نگاہِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں، کامطلب

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی عابدالرحمٰن مظاہری, ‏اپریل 26, 2013۔

  1. مفتی عابدالرحمٰن مظاہری

    مفتی عابدالرحمٰن مظاہری وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    259
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India


    پیش کردہ :مفتی عابدالرحمٰن مظاہری بجنوری​

    نگاہِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
    جو ہو یقیں پیدا تو کٹ جاتیں ہیں زنجیریں

    پچھلےکافی دنوں سے دل مچل رہا تھا اور خاموشی نے لبوں کو جامد کر رکھا تھا،جس کو احباب کے تبصروں نے رونق بخشی اور اللہ اللہ کرکے مسکراہٹ نصیب ہوئی۔ یعنی اداسی ختم ہوئی اور زندگی میں خوشی کا احساس ہوا۔ اور کچھ امید سی بن آئی اور ذہن نے انگڑئیاں سی لی پھر انگلیوں میں کچھ چلبلاہٹ سی ہوئی اور پھر باقاعدہ حرکت پذیر ہوگئیں اور جو حرکتیں شروع ہوئیں وہ آپ کے سامنے پیش ہیں ،اور اب آپ حضرات ہی فیصلہ کر فرمائیں گے کہ حرکت میں برکت ہوئی یا برکت میں حرکت ہوئی۔ لیجئے ملاحظہ فرمائیں:
    اگر اس شعر کو ظاہری معنٰی پر محمول کیا جائے گا تو کسی کی بھی نگاہ سے تقدیر نہیں بدلا کرتی۔اور کلام کے باطنی معنٰی پر توجہ ڈالی جائے گی تو بات اس طرح نکل کر آئے گی ’’نگاہ مرد مومن ‘‘ سے مرا’’د جذبہ ایمان‘‘ بہادری ، قوت ارادے کی پختگی، یا مومن کی فراست مراد ہو سکتی ہے
    حدیث پاک میں مومن کی فراست کا ذکر یوں ہے
    تم مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔
    (ترمذی، الجامع، ابواب التفسیر، ۲: ۱۴۵)
    حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اللہ کے بندوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم اٹھا کر کوئی بات کر دیں تو اللہ اسے ضرور پورا کرتا ہے۔
    (بخاری، کتاب الصلح ، ۱ : ۳۷۲)
    حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ’’بہت سے بکھرے بالوں والے جن کو دروازوں سے دھکے دے جاتے ہیں اگر وہ اللہ کی قسم اٹھا کر کوئی بات کریں تو
    اللہ تعالیٰ اسے ضرور پورا کرتا ہے‘‘
    (مسلم، الجامع ، کتاب البر، ۲: ۳۲۹)
    حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں ایک مجوسی رہتا تھا ایک روز اپنے گلے میں زنار پہنے اور اس کے اوپر مسلمانوں کا لباس پہن کر حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آیا اور کہنے لگا
    حضور ! ایک حدیث کا مطلب دریافت کرنے آیا ہوں۔ حدیث میں آتا ہے
    : یعنی مومن کی فراست سے ڈرو اس لیے کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے :
    اس حدیث کا مطلب کیا ہے ؟
    حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ مسکرائے اور فرمایا
    اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تو اپنا زنار توڑ کفر چھوڑ اور کلمہ پڑھ کے مسلمان ہو جا "
    مجوسی نے جب یہ سنا تو فورا پکار اٹھا
    ’’لاالٰہ الا اللہ محمدرسول اللہ : صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘
    اور مسلمان ہو گیا

    خرد نے کہہ بھی دیا لا الہٰ تو کیا حاصل
    دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں​

    تو کیا اللہ کے نور سے بھی دیکھا جا تا ہے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ رہنمائی فرماتے ہیں جس کا القاء مومن کے قلب پر ہوتا ہے پھر وہ اس خدا دا فراست سے بات کو سمجھ لیتا ہے
    اقبال کے ہاں عشق سے مراد ایمان ہے ایمان کا پہلا جُز حق تعالیٰ کی الوہیت کا اقرار ہے عشق و ایمان سے زیادہ قوی کوئی جذبہ نہیں، اس کی نگاہوں سے تقدیریں بد ل جاتی ہیں کا مطلب ہمت اور جذبہ صادق ہے اگر جذبہ اور ہمت تو بڑی سے بڑی مشکل آسان ہوجاتی ہے، جیسا کہ اس شعر میں اشارہ ہے ملاحظہ فرمائیں۔

