وہ جو بیچتے تھے دوائے دل ۔۔۔مفتی عبد القدوس ترمذی مدظلہم

'ماہنامہ افکارِ قاسمی شمارہ 9 برائے اگست 2013 مجّدِ' میں موضوعات آغاز کردہ از پیامبر, ‏اگست 28, 2013۔

  1. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    وہ جو بیچتے تھے دوائے دل
    مفتی عبد القدوس ترمذی مدظلہم
    گزشتہ کئی دنوں سے عارف باللہ حضرت حکیم محمد اختر صاحب کی علالت کی خبریں بڑی تیزی سے پہنچ رہی تھیں، اور یوں محسوس ہورہا تھا کہ یہ سلسلہ اشرفی کا یہ شراغ بھی اب بجھنے کو ہے چنانچہ احقر ناکارہ 22 رجب المرجب 1434ھ کو ایک دینی پروگرام میں شرکت کے لیے سرگودھا حاضر ہوا تو مغرب کے بعد مدینۃ العلوم میں یہ روح فرسا خبر سنی کہ حضرت حکیم صاحب ابھی کچھ قبل کراچی میں انتقال کرگئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ رافعون ان للہ ما أخذ و له ما أعطی و کل عندہ بأجل مسمّی۔
    اس دارِ فانی میں جو آیا ہے وہ جانے کے لیے ہی آیا ہے، آمدو رفت کا یہ سلسلہ ابتداءِ آفرینش سے جاری ہے اور قیامت تک یونہی جاری رہےگا، پیدائش اور موت کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ پیدائش کا انجام موت ہی ہے کما قیل:
    سبیل الموت غایة کل حي
    اور : لدوا للموت وابنوا للخراب
    لیکن جن خوشقسمت حضرات کی زندگی خدا تعالیٰ کی یاد اور اس کے ذکرو فکر اور معرفت سے ہی عبارت ہو اور جن کا مقصد حیات ہی ”تیرے عاشقوں میں جینا تیرے عاشقوں میں مرنا“ ہو اور پھر جن کے انفاسِ قدسیہ سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مسلمناوں کے نفس کی اصلاح اور ہدایت وابستہ ہو ان کی رحلت سے متعلقین و احباب کے قلوب کا پژمردہ ہونا لکہ ان کے دل کی دنیا کا تاریک ہوجانا اپنی جگہ پر ایک حقیقت ثابتہ ہے ایسے باخدا اور عارفین کا دنیا سے رحلت فرمانا اگر چہ خود ان کے لییے خوشی اور مسرت کا باعث ہے بلکہ وہ تو اس انتظار میں رہتے ہیں اور جب وہ ساعت سعید آجاتی ہے ان کے لیے عید بن جاتی ہے، کما قال العارف الجامی رحمہ اللہ تعالیٰ:
    خرم آن روز کزیں منزل ویران بروم
    راحتِ جاں طلبم و پئے جاناں بروم
    سرور دو عالم ﷺ کے ارشاد گرامی الدنیا سجن المؤمن کے مطابق اہل اللہ اس سرائے فانی کو قید خانہ سمجھتے ہیں اس لیے یہاں سے کوچ کے وقت ان کی خوشی اور فرحت حقیقی ہے یوں ان کی نگاہ حال پر نہیں بلکہ مآل پر رہتی ہے، بہر حال یہ دن ان کے یے وصال محبوب کا دن خوشی اور عرس کا دن ہوتا ہے، لیکن چونکہ ایسے پاکباز حضرت کی رحلت سے پسماندگان ان کی ظاہری برکات اور دیدار سے محروم ہوجاتے ہیں اس لیے انہیں یہ جدائی از حد شاق ہوتی ہے۔ اگر یہ صحیح ہے کہ:
    ولی را ولی می شناسد
    تو حضرت حکم صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے مرتبہ اور مقام کو وہی پہچان سکتا ہے جو اس میدان کا فارس ہے۔ احقر کو تو اس کوچہ کی ہوا بھی نہیں لگی اس لیے وہ ان حضرات کو پہچاننے کا دعویٰ کیسے کرسکتا ہے لیکن یہ حقیقت کسی بھی ذی عقل اور صاحب علم سے مخفی نہیں کہ ایسے باکمال حضرات مدتوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان درجات بلند فرماویں اور بعد والوں کو ان کے فیوض و برکات سے محروم نہ فرمائیں۔
