْهِ أَنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ أَنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَر ثَنَا عبد الله بْنُ أَحْمَدَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَسَدِيُّ لُوَيْنٌ ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ثَنَا عبد الرَّحْمَن بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ زِيَادِ بْنِ زَيْدٍ السُّوَائِيِّ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ فِي الصَّلاةِ وَضْعُ الأَكُفِّ عَلَى الأَكُفِّ تَحْتَ السُّرَّةِ

    وَرَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عبد الرَّحْمَن إِلَّا أَنه قَالَ زِيَاد بن زِيَاد

    772 - أخبرنَا الْمُؤَيد بن عبد الرَّحِيم بن الْأُخوة وَعَائِشَة بنت معمر بن عبد الْوَاحِد بْنِ الْفَاخِرِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي الرَّجَاءِ الصَّيْرَفِيَّ أَخْبَرَهُمْ قِرَاءَةً عَلَيْهِ أَنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ النُّعْمَانِ أَنا مُحَمَّدُ بن إِبْرَاهِيم بن عَليّ بن الْمُقْرِئِ أَنا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَافِعٍ الْخُزَاعِيُّ أَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْعَدَنِيُّ ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ثَنَا عبد الرَّحْمَن بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ زِيَادِ بْنِ زِيَادٍ السُّوَائِيِّ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ فِي الصَّلاةِ الْمَكْتُوبَةِ وَضْعَ الأَيْدِي عَلَى الأَيْدِي تَحْتَ السُّرَّةِ

    احادیث المختارۃ۔۔ج۲ص۳۸۶

    اور عبد الرحمان بن اسحاقؒ کی کچھ اور جگہہ بھی روایت بیان کی۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔امام حاکم ؒ اور ۔۔۔ حافظ ذہبیؒ

    ذہبی ؒ کی تمام کتب میں ۔۔۔اس راوی پر جرح ۔۔۔ ہلکی اور غیر مفسر ہے ۔۔۔ایک تو وہ خود کوئی جرح نہیں کرتے بس لفظ استعمال کرتے ہیں ۔۔۔ضعفوہ۔۔۔دوسروں سے ناقل ہیں۔

    حافظ حاکمؒ نے مستدرک میں عبد الرحمٰن بن اسحاق کی کئی احادیث کی تصحیح تو کی ہے ۔۔۔لیکن یہاں ایک اور مسئلہ درپیش ہوگیا۔۔۔

    مجھے محسوس ہورہا ہے کہ حاکمؒ کو ان دونوں راویوں میں اشتباہ ہوگیا ہے ۔۔۔کیونکہ وہ سند تو واسطی کی نقل کرتے ہیں لیکن اس میں نسبت قرشی کی ہوتی ہے ۔۔

    مثلاََ۔

    1973 - أخبرنا إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم ثنا أبي ثنا يحيى بن يحيى أنبأ أبو معاوية ثنا عبد الرحمن بن إسحاق القرشي عن سيار أبي الحكم عن أبي وائل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه

    اس حدیث میں قرشی کی نسبت صحیح نہیں بلکہ یہ واسطی ہے ۔

    کیونکہ ایک تو یہ سند کوفی ہے ۔۔۔دوسرا امام احمدؒ نے فرمایا جیسا کہ اوپر نقل کیا۔۔۔ابو معاویہ ۔۔۔واسطی سے راوی ہے ۔

    3422۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْقُرَشِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»

    قال ذہبی فی التلخیص۔۔۔ على شرط مسلم

    یہاں تو ذہبیؒ کو اشتباہ ہوگیا۔۔۔صرف نسبت کی وجہ سے ۔۔ورنہ عبد الرحمٰن عن نعمان بن سعد تو مشہور سند ہے ۔۔۔

    اور واسطی مسلم کا راوی نہیں قرشی ہے ۔

    البتہ بعد کی سند میں ذہبیؒ کو معلوم ہے ۔۔۔

    3425 - حَدَّثَنَا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْقُرَشِيُّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «الْحَدِيثُ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»

    [التعليق - من تلخيص الذهبي]

    3425 - بل عبد الرحمن لم يرو له مسلم ولا لخاله النعمان وضعفوه


    3447 - ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: خَطَبَنَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ»

    [التعليق - من تلخيص الذهبي]

