وَاعَمَّاہُ قَدْ أَجَابَ رَبَّا دَعَاہٗ ۔۔۔ مفتی محمد عبداللہ پھولپوری :: ٹائپنگ مکمل

'ماہنامہ افکارِ قاسمی شمارہ 9 برائے اگست 2013 مجّدِ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارمغان, ‏جولائی 16, 2013۔

  1. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    105
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    وَاعَمَّاہُ قَدْ أَجَابَ رَبَّا دَعَاہٗ
    مفتی محمد عبداللہ پھولپوری
    ۲۳؍رجب المرجب ۱۴۳۴؁ھ بروز یکشنبہ بعد مغرب بندہ دہلی میں ایک پروگرام میں تھا کہ اچانک سعودی عربیہ سے فون آیا کہ حضرت والا حکیم محمد اختر صاحب قدس سرہٗ اس دار فانی کو الوداع کہہ گئے (انا للہ و انا لیہ راجعون) پڑھ کر قضاء و قدر کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے حضرت کے لیے دل سے دعائیں نکلیں اور مدرسہ پر بھی ایصال ثواب و دعاء مغفرت کا اہتمام کرایا گیا، بندہ کے تمام منتسبین و متعلقین کا بھی جگہ جگہ سے فون آنے لگا، تعزیت کے علاوہ بھی حضرات دعاء مغفرت و ایصال ثواب کرانے کی خبر دیتے رہے، اللہ تعالیٰ حضرت والا کو کروٹ کروٹ جنت عطاء فرمائے اور فردوس اعلیٰ میں تمکن عطاء فرمائے، اپنے بزرگوں کے قافلہ کے ساتھ ملحق فرمائے۔
    حضرت والا شاہ حکیم محمد اختر صاحب حضرت شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری علیہ الرحمہ کے خادم خاص کے عنوان سے مشتہر تھے، بزرگوں کے بقول حضرت پھولپوری علیہ الرحمہ کے فیض سے سرشار تھے، ہمارے حضرت والا شاہ ہردوئی قدس سرہٗ نے بھی ان کے لیے فرمایا تھا کہ خدمت شیخ از ابتداء تا انتہاء مبارک ہو کسی انسان کا سب سے بڑا سرمایہ یہی ہوتا ہے کہ اس کے مربی و بڑے اعتماد فرمائیں جس طرح صحابہ کے پاس یہی بڑی سند تھی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ ان سے راضی رہے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب خلافت ساز کمیٹی مقرر فرمائی تو یہی فرمایا کہ یہ وہ چھ صحابہ ہیں جو عشرہ مبشرہ کے افردا ہیں، رسول ﷺ ان سے تاحین حیات خوش رہے، بہرحال بڑوں کا خوش رہنا اور پُراعتماد ہونا، چھوٹوں کے لیے بڑا سرمایہ ہے، ہمارے حضرت والا حکیم صاحب قدس سرہٗ کو اپنے بزرگوں کا اعتماد اور ان کی خوشیاں حاصل رہیں جو بعد مںب ان کے عالمی افادات کا ذریعہ بنیں، یقیناً وہ فناء فی الشیخ فناء فی اللہ کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے، ہر جگہ برجستہ اپنے مشائخ کے ملفوظات ان کو یاد آ جاتے تھے، سوچنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی، قطبی، شمس بازغہ کا مطالعہ تو کم تھا مگر قطب بینی بہت چوکس تھی بڑے بڑے علماء و دانشوران قوم ششدر و حیران رہ جاتے تھے، حضرت ہی کا شعر ہے؎
    کہاں پاؤ گے صدرا بازغہ میں
    نہاں جو غم ہے دل کے حاشیہ میں
    ارے یارو جو خالق ہو شکر کا
    جمالِ شمس کا نورِ قمر کا
    وہ شاہ دو جہاں جس دل میں آئے
    مزے دونوں جہاں سے بڑھ کے پائے
    بہرحال حضرت والا شاہ حکیم محمد اختر صاحب قدس سرہٗ ’’آیۃ من آیات اللہ‘‘ تھے اور گوناگوں کمالات سےمتصف تھے ’’اذا رأوا ذکر اللہ‘‘ کے مصداق تھے، ایک صاحب نے فون پر مجھ سے کہا کہ حضرت پھولپوری علیہ الرحمہ کی پھلواری کا ایک پھول مرجھا کر گر گیا تو میں نے برجستہ کہا کہ پھول کی مہک ان شاء اللہ باقی رہے گی۔
