نواب صدیق حسن خان کا اجتہاد

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از نعیم, ‏اپریل 8, 2012۔

  1. نعیم

    نعیم وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    78
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    جگہ:
    Afghanistan
    نواب صدیق حسن خان صاحب کے نور نظر سلفیوں کے پیشوا ،امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مجرم ،صحابہ کرام کے دشمن نواب نور الحسن خان کی خود اجتہادی ملاحظہ فر مائیں۔
    (1) اصول میں یہ بات طئے ہو گئی ہے کہ صحابہ کا قول حجت نہیں ۔
    (2) صحابہ کا اجتہاد امت میں کسی فر د پر بھی حجت نہیں ۔
    (3)اجماع وقیاس کی کوئی حیثیت نہیں ۔
    (4) مشت زنی کرنا ضرورت کے وقت جائز ہے اور اگر فتنہ کا خوف ہو مثلا یہ کہ عورت کو تانک جھانک کرے گا ۔تو ایسی صورت میں واجب ہے اور مشت زنی کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ایسے ہی سمجھے جیسے بدن سے دوسرے فضلات نکلتے ہیں ایسے ہی منی نکل گئی منقول ہے کہ صحابہ کرام مشت زنی کیا کرتے تھے ( استغفر اللہ ثم استغفر اللہ ) لعنۃ اللہ علیٰ الکاذبین۔سبحانک ھٰذ بہتان عظیم
    (5) بیک وقت چار عورتوں سے زیادہ سے نکاح جائز ہے ۔
    (6) کافر کا ذبیحہ حلال ہے اس کا کھانا جائز ہے ۔
    (7) اونچی قبروں کو زمین کے برابر کر دینا واجب ہے چاہے نبی کی قبر ہو یا ولی کی ۔
    (8) انبیاء اولیا کی قبروں نہیں جا نا چاہئے تاکہ امر جا ہلیت رواج نہ پائے ۔

اس صفحے کو مشتہر کریں