نیکی کا انجام نیک

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از زوہا, ‏جون 21, 2011۔

  1. زوہا

    زوہا وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    138
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    گناہوں سے بچنا اور اس کی فضیلت:۔
    حدیث الغارسے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ گناہوں سے بچنے والے کا درجہ بھی اونچا ہے یہاں تک کہ وہ صالحین کے اس زمرے میں شامل ہوجاتا ہے جن کی دعاکا اثر فوراً ظاہر ہوتا ہے یعنی وہ مستحاب الدعا مو ¿منین کے زمرہ میں شامل ہوجاتا ہے۔ گناہ ایسی چیز ہے کہ جس کی بدولت انسانی افراد اور جماعتوں کو بکثرت روحانی اور مادی نقصانات پہنچتے ہیں اور ان کی معاشرت تباہ ہوجاتی ہے،بلکہ جب وہ (گناہ)کسی قوم میں عام ہوجاتے ہیں تو پوری قوم کی تباہی وبربادی ،ناگہانی بلاو ¿ں اور خدا کے غضب کا سبب بن جاتے ہیں یعنی اس(قوم)کی دینی ودنیاوی ترقیوں کی راہیں مسدود،اور سعادت اور اقبال کا دروازہ اس(قوم) پر بند ہوجاتا ہے، اس پر مستزاد یہ کہ دنیاوی سزاوں کے بعد آخرت کی سزا ختم نہیں ہوجاتی بلکہ جب آخرت میں پہنچے گے تو وہاں بھی سخت سے سخت سزا پائیں گے۔
    گناہوں سے پرہیز کرنا اور اس کے فضائل کیا ہیں اور اگر پرہیز نہ کیا جائے تو اس کے دنیوی و اخروی نقصانات کیا ہیں، ذیل میں حضور نبی کریم کے چند ارشادات اسی سے متعلق نقل کئے جاتے ہیں:
    گناہوں سے سب سے بڑا نقصان اول تو یہی ہوجاتا ہے کہ انسانی مشینری کا سب سے اہم پرزہ (یعنی قلب)ہی تباہ ہوجاتاہے،چنانچہ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:مومن جب گناہ کرتا ہے اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ ہوجاتا ہے پھر اگر توبہ واستغفار کرلیا تو اس کا قلب صاف ہوجاتا ہے اور اگر(گناہ میں) زیادتی کی تو وہ(سیاہ دھبہ)اور زیادہ ہوجاتا ہے سو یہی ہے وہ زنگ ہے جس کا ذکر
    اللہ تعالیٰ نے (قرآن میں یوں)فرمایا ہے
    ” ہرگز ایسا نہیں (جیسا وہ لوگ سمجھتے ہیں)بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال (بد)کا زنگ بیٹھ گیا ہے
    [احمد،ترمذی،ابن ماجہ]۔ “ حضرت معاذ سے (ایک لمبی حدیث میں)روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اپنے گناہ سے بچنا کیونکہ گناہ کرنے سے اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوجاتا ہے۔
    حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:کیا میں تم کو تمہاری بیماری اور دوانہ بتلادوں۔سن لو! کہ تمہاری بیماری گناہ ہیں اور تمہاری دوا استغفار ہے[ بیہقی]۔