    واقعہ تو یہی ہے کہ شیخ المشائخ حضرت مولانا شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری علیہ الرحمہ کی جسمانی و روحانی دونوں اولادیں بہت تیزی سے مسافر راہِ عدم ہو رہی ہے، ابھی حال ہی میں آخری نسبی و صلبی اولاد والد محترم جناب بابو ابو البرکات صاحب قدس سرہٗ واصل بحق ہوئے ہیں ان سے پہلے پھوپھیاں رخصت ہوئی تھیں، ادھر اب عمِ محترم حضرت والا شاہ حکیم محمد اختر صاحب قدس سرہٗ داغِ فرقت دے گئے۔ حضرت نے تو بہت بڑا حلقہ خدمت چھوڑا ہے، یقناًی اخلاف کے لیے دھرا غم ہوتا ہےایک تو بڑوں کا سایہ سمٹتا ہے دوسرے بڑوں کا کام بھی سنبھالنا دیکھنا پڑتا ہےویسے اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ حضرت والا حکیم صاحب (رحمہ اللہ تعالیٰ) نے اچھے با سلیقہ افراد چھوڑے ہیں، صلبی اولاد میں تو بھائی مولانا حکیم محمد مظہر صاحب زیدت مکارمہم ہیں دوسرے ایک بچی ان کے علاوہ پوتوں و نواسوں کی بھی ایک جماعت ماشاء اللہ موجود ہے، خدا کرے اولاد بھی اپنے بزرگوں کے طرز پر احیاء سنت کا کام کریں اور بڑوں کی تسلی کا سامان بنیں ان کے علاوہ حضرت والا کے خلفاء مجازین کی ایک بہت طویل فہرست ہے جو ان شاء اللہ حضرت والا کے کارناموں کو جلاء بخشے گی اور ترقی سے ہمکنار فرمائے گی، بندہ تمام وارثین و پسماندگان کو ادائیگی سنت کی نیت سے تز یت پیش کرتا ہےاور خود کو بھی تسلی دیتا ہے کہ رب ذی الجلال کے حکم پر سر جھکانا ہی تسلیم ہے اور یہی بندوں کا شیوہ ہے، نیز اپنے تمام دوستوں سے امید رکھتا ہے کہ حضرت والا کے لیے ایصال ثواب و دعاء مغفرت کا اہتمام گاہے بگاہے کرتے رہیں، بندہ خانوادۂ پھولپوری کے سبھی افراد کو مستحق تعزیت سمجھتے ہوئے سبھی کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کرتا ہے اور دعاء کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس خاندان کے سبھی افراد کو خواہ وہ اولاد جسمانی ہوں یا اولاد روحانی صراط مستقیم پر گامزن رکھے اور شریعت وسنت پر عمل اور اس کی اشاعت کی توفیق بخشے۔ (آمین)
    حضرت والا کی بیماری کافی عرصہ ممتد رہی ۳۰؍مئی ۲۰۰۲؁ء کو فالج کا اٹیک ہوا پھر آخر میں نو سال فریش رہے، کل مدت بیماری ۱۳سال ۲یوم رہی، مگر ماشاء اللہ اس مدت مدیدہ میں بھی بافیض رہے مرجوعۂ خواص و عوام بنے رہے، آنے والا سرشار ہو کر واپس ہوتا تھا ان کی زیارت ہی کافی لوگوں کی تسلی کا سامان تھی۔ ۲؍جون ۲۰۱۳؁ء ۲۳؍رجب المرجب ۱۴۳۴؁ھ بعد مغرب ۴۵؍۷ پر رحلت ہوئی اور صبح تقریباً ۹؍بجے خلف الرشید حضرت مولانا شاہ محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم خلیفہ مجاز حضرت محی السنہ شاہ ہردوئی علیہ الرحمہ نے نماز جنازہ پڑھائی، لاکھوں سے متجاوز سوگوار مجمع نے انھیں آغوش رحمت کے سپرد فرمایا۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون) ع:۔
    آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
    (بشکریہ ماہنامہ فیضانِ اشرف، جولائی ۲۰۱۳؁ء)
