وفیات ۔۔۔ طلحہ السیف

'ماہنامہ افکارِ قاسمی شمارہ 9 برائے اگست 2013 مجّدِ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارمغان, ‏جولائی 15, 2013۔

  1. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    وفیات
    طلحہ السیف


    [​IMG]
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  2. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    میں یہ ٹائپ کررہا ہوں
  3. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    عارف باللہ حضرت حکیم محمد اختر صاحب بھی نہ رہے۔
    انا للہ وانا الیہ راجعون
    تیزی سے خالی اور تاریک ہوتے ہوئے روشنیوں کے شہر کراچی میں ایک اور روشن چراغ بجھ گیا، تاریکی بڑھ گئی اور ماسیوں کا گھیرا اور تنگ ہوگیا۔کراچی کو ایک زمانے سے بجا طور پر روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ واقعی کیا روشن شہر تھا۔ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی، حضرت مولانا سید سلیمان ندوی، حضرت شاہ عبد الغنی پھولپوری، حضرت مفتی محمد شفیع، حضرت ڈاکٹر عبد الحی عارفی، حضرت مولانا محمد یوسف بنوری، حضرت سید رضی الدین فخری، حضرت مفتی ولی حسن ٹونی، حضرت مولانا ادریس میرٹھی، حضرت مفتی احمد الرحمن، حضرت مفتی رشید احمد، حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہید، حضرت مفتی نظام الدین شہید، حضرت متی جمیل خان شہید قدس اللہ اسرارہم اور نہ جانے کتنے روشن چہرے اس شہر میں بستے تھے اور اپنے قلوب کی روشنی سے اسے منور رکھتے تھے۔ گلی گلی مے خانے تھے، مست حال ساقی تھے اور جام بھر بھر سوغات عشق و محبت لٹاتے تھے۔ پھر اس شہر کو نہ جانے کس ی نظر لگی یا بددعاء، یہ روشنیاں بھجنا شروع ہوئیں اور تاریکیوں کا دور آگیا۔ اسی سلسلہ چراغاں کے ایک روشن چراغ حضرت
    شاہ حکیم محمد اختر رحمہ اللہ تعالیٰ بھی تھے۔ خانقاہ امدادیہ اشرفیہ جامعہ اشرف المدارس کے بانی، حکیم الامت حضرت تھانوی قدس سرہ کے سلسلۂ اشرفیہ کے ایک صاحب حال شیخ، حضرت شاہ ابرار الحق قدس کے اجل خلیفہ، نوجوانی امام العارفین حضرت مولانا عبد الغنی پھولپوری قدس سرہ کی خدمت میں صرف کردی اور بقیہ عمر ان سے حاصل کردہ معرفت کو پھیلانے میں۔ درد محبت، سوزش عشق اور
    آہ و فغاں سے بھر پور وعظ فرماتے اور دلوں کو آتش عشق سے گرماتے، عشق مجاری کی تباہ کاریوں سے بچانے کی فکر میں گھلتے اور عشق حقیقی کا راز سمجھاتے۔ سوز دروں، کبھی آتشی شاعری کی صورت میں بیاں ہوتا اور کبھی درد بھرے مواعظ کی شکل میں۔ مثنوی رومؒ کے شارح بھی تھے اور عاشق و مبلغ بھی، دین کے ہر طبقے کے محبّ و معاون تھے، مدارس ہوں یا تبلیغ، خانقاہیں ہوں یا جہاد، ہر طرف آپ کا فیض عام تھا۔ 