    3447 - عبد الرحمن بن إسحاق كوفي ضعيف

    یہاں پہ حاکمؒ کو وہم نہیں ہوا ۔۔کیونکہ نسبت ساتھ نہیں لگائی ۔۔۔اورانہوں نے عبد الرحمٰن بن اسحاق کی حدیث کی تصحیح کی ۔اگرچہ ذہبی نے نہیں کی ۔لیکن ہلکی جرح کی ۔

    اسی طرح

    8688۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ "

    [التعليق - من تلخيص الذهبي]

    8688 - ليس بصحيح

    یہاں بھی ذہبی نے بہت ہلکی جرح کی ۔اور حاکم نے تصحیح کی۔


    خلاصہ یہ کہ حاکمؒ ان کی روایت کی تصحیح کرتے ہیں ۔۔۔

    ذہبی ؒ اگرچہ تصحیح تو نہیں کرتے لیکن بہت ہلکی جرح کرتے ہیں ۔۔اور شروع کی وہ حدیث جس میں ذہبیؒ نے واسطی کو مدنی سمجھتے ہوئے اس کی تصحیح کی اس سے یہ بات تو ثابت ہوئی کہ ذہبی ؒ کی نظر میں یہ حدیث صحیح ہی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔کیونکہ ذہبیؒ ناقد ہیں وہ صرف سند کے اشتباہ سے ہی غلطی کھا کے ایسا نہیں کرسکتے۔۔۔۔اس کی دلیل یہ ہے کہ کبھی روایت کے راوی ثقہ بھی ہوں تو ذہبیؒ حدیث پر پھر بھی جرح کرتے ہیں ۔۔۔مثلاََ

    3387 -إسناده نظيف والمتن منكر

    1027 - خبر شاذ صحيح السند

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۵۔ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے بھی اس پر وہی معمولی جرح کی ہے ۔۔۔

    لیکن آپ دیکھیں کہ عبد الرحمٰن بن اسحاق کی سند سے ایک حدیث مسند احمد کی جب ابن جوزیؒ نے موضوعات میں اس پر جرح کی تو۔۔۔

    القول المسددمیں حافظ ؒ نے عبد الرحمٰنؒ کا زبردست دفاع کیا۔۔اعتراض نقل کر کے فرمایا۔۔۔

    قُلْتُ قَدْ أَخْرَجَهُ مِنْ طَرِيقِهِ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ غَرِيبٌ وَحَسَّنَ لَهُ غَيْرُهُ مَعَ قَوْلِهِ إِنَّهُ تَكَلَّمَ فِيهِ من قبل حفظ
    وَصَحَّحَ الْحَاكِمُ مِنْ طَرِيقِهِ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا
    وَأَخْرَجَ لَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ فِي الصِّيَامِ مِنْ صَحِيحِهِ آخَرَ لَكِنْ قَالَ فِي الْقَلْبِ مِنْ عَبْدِ الرَّحَمْنِ شَيْءٌ انْتَهَى

    وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ أَخْرَجَهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الأَوْسَطِ فِيمَا رَأَيْتُهُ فِي كِتَابِ التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيبِ لِلْمُنْذِرِيِّ۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



    مومل بن اسمٰعیل کے بارے میں ابھی تحقیق نہیں کی۔۔۔

    اس کی عبد الرحمٰن کے مقابلے میں توثیق تو بہت زیادہ منقول ہے ۔۔۔لیکن عبد الر حمٰن پر مفسر جرح کوئی نہیں جبکہ اس پر مفسر جرح بھی ساتھ ہی منقول ہوتی ہے ۔۔۔یعنی کثیر الخطا۔۔۔۔وغیرہ

    ویسے بظاہر وہ صدوق تو ہے ۔۔۔لیکن ضعیف فی الحفظ ، اور کثیر الخطا بھی ہے ۔

    اگر مخالفت کرے تو پھر اس کی حدیث صحیح نہیں ۔۔

    اور اس کے علاوہ ۔۔۔۔ خاص سفیان ثوریؒ کی روایت میں غلطیاں کرتا ہے

    ہاں دوسرے تائید کردیں تو اور بات ہے ۔

    ۱۔امام ابن معین ؒ مؤمل عن سفیان پہ دو روایات ہیں۔

    ایک روایت میں تصحیح ہے ۔یہ ابن ابی حاتم کی جرح و تعدیل میں ہے ۔میں نے موسوعہ ابن معین سے نقل کی۔

    أي شيء حال المُؤَمَّل في سُفيان؟ فقال: هو ثِقَةٌ

    اس کلام کی سند کی تحقیق نہیں کی ۔۔ابن ابی حاتم نےسعید دارمی کی ابن معین سے روایت بیان کی ہے ۔