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,196
    موصول پسندیدگیاں:
    1,674
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    وَاعَمَّاہُ قَدْ أَجَابَ رَبَّا دَعَاہٗ
    مفتی محمد عبداللہ پھولپوری

    ۲۳؍رجب المرجب ۱۴۳۴؁ھ بروز یکشنبہ بعد مغرب بندہ دہلی میں ایک پروگرام میں تھا کہ اچانک سعودی عربیہ سے فون آیا کہ حضرت والا حکیم محمد اختر صاحب قدس سرہٗ اس دار فانی کو الوداع کہہ گئے (انا للہ و انا لیہ راجعون) پڑھ کر قضاء و قدرت کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے حضرت کے لیے دل سے دعائیں نکلیں اور مدرسہ پر بھی ایصال ثواب و دعاء مغفرت کا اہتمام کرایا گیا، بندہ کے تمام منتسبین و متعلقین کا بھی جگہ جگہ سے فون آنے لگا، تعزیت کے علاوہ بھی حضرات دعاء مغفرت و ایصال ثواب کرانے کی خبر دیتے رہے، اللہ تعالیٰ حضرت والا کو کروٹ کروٹ جنت عطاء فرمائے اور فردوس اعلٰی میں تمکن عطاء فرمائے، اپنے بزرگوں کے قافلہ کے ساتھ ملحق فرمائے۔
    حضرت والا شاہ حکیم محمد اختر صاحب حضرت شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری علیہ الرحمہ کے خادم خاص کے عنوان سے مشتہر تھے، بزرگوں کے بقول حضرت پھولپوری علیہ الرحمہ کے فیض سے سرشار تھے، ہمارے حضرت والا شاہ ہردوئی قدس سرہٗ نے بھی ان کے لیے فرمایا تھا کہ خدمت شیخ از ابتداء تا انتہاء مبارک ہو کسی انسان کا سب سے بڑا سرمایہ یہی ہوتا ہے کہ اس کے مربی و بڑے اعتماد فرمائیں جس طرح صحابہ کے پاس یہی بڑی سند تھی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ ان سے راضی رہے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب خلافت ساز کمیٹی مقرر فرمائی تو یہی فرمایا کہ یہ وہ چھ صحابہ ہیں جو عشرہ مبشرہ کے افردا ہیں، رسول ﷺ ان سے تاحین حیات خوش رہے، بہرحال بڑوں کا خوش رہنا اور پُراعتماد ہونا، چھوٹوں کے لیے بڑا سرمایہ ہے، ہمارے حضرت والا حکیم صاحب قدس سرہٗ کو اپنے بزرگوں کا اعتماد اور ان کی خوشیاں حاصل رہیں جو بعد میں ان کے عالمی افادات کا ذریعہ بنیں، یقیناً وہ فناء فی الشیخ فناء فی اللہ کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے، ہر جگہ برجستہ اپنے مشائخ کے ملفوظات ان کو یاد آ جاتے تھے، سوچنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی، قطبی، شمس بازغہ کا مطالعہ تو کم تھا مگر قطب بینی بہت چوکس تھی بڑے بڑے علماء و دانشوران قوم ششدر و حیران رہ جاتے تھے، حضرت ہی کا شعر ہے؎
    کہاں پاؤ گے صدرا بازغہ میں
    نہاں جو غم ہے دل کے حاشیہ میں
    ارے یارو جو خالق ہو شکر کا
    جمالِ شمس کا نورِ قمر کا
    وہ شاہ دو جہاں جس دل میں آئے
    مزے دونوں جہاں سے بڑھ کے پائے
    بہرحال حضرت والا شاہ حکیم محمد اختر صاحب قدس سرہٗ ’’آیۃ من آیات اللہ‘‘ تھے اور گوناگوں کمالات سےمتصف تھے ’’اذا رأوا ذکر اللہ‘‘ کے مصداق تھے، ایک صاحب نے فون پر مجھ سے کہا کہ حضرت پھولپوری علیہ الرحمہ کی پھلواری کا ایک پھول مرجھا کر گر گیا تو میں نے برجستہ کہا کہ پھول کی مہک ان شاء اللہ باقی رہے گی۔