1992 میں افغانستان کا سفر فرمایا۔ امیر امجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہر صاحب حفظہ اللہ کی معیت میں مجاہدین کے مرکز تشریف لے گئے۔ مجاہدین نے حسب عادت بھرپور استقبال کیا۔ حضرت نے بھی اشعار کی صورت میں محبت کے پھول نچھاور فرمائے۔ قیمتی نصائح سے نوازا، خصوصی تعاون فرمایا، امارت اسلامیہ قائم ہوئی تو اس کی بھر پور معاونت کی، اپنے صاحبزادے مولانا حکیم محمد مظہر اور خصوصی مریدین کا ایک وفد افغانستان بھیجا۔ طالبان کے کئی اکابر کا حضرت کے پاس بکثرت آنا جانا رہتا تھا۔ حضرت امیر المجاہدین حفظہ اللہ کی رہائی کے بعد بھی کئی محبت بھری ملاقاتیں ہوئیں اور معاونت فرمائی۔ البتہ حضرت کی خدمات کا عملی میدان اور آپ کی توجہ کا محور آپ کا خانقاہی سلسلہ تھا۔ تمام تر عملی زندگی اس کی ترویج و ترقی میں صرف ہوئی، ان گنت لوگوں نے آپ سے فیض پایا۔ ملکوں ملکوں یہ سلسلہ پھیلا اور آپ اپنے بزرگوں کی اس نسبت کا فیض آخری دم تک عام کرنے کی سعی میں لگے رہے۔ ہمیں بھی طالب علمی کے بالکل ابتدائی دور میں چند ماہ حضرت کے ادارے اور خانقاہ میں گزارنے کی سعادت نصیب ہوئی جس کی حسین یادیں آج بھی تازہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت کی کامل مغفرت فرمائے اور انہیں اعلیٰ مراتب عطاء فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ حضرت کی اولاد، خدام و متوسلین
    اور اہل سلسلہ سب اس موقع پر تعزیت کے مستحق ہیں اللہ تعالیٰ ان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
    حضرت حکیم صاحب رحمہ اللہ مثنوی مولانا روم کے گویا حافظ تھے۔ آپ کا بیان عموماً مثنوی کے اشعار سے لبریز ہوتا، اسی کے زیر اثر خود بھی عشقیہ شاعری فرماتے۔ ان کے عاشقانہ اشعار کا کچھ انتخاب قارئین کے قلوب کو گرمانے کے لیے پیش ہے؏
    جو ہر قدم خدا پر فدا ہورہے ہیں
    وہ فانی بتوں سے جدا ہورہے ہیں
    وہ خمر کہن تو قوی تر ہے لیکن
    نئے جام و مینا عطا ہورہے ہیں
    کبھی قلب دے کر کبھی جان دے کر
    رہِ عشق میں با وفا ہورہے ہیں
    خوشی اپنی ان کی خوشی پر لٹاکر
    ہم اب اہل صدق و صفا ہورہے ہیں
    کبھی پی رہے ہیں لہو آرزو کا
    مٹاکر خودی باخدا ہورہے ہیں
    تجھے ہوں مبارک یہ اشکِ ندامت
    نئے باب الفت کے وا ہورہے ہیں
    یہ شان کرم ہے کہ نالائقوں پر
    کرم ان کے ہر دم عطا ہورہے ہیں
    محبت کی اختر کرامت تو دیکھو
    کہ سلطان ہوکر گدا ہورہے ہیں
  4. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,291
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    وفیات
    طلحہ السیف

