وہ جو چاہتے ہیں ہم وہی کرتےہیں۔۔۔۔ بقلم زنیرہ گل

'عالمی سیاست' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏اکتوبر 13, 2020۔

  1. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل ناظم۔ أیده الله ناظم رکن

    پیغامات:
    322
    موصول پسندیدگیاں:
    120
    صنف:
    Female
    میں نے گولڈا مائیر کے بارے میں پڑھا یہ ایک اسرائیلی معلمہ، سیاست دان اور اسرائیل کی چوتھی وزیر اعظم تھی۔ 1974ء میں جنگ یوم کپور کے اختتام پر گولڈا مئیر نے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفی دے دیا۔

    گولڈا مائیر ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کی چوتھی وزیراعظم تھی۔ ناجائز کا مطلب تو الحمداللہ ہم سب مسلمان جانتے ہی ہیں وہ ۱۸۹۸ءمیں روس میں پیدا ہوئی، لڑکپن میں امریکا چلی گئی اور ۱۹۲۱ء میں فلسطین میں منتقل ہوگئی۔ وہ اعتراف یہ بھی کرتی ہے کہ ۱۹۲۱ء سے ۱۹۴۸ء تک وہ خود بھی فلسطینی پاسپورٹ رکھتی تھی۔ فلسطین پر قبضہ کرکے بنائی جانے والی ریاست کی سفیر پھر وزیر خارجہ اور ۱۹۶۹ءسے ۱۹۷۴ء تک وزیراعظم رہی۔

    فلسطین پر قائم کی جانے والی غاصبانہ ریاست اور فلسطینی عوام کے بارے میں اس کے کئی اقوال بڑی شہرت رکھتے ہیں۔

    کئی حوالوں سے اس کی شخصیت اور اس کا دور بہت اہم ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ آپ کی زندگی کا خوف ناک ترین دن کون سا تھا اور سب سے خوش گوار دن کون سا؟ اس نے کہا کہ خوف ناک ترین دن ۲۱؍ اگست ۱۹۶۹ء کا تھا جب مسجد اقصیٰ کے جلائے جانے کا واقعہ پیش آیا۔ میں ساری رات سو نہیں سکی۔ مجھے لگتا تھا کہ کسی بھی وقت ہر طرف سے عرب فوجیں ہم پر ٹوٹ پڑیں گی۔ اور خوش گوار دن اس سے اگلا روز تھا، جب ہمیں تسلی ہوگئی کہ فوج کشی تو کجا کسی عرب حکومت نے اس کا سنجیدہ نوٹس بھی نہیں لیا۔ پھر وہ کہتی ہے کہ ہمیں ان عربوں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں، البتہ ہمیں اس دن سے ضرور ڈرنا چاہیے کہ ’’جب ان کی مسجدوں میں نماز فجر کے لیے اتنے لوگ آنا شروع ہوجائیں گے جتنے لوگ ان کی نماز جمعہ میں آتے ہیں‘‘۔

    باقی سب باتیں پڑھنے کے بعد جس بات نے مجھے مجبور کیا کہ تحریر کروں جو بہت اہمیت کی حامل ہیں وہ یہ کہ ان کے لیے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتے وقت ڈر تھا کہ جو وہ کرنے جا رہے ہیں اس کے برعکس ان کے خلاف ایک شدید قسم کی کارروائی ہوگی گویا وہ تصور کرنے لگے شیر کےمنہ میں ہاتھ ڈال رہے ہیں لیکن پھر بھی بڑی دھٹائی سے رسک لے کر اپنے مذہب و قوم کے لیے کوشش جاری رکھی ان کو خدشہ تھا کہ اس کے بدلے موت بھی ہو سکتی ہے لیکن کر گزرے . لیکن مسلمان تو ایک سوئی ہوئی قوم ہے جو قریب المرگ حالت میں ہے واللہ اعلم کب کسی غازی کا ظہور ہو جو مسلمانوں کو جھنجوڑ کر بیدار کرے.

    دوسری بات ان کی خوشی جو اس بات کی تھی کہ کسی نے رد عمل کا اظہار نہیں کیا اور کرے بھی کیسے مسلمان کوئی متحد قوم تو نہیں کہ سارے اسلامی ممالک مل کر ان کے سامنے آجائیں ہاں البتہ مسلمان یہودیوں اور صلیبیوں کے ساتھ مل کر اس اتحاد میں ضرور شامل ہو سکتے ہیں جو افغانستان یا عراق جیسے مسلم ممالک کے خلاف ہوں. کشمیر اور فلسطین جیسی ریاستوں کے حق میں آواز اٹھانے سے ان کے گھر کے چولہے بجھنے کا خطرہ ہے.

    اور سب سے بڑی بات جو اس خاتون کی تھی وہ یہ کہ " ہمیں ان عربوں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں، البتہ ہمیں اس دن سے ضرور ڈرنا چاہیے کہ ’’جب ان کی مسجدوں میں نماز فجر کے لیے اتنے لوگ آنا شروع ہوجائیں گے جتنے لوگ ان کی نماز جمعہ میں آتے ہیں‘‘۔

    سبحان اللہ ان کو بھی معلوم ہے کہ مسلمانوں میں اتفاق و اتحاد اپنے دین پر عمل کرنے سے ظاہر ہوگا جو یقیناً ایک درست بات ہے. لیکن وہ جو چاہتے ہیں ہم وہی کرتےہیں جب تک مسلمان اپنے دین پر پوری طرح سے عمل نہیں کرےگا اپنے ایمان کو تازہ نہیں کرےگا اپنے آقا ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل نہیں کرےگا اللہ رب العزت کے احکامات کی پیروی نہیں کرےگا ، ایک اللہ کو ماننے والے ایک رسول ﷺ کے شریعت کے مطابق عمل کرنے والے جب تک نہیں بنیں گے اس وقت تک مسلمانوں میں اتفاق و اتحاد اور غیرت ِ ایمانی بیدار نہیں ہوگا. نہ ہی وہ جذبہ جہاد بیدار ہوگا جو سنت رسول ﷺ ہے.

    اللہ ہم سب کے ایمانوں کی حفاظت فرمائے اور دین اسلام پر مکمل طور پر عمل کرنے والے اسلام کے سپاہی بنا کر غازی اور شہید کے درجات پر فائز فرمائے آمین


    زنیرہ گل

اس صفحے کو مشتہر کریں