    حضرت حکیم صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے حالات اور سوانح پر یقیناً مستقل لکھا جائے گا، یہاں ہم نہایت اختصار سے آپ کے بعض حالات درج کررہے ہیں جو آپ کے خلیفۂ اجل، فنا فی الشیخ حضرت عشرت جمیل میر صاحب مدظلہم کے تحریر فرمودہ مضمون سے ماخوذ ہیں، تفصیل کے لیے قارئین مستقل سوانح کا انتظار فرمائیں۔
    حضرت حکیم صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ ہندوستان کے صوبہ یو پی میں ضلع پرتاب گڑھ کی ایک بستی میں تقریباً 1928ء میں پیدا ہوئے، آپ اپنے والدماجد جناب محمد حسین صاحب مرحوم کے اکلوتے بیٹے تھے، ابتدائی تعلیم کے بعد والد گرامی نے الٰہ آباد طبیہ کالج میں داخل کرادیا جہاں آپ نے باقاعدہ طب یونانی کی تعلیم حاصل کی، لیکن حضرت مولاناجلال الدین رومی کے ارشاد گرامی ؏
    چہ خواند حکمتِ یونانیاں
    حکمت ایمانیاں را ہم بخواں
    کے بموجب بچپن سے ہی آپ کو حق تعالیٰ کی محت بے چین کیے ہوئے تھی اور آپ یادِ الٰہی میں راتوں کو اٹھ کر مسجدوں اور جنگلوں میں جاکر عبادت کرتے اور حق تعالیٰ کی یاد میں رویا کرتے تھے۔
    حضرت حکیم الامت مجدد الملت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے وعظ راحت القلوب کو پڑھ کر سلسلہ عالیہ اشرفیہ سے ایسی مناسبت ہوئی کہ حضرت اقدس تھانوی کی خدمت میں بیعت کے لیے عریضہ لکھ دیا لیکن چونکہ ان دنوں حضرت حکیم الامت علیل تھے اس لیے جواب آیا ہ حضرت کے خلفاء میں سے کسی مصلح کا انتخاب کرلیا جائے اور پھر کچھ عرصہ بعد حضرت حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ انتقال کرگئے جس کا آپ کے بے حد صدمہ ہوا۔
    آپ کو سرا درد و عشق اور سوختہ جاں مصلح و مرشد کی تلاش تھی چنانچہ حق تعالیٰ نے حضرت شاہ محمد احمد پرتاب گڑھی کی صورت میں مرشد کامل عطا فرمادیا، جن سے آپ نے بھرپور استفادہ کیا پھر آپ کو حضرت شاہ عبد الغنی پھولپوری رحمہ اللہ خلیفہ اعظم حضرت اقدس حکیم الامت تھانوی کی طرف سے مناسبت اور زبردست کشش محسوس ہوئی اور آپ پھولپور ان کی خدمت میں والہانہ اور مضطربانہ حاضر ہوئے اور پھر انہی کے ہوکر رہ گئے اور سسترہ سال تک ان کی خدمت کی۔ آپ کو حضرت پھولپوری کی بھرپور شفقتیں عنایتیں حاصل ہوئیں۔ ادھر آپ نے بھی حضرت شیخ کی خدمت کا حق ادا کردیا۔ ان کے وصال کے بعد حضرت شاہ ابرار الحق ہردوئی کے دامن عقیدت سے وابستگی نصیب ہوئی، حضرت شیخ نے دوسال بعد خلافت سے سرفراز فرمایا اور تاحیات سرپرستی فرماتے رہے۔
    تقسیم ملک کے بعد حضرت حکیم صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ ناظم آباد کراچی تشریف لے آئے تھے، پہلے آپ یہیں مقیم رہے، پھر جب خانقاہ امدادیہ کے نام سے گلشن اقبال کراچی میں حضرت شیخ کے حکم سے سلسلہ اصلاح و تربیت قائم ہوا تو آپ گلشن اقبال منتقل ہوگئے، اور یہاں مدرسہ اشرف المدارس اور مسجد اشرف تعمیر کی۔ اسی خانقاہ کی ایک شاخ سندھ بلوچ سوسائٹی کراچی میں بھی قائم کی گئی ہے جہاں ایک وسیع مسجد اور جامعہ اشرف المدارس کے نام سے ایک عظیم دینی ادارہ بھی قائم ہے۔ آپ جب سے پاکستان تشریف لائے آپ کا مستقل قیام کراچی ہی میں رہا لیکن سفر و اسفار کا سلسلہ نہ صرف پاکستان بلکہ دوسرے بھی کئی ممالک کے تبلیغی اسفار فرمائے، اور اپنے روح پرور ایمان افروز اصلاح بیانات سے دنیا کو مستفید فرمایا اسی لیے آپ کے خدام کا حلقہ دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلا ہوا ہے، زندگی کے آخری تیرہ سال اگر چہ بیماری میں گزرے لیکن یہ پورا عرصہ بھی آپ نے تسلیم و رضا کے ساتھ گزارا اور جہاں تک ممکن ہوا اپنے خدام کو فیضیاب فرماتے رہے، تصنیف و تالیف میں مثنوی مولانا روم کی شرح ”معارف مثنوی“، معارف شمس تبریز، دنیا کی حقیقت رسول ﷺ کی نظر میں، اور دو صد کے قریب اصلاحی مواعظ لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوئے، اردو کے علاوہ مختلف زبانوں میں ان کے تراجم بھی دنیا بھر میں شائع ہورہے ہیں۔ ان کے فیوضات عالیہ کی شایان شان نشرو اشاعت اور اپنے شیخ مکرم کے ملفوظات کو نہایت آب و تاب کے ساتھ عام کرنے میں ان کے خلیفہ خاص مخدوم و مکرم جناب ڈاکٹر عبد المقیم صاحب دامت برکاتہم کے کارنامے سر فہرست ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے شیخ سے بھر پور عقیدت و محبت عطا فرمائی ہے، وہ ہر وقت اسی دھن میں لگے رہتے ہیں، انہیں دیکھ کر بے ساختہ زبان پر یہ جملہ جاری ہوجاتا ہے: ضاعف اللہ به کل زمان عطشاً۔
    اور ساتھ ہی یہ شعر بھی:
    حماك الله عن شر النوائب
    جزاك الله في الدارين خیرا
    احقر کو بفضلہ تعالیٰ بچپن سے ہی اکابر کی خدمت میں حاضری اور ان کی کتب کے پڑھنے کا شوق تھا اسی جذبہ کے تحت حضرت حکیم صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب معارف مثنوی، روح کی بیماریاں اور ان کا علاج، معارف شمس تبریز، تزکیہ نفس کو بڑے شوق سے پڑھا۔ احقر نے فارسی زبان بڑی محنت، لگن اور شوق سے پڑھی تھی اس لیے معارف مثنوی اور معارف شمس تبریز کو بڑے شوق سے پڑھا اور حضرت حکیم صاحب کی شخصیت اکا ایک تاثر دل پر قائم ہوگیا اور دل میں زیارت کا جذبہ موجزن ہونے لگا۔
    ایک مرتبہ غالباً 1977ء میں احقر نے کراچی میںاآپ کی بعض کتب کے حصول کے لیے خط لکھا تو جواب ملا کہ میں کراچی سے ملتان جارہا ہوں، راستہ میں ساہیوال کچھ دیر ٹرین رکے گی، فلاں بوگی میں ملاقات ہوسکتی ہے، مطلوبہ کتب بھی میرے ہمراہ ہوں گے۔ خط ملتے ہی دل کی عجیب کیفیت ہوگئی لیکن یہ قصبہ ساہی وال نہ تھا بلکہ ضلع ساہیوال ھا اس لیے احقر اس وقت زیارت سے محروم رہا لیکن حضرت کی شفقت و عنایت کا ایک خاص نقش دل پر قائم ہوگیا تا آنکہ 6 صفر 1399ھ مطابق 6 جنوری 1979ء جمعۃ المبارک کے روز جامعہ اشرفہ لاہور میں صیاںۃ المسلمین کے دفتر کا افتتاح تھا اس میں حضرت شاہ ابرار الحق ہردوئی رحمہ اللہ تشریف لائے، حضرت حکیم صاحب بھی ان کے ہمراہ تھے غالباً وہاں پہلی مرتبہ آپ کی زیارت ہوئی۔