    عارف باللہ حضرت حکیم محمد اختر صاحب بھی نہ رہے۔
    انا للہ وانا الیہ راجعون
    تیزی سے خالی اور تاریک ہوتے ہوئے روشنیوں کے شہر کراچی میں ایک اور روشن چراغ بجھ گیا، تاریکی بڑھ گئی اور مایوسیوں کا گھیرا اور تنگ ہوگیا۔کراچی کو ایک زمانے سے بجا طور پر روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ واقعی کیا روشن شہر تھا۔ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی، حضرت مولانا سید سلیمان ندوی، حضرت شاہ عبد الغنی پھولپوری، حضرت مفتی محمد شفیع، حضرت ڈاکٹر عبد الحی عارفی، حضرت مولانا محمد یوسف بنوری، حضرت سید رضی الدین فخری، حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی، حضرت مولانا ادریس میرٹھی، حضرت مفتی احمد الرحمن، حضرت مفتی رشید احمد، حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہید، حضرت مفتی نظام الدین شہید، حضرت مفتی جمیل خان شہید قدس اللہ اسرارہم اور نہ جانے کتنے روشن چہرے اس شہر میں بستے تھے اور اپنے قلوب کی روشنی سے اسے منور رکھتے تھے۔ گلی گلی مے خانے تھے، مست حال ساقی تھے اور جام بھر بھر سوغات عشق و محبت لٹاتے تھے۔ پھر اس شہر کو نہ جانے کس کی نظر لگی یا بددعاء، یہ روشنیاں بھجنا شروع ہوئیں اور تاریکیوں کا دور آگیا۔ اسی سلسلہ چراغاں کے ایک روشن چراغ حضرت شاہ حکیم محمد اختر رحمہ اللہ تعالیٰ بھی تھے۔ خانقاہ امدادیہ اشرفیہ جامعہ اشرف المدارس کے بانی، حکیم الامت حضرت تھانوی قدس سرہ کے سلسلۂ اشرفیہ کے ایک صاحب حال شیخ، حضرت شاہ ابرار الحق قدس کے اجل خلیفہ، نوجوانی امام العارفین حضرت مولانا عبد الغنی پھولپوری قدس سرہ کی خدمت میں صرف کردی اور بقیہ عمر ان سے حاصل کردہ معرفت کو پھیلانے میں۔ درد محبت، سوزش عشق اور
    آہ و فغاں سے بھر پور وعظ فرماتے اور دلوں کو آتش عشق سے گرماتے، عشق مجاری کی تباہ کاریوں سے بچانے کی فکر میں گھلتے اور عشق حقیقی کا راز سمجھاتے۔ سوز دروں، کبھی آتشی شاعری کی صورت میں بیاں ہوتا اور کبھی درد بھرے مواعظ کی شکل میں۔ مثنوی رومؒ کے شارح بھی تھے اور عاشق و مبلغ بھی، دین کے ہر طبقے کے محبّ و معاون تھے، مدارس ہوں یا تبلیغ، خانقاہیں ہوں یا جہاد، ہر طرف آپ کا فیض عام تھا۔ 1992 میں افغانستان کا سفر فرمایا۔ امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہر صاحب حفظہ اللہ کی معیت میں مجاہدین کے مرکز تشریف لے گئے۔ مجاہدین نے حسب عادت بھرپور استقبال کیا۔ حضرت نے بھی اشعار کی صورت میں محبت کے پھول نچھاور فرمائے۔ قیمتی نصائح سے نوازا، خصوصی تعاون فرمایا، امارت اسلامیہ قائم ہوئی تو اس کی بھر پور معاونت کی، اپنے صاحبزادے مولانا حکیم محمد مظہر اور خصوصی مریدین کا ایک وفد افغانستان بھیجا۔ طالبان کے کئی اکابر کا حضرت کے پاس بکثرت آنا جانا رہتا تھا۔ حضرت امیر المجاہدین حفظہ اللہ کی رہائی کے بعد بھی کئی محبت بھری ملاقاتیں ہوئیں اور معاونت فرمائی۔ البتہ حضرت کی خدمات کا عملی میدان اور آپ کی توجہ کا محور آپ کا خانقاہی سلسلہ تھا۔ تمام تر عملی زندگی اس کی ترویج و ترقی میں صرف ہوئی، ان گنت لوگوں نے آپ سے فیض پایا۔ ملکوں ملکوں یہ سلسلہ پھیلا اور آپ اپنے بزرگوں کی اس نسبت کا فیض آخری دم تک عام کرنے کی سعی میں لگے رہے۔ ہمیں بھی طالب علمی کے بالکل ابتدائی دور میں چند ماہ حضرت کے ادارے اور خانقاہ میں گزارنے کی سعادت نصیب ہوئی جس کی حسین یادیں آج بھی تازہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت کی کامل مغفرت فرمائے اور انہیں اعلیٰ مراتب عطاء فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ حضرت کی اولاد، خدام و متوسلین
    اور اہل سلسلہ سب اس موقع پر تعزیت کے مستحق ہیں اللہ تعالیٰ ان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
    حضرت حکیم صاحب رحمہ اللہ مثنوی مولانا روم کے گویا حافظ تھے۔ آپ کا بیان عموماً مثنوی کے اشعار سے لبریز ہوتا، اسی کے زیر اثر خود بھی عشقیہ شاعری فرماتے۔ ان کے عاشقانہ اشعار کا کچھ انتخاب قارئین کے قلوب کو گرمانے کے لیے پیش ہے؏
    جو ہر قدم خدا پر فدا ہورہے ہیں
    وہ فانی بتوں سے جدا ہورہے ہیں
    وہ خمر کہن تو قوی تر ہے لیکن
    نئے جام و مینا عطا ہورہے ہیں
    کبھی قلب دے کر کبھی جان دے کر
    رہِ عشق میں با وفا ہورہے ہیں
    خوشی اپنی ان کی خوشی پر لٹاکر
    ہم اب اہل صدق و صفا ہورہے ہیں
    کبھی پی رہے ہیں لہو آرزو کا
    مٹاکر خودی باخدا ہورہے ہیں
    تجھے ہوں مبارک یہ اشکِ ندامت
    نئے باب الفت کے وا ہورہے ہیں
    یہ شان کرم ہے کہ نالائقوں پر
    کرم ان کے ہر دم عطا ہورہے ہیں
    محبت کی اختر کرامت تو دیکھو
    کہ سلطان ہوکر گدا ہورہے ہیں

اس صفحے کو مشتہر کریں