    رسول اللہ نے فرمایا بیشک آدمی محروم ہوجاتا ہے رزق سے گناہ کے سبب جس کو وہ اختیار کرتا ہے[مسند احمد]۔ظاہر میں بھی محروم ہوجانا تو کبھی ہوتا ہے اور رزق کی برکت سے محروم ہوجانا ہمیشہ ہوتا ہے۔آج مال ودولت واسباب کی اگر بہتاب ہے بھی لیکن برکت اور سکون، دل کا اطمینان کہاں ہے حضرت عبداللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ جب کسی قوم میں خیانت ظاہر ہوئی اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے اور جو قوم ناحق فیصلہ کرنے لگی ان پر دشمن مسلط کر دیا گیا۔[مالک]
    حضرت ابودردائ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بادشاہوں کا مالک ہوں،بادشاہوں کے دل میرے ہاتھ میں ہیں اور جب بندے میری اطاعت کرتے ہیں میں ان کے بادشاہوں کے دلوں کو ان پر رحمت اور شفقت کے ساتھ پھیر دیتا ہوں اور جب بندے میری نافرمانی کرتے ہیں میں ان بادشاہوں کے دلوں کو غضب اور عقوبت کے ساتھ پھیر دیتا ہوں پھر وہ ان کو سخت عذاب کی تکلیف دیتے ہیں[ابو نعیم]۔
    حضرت وہب نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ جب میری اطاعت کی جاتی ہے میں راضی ہوتا ہوں،برکت کرتا ہوں اور میری برکت کی کوئی انتہا نہیں اور جب میری اطاعت نہیں ہوتی غضب ناک ہوتا ہوں اور لعنت کرتا ہوں اور میری لعنت کا اثر سات پشت تک پہنچتا ہے[ احمد]۔
    مطلب یہ ہے کہ اس (والد)کے نیک ہونے سے جو اولاد کو برکت ملتی وہ نہ ملے گی۔
    حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ ہم دس(۱۰)آدمی حضورِ اقدس کی خدمت میں حاضر تھے،آپ ہماری طرف متوجہ ہوکر فرمانے لگے کہ پانچ چیزیں ہیں،میں خداہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ تم لوگ ان کو پاو جب کسی قوم میں بے حیائی کے افعال علی الاعلان ہونے لگیں گے وہ طاعون میں مبتلا ہوں گے اور ایسی ایسی بیماریوں میں گرفتار ہوں گے جو ان کے بڑوں کے وقت میں کبھی نہیں ہوئیں اور جب کوئی قوم ناپنے تولنے میں کمی کرے گی،قحط اور تنگی اور ظلمِ حکام میں مبتلا ہوگی اور نہیں بند کیا کسی قوم نے زکوٰة کو مگر بند کیا جائے گا ان سے باران رحمت،اگر بہائم بھی نہ ہوتے تو کبھی ان پر بارش نہ ہوتی اور نہ ہی عہد شکنی کی کسی قوم نے مگر مسلط فرمائے گا اللہ تعالیٰ ان پر ان کے دشمن کو غیر قوم سے پس بہ جبر لے لیں گے وہ ان کے اموال[ابن ماجہ]۔
    آج دیکھئے کیسی کیسی بیماریاں ہیں،کس کس طرح کے واردات روزبروز پیش آتے ہیں۔ان احادیث سے معلوم ہوا کہ بیماریوں کا ہجوم بھی،ذہنیت کا فتوربھی،رزق میں بے برکتی بھی،عمروں کا گھٹ جانا بھی،ہر چیز میں بے برکتی بھی،ناگہانی بلاو ¿ں کا نازل ہونا بھی،جوانوں کی موت بھی،اچانک مرجانابھی،ظالم حکام کا جبر و قہر بھی،موسم میں خرابی بھی؛کہ جب دھوپ کی ضرورت تب آسمان ابرآلود ہوجائے اور ہواوں اور بارشوں کا طوفان آجائے،جب بارشوں اور برف کی ضرورت تب تیز تپانے والی دھوپ نکل آئے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا غضب بھی،ان سب عذابوںکاسبب صرف گناہوں کا عام ہوجاناجو کہ اصل میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔
    آج کل ہم مصیبتیں دفع کرنے اور بلائیں دور کرنے کیلئے بہت سی ظاہری تدبیریں کرتے ہیں لیکن ان گناہوں کو نہیں چھوڑتے جن کی وجہ سے مصیبتیں آتی ہیںاور پریشانیاں لاحق ہوتی ہیں۔ حقارت سے کسی پر ہنسنا،کسی پر طعن کرنا،برے لقب سے پکارنا، بدگمانی کرنا۔کسی کا عیب تلاش کرنا،غیبت کرنا،بلاوجہ برا بھلا کہنا،چغلی کھانا،دور ویہ ہونا یعنی اس کے منہ پر ایسا اس کے منہ پر ویسا،تہمت لگانا،دھوکا دینا،عاردلانا،کسی کے نقصان پر خوش ہونا ،تکبر وفخر کرنا، ضرورت کے وقت باوجود قدرت کے مدد نہ کرنا،کسی کے مال کا نقصان کرنایاچاہنا،کسی کی آبروپر صدمہ پہنچانا،چھوٹوں پر رحم نہ کرنا،بڑوں کی عزت نہ کرنا،بھوکوںننگوں کی حیثیت کے موافق خدمت نہ کرنا،کسی دنیوی رنج سے بولنا چھوڑ دینا،جاندار کی تصویر بنانا،
    زمین پر موروثی دعویٰ کرنا،ہٹے کٹے کو بھیک مانگنا،ڈاڑھی منڈانا یا کٹانا،کافروں یا فاسقوں کا لباس پہننا،عورتوں کے لئے مردانہ وضع بنانا جیسے مردانہ لباس،جوتہ وغیرہ پہننا۔فحش گوئی کرنا،جھوٹ بولنا،جھوٹی قسمیں کھانا،وعدہ خلافی کرنا،خیانت اور بددیانتداری کرنا،فضول خرچی کرنا،سود لینا یا دینا یا اس معالمے میں گواہ رہنا،شراب پینا،پلانا،بیچنایا بنانا،رشوت لینا یا دینا،ناپ تول میں کمی کرنا،گناہوں کی یہ فہرس نمونہ کے طور پر لکھ دی ہے ورنہ اور بھی ہیں،ان سب سے بچنا ضروری ہے اور جو گناہ ہو چکے ہیں ان سے توبہ کرنی واجب ہے،توبہ سے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں،
    چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس کا کوئی گناہ ہی نہ تھا۔[بیہقی ]البتہ حقوق العباد میں توبہ کی یہ بھی شرط ہے کہ اہل حقوق سے بھی معاف کرائے،چنانچہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا جس کے ذمے اس کے بھائی (مسلمان) کا کوئی حق ہو آبروکا یا اور کسی چیز کا اس کو آج معاف کرا لینا چاہئے اس سے پہلے کہ نہ دینار ہوگا نہ درہم ہوگا(مراد قیامت کا دن ہے)[بخاری]
    اگر اس کے پاس کوئی نیک عمل ہوا تو بقدر اس کے حق کے اس سے لے لیا جائے گا(اور صاحب حق کو دے دیا جائے گا)اور اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو دوسرے کے گناہ لے کر اس پر لاد دیے جائیں گے
    [ مسلم]۔
    قرآنِ کریم سے یہ بھی ثابت ہے کہ جو شخص خدا کے خوف سے گناہوں سے پرہیز کرتا رہاوہ جنت کا مستحق ہوجاتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں”اور جو ڈرتا رہا اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے اور(اپنے)نفس کو روکتا رہا(ہر بری)خواہش سے ،یقیناً جنت ہی اس کا ٹھکانا ہوگا“[۷۹:۴۰۔۴۱]۔ (۴)-
    اخلاص اور ریا:۔
