ورچوئل کرنسیوں کی شرعی حیثیت

'فقہ المعاملات' میں موضوعات آغاز کردہ از اشماریہ, ‏اگست 13, 2018 at 12:45 AM۔

  1. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    439
    موصول پسندیدگیاں:
    274
    صنف:
    Male
    بٹ کوائین! ایک لفظ نہیں ایک مکمل تحریک ہے۔ ایک ایسی تحریک جو ایک کونے سے اٹھی اور دنیا بھر پر چھا گئی۔ یہ ایک ایسی کرنسی ہے جو کسی حکومت کی محتاج نہیں ہے۔ یہ عالمی مالیاتی نظام کے مقابلے میں ایک بھرپور نظام ہے۔ ایک ایسا نظام جسے کوئی مصنوعی طور پر چلا نہ رہا ہو، ایک ایسا زر جسے کچھ طاقت ور لوگ کہیں بیٹھ کر لمحوں میں ختم نہ کر سکیں، ایک ایسا سلسلہ جسے استعمال کرنے والے عوام ہی اسے بقا بخشیں اور ایک ایسی آن لائن کرنسی جس میں نقد کی خصوصیات موجود ہوں۔
    یہ اگرچہ اب تک پردے میں ہے کہ اس کے اجراء کے پیچھے کیا محرکات تھے لیکن یہ بات مخفی نہیں کہ یہ ایک ایسی طویل جد و جہد کا حصہ ہے جو برسوں سے چلتی آئی ہے۔ موجودہ کرنسی نظام سے تنگ دنیا میں ایسے کئی لوگ گزرے ہیں جنہوں نے اس نظام پر تنقیدیں کیں، درہم و دینار اور سونے چاندی کو واپس لانے کی مساعی کیں یا کوئی ایسی ڈیجیٹل کرنسی بنانے کی کوشش کی جو اس نظام سے آزاد ہو۔ "ستوشی ناکاموٹو" نے بھی بٹ کوائین کو بناتے ہوئے ڈیجیٹل کرنسی کے حوالے سے ہونے والے کام سے مدد لی لیکن اس نے کچھ ایسی مشکلات کو حل کیا جو پہلے نہ کر سکے تھے۔ نتیجۃً ایک نسبتاً آزاد کرنسی آج ہمارے سامنے ہے۔
    بٹ کوائین ایک ابتدا تھی۔ اس کے بعد تیزی سے کئی کرنسیاں بنتی گئیں۔ انہیں ہم "ورچوئل کرنسیاں" یا "کرپٹو کرنسیاں" کہتے ہیں۔ یہ ایک دلچسپ پہلو ہے کہ ستوشی نے اپنی ذات کو تو گمنام بنا دیا لیکن اپنے کام کو اتنا کھول کر سامنے رکھا کہ جو چاہے اس سے مدد حاصل کر سکے اور ایک نئی کرنسی کو وجود دے سکے۔ نئی بننے والی کرنسیوں میں بہت سی ختم ہو گئیں، بہت سی دھوکہ اور فراڈ تھیں اور کئی ابھی تک باقی ہیں۔
    زیر نظر کتاب میں ورچوئل کرنسیوں کی تعریف سے لے کر ان پر شرعی رائے اور ان کے بارے میں قوانین کے خاکے تک بے شمار پہلؤوں پر بحث کی گئی ہے۔ اس میں ان کرنسیوں کے کام کرنے کا طریقہ کار، قانون رسد و طلب کے ذریعے ان کی تقییم، دوسری کرنسیوں اور ان میں فرق، تخلیق زر کی تاریخ اور احکام، فقہی احکام پر اہم ابحاث، حکومتی پابندیوں کا جائزہ اور کئی دیگر اہم مباحث شامل ہیں۔ اس کتاب میں کوشش کی گئی ہے کہ اس سے پہلے ہونے والے کام کو نہ صرف جمع کیا جائے بلکہ ضروری اور ناگزیر مبادیات کو بھی واضح طور پر ذکر کیا جائے۔ آخری باب میں ان کرنسیوں پر ہونے والے مختلف اشکالات کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔
    یہ کتاب ایک فقہی مقالہ ہے جو کہ ایک رائے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ نہ تو کوئی فتوی ہے اور نہ ہی ان کرنسیوں میں سرمایہ کاری کرنے کی کوئی ترغیب۔ اس کتاب کو عام شائع کرنے کے پیچھے یہ خواہش کار فرما ہے کہ علماء کرام ان مباحث کو پڑھیں، ان کا جائزہ لیں اور ڈیجیٹل کرنسیوں سے متعلق فتاوی میں ان سے مدد حاصل کریں۔ راقم کی یہ آرزو ہے کہ اس جیسی جدید مباحث پر جدید تحقیقات کی روشنی میں غور و فکر کیا جائے تاکہ امت کو بروقت مناسب رہنمائی مہیا ہو سکے۔
    یہ اس کتاب کی پہلی اشاعت ہے۔ علماء کرام کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس کتاب میں جہاں کوئی غلطی پائیں تو راقم کی رہنمائی فرمائیں۔ ان شاء اللہ اگلی اشاعت علماء کرام کی رہنمائی، ان سے استفادے کے بعد مزید نکات کے اضافے اور تصحیحات کے ساتھ کی جائے گی۔
    طالب دعا: اویس پراچہ
    owais.paracha.op@gmail.com

    https://drive.google.com/file/d/1ZfWE7_N5TmpOzJ9yFQawahwRJfToBClc/view?usp=sharing
    محمدداؤدالرحمن علی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں