وہ جو بیچتے تھے دوائے دل۔۔۔ مولانا محمد ازھر :: احمد قاسمی :: ٹائپنگ مکمل

'ماہنامہ افکارِ قاسمی شمارہ 9 برائے اگست 2013 مجّدِ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارمغان, ‏جولائی 15, 2013۔

  1. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    وہ جو بیچتے تھے دوائے دل، وہ دکان اپنی بڑھا گئے!
    مولانا محمد ازھر


    (1)
    [​IMG]
    (2)
    [​IMG]
    (3)
    [​IMG]
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  2. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,631
    موصول پسندیدگیاں:
    791
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    RE: وہ جو بیچتے تھے دوائے دل، وہ دکان اپنی بڑھا گئے! ۔۔۔ مولانا محمد ازھر

    وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے!
    مولانا محمد ازھر​
    موت کے وقت تین رجسٹریشن کئے جاتے ہیں۔ایک رجسٹر میں اولیاء اللہ کا اندارج ہوتا ہے ، دوسرے رجسٹر میں کفار ومنکرین کا اندراج ہوتا ہے اور تیسرے رجسٹر میں گنہگار مسلمان کا ۔ آپ ان تنیوں میں سے کس رجسٹر میں اپنا نام لکھوانا پسند کریں گے"؟“
    یہ الفاط حکیم العصر عارف با اللہ حضرت مولاناشاہ حکیم محمد اختر ؒ کے ہیں جو انہوں نے 1993 میں جامعہ خیر المدارس ملتان میں خطاب کرتے ہوئے فر مائے تھے ۔حضرت حکیم صاحبؒ جامعہ کی مجلس شوریٰ کے رکن رکین تھے شوریٰ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کیلئے تشریف لاتے تو خدام کی درخواست پر حاضرین سے با لعموم خطاب بھی فر ماتے ۔ حضرت والاؒ کا وعظ علوم ومعارف کا گنجینہ راہ سلوک میں پیش آنے والے پیج وخم کیلئے مشعل راہ اور سالکین کی باطنی پریشانیوں اور روح کے امراض کیلئے نسخہ مجرب ہوتا تھا ۔وعظ کا ایک ایک لفظ عشق ومحبت اور کیف اور مستی میں ڈوبا ہواہوتا تھا ۔ معاصر علماء وواعظین میں" ازدلخیزد بر دل ریزد" کا عمدہ نمونہ اور اعلیٰ مثال حضرت حکیم صاحبؒ کے مواعظ میں ملتی ہے ۔
    اللہ والوں کی صحبت سے محروم صرف نقوش والفاظ کا علم رکھنے والے اور صحبت یافتہ واصلاح یافتہ عالم ربانی وعاشق حقانی کے انداز کلام اور طرز کتاب میں کیا فر ق ہوتا ہے ، یہ فرق حضرت حکیم صاحبؒ کے مواعظ میں وارشادات سن کر سمجھ میں آتا تھا ۔ حضرت والا ؒ نے جن علماء محققین وراسخین فی العلم سے اکتساب فیض کیا وہ سب حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے دامن سے وابسطہ، تربیت یافتہ اجل خلفاء تھے ۔ حضرت حکیم صاحبؒ کو حضرت مولانا شاہ محمد احمد پر تابگڈھیؒ ، حضرت مولا شاہ عبد الغنی پھولپوری ؒاور حضرت مولانا شاہ ابرارالحقؒ ( ہردوئی) سے خلافت واجازت حاصل تھی ۔
    حضرت حکیم صاحب ؒ نے اپنے دادا پیر حکیم الامت حضرت تھانویؒ کی طرح دینی خدمات میں سلوک وتصوف ، اصلاح وتربیت اور اہل ایمان کے دلوں میں عشق ومحبتِ خداوندی کی آگ جلانے کو اہمیت وفوقیت دی ۔
    حضرت حکیم صاحب ؒ 1923ء میں پید اہوئے اور 213ء میں وصال فر مایا تحصیل علوم کے ابتدائی اور علالت کے آخری چند سالوں کو چھوڑ کر بقیہ پوری زندگی آپؒ نے قرآن وسنت اور حقیقی تصوف کی خدمت میں صرف کی ۔ رسمی پیروں اور جاہل صوفیوں کی بہتات میں حضرت حکیم صاحبؒ نے تصوف کے اسرار ورموز کو قرآن وسنت کے علمی دلائل کے ساتھ مبرہن کیا اور تصوف کو قرآن وحدیث کے علوم ومعارف سے ایسا مدلل کیا کہ کسی معترض کیلئے یہ گنجائش نہیں رہیکہ وہ یہ الزام لگا سکےکہ تصوف وطریقت قرآن وسنت کے خلاف ہے ۔ حضرت حکیم صاحبؒ کے مواعظ وملفوظات اور مجالس میں جو جملہ روحانی امراض سے حفاظت اور ان کے علاج کے طریقے موجود ہیں مگر انہوں نے اس دور کے سب سے مہلک اور خطرناک مرض بد نظری اور عشق مجازی ( فسق) کی تباہ کاریوں اور ہلاکت آفرینیوں پر بطور خاص اپنے متعلقین اور عام مسلمانوں کو متوجہ فر مایا ۔حضرت حکیم صاحب ؒ کے کم وبیش دوسو مطبوعہ مواعظ میں شائد ہی کوئی وعظ ایسا ہو جس میں انہوں نے بد نظری کی نحوست وہلاکت آفرینی تنبیہ نہ فر مائی ہو
    حقیقت یہ ہے کہ ندنظری وفسق کا مہلک مرض جس شدت سے ہمارے دور میں ظاہر ہو ہے اتنی شدت سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا ۔ذرائع ابلاغ اور شوشل میڈیا نے بدنظری کے اسباب ومواقع کو اس قدر عام کر دیا ہے کہ حق تعالیٰ کی تو فیق خاص اور عطا مودہ ہمت کے بغیر اس رذیلہ سے بچنا بہت مشکل ہے اور یہقوت وہمت صرف اہل اللہ کی صحبت ومجالست ہی سے ملتی ہے ۔اللہ تعالیٰ نے بد نظری کے علاج کے لئے حضرت حکیم صاحبؒ سے جو کام لیا وہ بلا شبہ کار تجدید اور مجددانہ شان کا حامل ہے ۔ اس لئے کہ نگاہ کی حفاظت کا شعبہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے حتیٰ کہ بد نظری کو گناہ ہی نہیں سمجھا جا تا بہت ہلکا گناہ سمجھا جاتا ہے ۔ حضرت حکیم صاحب ؒ نے اس کے نقصانات اور تباہ کاریوں کو امت پر ظاہر کیا ہے ۔حضرت حکیم صاحب ؒ کے مر شد حضرت مولا نا شاہ ابرا رالحق ؒ کی خدمت میں ایک مرتبہ ایک شخص نے بد نظری کے مرض کی شکایت کی تو حضرت ؒ نے فر مایا کہ تم حکیم محمد اختر صاحب ؒ کی کتابیں پڑھا کرو ، وہ اس مسئلہ کے امام اور مجدد ہیں ۔ بعض دیگر اکابر علماء نے بھی حضرت حکیم صاحبؒ کے متعلق ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فر مایا کہ عشق مجازی اور بد نظری کے متعلق نفس کا مکائد اوراس کے معالجات جس تفصیل کے ساتھ حضرت حکیم صاحب ؒ نے بیان فر مائے ہیں ،اس تفصیل کے ساتھ اکابر کی کتابوں میں بھی نہیں ملتے ، کیونکہ یہ اس دور کا خاص مرض ہے ، جو اس قدر عموم وشدت کے ساتھ پہلے نہیں تھا ۔ چنانچہ اس دور میں اس کی اصلاح کا عظیم الشان کام اللہ تعالیٰ نےحضرت حکیم صاحب ؒ سے لیا ۔ مختلف مو ضوعات پر خطاب کے دوران بھی معمولی مناسبت سے حضرتؒ حجاب وپردے کی اہمیت وضرورت اس انداز میں بیان فر ماتے کہ وہ ذہن نشین ہو جاتی ۔ جامعہ خیر المدارس کے جس وعظ کا سطور بالا میں تذکرہ ہوا اس کا موضوع تصوف کی اہمیت وضرورت تھا ۔ مسجد کے صحن میں وعظ ہو رہا تھا اس دوران تیز ہوا کی وجہ سے اسپیکر سے شائیں شائیں کی آواز آنے لگی ایک صاحب نے اٹھ کر میک پر کپڑا باندھ دیا جس سے وہ آواز بند ہو گئی ۔ اس پر حضرت حکیم صاحبؒ مسکرائے اور فر مایا اس سے ثابت ہوا کہ ہردے کی ضرورت ہے ، اس سے خارجی اثرات سے حفاظت ہو تی ہے ۔
