چا هتوں کا يوں سلسله رکھا

'اصلاح سخن' میں موضوعات آغاز کردہ از عمرانکمال, ‏جنوری 31, 2014۔

  1. عمرانکمال

    عمرانکمال وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    غزل برائے اصلاح

    چا هتوں کا يوں سلسله رکھا
    اپنے ساتھ اس نے قافله رکھا

    فرقتوں ميں بھي پاس هے ميرے
    قر بتوں ميں بھي فاصله رکھا

    درد سے آشنا کيا تو نے
    گھر ميں سب نے تھا لاڈ له رکھا

    حسن پے جب کيا غرور اس نے
    سامنے هم نے بلبله رکھا

    رات کا سا گماں هوا هم کو
    زلف کو اس نے جب کھلا رکھا

    عشق کے کھيل کھيلتا وه رها
    مخبوب اس نے يه مشغله رکھا

    حسن نے عشق ميں مرے دل کو
    زندگي ساري مبتلا رکھا

    مے کشي بے حساب کي هم نے
    خشک پھر بھي مگر گله رکھا

اس صفحے کو مشتہر کریں