    دشت تو دشت رہے دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے!
    بحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے!​

    یہ شعر حرارت ایمانی اور ہمت کا اعلیٰ نمونہ ہے۔
    اور اس کو بھی ملاحظہ فرمائیں

    مشکلیں امت ِمرحوم کی آساں کر دے
    مورِ بے مایہ کو ھم دوش ِ سلیماں کردے​

    علامہ اقبال کی خواہش تھی کہ ہندوستان کے سارے مسلمان حقیقی معنوں میں مسلمان ہو جائیں تووہ ساری دنیا کو فتح کر سکتے ہیں۔ اُمت مسلمہ کو درپیش مسائل و مشکلات کے حل کے لئے اقبا ل دعا گو ہیں ”امت مرحوم“ کی ترکیب بہت معنی خیز ہے۔ مراد یہ ہے کہ مسلمان بحیثیت ایک زندہ قوم کے ختم ہو کر مرد ہ ہو چکے ہیں اب ان کی حیثیت سلیمان کے مقابلے میں ”مور بے مایہ“ کی سی ہے۔ لیکن اقبال کی خواہش ہے کہ دور حاضر کے مسلمان پھر سے جو ش و جذبہ سے لبریز ہو جائیں اور کوہ طور پر پہلے کی طرح تجلیات نازل ہوں
    تو کہنے کا مطلب یہ ہے شاعرانہ کلام کا ظاہر کچھ ہوتا ہے اور باطن کچھ اور ہوتا ہے اگر سوچ مثبت ہے تو مثبت پہلو اجاگر ہوں گے اور اگر منفی پہلو ہیں تو منفی نتائج برآمد ہوں گے
    فقط واللہ اعلم بالصواب
  2. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,710
    موصول پسندیدگیاں:
    199
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    کمال ہوگیاایک ایساشخص جوصرف اورصرف دینیات پرلکھتاہے،جس کی انگلیوں میں چلبلاہٹ ،جس کے افکارکے دروازے،جس کے مطالعہ کی میزپردینی کتابوں کاانبار،جس کے سینہ وسفینہ میں اپنے اکابرکے راہنمااصول وضوابط اورجس کی کل زندگی علمی اورروحانی میں بسرہورہی ہے اس کے قلم حقیقت رقم سے اس طرح کاشاندارادبی مضمون اپنی مثال آپ ہے ۔مجھے تولگتاہے یہ بھی کسی مردمومن کی نگاہوں کااثر،کسی آہ سحرگاہی کی قبولیت اورکسی شاعرکے شعری ذوق اورکسی مفتی کے شرعی وجدان کی آئینہ دارہے۔اب پتہ نہیں اقبال نے صحیح کہاتھایامفتی صاحب نے صحیح لکھاپرمیری نظروں میں دونوں حضرات صاحب نظرہیں۔اللہ نظربدسے بچائے۔
  3. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    105
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    محترمی @[مفتی عابدالرحمٰن مظاہری] صاحب!
    ماشآء اللہ۔۔۔ بہت خوب لکھا ہے لطف آ گیا، جزاک اللہ خیرا۔۔۔
    افسوس! ان دنوں اراکینِ الغزالی سے کچھ بھی لکھا نہیں آ رہا، چہار سو خاموشی چھائی ہوئی ہے، کیا وجہ بن گئی ہے؟ ۔۔۔ ایسے وقت میں یہ تحریر مثلِ بہار محسوس ہو رہی ہے۔
    اللہ تعالیٰ سب دوستوں کی پریشانیوں اور مشکلات کو دُور فرمائے۔
  4. مفتی عابدالرحمٰن مظاہری