    طالب اصلاح عالم نے حضرت والا ؒ کی خدمت میں لکھا کہ کبھی کبھی میری شاگرد طالبات مجھے راستے میں سلام کر لیتی ہیں میں بھی جواب دے دیتا ہوں ، میرا یہ عمل کیسا ہے ؟( آج کل کے مدارس بنات میں اس طرح کے مواقع بکثرت پیش آرہے ہیں ،حضرت حکیم صاحب ؒ کا جواب ہم سب کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے )حضرت ؒ نے جواب میں لکھا کسی نامحرم لڑکی کا سلام کرنا کسی اجنبی مرد کو یا اس کے بر عکس ( مرد کا نا محرم عورت کو سلام کرنا ) حرام ہے ۔اس لئے اس موقع پر نر می برتنا جان بو جھ کر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے ۔ خصوصاً اہل علم اور دیندار آدمی کی تو بہت ہی بد نامی کا سبب ہے ، اس لئے فوراً سختی سے ڈانٹ لگایئے کہ وہ سلام نہ کرے، اس پر بھی شیطان کا اثر ہے اور اس اثر کو قبول کرنے کیلئے آپ پر بھی اس کی کو شش جاری ہے ۔ بس ہو شیار ہو جایئے ۔ابتدا میں مقابلہ آسان ہے ۔ زیادہ عشق کا غلبہ ہو جانے کے بعد پھر نجات پا نا مشکل ہے ۔
    قحط الرجال کے موجودہ دور میں حضرت حکیم صاحبؒ کی رحلت نے تصور وطریقت اور دل کی علاج گاہوں کو مزید ویران اور اداس کردیا ہے ، وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے ۔ حضرت ؒ کی رحلت کے آپؒ کے فیوض وبرکات ان شاء اللہ العزیز جاری وساری رہیں گے ، آپ ؒ کی انہیں خدمات نے آپ ؒ کی معرکہ آرا کتاب """"""""معارف مثنوی ہے جس میں عشق ومحبت خداوندی کی آگ بھری ہوئی ہے لیکن یہ عشق ومستی حدود شریعت میں محصور ہے ، آپ ؒ نے مولانا رومؒ کی مثنوی کی ایسی عاشقانہ تو ضیح وتشریح کی ہے کہ جو شخص ایک مرتبہ توجہ سے پوری کتاب پڑھ لے ، نا ممکن ہے کہ اس کے دل میں محبت الٰہیہ کا دریا موجزن نہ ہو ، مثنوی مولانا رومؒ کی یہ خصوصیت ہے کہ جو شخص جتنا صاحبِ دل ہوگا اس کے رموز اسی قدر اس پر آشکار ہوں گے ،حضرت ؒ کے درس مثنوی میں بھی اشعار مثنوی کی الہامی ونادر تشریحات ملتی ہیں ۔
    اللہ تعالی آپؒ کی تمام دینی خدمت کو قبول فر مائیں ، آپ ؒ کی رحلت صرف اہل پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کے مسلمانوں کیلئے نقصان عظیم ہے ۔ بھارت ، بنگلہ دیش ، امریکہ ، بر طانیہ ، کینڈا، جنوبی افریکہ اور بر ماسمیت دنیا کے کئی ممالک میں آپ کے ہزاروں مرید اور خلفاء موجود ہیں ان شاء اللہ ان کے ذریعہ آپؒ کے فیوض وبرکات کا سلسلہ جاری رہے گا ۔اللہ تعالیٰ آپؒ کے صاحبزادے اور جانشین مولانا حکیم محمد مظہر زیدہ مجدہم کو نعم الخلف للسلف کا مصداق بنائیں،آمین۔مکمل۔
  3. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    RE: وہ جو بیچتے تھے دوائے دل۔۔۔ مولانا محمد ازھر :: احمد قاسمی :: ٹائپنگ جاری

    محترمی @[احمدقاسمی]! اس مضمون کی کمپوزنگ جلد از جلد مکمل کر دیجئے۔
  4. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,631
    موصول پسندیدگیاں:
    791
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    RE: وہ جو بیچتے تھے دوائے دل۔۔۔ مولانا محمد ازھر :: احمد قاسمی :: ٹائپنگ جاری

    مولانا فی الحال بہت مصروف اور الجھا ہوں ۔مزید کچھ کرنا مشکل ہے
  5. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    RE: وہ جو بیچتے تھے دوائے دل۔۔۔ مولانا محمد ازھر :: احمد قاسمی :: ٹائپنگ جاری

    کوئی بات نہیں، آپ نے اطلاعِ حال کر دیا اب اس کا انتطام ہو جائے گا ان شاء اللہ العزیز۔ اللہ تعالیٰ آپ کی جملہ مشکلات کو اآسان فرمائے۔
  6. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,290
    موصول پسندیدگیاں:
    1,707
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے!