    جو نیک کام کیا جائے اس کا محرک کوئی دنیاوی غرض نہ ہو اور نہ اس سے مقصود ریا و نمائش،جلبِ منفعت،طلبِ شہرت یا طلبِ معاوضہ وغیرہ ہو،بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کی بجاآوری اور خوشنودی ہو،اسی کا نام اخلاص ہے۔ اور ہمیںحکم بھی اسی بات کا ملا ہے،چنانچہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:”تو اللہ کی عبادت کر خالص کرتے ہوئے اطاعت گذاری کو اسی کیلئے؛ہشیار رہو! کہ اللہ ہی کیلئے ہے خالص اطاعت گذاری[۳۹:۲۔۳]“
    اخلاص اور ریا کے اعتبار سے عمل کے چار درجے ہیں:
    (۱)از ابتدائ تا انتہا عمل خالص اللہ کے لئے ہو اور عمل پورا ہونے کے بعد بھی اس کا کسی کو پتہ نہ چلے،یہ نہایت اعلیٰ درجہ کا عمل ہے قیامت کے روز جبکہ عرش کے سایہ کے علاوہ کہیں سایہ نہ ہوگا ایسے مخلص کو اللہ تعالیٰ سایہ عطا فرمائیں گے۔
    (۲)از ابتدائ تا انتہا محض ریا اور نمود کے لئے ہو، ایسا عمل بے فائدہ اور ضائع بلکہ وبال جان ہوگا،حدیث شریف میں ایسے تین آدمیوں کا حال بیان کیا گیا ہے جن کو قیامت کے دن سب سے پہلے فیصلہ سنایا جائے گا ایک شہید دوسرا قاری (عالم)تیسرا بڑا دولت مند،ان سب کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا وجہ یہ ہوگی کہ انہوں نے اپنے اعمال خالص اللہ کے لئے نہیں بلکہ دنیوی شہرت و نام ونمود حاصل کرنے کی غرض سے کئے تھے۔(پوری حدیث ترمذی میں دیکھنی چاہئے)۔
    (۳)عمل شروع تو اخلاص سے ہوا ہو مگر پورا ہونے سے پہلے اس میں ریا و نمود شامل ہوگیا ہو یہ ریا بھی عمل کو ضائع کردیتی ہے۔
    (۴)پورا عمل از اوّل تا آخر اخلاص پر مبنی ہو اور عمل پورا ہونے کے بعد نہ اس نے ظاہر کیا ہو اور نہ اِس کی خواہش کی ہو مگر کسی وجہ سے خودبخود اس کے عمل کی شہرت ہوگئی اور لوگ تعریف کرنے لگے اور اس کو وہ تعریف اچھی معلوم ہونے لگی یہ بات عمل کے لئے مضر نہیں۔
    مسلم شریف کی ایک حدیث میں آیا ہے کہ حضور سے پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول!ہمیں اس شخص کے بارے میں بتا دیجئے،جو نیک عمل (بغیر ریا کے)کرتا ہے اور لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہیں۔(کیا اس تعریف پر اس کا عمل باطل ہو جاتا ہے؟ )۔حضور نے فرمایا:(خلوصِ نیت سے نیک کام کرنے پر)جو لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں(اور دوست رکھتے ہیں)،یہ تو اس کو جلدی خوشخبری دینی ہے(بہشت کی)مسلمانوں کی زبانی(اسی دنیا میں،یعنی عوام کی زبان سے ہی اسے فلاحِ آخرت کا مڑدہ اسی جہاں میں پہنچ گیا ہے )[جمالین،شرح اردو جلالین:ج۴،ص۱۱۲]
    اخلاص کی ضد(یعنی مخالفterm )ریا ہے۔ریا یہ ہے کہ عمل کوصرف دکھاوے کے لئے کیا جائے۔لوگوں کو دکھانے کی غرض سے نیکی کرنا ہی ریا ہے،اس نیت سے عبادت کرنا کہ لوگ دیکھ کر تعریف کریں گے،عزت کریں گے اور نیک جانے گیں،یہ بے شک مکروفریب اور نمودو ریا ہے۔نمائش کا اصل مقصد تو یہی ہوتا ہے کہ انسان اپنی اچھائی کا اظہار کرکے لوگوں میں اپنی نسبت حسنِ ظن پیدا کرے اور اپنے کو بڑا کر کے دکھائے۔ریا ایک ایسی اخلاقی بیماری ہے جو اپنے اثر میں نہایت مہلک ہے۔ایسے شخص کا باطن تاریک،روح سیاہ،تخیل مکدر،تصور دھندلا اور دل ودماغ تشکیک اورتخمین کی دھند کا شکار ہو جاتا ہے۔