    ربیع الثانی 1399ھ مارچ 1979ء میں برادرم جناب حافظ محمد اکبر شاہ بخاری زید مجدہم نے اپنے ہاں جام پور میں مجلس صیانۃ المسلمین کا سالانہ اجتما رکھا جس میں دیگر علماء کرام اور مشائخ کے علاوہ حضرت حکیم صاحب بھی شامل تھے، احقر ناکارہ بھی حضرت اقدس والد ماجد کے ہمراہ جام پور حاضر ہوا اور وہاں حضرت حکیم صاحب کی دوسری بار ملاقات و زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ اور آپ کے مواعظ حسنہ سے استفادہ کا موقع بھی ملا، وعظ کیا تھا جام پور میں حق تعالیٰ کی محبت و معرفت کے جام پر جام پلائے جارہے تھے اور تاثیر کا یہ عالم کہ از دل خیزد بر دل ریزد کا پوا پورا مصداق۔
    فجر کی نماز کے بعد جامع مسجد محمدی میں حضرت والد ماجد رحمہ اللہ نے درس قرآن دیا جو عجیب و غریب معارف اور علوم کا جامع تھا۔ حضرت مولانا عبد الحی جام پوری رحمہ اللہ اس درس سے بہت ماثر ہوئے۔ حضرت حکیم صاحب رحمہ اللہ نے بھی اس درس کی جامعیت اور افادیت کا بطور خاص ذکر فرمایا اورناشتہ کے موقع پر اپنے تاثرات کے اظہار کے ساتھ یہ شعر بھی سنایا ؎
    عجب جامع الاضداد ہیں ترے بندے
    خوشی میں روتے ہیں اور غم میں مسکراتے ہیں

    فرمانے لگے کہ درس سن کر میرے ذہن میں جو تاثرات پیدا ہوئے ناشتہ کے وقت یہ شعر انہی تاثرات کی عکاسی کے لیے خود بخود موزوں ہوگیا اور پھر یہ شعر اپنے قلم سے لکھ کر احقر کو عنایت فرمایا۔
    شعبان المعظم 1399ھ میں مجلس صیانۃ المسلمین پاکستان لاہور نے مجلس کا پہلا سالانہ اجتماع جامعہ اشرفیہ میں منعقد کیا جس میں اکابر علمائے کرام و مشائخ نے شرکت فرمائی اور کئی سال تک مسلسل یہ اجتماع بڑی آ ب و تاب سے ہوتا رہا۔ حضرت حکیم ﷺ کی وہاں بارہا مجالس سننے اور مواعظ میں حاضری کا موقع ملا، آپ کے بیانات یقیناً اجتماع کی روح اور جان ہوتے تھے۔
    ایک مرتبہ برادر مرحوم جناب مولانا سید عبد الصبور ترمذی لاہور سے حضرت شیخ مولانا سلیم اللہ خان مدظلہم اور حضرت حکیم صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کو ساہی وال بھی لے آئے، یہاں ان حضرات نے ایک رات اور دن قیام فرمایا۔ رات کو جامع مسجد حقانیہ میں حضرت حکیم صاحب نے بڑا مؤثر اور اصلاحی بیان فرمایا۔ اگلے روز ہمارے گھر پر خواتین میں بھی آپ نے بڑا اصلاحی بیان فرمایا۔
    احقر پہلی مرتبہ حضرت والد محترم کے ہمراہ فروری 1986ء میں جب کراچی دار العلوم حاضر ہوا اور تقریباً دو ہفتہ وہاں قیام رہا اس دوران گلشن اقبال میں حضرت حکیم صاحب رحمہ اللہ کے ہاں بھی حاضری ہوئی، یہ 25 فروری 1986ء بمطابق 15 جمادی الاخریٰ 1406ھ کی بات ہے۔ حضرت حکیم صاحب کے حضرت والد صاحب سے قدیم تعلقات تھے اسلیے بڑے پرتپاک انداز میں پیش آئے اور خوب تواضع فرمائی۔ ایک مرتبہ دار العلوم الاسلامیہ لاہور میں حضرت مولانا مشرف علی تھانوی مدظلہم کے ہاں بھی حضرت حکیم صاحب کی مجلس میں حاضری کا اتفاق ہوا، یہ مجلس بڑی پر مغز اور علمی تھی اس میں حضرت حکیم صاحب نے بعض مسائل کی تحقیق بھی حضرت والد صاحب سے فرمائی، اور خود بھی کتب فقہ کی طرف مراجعت فرماتے رہے، احقر کو اس وقت معلوم ہوا کہ عربی کتب پر بھی آپ کو خاصا عبور حاصل ہے۔
    2000ء سے آپ پر فالج کا حملہ ہوا اور اس وقت سے تیرہ سال کے طویل عرصہ تک آپ مسلسل بیمار رہے۔ لیکن علم و عرفان کی بارش کا یہ سلسلہ پیہم جاری رہا بلکہ اس دوران دوسری دنیا کے سفر بھی کیے، اندرون ملک اسفار میں لاہور کی تشریف آوری بھی ہوتی رہی ایک مرتبہ احقر بھی یادگار خانقاہ اشرفیہ چڑیا گھر حاضر ہوا اس وقت آپ بیان سے قاصر تھے اس لیے فقط زیارت اور مصافحہ پر اکتفا کیا۔
    مجلس صیانۃ المسلمین کراچی نے جب بھی جیکب لائن جامع مسجد تھانوی میں اجتماع رکھا، احقر بھی اس میں حاضر ہوا ایک مرتبہ حضرت مولانا وکیل احمد شیروانی مدظلہ کے ہمراہ حضرت حکیم صاحب سے ملنے گلشن اقبال حاضری ہوئی، حضرت نے خصوصی عنایت فرمائی اور بڑا ہی وقت دیا۔ احقر نے دوران مصافحہ ساہیوال میں آپ کی تشریف آوری اور والد ماجد نیز حضرت شاہ عبد الغنی پھولپوری سے خاص تعلق کے علاوہ اور واقعات بھی جلدی جلدی عرض کردیئے، حضرت اس پر بڑے محظوظ ہوئے اور بڑی ہی مسرت کے ساتھ فرمایا کہ ماشاء اللہ آپ کو سب کچھ یاد ہے، آپ نے پرانی باتیں یاد دلاکر بڑا مسرور کیا۔ اسی ملاقات میں جب جامعہ حقانیہ کے متعلق احقر نے کچھ حالات بتلاکر دعا کی درخواست کی تو آپ نے دعا کے ساتھ یہ قیمتی ہدایت بھی فرمائی کہ کام تدریجی طور پر کیا جائے اس میں سہولت رہتی ہے ورنہ خوامخواہ پریشانی اٹھانا پڑتی ہے۔
    کئی سال ہوئے کہ حضرت کے خلیفہ خاص جناب محمد جمیل عشرت دامت برکاتہم نے فون پر فرمایا کہ دو مسئلوں کی تحقیق کرکے بھیج دیں، حضرت والا نے حکم دیا ہے۔
    مسلمان کی عظمت و حرمت کو حضرت نبی پاک ﷺ نے بیت اللہ سے زیادہ قرار دیا۔ اس کا حوالہ درکار ہے۔
    یہ کہ نبی پاک ﷺ کے جسد اطہر کا جو حصہ مٹی کو مس کیے ہوئے ہے اس مٹی کا مقام بیت اللہ بلکہ عرش معلیٰ سے زیادہ ہے، اس کا ماخذ مطلوب ہے۔
    ان دونوں کی تحقیق لکھ کر حسب الحکم، احقر نے میر صاحب کو کراچی ارسال کردی، انہوں نے حضرت حکیم صاحب کو سنائیں تو اس پر بہت خوشی کا اظہار فرمایا اور احقر کو دعائیں دیں، اپنی خوشی کے اظہار کے لیے احقر کو فون کروایا جس سے احقر کو اطمینان اور خوشی ہوئی۔ ان دنوں احقر کے ماموں جناب سید شمشاد حسین مرحوم بھی جھنگ سے ساہیوال آئے ہوئے تھے۔ انہیں بھی بہت خوشی ہوئی انہوں نے اپنے خرچ پر احقر کا جواب ارجنٹ بھجوادیا تاکہ جلدی پہنچ جائے۔
    حضرت حکیم صاحب اور حضرت والد صاحب کے پرانے تعلقات تھے، در اصل حضرت مفتی حسن صاحب امرتسری رحمہ اللہ کا سانحہ ارتحال پیش آیا جو حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کے شیخ اور مرشد تھے، حضرت والد صاحب نے علامہ ظفر احمد عثمانی کے مشورہ سے اصلاحی تعلق حضرت عبد الغنی پھولپوری رحمہ اللہ سے قائم یا، حضرت پھولپوری نے بیعت بھی فرمایا اور باقاعدہ اصلاح بھی فرمائی، حضرت والد ماجد نے کراچی میں کچھ عرصہ آپ کے ہاں قیام بھی فرمایا، بعد میں خط و کتابت کا سلسلہ باقاعدگی سے جاری رکھا، اکثر جوابات حضرت حکیم صاحب رحمہ اللہ کے قلم سے ہوتے تھے اس طرح حضرت حکیم صاحب سے بھی خاص تعلق قائم ہوا۔
