ولادتِ با سعادت ۔۔۔!

'سیرت سرور کائنات ﷺ' میں موضوعات آغاز کردہ از اعجازالحسینی, ‏فروری 19, 2011۔

  1. اعجازالحسینی

    اعجازالحسینی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,080
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    نبی کریم کی دادی جان کا نام بھی فاطمہ تھا۔آپ کے والد عبداللہ سولہ بہن بھائی تھے مگر عبداللہ خوبصورت اور پاکدامن ہونے کی وجہ سے اپنے والدین کے چہیتے تھے۔آپ کے دادا حضرت عبدالمطلبؓ نے اپنے صاحبزادے کی شادی قریش کی افضل ترین خاتون آمنہؓ سے کر دی۔ اس حسین و جمیل جوڑے کو شاید کسی کی نظر لگ گئی کہ شادی کے چند ماہ بعد ہی جواں سال عبداللہ اس دار فانی سے کوچ فرما گئے۔ بی بی آمنہ ؓ کو جب اپنے شوہر کی وفات کی خبر ملی تو وہ صدمے سے نڈھال ہو گئیں اور ایک درد انگیز مرثیہ کہا ”بطحا کی آغوش ہاشم کے صاحبزادے سے خالی ہوگئی۔ وہ ایک لحد میں آسودہ خواب ہو گیا۔ اسے موت نے ایک پکار لگائی اور اس نے لبیک کہہ دیا۔اب موت نے لوگوں میں ابن ِ ہاشم جیسا کوئی انسان نہیں چھوڑا ۔وہ شام جب لوگ انہیں تخت پر اٹھائے لے جا رہے تھے،اگر موت اور موت کے حوادث نے ان کا وجود ختم کر دیاہے تو ان کے کردار کے نقوش نہیں مٹائے جا سکتے۔وہ بڑے دانا اور رحم دل تھے“۔ والد کی وفات کے بعد ان کی لونڈی ام ایمن ؓ نے آپ کو گود کھلایا ۔نبی کریم ﷺ کی ولادت با سعادت والد کی وفات کے چند ماہ اور واقعہ فیل کے 55 روز بعد20اپریل 571کو 12ربیع الاول پیر کے روزبوقت فجر ہوئی۔ ابن سعد ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی والدہ نے فرمایا”جب آپ کی ولادت ہوئی تو میرے جسم سے ایک نور نکلا جس سے ملک شام کے محل روشن ہو گئے“۔ بعض روایات کے مطابق ایوان کسریٰ کے چودہ کنگرے گر گئے۔ مجوس کا آ تش کدہ ٹھنڈا ہو گیا۔بحیرہ ساوہ خشک ہو گیا اور اس کے گرجے منہدم ہو گئے۔ نبی پاک کی ولادت با سعادت کی خوش خبری جب آپ کے دادا حضور کو دی گئی تو انہیں لگا جیسے ان کے فرزند عبداللہ لوٹ آئے ہوں۔فرط جذبات میں ان کی آنکھیں بھیگ گئیں۔پوتے کو گود میں لیا ، خانہ کعبہ میں لے جا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور آپ کا نام محمد تجویز کیا۔حضرت عبدالمطلب نے فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ فرش تا عرش میرے فرزند کی تعریف ہو۔ یہ نام عرب میں معروف نہ تھا۔پھر عرب دستور کے مطابق ساتویں دن آپ کا ختنہ کیاجبکہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ ختنہ کئے ہوئے پیدا ہوئے تھے۔اسی روز عقیقہ میں دنبہ ذبح کیا۔آپ کو والدہ کے بعد سب سے پہلے ابو لہب کی لونڈی ثوبیہ ؓ نے دودھ پلایا ۔عرب میں رواج تھا کہ بچوں کی اچھی پرورش کے لئے انہیں شہری آبادی سے دور بدوی دائیوں کے سپرد کر دیا جاتا تھا۔