    مفتی عابدالرحمٰن مظاہری وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    259
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    السلام علیکم
    جزاک اللہ خیرآ
    میں کوشش تو پوری کرتا ہوں کہ مضامین برابر شئیر کرتا رہوں لیکن مشغولیات کافی ہیں اور پھر مضمون لکھنے کے لیے بھی وقت چاہئے
    خیر دعاء فرمائیں
  5. مفتی عابدالرحمٰن مظاہری

    مفتی عابدالرحمٰن مظاہری وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    259
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    السلام علیکم
    حضرت والا آپنے مجھے کھجور میں اٹکا دیا
    آپ نے حقیقت فرمایا میں نے بھی طے کرلیا ہے آج اس چھپے رستم کو ظاہر ہی کرنا ہے قارئین کرام معلوم ہے یہ چھپے رستم کون ہیں جن کی نظروں نے مجھے گھایل کیا اور جن کی صحبت فیضیاب سے ایک اجڑے ہوئے کی بستی آباد ہوگئی اور جن کی اثر اور سحر انگیز نگاہوں نےایک اجڑے ہوئے کی کایا ہی پلٹ دی اور بے کیف زندگی میں خوشیاں بھر دیں اور بے مراد زندگی کو بامراد بنا دیا اور کسلمندی کو چستی سے تبدیل کردیا، اورایک خاموش زندگی میں ہلچل پیدا کردی اور بے وقار کو با وقار بنا دیا اور کند تلوار کو دو دھاری تلوار بنادیا محترم قارئین کرام مشک و عنبر کبھی تعارف کے محتا ج نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنا تعارف آ پ ہی ہوتے ہیں ۔ میری مراداُستاذ العلماءحضورقبلہ مفتی اعظم ہند مفتی ناصر مظاہری صاحب مدظلہ العالی کی شخصیت ہمہ صفت مو صوف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں گونا گوں صفات اور خصوصیات کا حامل بنایا ہے۔ آپ انتہائی فقیرصفت طبیعت کے حامل، کمال درجہ سادگی ،تقویٰ ،تصوف اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشاراور اللہ ربّ العزت کے کامل ولی اور پارسا بزرگ ہیں۔واعظ بھی بے مثال، خطیبِ باکمال،عابد بے ریا،عالم باعمل،صوفی با صفا،سنیوں کے پیشوا اور زہد و تقویٰ سے سرشار ہے۔
    مدت کے بعد ہوتے ہیں پیدا کہیں یہ لوگ
    مٹتے نہیں ہیں دہر سےان کے نشاں کبھی​
    ذٰلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء بغیر حساب[/size]
    بس زیادہ کیا لکھوں مقام ادب ہے کہیں گستاخی نہ ہوجائے اس لئے بوجہ ادب انگلیوں نے ساتھ چھوڑ دیا اس لیے اس کو اشارہ غیبی سمجھتے ہوئے بات کو روکتا ہوں
    فقط والسلام اللہ حافظ
  6. مولانانورالحسن انور

    مولانانورالحسن انور رکن مجلس العلماء Staff Member رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    1,522
    موصول پسندیدگیاں:
    133
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بہت خوب تشریح ہے جزا ک اللہ
  7. ابو دجانہ

    ابو دجانہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    57
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    صنف:
    Male
    جگہ:
    United Arab Emirates
    سبحان اللہ۔۔
    ۔
    بہت عمدہ جی۔۔
    ۔
    کیپ اٹ اپ۔
    :)
  8. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,572
    موصول پسندیدگیاں:
    452
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    بہت خوب جزاک اللہ خیرا
  9. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,592
    موصول پسندیدگیاں:
    777
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    سنا ہے داود الرحمن علی نے مفتی صاحب کی نظم ارہر کی دال سے اس قدر متاثر ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ بارات وہیں اترے گی جہاں ارہر کی دال پکے گی۔بھائی مفتی عابد الرحمن صاحب موقع ملے آپ بھی شہرہ آفاق نظم ارہر۔۔۔۔۔۔پڑھئے اور سر دھنئے۔ واقعی مفتی ناصر مظاہر ی ہزارہا ہزار خوبیوں کے حامل ایک نفیس اور درد مند انسان ہیں
    Last edited: ‏دسمبر 14, 2017

اس صفحے کو مشتہر کریں