    حضرت والد ماجد فرماتے تھے کہ میرے کراچی میں قیام کے زمانہ میں حضرت پھولپوری رحمہ اللہ کی کتاب ”معرفتِ الہیہ“ پر کام ہورہا تھا اس کی تصحیح اور تخریج کی خدمت کا موقع بھی ملا، یہ حکیم صاحب کی نشاندہی کی وجہ سے ہوا۔ حضرت پھولپوری کا رسالہ ”اصول الوصول“ طبع ہوا تو اس میں بطور ضمیمہ کے حضرت والد صاحب کے بعض اصلاحی خطوط بھی شامل کیے گئے ہیں۔
    حضرت حکیم صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ سے خواجہ تاشی کے اس تعلق کی وجہ سے دونوں حضرات میں خوب تعلق تھا، حضرت والد صاحب حضرت حکیم صاحب کی اپنے شیخ سے مناسبت اور ان کی برکت سے تمام شبہات کے حل کی استعداد و قابلیت کی خوب تعریف فرماتے تھے، چنانچہ ”معرفتِ الہیہ“ کی ایک عبارت جو ”لا علم لنا“ کی توجیہ سے متعلق ہے اس پر حضرت حکیم صاحب کی لاہور میں حضرت والد گرامی سے زبانی گفتگو ہوئی، حضرت والد گرامی نے ”معرفت الہیہ“ میں کی گئی توجیہ کے مقابلہ میں مفسرین سے منقول دوسری توجیہ کو راجح قرار دیا تھا، حضرت حکیم صاحب رحمہ اللہ نے اس کے جواب میں جو توجیہ فرمائی اس سے ”معرفت الہیہ“ مین کی گئی توجیہ کا اس مقام سے مناسب ہونا واضح ہوا۔ حضرت والد صاحب ے حضرت حکیم صاحب کی بیان کردہ وجہ کو پسند فرمایا اور اپنی پسندیدگی کے اظہار کے لیے انہیں ایک گرامی نامہ بھی تحریر فرمایا جس میں اصل مسئلہ کی پوری تفصیل آگئی ہے، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہ گرامی نامہ قارئین کے استفادہ کے لیے ذیل میں نقل کردیا جائے:
    بخدمت جناب حکیم محمد اختر صاحب مدظلہم (کراچی)
    ”معرفت الہیہ“ کے ص 264 پر ”ماذا أجبتم“ کےجواب میں انبیاء علیہم السلام کے ”لاعلم لنا“ فرمانے کی توجیہ جو بیان کی گئی ہے کہ عظمت و قہاریت کے شان کے مشاہدہ سے انبیاء علیہم السلام کے بھی ہوش اس وقت بجا نہ رہیں گے، غلبۂ ہیبت حق سے امت کی طرف سے دیے ہوئے جوابات یاد نہ آسکیں گے الخ۔
    اس کے متعلق میں نے لاہور کی حاضری میں عرض کیا تھا کہ اس توجیہ کے بالمقابل دوسری توجیہ کو اہل تفاسیر نے پسند کیا ہے کہ یہ نفی علم باعتبار باطن کے ہے، حاصل جواب یہ ہے کہ ہم کو امتیوں کے صرف احوال ظاہر کا علم ہے، ان کے باطنی حال کو اے اللہ آپ ہی جانتے ہیں، ہم کو اس کا علم نہیں کیوں کہ آپ ہی غیب کے جاننے والے ہیں، لاعلم لنا کی تعلیل میں انک انت علام الغیوب فرمانا اسی توجیہ کے مناسب معلوم ہوتا ہے۔ حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے بھی اپنی تفسیر ”بیان القرآن“ میں اس آخری توجیہ کو ہی اختیار فرمایا ہے اور علامہ خازن نے توجیہ اول کو نقل کرکے اس پر لایحزنہم الفزع الکبر سے تصادم کا اشکال فرمایا تھا۔
    میری عرض کے جواب میں آپ نے فرمایا تھا کہ:
    کتاب معرفتِ الہیہ حصہ ثانی کا مقصد عظمت شان حق کے آثار کا بیان ہے، یہ کوئی علمی کتاب نہیں، حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے اپنی شان علمی کے مطابق تفسیر میں دوسری توجیہ کو بیان فرمایا ہے کیوں بیان القرآن کے مقصد تفسیر کے وہ زیادہ مناسب ہے اور معرفت الہیہ کے مقصد کے مناسب توجیہ اوّل ہے اس لیے اس کتاب میں توجیہ اول کو اختیار کیا گیا ہے کہ اس میں عظمت و ہیبت حق کے اثرکا بیان ہے اور بعض مفسرین نے اس توجیہ کو نقل بھی فرمایا ہے۔“