    اعمال خیر کے ثمر بار درختوں،اور لہلہاتے کھیتوں کو ریا کی آتشِ بدامن آندھی جلا کرراکھ کر دیتی ہے۔ اخلاص عین ایمان ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے ،ایک شخص نے حضور سے دریافت کیاکہ یارسول اللہ! ایمان کیا ہے،آپ نے فرمایا ”الاخلاص،یعنی ایمان اخلاص کا نام ہے[الترغیب و الترہیب]۔اس کے برعکس ریا شرکِ خفی(شرکِ اصغر) ہے،
    جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا۔بہت خوفناک چیز جس کا مجھے تم پر اندیشہ ہے وہ چھوٹا( شرک) ہے۔صحابہ نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول !چھوٹا شرک (شرکِ اصغر)کیا ہے؟فرمایا:وہ ریا ہے [بیہقی]۔ایک اور حدیث میںہے کہ رسول اللہ نے فرمایا :مجھ کو اپنی امت کی نسبت شرک کا سب سے زیادہ خوف ہے لیکن میں یہ نہیں کہتا کہ وہ سورج ، چاند ،پتھراور بتوں کی پرستش کرنے لگے گی،بلکہ خدا کے علاوہ اور لوگوں کے لئے یا کسی مخفی خواہش سے عمل کرے گی۔[ابن ماجہ،بیہقی]۔
    خدا کی قولی،بدنی،مالی عبادت میں قولاً یا فعلاً غیراللہ کو شریک کرنا شرک ہے،جس پر ہرگز نجات نہیں ہوگی،اسی طرح عبادت کو جو صرف اللہ ہی کو دکھانے سنانے کے لئے کرنی چاہئے اگر خدا تعالیٰ کے سوا وہ عبادت دوسروں کو دکھانے سنانے کیلئے کی جائے تو اس کو حضور نے شرک اصغر فرمایا۔خدا اس شرکِ اصغر سے بھی بچائے کہ اس سبب وہ عبادت مردود ہوجاتی ہے اور حشر کے میدان میں ریا کار عابد عبادت کے اجر سے پورا محروم ہوکر کفِ افسوس ملے گا۔
    مذکورہ بالا سطور سے معلوم ہوا کہ اسلام میں ریا کو شرک اصغر اور شرک خفی سے تعبیر کیا گیا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ دنیوی غرض کی آمیزش سے ان اعمال میں خدا کے ساتھ ایک اور چیز کو شریک کرلیا جاتا ہے،اسی لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں”کیا تو نے اس(شخص)کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا ہے[۲۵:۴۳] “
    ایک حدیث قدسی میں ہے کہ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں شرک سے بے نیاز ہوں تو جو شخص میرے لئے کوئی ایسا عمل کرے جس میں کسی اور کو بھی شریک کرے تو مجھ کو اس سے کوئی تعلق نہیں،وہ اسی کیلئے ہے جس کو اس میں شریک کرلیا گیا ہے۔[غالباً بیہقی]“
    قرآن وحدیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ ریا کار کی کوئی عبادت قابل قبول نہیں ؛نہ اس کی نماز قبول ،نہ روزہ،نہ حج،نہ زکوٰة وصدقہ،نہ جہاد وغیرہ۔چنانچہ نماز کے بارے میں حکم ہوا ہے”اور نماز کو میری یاد کے لئے قائم کرو[۲۰:۱۴]۔
    اور جو نماز منافقانہ طریقہ اور غیر مخلصانہ انداز میں پڑھی جاتی ہے اس کے متعلق قرآن کی آیتیں یوں ہیں:اور (یہ لوگ یعنی منافق) جب نماز کیلئے کھڑے ہوتے ہیںتو الکساتے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں
    (ظاہردار ی کرکے)لوگوں کو دکھاتے ہیں،اور (دل سے) اللہ کو یاد نہیں کرتے،مگر کچھ یوں ہی سا[۴:۱۴۲]
    دوسری جگہ فرمایا:تو ان(منافق) نمازیوں کی (بڑی) تباہی ہے جو اپنی نماز کی طرف سے غفلت کرتے ہیںاور وہ جو (کوئی نیک عمل کرتے بھی ہیںتو)ریا کرتے ہیں[۱۰۷:۴۔۶]
    قرآن و حدیث میں باقائدہ زکوة کو چھوڑ کر عام صدقہ و خیرات کو مخفی طور پر کرنے کی زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے،تاکہ اس میں ریا کاری کی آمیزش نہ ہونے پائے۔فرمایا:لوگو! اگر خیرات ظاہر میں دو تو وہ بھی اچھا(کہ اس سے خیرات کے علاوہ دوسروں کو بھی ترغیب ہوتی ہے)اور اگر اس کو چھپاو اور حاجت مندوں کوپہنچاو تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے(کہ اس میں نام و نمود کا دخل نہیں ہونے پاتا)[۲:۲۷۱]۔
    ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن جب کہ خدا کے سایہ کے سوا کوئی اور سایہ نہ ہوگا، خدا سات آدمیوں کو اپنے سایہ میں لے گاجس میں ایک شخص وہ ہوگا جس نے صدقہ اس طرح چھپاکر دیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو یہ نہ معلوم ہوسکا کہ اس نے داہنے ہاتھ سے کیا دیا [بخاری]۔
    جہاد اسلام میں بہت بڑا عمل(فرض)ہے لیکن یہ بھی اسی صورت میں قابلِ قبول ہے جبکہ ریا و نمائش سے پاک ہو۔اس کا مقصدطاقت و قوت کی مغرورانہ نمائش نہ ہو بلکہ حق کی حمایت اور اللہ کی بات کو اونچا کرنے کا مقصدِ خالص ہو،
    چنانچہ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے:اور ان (کافروں) جیسے نہ بنو،جو مارے شیخی کے اور لوگوں کے دکھانے کیلئے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے[۸:۴۷]۔
    حدیث میں ہے کہ ایک دفعہ ایک بدو نے رسول اللہ سے دریافت کیا کہ ایک شخص مالِ غنیمت کیلئے،ایک شخص شہرت کیلئے اور ایک شخص اظہارِ شجاعت کیلئے لڑتاہے تو ان میں سے کس کا جہاد خدا کی راہ میں ہے فرمایا:اس شخص کا جو اس لئے لڑتا ہے کہ خدا کا کلمہ بلند ہو[مسلم]۔
    اسی طرح سارے اعمال کا معاملہ ہے کہ اگر اخلاص کے ساتھ صرف لوجہ اللہ ہوں تو اللہ کے نزدیک مقبول اور آخرت میں ضرور نافع ہوںگے،اور اگرریا کے ساتھ نمود و نمائش سے ہوں تو اللہ کے نزدیک مردود اور آخرت میں وبالِ جان ہوں گے۔
  2. گلاب خان

    گلاب خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    112
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بھت خوب زوھا جی ماشااللہ جس طرھ آپ کی تحریریں ہیں اس سے آپ بھت دین دار اور بھت اچھے گھرانے کی لگتی ہیں اور میرے خیال مے آپ عالمہ بھی ہیں ماشااللہ اللہ آپ کو مزید دین کی خدمت کرنے کی طوفیق دے آپ کو جتنی بھی داد دی جاے کم ہے اوپر سے اتنا پیارا نام زوھا ماشااللہ بھت خوب

اس صفحے کو مشتہر کریں