والدصاحب کے نام

'پسندیدہ کلام' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جولائی 13, 2020۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,669
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    والد صاحب کے نام

    عزیز تر وہ مجھے رکھتا تھا رگ جاں سے
    یہ بات سچ ہے ،میرا باپ کم نہ تھا ماں سے

    وہ ماں کے کہنے پہ، کچھ رعب مجھ پہ رکھتا تھا
    یہی وجہ تھی ،مجھے چو متے ججھکتا تھا
    وہ آشنا میرے کرب سے، رہا ہر دم
    جو کھل کے جی نہ پایا، مگر سسکتا تھا​
    جُڑی تھی اسکی ہر اک ہاں، فقط میری ہاں سے
    یہ بات سچ ہے ،میرا باپ کم نہ تھا ماں سے​
    ہر اک درد وہ چپ چاپ، خود پہ سہتا تھا
    تمام عمر وہ اپنوں سے ،کٹ کے رہتا تھا
    وہ لوٹتا تھا کہیں ،رات دیر کو دن بھر
    وجود اس کے پسینے میں، ڈھل کے بہتا تھا​
    گِلے تھے پھر بھی مجھے، ایسے چاک داماں سے
    یہ بات سچ ہے ،میرا باپ کم نہ تھا ماں سے​
    پُرانا سوٹ وہ پہنتا تھا، کم وہ کھاتا تھا
    مگر کھلونے میعے، سب وہ خرید لاتا تھا
    وہ مجھ کو سوئے ہوئے، دیکھتا تھا جی بھر کے
    نہ جانے سوچ کے، کیا کیا وہ مسکراتا تھا

    میرے بغیر تھے سب خواب، اس کے ویراں سے
    یہ بات سچ ہے ،میرا باپ کم نہ تھا ماں سے

    (تخلیق کا ر نا معلوم)​

اس صفحے کو مشتہر کریں