    مولانا محمد ازھر

    موت کے وقت تین رجسٹر پیش کئے جاتے ہیں۔ایک رجسٹر میں اولیاء اللہ کا اندارج ہوتا ہے ، دوسرے رجسٹر میں کفار ومنکرین کا اندراج ہوتا ہے اور تیسرے رجسٹر میں گنہگار مسلمان کا ۔ آپ ان تینوں میں سے کس رجسٹر میں اپنا نام لکھوانا پسند کریں گے"؟“
    یہ الفاط حکیم العصر عارف با اللہ حضرت مولاناشاہ حکیم محمد اختر ؒ کے ہیں جو انہوں نے 1993 میں جامعہ خیر المدارس ملتان میں خطاب کرتے ہوئے فر مائے تھے ۔حضرت حکیم صاحبؒ جامعہ کی مجلس شوریٰ کے رکن رکین تھے شوریٰ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کیلئے تشریف لاتے تو خدام کی درخواست پر حاضرین سے با لعموم خطاب بھی فر ماتے ۔ حضرت والاؒ کا وعظ علوم ومعارف کا گنجینہ راہ سلوک میں پیش آنے والے پیج وخم کیلئے مشعل راہ اور سالکین کی باطنی پریشانیوں اور روح کے امراض کیلئے نسخہ مجرب ہوتا تھا ۔وعظ کا ایک ایک لفظ عشق ومحبت اور کیف اور مستی میں ڈوبا ہواہوتا تھا ۔ معاصر علماء وواعظین میں" ازدلخیزد بر دل ریزد" کا عمدہ نمونہ اور اعلیٰ مثال حضرت حکیم صاحبؒ کے مواعظ میں ملتی ہے ۔
    اللہ والوں کی صحبت سے محروم صرف نقوش والفاظ کا علم رکھنے والے اور صحبت یافتہ واصلاح یافتہ عالم ربانی وعاشق حقانی کے انداز کلام اور طرز کتاب میں کیا فر ق ہوتا ہے ، یہ فرق حضرت حکیم صاحبؒ کے مواعظ میں وارشادات سن کر سمجھ میں آتا تھا ۔ حضرت والا ؒ نے جن علماء محققین وراسخین فی العلم سے اکتساب فیض کیا وہ سب حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے دامن سے وابسطہ، تربیت یافتہ اجل خلفاء تھے ۔ حضرت حکیم صاحبؒ کو حضرت مولانا شاہ محمد احمد پر تاب گڈھیؒ ، حضرت مولا شاہ عبد الغنی پھولپوری ؒاور حضرت مولانا شاہ ابرارالحقؒ ( ہردوئی) سے خلافت واجازت حاصل تھی ۔
    حضرت حکیم صاحب ؒ نے اپنے دادا پیر حکیم الامت حضرت تھانویؒ کی طرح دینی خدمات میں سلوک وتصوف ، اصلاح وتربیت اور اہل ایمان کے دلوں میں عشق ومحبتِ خداوندی کی آگ جلانے کو اہمیت وفوقیت دی ۔
    حضرت حکیم صاحب ؒ 1923ء میں پید اہوئے اور 213ء میں وصال فر مایا تحصیل علوم کے ابتدائی اور علالت کے آخری چند سالوں کو چھوڑ کر بقیہ پوری زندگی آپؒ نے قرآن وسنت اور حقیقی تصوف کی خدمت میں صرف کی ۔ رسمی پیروں اور جاہل صوفیوں کی بہتات میں حضرت حکیم صاحبؒ نے تصوف کے اسرار ورموز کو قرآن وسنت کے علمی دلائل کے ساتھ مبرہن کیا اور تصوف کو قرآن وحدیث کے علوم ومعارف سے ایسا مدلل کیا کہ کسی معترض کیلئے یہ گنجائش نہیں رہی کہ وہ یہ الزام لگا سکےکہ تصوف وطریقت قرآن وسنت کے خلاف ہے ۔ حضرت حکیم صاحبؒ کے مواعظ وملفوظات اور مجالس میں جو جملہ روحانی امراض سے حفاظت اور ان کے علاج کے طریقے موجود ہیں مگر انہوں نے اس دور کے سب سے مہلک اور خطرناک مرض بد نظری اور عشق مجازی ( فسق) کی تباہ کاریوں اور ہلاکت آفرینیوں پر بطور خاص اپنے متعلقین اور عام مسلمانوں کو متوجہ فر مایا ۔حضرت حکیم صاحب ؒ کے کم وبیش دوسو مطبوعہ مواعظ میں شائد ہی کوئی وعظ ایسا ہو جس میں انہوں نے بد نظری کی نحوست وہلاکت آفرینی تنبیہ نہ فر مائی ہو
    حقیقت یہ ہے کہ بدنظری وفسق کا مہلک مرض جس شدت سے ہمارے دور میں ظاہر ہو ہے اتنی شدت سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا ۔ذرائع ابلاغ اور شوشل میڈیا نے بدنظری کے اسباب ومواقع کو اس قدر عام کر دیا ہے کہ حق تعالیٰ کی تو فیق خاص اور عطافرمودہ ہمت کے بغیر اس رذیلہ سے بچنا بہت مشکل ہے اور یہ قوت وہمت صرف اہل اللہ کی صحبت ومجالست ہی سے ملتی ہے ۔اللہ تعالیٰ نے بد نظری کے علاج کے لئے حضرت حکیم صاحبؒ سے جو کام لیا وہ بلا شبہ کار تجدید اور مجددانہ شان کا حامل ہے ۔ اس لئے کہ نگاہ کی حفاظت کا شعبہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے حتیٰ کہ بد نظری کو گناہ ہی نہیں سمجھا جا تا بہت ہلکا گناہ سمجھا جاتا ہے ۔ حضرت حکیم صاحب ؒ نے اس کے نقصانات اور تباہ کاریوں کو امت پر ظاہر کیا ہے ۔حضرت حکیم صاحب ؒ کے مر شد حضرت مولا نا شاہ ابرا رالحق ؒ کی خدمت میں ایک مرتبہ ایک شخص نے بد نظری کے مرض کی شکایت کی تو حضرت ؒ نے فر مایا کہ تم حکیم محمد اختر صاحب ؒ کی کتابیں پڑھا کرو ، وہ اس مسئلہ کے امام اور مجدد ہیں ۔ بعض دیگر اکابر علماء نے بھی حضرت حکیم صاحبؒ کے متعلق ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فر مایا کہ عشق مجازی اور بد نظری کے متعلق نفس کا مکائد اوراس کے معالجات جس تفصیل کے ساتھ حضرت حکیم صاحب ؒ نے بیان فر مائے ہیں ،اس تفصیل کے ساتھ اکابر کی کتابوں میں بھی نہیں ملتے ، کیونکہ یہ اس دور کا خاص مرض ہے ، جو اس قدر عموم وشدت کے ساتھ پہلے نہیں تھا ۔ چنانچہ اس دور میں اس کی اصلاح کا عظیم الشان کام اللہ تعالیٰ نےحضرت حکیم صاحب ؒ سے لیا ۔ مختلف مو ضوعات پر خطاب کے دوران بھی معمولی مناسبت سے حضرتؒ حجاب وپردے کی اہمیت وضرورت اس انداز میں بیان فر ماتے کہ وہ ذہن نشین ہو جاتی ۔ جامعہ خیر المدارس کے جس وعظ کا سطور بالا میں تذکرہ ہوا اس کا موضوع تصوف کی اہمیت وضرورت تھا ۔ مسجد کے صحن میں وعظ ہو رہا تھا اس دوران تیز ہوا کی وجہ سے اسپیکر سے شائیں شائیں کی آواز آنے لگی ایک صاحب نے اٹھ کر میک پر کپڑا باندھ دیا جس سے وہ آواز بند ہو گئی ۔ اس پر حضرت حکیم صاحبؒ مسکرائے اور فر مایا اس سے ثابت ہوا کہ پردے کی ضرورت ہے ، اس سے خارجی اثرات سے حفاظت ہو تی ہے ۔