    سعید دارمی کی اپنی روایت کردہ تاریخ ابن معین میں تو نہیں ملی ۔۔۔واللہ اعلم

    ابن محرز عن ابن معین۔ص۱۱۴۔۔کی روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحیح نہیں ۔

    سمعت يحيى يقول قبيصة ليس بحجة فى سفيان ولا ابو حذيفة ولا يحيى بن آدم ولا مؤمل

    ۲۔اور امام طحاویؒ مؤمل عن سفیان سے بہت سی روایات استدلالََ بیان کرتے ہیں ۔۔۔اگرچہ زیادہ غور نہیں کیا ۔۔۔بظاہر یہ بھی محسوس ہوا کہ جو سند بیان کریں وہ دوسری سند سے بھی بیان کرتے ہیں ۔۔۔

    اس کے ساتھ ساتھ ۔۔۔

    ۳۔حافظ ابن حجرؒ ۔۔فتح الباری۔ص۱۔۴۴۶۔۔میں فرماتے ہیں۔۔۔

    مُوسَى بن مَسْعُود ۔۔۔۔۔۔۔۔صَدُوق فِي حفظه شَيْء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قَالَ أَبُو حَاتِم صَدُوق وَلكنه كَانَ يصحف

    وروى عَن الثَّوْريّ بضعَة عشر ألف حَدِيث وَفِي بَعْضهَا شَيْء وَهُوَ أقل خطأ من مُؤَمل بن إِسْمَاعِيل

    اور۔۔۔فتح الباری ۹۔۲۳۸

    يَحْيَى بْنِ الْيَمَانِ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَكَذَلِكَ مُؤَمِّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ فِي حَدِيثِهِ عَنِ الثَّوْرِيِّ ضَعْفٌ

    اور فتح الباری ۔ ۱۳۔۳۳

    وَهُوَ صَدُوقٌ كَثِيرُ الْخَطَأِ


    اور خاص ۔۔۔وائل بن حجرؓکی روایات میں وہ خود بھی الفاظ مختلف روایت کرتا ہے ۔۔۔

    ایک روایت میں علی الصدر ہے ۔۔

    ایک میں عند الصدر کہتا ہے ۔۔

    طبقات محدثین اصبہان ۔۲۔۲۶۸

    مُؤَمَّلٌ , قَالَ: ثنا سُفْيَانُ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ , قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «وَضَعَ يَدَهُ عَلَى شِمَالِهِ عِنْدَ صَدْرِهِ»

    ۔طحاوی ۔کی سندوں میں اس کی اپنی روایت میں بھی محل وضع کا ذکر نہیں

    حدیث۱۱۶۶۔۔پہ یوں روایت ہے

    مُؤَمَّلُ , قَالَ: ثنا سُفْيَانُ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ , قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُكَبِّرُ لِلصَّلَاةِ , يَرْفَعُ يَدَيْهِ حِيَالَ أُذُنَيْهِ»
    اور حدیث ۱۳۴۳

    مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُكَبِّرُ لِلصَّلَاةِ , وَحِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حِيَالَ أُذُنَيْهِ»

    ۱۵۳۲

    مُؤَمَّلٌ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ كَانَتْ يَدَاهُ حِيَالَ أُذُنَيْهِ»


    ۳۔پھر اس کی علی الصدر کی روایت کے عموم کا کوئی بھی قائل نہیں ۔۔۔سلف میں ۔۔۔شوافع اس سے تحت الصدر ہی کی دلیل لیتے ہیں

    بلکہ ابن جوزیؒ ۔۔۔التحقیق میں تو ۔۔۔وائلؓ کی روایت بغیر سند کے بیان کی تو ۔۔اس میں لفظ ہی فوق السرۃ بیان کیا۔۔۔

    ۴۔ لیکن اگر اس کو شوافع کے استدلال سے لے بھی لیں تو ایسے لے سکتے ہیں کہ لفظ ۔۔۔عند الصدر یا تحت الصدر ہے ۔۔اور اس کی تعبیر فوق السرۃ ہی ہے ۔۔۔علی الصدر۔۔۔سے فوق الصدر مراد لینے کا سلف میں تو کوئی قائل نہیں ۔۔۔۔۔اس کی تائید ۔۔۔ان آثار تابعین سے ہوتی ہے ۔۔۔جو بیہقیؒ نے نقل کئے ،یا جو اثر ابو داؤد میں ہے ۔