    واقعہ تو یہی ہے کہ شیخ المشائخ حضرت مولانا شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری علیہ الرحمہ کی جسمانی و روحانی دونوں اولادیں بہت تیزی سے مسافر راہِ عدم ہو رہی ہے، ابھی حال ہی میں آخری نسبی و صلبی اولاد والد محترم جناب بابو ابو البرکات صاحب قدس سرہٗ واصل بحق ہوئے ہیں ان سے پہلے پھوپھیاں رخصت ہوئی تھیں، ادھر اب عمِ محترم حضرت والا شاہ حکیم محمد اختر صاحب قدس سرہٗ داغِ فرقت دے گئے۔ حضرت نے تو بہت بڑا حلقہ خدمت چھوڑا ہے، یقناًیہ اخلاف کے لیے دھرا غم ہوتا ہےایک تو بڑوں کا سایہ سمٹتا ہے دوسرے بڑوں کا کام بھی سنبھالنا دیکھنا پڑتا ہےویسے اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ حضرت والا حکیم صاحب (رحمہ اللہ تعالٰی) نے اچھے با سلیقہ افراد چھوڑے ہیں، صلبی اولاد میں تو بھائی مولانا حکیم محمد مظہر صاحب زیدت مکارمہم ہیں دوسرے ایک بچی ان کے علاوہ پوتوں و نواسوں کی بھی ایک جماعت ماشاء اللہ موجود ہے، خدا کرے اولاد بھی اپنے بزرگوں کے طرز پر احیاء سنت کا کام کریں اور بڑوں کی تسلی کا سامان بنیں ان کے علاوہ حضرت والا کے خلفاء مجازین کی ایک بہت طویل فہرست ہے جو ان شاء اللہ حضرت والا کے کارناموں کو جلاء بخشے گی اور ترقی سے ہمکنار فرمائے گی، بندہ تمام وارثین و پسماندگان کو ادائیگی سنت کی نیت سے تعز یت پیش کرتا ہےاور خود کو بھی تسلی دیتا ہے کہ رب ذی الجلال کے حکم پر سر جھکانا ہی تسلیم ہے اور یہی بندوں کا شیوہ ہے، نیز اپنے تمام دوستوں سے امید رکھتا ہے کہ حضرت والا کے لیے ایصال ثواب و دعاء مغفرت کا اہتمام گاہے بگاہے کرتے رہیں، بندہ خانوادۂ پھولپوری کے سبھی افراد کو مستحق تعزیت سمجھتے ہوئے سبھی کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کرتا ہے اور دعاء کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس خاندان کے سبھی افراد کو خواہ وہ اولاد جسمانی ہوں یا اولاد روحانی صراط مستقیم پر گامزن رکھے اور شریعت وسنت پر عمل اور اس کی اشاعت کی توفیق بخشے۔ (آمین)
    حضرت والا کی بیماری کافی عرصہ ممتد رہی ۳۰؍مئی ۲۰۰۲؁ء کو فالج کا اٹیک ہوا پھر آخر میں نو سال فریش رہے، کل مدت بیماری ۱۳سال ۲یوم رہی، مگر ماشاء اللہ اس مدت مدیدہ میں بھی بافیض رہے مرجوعۂ خواص و عوام بنے رہے، آنے والا سرشار ہو کر واپس ہوتا تھا ان کی زیارت ہی کافی لوگوں کی تسلی کا سامان تھی۔ ۲؍جون ۲۰۱۳؁ء ۲۳؍رجب المرجب ۱۴۳۴؁ھ بعد مغرب ۴۵؍۷ پر رحلت ہوئی اور صبح تقریباً ۹؍بجے خلف الرشید حضرت مولانا شاہ محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم خلیفہ مجاز حضرت محی السنہ شاہ ہردوئی علیہ الرحمہ نے نماز جنازہ پڑھائی، لاکھوں سے متجاوز سوگوار مجمع نے انھیں آغوش رحمت کے سپرد فرمایا۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون) ع:۔
    آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
    (بشکریہ ماہنامہ فیضانِ اشرف، جولائی ۲۰۱۳؁ء)
  3. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,710
    موصول پسندیدگیاں:
    199
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    واہ واہ مولاناارمغان زندہ بادبہت عمدہ مضمون شئرکیاہے جزاک اللہ خیرا

اس صفحے کو مشتہر کریں