چمگادڑوں کامقامی لہجہ

'حیات الحیوان' میں موضوعات آغاز کردہ از زوہا, ‏جون 16, 2011۔

  1. زوہا

    زوہا وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    138
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    کہا جاتا ہے کہ ہر دس کلومیٹر کے بعدکی آبادی میں انسانوں کا لب ولہجہ بدل جاتا ہے حتیٰ کہ بات کرنے کے انداز سے مخاطب سمجھ جاتا ہے کہ بولنے والے کا تعلق کس خطے سے ہو سکتا ہے۔صرف انسان ہی نہیں ہیں جن کا لب و لہجہ ہر خطے میں مختلف ہوتا بلکہ چمگادڑیں بھی ایسا لب و لہجہ اختیار کر لیتی ہیں جو کسی خاص ماحول کے عین مطابق ہوتا ہے جس میں وہ رہ رہی ہوتی ہیں۔
    آسٹریلوی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اِس نئی دریافت کی مدد سے چمگادڑوں کی مختلف اقسام کی الگ الگ شناخت میں آسانی ہو گی اور ان کے تحفظ کے لئے زیادہ بہتر اقدامات کئے جا سکیں گے۔
    ’فاریسٹ سائنس سینٹر‘ Forest Science Centreسے وابستہ محقق بریڈ لا Brad Lawنے یہ پتہ چلایا کہ ریاست نیو ساوتھ ویلز کے مشرقی ساحلوں کے ساتھ ساتھ واقع جنگلات میں بسنے والی چمگادڑوں کی بولی مختلف تھی۔ لا کے مطابق اگرچہ سائنسدانوں کو دیگر جانوروں کے ساتھ مرتب کئے جانے والے کچھ تحقیقی جائزوں کی روشنی میں بہت عرصہ پہلے سے یہ شک تھا کہ چمگادڑوں کی بولی الگ الگ ہو سکتی ہے تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ یہ بات باقاعدہ تجربات سے ثابت بھی کی گئی ہے۔
    بریڈلا نے مزید بتایا کہ چمگادڑوں کی تیس مختلف اقسام کی مختلف آوازیں استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا نظام وضع کیا گیا ہے، جس کی مدد سے سائنسدان ساحلی علاقے کے ساتھ ساتھ مختلف طرح کی چمگادڑوں کو شناخت کر سکتے ہیں، ان کی تعداد کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور ان کے بچاو کے لئے اقدامات کر سکتے ہیں جبکہ چمگادڑ کی یہ قسم صرف کیوبا میں پائی جاتی ہے۔
    بریڈلا اور اس کے ساتھی سائنسدانوں نے پہلے چار ہزار چمگادڑوں کی آوازیں ریکارڈ کیں اور پھر ایک خاص طور پر تیار کئے گئے کمپیوٹر پروگرام کی مدد سے ایسی کلیدیں تیار کیںجن کی مدد سے نیو ساوتھ ویلز کے مختلف حصوں کی چمگادڑوں کی آوازوں کو الگ الگ شناخت کیا جا سکتا تھا۔ چمگادڑ یہ آوازیں اپنا راستہ تلاش کرنے اور شکار کرنے کے لئے نکالتے ہیں۔ وہ بلند فریکوئنسی والی ایسی آوازیں نکالتے ہیں جنہیں انسانی سماعت سننے سے قاصر ہوتی ہے۔
    یہ صوتی لہریں جب چمگادڑ کے شکار کے جسم سے ٹکرا کر واپس آتی ہیں تو چمگادڑ کوصرف یہی نہیں پتہ چل جاتا ہے کہ اس کا شکار کس سمت میں بلکہ وہ یہ بھی جان لیتے ہیں کہ شکار کتنے فاصلے پر موجود ہے۔لا اور اس کے ساتھی سائنسدان اپنے تجربات جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ابھی اِس طریقے پر پیسہ بھی زیادہ خرچ ہوتا ہے اور وقت بھی تاہم سائنسدان امید کر رہے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ وہ اِس طریقے کو اتنا بہتر کر لیں گے کہ یہ کم خرچ بھی ہو اور نتائج بھی جلدی سے فراہم کرے۔
  2. اعجازالحسینی

    اعجازالحسینی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,081
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
  3. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,624
    موصول پسندیدگیاں:
    789
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    ما شاء اللہ بہت خوب شئیرنگ ہے ۔
    جزا ک اللہ زوہا صاحبہ
  4. أضواء

    أضواء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,522
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Saudi Arabia
    بہترین تحریر پر آپ کا شکریہ
  5. نورمحمد

    نورمحمد وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,119
    موصول پسندیدگیاں:
    354
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    ما شاء اللہ...........ما شاء اللہ..............ما شاء اللہ
  6. سیفی خان

    سیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4,554
    موصول پسندیدگیاں:
    71
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    شئیرنگ کا شکریہ
  7. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    207
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    جبردشت چیج پوسٹ پھرمائی حے عاپ نے

اس صفحے کو مشتہر کریں