    اسی لئے امام طحاویؒ نے بھی عبد الرحمٰن بن اسحاقؒ اور مؤمل بن اسمعیلؒ دونوں کی روایات ۔۔۔احکام القرآن میں نقل کی ہیں ۔۔۔اور سند پر کوئی جرح نہیں کی ۔۔۔البتہ آپس میں دونوں کا اپنے انداز سے مقابلہ کر کے تحت السرۃ کو ترجیح دی ہے ۔۔۔

    ابھی اس پہ پوری توجہ نہیں دی۔۔۔بہت تحقیق طلب کام ہے ۔۔۔یہ آپ کے ذمہ رہا۔۔۔


    بات ناں چاہتے ہوئے بھی بہت طویل ہو گئی ۔۔۔ابھی اس مضمون کی تہذیب کا بھی موقع نہیں ملا۔۔۔بہت کچھ رہ گیا۔۔۔۔ابھی بھی بہت پہلوپہ بات ہو سکتی ہے ۔۔۔لیکن میں تھک گیا ہوں ۔۔۔آپ اس پر کچھ اضافہ یا تنقیح ۔تنقید کرنا چاہیں تو خوب کریں ۔۔۔


    اللہ تعالیٰ کوئی کمی و کوتاہی ہوئی ہو تو درگزر فرمائے اور معاف فرمائے ۔۔
    Last edited: ‏اپریل 12, 2016
    احمد پربھنوی اور اشماریہ .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    440
    موصول پسندیدگیاں:
    274
    صنف:
    Male
    جزاک اللہ خیرا
    میں اس پر ان شاء اللہ بات کرتا ہوں۔ لیکن پہلے یہ بتائیے کہ یہ تمام کلام بشمول جروح پر کلام کے آپ کا ہی ہے؟
    احمد پربھنوی نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    208
    موصول پسندیدگیاں:
    200
    صنف:
    Male
    موضوع سے متعلق موافق و مخالف تحریریں تو سب کے سامنے ہی ہوتی ہیں ۔ اس لئے پوائنٹس تو ذہن میں ہوتے ہی ہیں ۔
    اور ویسے کمپیوٹر کی وجہ سے تمام کتابیں آپ کی انگلیوں کی دسترس میں ہوتی ہیں ۔
    ویسے تو میری کوشش ہوتی ہے کہ اپنی بات ناں ہی کروں ۔۔۔
    لیکن خاص ایک ہی پوائنٹ کے گرد بحث میں ۔۔۔میں نے بہت سا کلام خود ہی کیا ہے ۔اور اس پر ڈر بھی لگتا ہے ۔کوشش تو کی ہے کہ حد سے باہر نہ نکلوں ۔۔۔ہر عبارت خود دیکھ کر براہ راست نقل کی۔ مخصوص اصطلاحات کی تشریح پر زیادہ بحث نہیں کی۔
    اس سب کا عذر میں پہلے پیش کرچکا ہوں ۔
    احمد پربھنوی اور اشماریہ .نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    208
    موصول پسندیدگیاں:
    200
    صنف:
    Male
    بڑی خوشی ہوئی یہ دیکھ کر کہ اس بات کی موافقت امام الحافظ بدر الدین العینی ؒ کے کلام میں موجود ہے ۔ انہوں نے
    عمدۃ القاری ۵۔۲۷۹ پہ فرمایا ہے کہ امام ابو داودؒ نے اس پر سکوت کیا ہے ۔

    (فَإِن قلت) ۔۔۔۔ الَّذِي رُوِيَ عَن عَليّ فِيهِ مقَال لِأَن فِي سَنَده عبد الرَّحْمَن بن اسحق الْكُوفِي قَالَ أَحْمد لَيْسَ بِشَيْء مُنكر الحَدِيث

    (قلت) روى أَبُو دَاوُد وَسكت عَلَيْهِ ويعضده مَا رَوَاهُ ابْن حزم من حَدِيث أنسؓ ۔۔۔۔۔۔
    وَقَالَ التِّرْمِذِيّ الْعَمَل عِنْد أهل الْعلم من الصَّحَابَة وَالتَّابِعِينَ وَمن بعدهمْ وضع الْيَمين على الشمَال فِي الصَّلَاة وَرَأى بَعضهم أَن يَضَعهَا فَوق السُّرَّة وَرَأى بَعضهم أَن يَضَعهَا تَحت السُّرَّة وكل ذَلِك وَاسع

اس صفحے کو مشتہر کریں