    شاید میں آپ کے جواب کو پوری طرح ضبط کرسکا ہوں یا نہیں مگر بحمداللہ مجھے اس جواب سے تسلی ہوگئی اور بڑی خوشی اس بات پر ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ببرکت صحبت حضرت والا دامت برکاتہم شبہات و اشکالات کے حل کرنے کی قابلیت و لیاقت اور استعداد خوب عطا کی ہے، اللہ تعالیٰ اس میں مزید ترقی اور استحکام عطا فرمائیں۔
    اس ہیچمدان کا اشکال تو حل ہوا اور اس توجیہ کے اختیار کرنے کی وجہ بھی معلوم ہوگئی لیکن خیال آتا ہے کہ اگر اس مقام پر حاشیہ وغیرہ کی شکل میں اس قسم کی کوئی عبارت تحریر کردی جائے تو دوسرے حضرات کے لیے بھی دافع اشکال ہوگی، شاید کسی اور بھی یہ اشکال پیش آئے، مثلاً عبارت یہ ہو:
    ”آیت ہٰذا کی یہ تقریر منجملہ توجیہات منقولہ محتملہ کے ایک توجیہ پر کی گئی ہے اور یہ توجیہ چونکہ مقصوم مقام کے مناسب اور مطابق تھی اس لیے اس جگہ اس کا اختیار کرنا مناسب تھا اگر تحقیقی اور علمی طور پر دوسری توجیہات منقولہ تفاسیر اس توجیہ کے مقابلہ میں راجح اور قوی ہیں۔“
    مفسرین نے چونکہ دوسری توجیہ کو پسندیدہ قرار دیا ہے جو اگر چہ معرفت الہیہ کے مقام کے مطابق نہیں ہے اس لیے حضرت والد ماجد نے اس کی تعین کے ساتھ اصل حاشیہ میں اس کے اختار کرنے کی وجہ ذکر کرنے کا صائب مشورہ تحریر فرمادیا تاکہ کسی کو اشکال نہ ہو۔ و هذا احسن التطبیق و حبذا التوفیق
    حضرت اقدس شاہ عبد الغنی پھولپوری رحمہ اللہ کے ملفوظات میں حضرت اقدس مولانا رشید احمد گنگوہی کے حوالہ سے درج ہے کہ:سورج کی ٹکیہ نکلنے کے بعد سے ہی اشراق کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔
    یہ چونکہ خلاف واقعہ اور خلاف تحقیق ہے اس لیے حضرت والد صاحب نے حضرت حکیم صاحب کو اس کی طرف متوجہ کرتے ہوئے انہیں تحریر فرمایا
    وقت اشراق کی تحقیق
    دوسری گزارش یہ تھی کہ ملفوظات (شاہ عبد الغنی صاحب پھولپوریؒ) میں ہے کہ حضرت گنگوہی کی تحقیق ہے کہ سورج کی ٹکیہ نکلنے کے بعد ہی اشراق کا وقت شروع ہوجاتا ہے، لیکن ”تذکرۃ الرشید“ میں ص 191 پر حضرت گنگوہی کا جواب منقول ہے کہ اشراق کا وقت بلندی یک نیزہ سے شروع ہوکر ایک ربع تک رہتا ہے الخ، نیز علامہ شامی فرماتے ہیں:
    ینبغی تصحیح مانقلوه عن الاصل للامام محمد من انه مالم ترتفع الشمس قدر رمح فهي في حکم الطلوع لأن اصحاب المتون مشوا علیہ في صلوۃ العید حیث جعلوا اول وقتها من الارتفاع“ (ج 1 ص 259) امید ہے کہ رائے عالی سے مطلع فرماکر ممنون فرمائیں گے۔ 2 صفر 1383ھ
    احقت نے حضرت والد ماجد کی وفات کے بعد ان کی ایک مبسوط و مفصل ایک ہزار صفحات پر مشتمل سوانح بنام ”حیات ترمذی“ تحریر کی جو محرم الحرام 1424ھ میں شائع ہوئی، اس میں حضرات علمائے کرام و مشائخ عظام سے بھی حضرت پر مضامین لکھوائے گئے تھے، حضرت حکیم صاحب سے بھی احقر نے بذریعہ خط لکھنے کی درخواست کی، چونکہ ان دنوں آپ علیل تھے اس لیے کوئی تفصیلی تحریر یا مقالہ ان کے لیے لکھنا ممکن نہ تھا تاہم مختصر تحریر لکھواکر حضرت نے احقر کی حوصلہ افزائی فرمائی اس میں آپ نے حضرت سے اپنے تعلق کا اظہار کرتے ہوئے لکھوایا:
    ”حضرت مولانا مفتی سید عبد الشکور ترمذی صاحب میرے خاص دوستوں میں تھے، ان کا علم بہت وسیع اور عمیق تھا، ان کے والد صاحب حضرت مولانا عبد الکریم گمتھلوی رحمہ اللہ تعالیٰ حضرت حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ کے خلیفہ تھے، حضرت مفتی صاحب حضرت تھانوی سے بیعت تھے، اللہ تعالیٰ حضرت مفتی صاحب کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کی دینی خدمات کو قیامت تک صدقہ جاریہ بنائے، آمین۔ (حیات ترمذی ص 600)
    حضرت حکیم صاحب ایک منجھے ہوئے شاعر بھی تھے، ان کا کلام فیضان محبت کے نام سے شائع ہوچکا ہے بلکہ اس کی شرح بھی چھپ چکی ہے۔ ان کے کلام میں حق تعالیٰ سے عشق و محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، اور یہی کچھ وہ دوسرو میں بھی بھرنا چاہتے ہیں، ان کا عارفانہ کلام ساراہی عجیب و غریب ہے لیکن درج ذیل اشعار پورے دیوان کی جان معلوم ہوتے ہیں۔ احقر ناکارہ کو بھی بدذوق ہونے کے باوجود یہ اشعار پسند ہیں اس لیے آخر میں ہدیۂ قارئین ہیں ؏
    رنگ لائیں گی کب میری آہیں
    پھر مدینہ کی جانب کو جائیں
    جب نظر آئے وہ سبز گنبد
    کہہ کے صل علیٰ جھوم جائیں
    جب حضوری کا عالم عطا ہو
    ان کو افسانۂ غم سنائیں
    اب نہ جانا ہو گھر ہم کو واپس
    چپکے چپکے یہ مانگیں دعائیں
    تیرے در پر مرا سر ہو یارب
    جان اس طرح تجھ پر لٹائیں
    مجھ کو اپنا بنالو کرم سے
    ملتزم پر یہ مانگیں دعائیں
    دونوں عالم کی کیا ہے حقیقت
    جتنے عالم ہوں تجھ پر لٹائیں
    سارے عالم میں پھر پھر کے یارب
    تیرا دردِ محبت سنائیں
    تیرا درد محبت سناکر
    سارے عالم کو مجنوں بنائیں
    سارے عالم کو مجنوں بناکر
    میرے مولیٰ ترے گیت گائیں
    لذت قرب پاکر تری ہم
    لذتِ دوجہاں بھول جائیں
    در بدر ڈھونڈتا ہے یہ اخر
    اہل درد محبت کو پائیں
    بحمدہ تعالیٰ و بفضلہ، اللہ تعالیٰ نے حضرت حکیم صاحب سے اصلاح و ارشاد، تزکیہ نفس اور اصلاح باطن، روحانی امراض کی اصلاح، خاص طور پر بدنگاہی سے حفاظت کی تدابیر و اصلاح کا بہت کام لیا۔ہمارے شیخ حضرت نواب قیصر صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ آپ کو ”غضِّ بصر“ کا مجدد فرمایا کرتے تھے، بہر حال اب ان کے ہزاروں متوسلین، خلفاء کرام، خانقاہ اور مدرسہ اشرف المدارس ان کی بہترین یادگار ہیں۔ ساتھ ہی ان کے خلف الرشید حضرت مولانا حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم ان کے لیے سب سے بہتر صدقہ جاریہ ہیں۔ حق تعالیٰ انہیں صحیح معنیٰ میں آپ کے مشن کو آگے بڑھانے اور صحت و عافیت سے مزید کارہائے نمایاں انجام دینے کی توفیق اور سعادت عطا فرمائیں، اور ہر نیک کام میں ان کی مدد و نصرت فرمائیں، آمین
    احقر عبد القدوس ترمذی غفر لہ
    16 شعبان المعظم 1434ھ
  2. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    سبحان اللہ ماشاء اللہ بہت خوب

اس صفحے کو مشتہر کریں