اس دستور کے مطابق آپ کے دادا حضور نے بھی دودھ پلانے والی دایہ تلاش کی مگر آپ کے یتیم ہونے کی وجہ سے معقول معاوضہ نہ مل سکنے کا سوچ کر کسی دایہ نے آپ کو قبول نہ کیا حتیٰ کہ حلیمہ سعدیہ ؓ بھی راضی نہ ہوئیں ۔ حضرت آمنہؓ کو اپنے لخت جگر کی بہترین نگہداشت کے لئے بنی سعد قبیلہ کی کسی دایہ کا انتظار تھا۔ حلیمہ کا تعلق بنی سعد سے تھا۔انہیں جب کوئی دوسرا بچہ نہ ملا تو انہوں نے اپنے شوہر سے کہا کہ خالی ہاتھ گھر لوٹنے کی بجائے کیوں نہ محمد کو گود لے لیں۔حضور کو گود لے کر گھر لوٹیں تو معجزات اور انوارات و برکات نے انہیں مالا مال کر دیا۔وہ خواتین جنہوںنے یتیم کو گود لینے سے انکار کر دیا تھا ،دائی حلیمہؓ کی قسمت پر رشک کرنے لگیں۔ آپ نے دو سال حلیمہؓ سعدیہ کا دودھ پیا۔ ان کی صاحبزادی شیما آپ کو کھلاتی رہتیں۔ بنی سعد کی زبان بہت فصیح اور صاف شفاف تھی، جیسا کہ آپ نے ایک مرتبہ صحابہ کرام ؓ سے فرمایا ”میں عرب ہوں۔میں قریش ہوں اور میری رضاعت بنی سعد میں ہوئی ہے“۔ حضور دو برس کے ہو گئے تو دائی حلیمہ ؓ آپ کی والدہ سے ملانے مکہ لے گئیں۔والدہ اور دادا کی اداس آنکھوںکو جب ذرا قرار آیا تو نہ چاہتے ہوئے بھی حضور کی مزید جسمانی پرورش کے لئے دائی حلیمہ کے ساتھ سپرد کردیا۔اس عرصہ کے دوران حضور کے ساتھ شق صدر کا معجزہ بھی پیش آیا جس کی وجہ سے دائی حلیمہ اور ان کے شوہر گھبرا گئے ، حضور کی عمر پانچ برس تھی جب آپ کو والدہ کے سپرد کر دیا گیا۔ حضرت آمنہؓ آپ کو لے کر اپنے میکے یثرب (مدینہ) چلی گئیں۔ وہاں حضور کو ان کے والد کی قبر دکھائی۔ اپنے میکے ایک ماہ رہنے کے بعد حضور کو لے کر واپس مکہ روانہ ہوئیں تو راستے میں شدید بیمار ہو گئیں اور مدینہ سے قریباً چالیس میل کے فاصلے پر ابواءکے مقام کے قریب وفات پاگئیں۔ وہیں دفن ہوئیں۔ والدہ کی تدفین کا منظر دیکھ کر ننھے محمد رو دئیے۔ کنیز ام ایمنؓ آپ کے ہمراہ تھیں، آپ کو نم آلود آنکھوں کے ساتھ مکہ لے آئیں۔ دادا حضور کو جب اطلاع ملی تو یتیم پوتے کو سینے سے لگا کر رو ئے۔ آپ نے بعدازاں ایک ہزار صحابہ ؓ کے ہمراہ اپنی والدہ ماجدہ کی قبر کی زیارت کی اور آپ ؓ اتنا روئے کہ صحابہؓ بھی آبدیدہ ہو گئے۔ آپ کی والدہ کی رحلت کے دو برس بعد قریش کے سردار اور ایک عالی مرتبت شخصیت، آپ کے دادا حضرت عبد المطلب بھی اسّی برس کی عمر میں چل بسے۔ ان کی وفات کی خبر سن کر مکہ کے تمام بازار بند ہو گئے۔ حضور کی آنکھوں میں آنسو چھلک رہے تھے اور غم و اندوہ سے دل بھرا ہوا تھااور اسی عالم میں اپنے شفیق دادا کو لحد میں اترتے دیکھا۔ اس یتیم کے سر پر تیسرا ہاتھ آپ کے چچا ابو طالب کا تھا جو آپ کی نبوت تک آپ کے ساتھ سایہ دار درخت بنے رہے۔ کنیز ایم ایمنؓ سے آپ کو خاص عقیدت تھی۔ اکثر انہیں ”امی“ کہہ کر پکارتے۔ ام ایمنؓکے پہلے شوہر کا انتقال ہوا تو حضور نے ان کا نکاح اپنے جلیل القدر صحابی زید بن حارثؓ سے کر دیا ،ان کے بطن سے حضرت اسامہ بن حارث ؓ پیدا ہوئے ۔ ام ایمن ؓحضور کے وصال کی خبر سن کر بہت روئیں۔ حضرت ابو بکر اؓور عمرؓ نے آپ کو تسلی دی تو بولیں ’ ’اب وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے“۔یہ سن کر صحابہ کرام ؓ کی ہچکی بندھ گئی۔حضرت عمر ؓ کے انتقال پرآپ نے روتے ہوئے کہا ’ آج اسلام ضعیف ہو گیا ہے‘۔ام ایمنؓ نے حضرت عثمان غنی ؓ کے دور خلافت میں انتقال فرمایا۔حلیمہ سعدیہ ؓکی ممتا اور اپنی رضائی بہن شیماءکی لوری اور محبت بھی آپ کی یادوں میں مہک رہی تھی۔ زمانہ بچپن کے بعد پھران لوگوں سے ملاقات نہ ہو سکی۔جب اسلام نے ترقی کی اور فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا تو اس دوران مجاہدین کی ایک جماعت بنی ہوازن پر حملہ آور ہوئی اور بطور مال غنیمت شیماءسعدیہ ؓ بھی حضور کی خدمت میں پیش کی گئیں۔آپ نے کہا ”یا رسول اللہ میں آپ کی رضائی بہن شیما ہوں“ اور ثبوت
    کے طور پر کوئی علامت پیش کی جس کو حضور نے پہچان لیا ۔ آپ آبدیدہ ہو گئے اور بہن کی تعظیم میںاپنی چادر مبارک بچھا کر انہیں اس پر بیٹھے کو کہا اور فرمایا کہ اگرتم چاہو تو بڑے عزت و آرام کے ساتھ میرے ساتھ ر ہو اور واپس قبیلے میں جانا چاہو تو جا سکتی ہو۔شیماءؓ نے اسلام قبول فرما لیا اور واپس قبیلہ میں جانا پسند کیا۔ آپ نے رضاعی بہن کو بڑی تعظیم و تکریم اور انعامات کے ساتھ رخصت کیا۔ شیماءجب چھوٹی تھیں تو حضور کو اپنی گود میں لے کر لوری سنایا کرتیں ”یااللہ! میرے بھائی کی حفاظت فرمانا تاکہ میں آپ کو جوان دیکھوں اور آپ کو ایسا سردار دیکھوں جس کی سب اطاعت کرتے ہوں اور آپ کے دشمنوں اور حاسدوں کو برباد کر“۔ برسوں بعد حضور کی جب شان و شوکت دیکھی تو شیماؓ کو اپنی دعا کی قبولیت پر فخر ہونے لگا۔۔۔!

    بشکریہ اردونامہ
  2. قاسمی

    قاسمی خوش آمدید مہمان گرامی

    جزاک اللہ ۔ماشا ء اللہ
  3. اعجازالحسینی

    اعجازالحسینی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,080
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
  4. راجہ صاحب

    راجہ صاحب وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,379
    موصول پسندیدگیاں:
    358
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
  5. اعجازالحسینی

    اعجازالحسینی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,080
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan

اس صفحے کو مشتہر کریں