ویدوں کی تعلیمات

'غور کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏مئی 10, 2015۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,586
    موصول پسندیدگیاں:
    774
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    ویدوں کی تعلیمات​
    ویدوں میں مذہبی ،معاشرتی اور سیاسی وغیرہ ہر موضوع پر کچھ نہ کچھ روشنی ڈالی گئی ہے ۔چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔
    "میں دوست کی نظر سے سب کو دیکھوں ۔ ہم سب لوگ دوست کی نگاہ سے آپس میں ایک دوسرے کو دیکھیں"۔
    "یہ اپنا ہے اور یہ پرایا ہے ۔ایسا خیالپست ذہن والوں کا ہوتا ہے ،وسیع القلب کی نگاہ میں تو یہ ساری زمین ہی ایک کنبہ ہے۔ "
    اتھر وید میں ہے "سینکڑوں ہاتھوں سے اکھٹا کرو اور ہزاروں ہاتھوں سے بانٹ دو۔ "۔
    رگ وید میں ہے " دھرم کا مارگ آسان ہے "۔
    "حق کی ناؤ دھر ماتما کو پار لگاتی ہے "۔
    اتھر وید میں ہے "میری زبان کے اگلے حصے میں شہد ہو ،زبان کی جڑ میں شیرینی ہو۔اے مٹھاس تو میرے عمل اور خیال میں بس جا "۔
    یجروید میں بھی کہا گیا ہے " میری آنکھوں میں شفقت ومحبت اور مٹھاس اور میرے منہ میں امرت ہو "۔
    "اسے جان کر ہی کوئی موت پر فتح پا سکتا ہے ۔نجات کی اور کوئی دوسری راہ نہیں "۔
    "اچھے خیالات ہر طرف سے ہم پر آئیں "۔
    " ہم نیک راستے پر سورج اور چاند کی طرح چلیں "
    "آسمان اور زمین اس کے سامنے جھکتے ہیں اور پہاڑ اس کے سامنے جھکتے ہیں اور پہاڑ اس کے سامنے لرزہ بر اندام ہوتے ہیں "۔
    "تیرے جیسادوسرا کوئی نہ تو دیو لوک میں اور نہ زمین کی چیزوں میں ہے ۔نہ ابھی تک تیرے جیسا کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ مستقبل میں ہوگا "۔
    "ایک ہی ذات حمد اور نمسکار کے لائق ہے۔ "
    اوپر کی تصریحات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ویدوں میں جہاں نا پسندیدہ اور نا قابل فہم باتیں پیدا ہو گئی ہیں ،وہیں ان میں ایسے جو اہر ریزے بھی پائے جاتے ہیں جو ہماری توجہ کے مستحق ہیں ۔ضرورت ہے کہ اس پہلو سے ویدوں کا جائزہ لیا جائے اورقرآن مجید کی روشنی میں ان کا مطالعہ کر کے ان کے حسن وقبح کو نمایا ں کیا جائے ۔ ظاہر ہے کہ یہ کام مشقت طلب ہےاور اسے کوئی مسلم اسکالر ہی انجام دے سکتا ہے۔(وید کا تعارف)

اس صفحے کو مشتہر کریں