    طالب اصلاح عالم نے حضرت والا ؒ کی خدمت میں لکھا کہ کبھی کبھی میری شاگرد طالبات مجھے راستے میں سلام کر لیتی ہیں میں بھی جواب دے دیتا ہوں ، میرا یہ عمل کیسا ہے ؟( آج کل کے مدارس بنات میں اس طرح کے مواقع بکثرت پیش آرہے ہیں ،حضرت حکیم صاحب ؒ کا جواب ہم سب کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے )حضرت ؒ نے جواب میں لکھا کسی نامحرم لڑکی کا سلام کرنا کسی اجنبی مرد کو یا اس کے بر عکس ( مرد کا نا محرم عورت کو سلام کرنا ) حرام ہے ۔اس لئے اس موقع پر نر می برتنا جان بو جھ کر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے ۔ خصوصاً اہل علم اور دیندار آدمی کی تو بہت ہی بد نامی کا سبب ہے ، اس لئے فوراً سختی سے ڈانٹ لگایئے کہ وہ سلام نہ کرے، اس پر بھی شیطان کا اثر ہے اور اس اثر کو قبول کرنے کیلئے آپ پر بھی اس کی کو شش جاری ہے ۔ بس ہو شیار ہو جایئے ۔ابتدا میں مقابلہ آسان ہے ۔ زیادہ عشق کا غلبہ ہو جانے کے بعد پھر نجات پا نا مشکل ہے ۔
    قحط الرجال کے موجودہ دور میں حضرت حکیم صاحبؒ کی رحلت نے تصور وطریقت اور دل کی علاج گاہوں کو مزید ویران اور اداس کردیا ہے ، وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے ۔ حضرت ؒ کی رحلت کے آپؒ کے فیوض وبرکات ان شاء اللہ العزیز جاری وساری رہیں گے ، آپ ؒ کی انہیں خدمات نے آپ ؒ کی معرکہ آرا کتاب """"""""معارف مثنوی ہے جس میں عشق ومحبت خداوندی کی آگ بھری ہوئی ہے لیکن یہ عشق ومستی حدود شریعت میں محصور ہے ، آپ ؒ نے مولانا رومؒ کی مثنوی کی ایسی عاشقانہ تو ضیح وتشریح کی ہے کہ جو شخص ایک مرتبہ توجہ سے پوری کتاب پڑھ لے ، نا ممکن ہے کہ اس کے دل میں محبت الٰہیہ کا دریا موجزن نہ ہو ، مثنوی مولانا رومؒ کی یہ خصوصیت ہے کہ جو شخص جتنا صاحبِ دل ہوگا اس کے رموز اسی قدر اس پر آشکار ہوں گے ،حضرت ؒ کے درس مثنوی میں بھی اشعار مثنوی کی الہامی ونادر تشریحات ملتی ہیں ۔
    اللہ تعالی آپؒ کی تمام دینی خدمت کو قبول فر مائیں ، آپ ؒ کی رحلت صرف اہل پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کے مسلمانوں کیلئے نقصان عظیم ہے ۔ بھارت ، بنگلہ دیش ، امریکہ ، بر طانیہ ، کینڈا، جنوبی افریکہ اور بر ماسمیت دنیا کے کئی ممالک میں آپ کے ہزاروں مرید اور خلفاء موجود ہیں ان شاء اللہ ان کے ذریعہ آپؒ کے فیوض وبرکات کا سلسلہ جاری رہے گا ۔اللہ تعالیٰ آپؒ کے صاحبزادے اور جانشین مولانا حکیم محمد مظہر زیدہ مجدہم کو نعم الخلف للسلف کا مصداق بنائیں،آمین

اس صفحے کو مشتہر کریں