وہی آہٹیں

'پسندیدہ کلام' میں موضوعات آغاز کردہ از سیما, ‏مئی 23, 2011۔

  1. سیما

    سیما وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,131
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    وہی آہٹیں درو بام پر ، وہی رت جگوں کے عذاب ہیں
    وہی ادھ بجھی مری نیند ہے ، وہی ادھ جلے مرے خواب ہیں

    مرے سامنے یہ جو خواہشوں کی ہے دھند حدِّ نگاہ تک
    پرے اس کے، جانے، حقیقیتں کہ حقیقتوں کے سراب ہیں

    مری دسترس میں کبھی تو ہوں جو ہیں گھڑیاں کیف و نشاط کی
    ہے یہ کیا، کہ آئیں اِدھر کبھی تو لگے کہ پا بہ رکاب ہیں

    کبھی چاہا خود کو سمیٹنا تو بکھر کے اور بھی رہ گیا
    ہیں جو کرچی کرچی پڑے ہوئے مرے سامنے مرے خواب ہیں


    یہ نہ پوچھ کیسے بسر کیے ، شب و روز کتنے پہر جیے
    کسے رات دن کی تمیز تھی ، کسے یاد اتنے حساب ہیں

    اُنہیں خوف رسم و رواج کا ، ہمیں وضع اپنی عزیز ہے
    وہ روایتوں کی پناہ میں ، ہم انا کے زیرِ عتاب ہیں

    ابھی زخمِ نو کا شمار کیا ، ابھی رُت ہے دل کے سنگھار کی
    ابھی اور پھوٹیں گی کونپلیں ، ابھی اور کھلنے گلاب ہیں
  2. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,318
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اُنہیں خوف رسم و رواج کا ، ہمیں وضع اپنی عزیز ہے
    وہ روایتوں کی پناہ میں ، ہم انا کے زیرِ عتاب ہیں
  3. سیفی خان

    سیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4,554
    موصول پسندیدگیاں:
    71
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ہ نہ پوچھ کیسے بسر کیے ، شب و روز کتنے پہر جیے
    کسے رات دن کی تمیز تھی ، کسے یاد اتنے حساب ہیں

اس صفحے کو مشتہر کریں