چندر بدن اور مہ یار

'حکایات' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏اکتوبر 9, 2014۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,624
    موصول پسندیدگیاں:
    790
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    چندر بدن مہ یار
    ۔
    یہ ایک حقیقی کہانی ہے عشق مجازی کی لازوال داستان اس میں نصیحتیں بھی ہیں، عبرت بھی۔چندر بدن نے مہیار کو جو نصیحت کی وہ خود عبرت انگیز ہے ۔میں جانتا ہوں اس کہانی کی ترتیب خاصی الجھی ہے جگہ جگہ فارسی اشعار نے تسلسل باقی نہ رکھا لیکن صاحبِ ذوق کیلئے شکر قند ہے اگر کوئی صاحب تلخیص کردیں اجاززت ہے۔ بھائی معاف کرنا تھریڈ بناکے پیش کررنے سے معذور ہوں۔پسند آئے دعا دیں۔ناپسند ہو اپنے چھوٹے بھائی کو معاف کر دیں۔والسلام ۔شیرازی
    نصیحت۔ میں گنہ گار بت پرست ہوں۔ تو مسلمان ہے خدا سے تعلق رکھتا ہے۔ تو شریعت پرست دیندار آدمی ہے۔ بت پرست سے محبت کیوں کرتا ہے۔ اے عقلمند اس جگہ قدم روک لے۔ سمجھدار لوگ اس کا خیال بھی نہیں رکھتے۔کوئی بھی انسان اس کو اچھا نہیں کہتا ۔ کہ کافر اور مسلمان باہم نکاح کریں۔تو میرا یار ودم ساز بننا چاہتا ہے۔ تو پاگل ہے ۔ اتنا کہہ کر وہ چلی گئی۔
    چندر بدن مہ یار
    افضل العلماء مولانا الحاج محمد یوسف صاحب کوہ کن (ماخوذ اللطیف)
    چندرؔ بدن او رمہیارؔ کی کہانی ہندوستان کی ان مشہورومقبول کہانیوں میں سے ایک ہے ،جس کو ہمارے جنوبی ہند کے فارسی اور اردو شعراء نے اپنی مثنوی کا موضوع بنایا ہے افضل ؔ خان لذتی اور مقیمیؔ نے اس مو ضوع پر مثنویاں لکھی ہیں حضرت سیدشاہ عبد اللطیفؔ ذوقی ویلوری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی فارسی زبان میں ’’ عشق نامہ‘‘ کے نام سے ایک مشہور مثنوی لکھی ہے۔مولانا باقر آگاہ ویلوری نے اردو میں ’’ ندرت عشق‘‘ کے نام سے ایک مثنوی لکھی جو ان کے اردو مثنویات ’’ خمسہ اوج آگاہی‘‘ کے اندر شامل ہے ۔ ان کے بعد ان کے مشہور شاگرد نواب اعزاز الدینؔ خان بہادر مستقیم جنگ نامی نے فارسی میں ایک مثنوی لکھی ہے جس کا نام ’’ اعجاز فردوس‘‘ رکھا ہے ۔ گنڈو عبد القادر صاحب شاکرؔ مر حوم ساکن وانمباڑی نے بھی ’’ گلزار شاکر‘‘ کے نام سے ایک مثنوی اس موضوع پر اردو زبان میں لکھی ہے۔
    یہ کہانی بڑی مدت سے جو لوگوں کی زبان پر جاری تھی ’’مولانا باقر آگاہ لکھتے ہیں!
    اگر چہ یہ قصہ کہن سال ہے. پہ تیرے بیاں میں نئی چال ہے​
    ہے ہر چند یہ داستاں مشتہر= پہ ہے اور ہی ترے لب میں اثر کہے ہیں اسے ہندی اور فارسی= پہ تیرے بیاں کی کہاں آرسی

    مولانا باقر آگاہ اور حضرت ذوقیؒ نے اس کا جائے وقوع شہر سندرؔ بتایا ہے نامیؔ نے پنجاب کی سر زمین کو اس قصہ کا جنم دیس قرار دیا ہے ۔ مولانا باقر آگاہ اس کے متعلق رقم طراز ہو تے ہو ئے فرماتے ہیں:
    کہ اطراف سندر میں تھا ایک گاؤں=کہ شہروں میں مشہور تھا جس کا ناؤں
    اگر چہ اسی گاؤں کا تھا لقب =ولیکن تھا تب شہر کا اس میں ڈھب
    کیا جب نہ راوی بیاں اس کا نام= ہوا دل کو میرے تردد تمام
    ہے بے ناؤں کیوں ایسے عاشق کا گاؤں=معین نہیں کس لئے اس کا ٹھاؤں
    کیا دل کے عقدہ کو یوں میں نے وا=کہ اس عشق کو نا نشاں ہے نہ جا
    جو عاشق ہوا عشق میں ہے نہاں =کہاں سے ہوا اس کو مکان ونشاں
    پھر خود ہی کہتے ہیں’’ یہ مقام کدری کا ہے‘‘ (اندھراپردیش) جو کڑپہ کے قریب ایک مشہور گاؤں ہے کہا جاتا ہے کہ یہاں مہ یار عاشق کی قبر مو جود ہے آگاہ لکھتے ہیں۔
    کہے دوسروں نے کہ بیشک وہ گاؤں=یہی ہے کہ کدری ہو اس کا ناؤں
    روایت یہ آئی ہے باور مجھے= دلیل اس میں یک ہو وے ہے یاور مجھے
    خبر یک ہے از سرور انبیاء=کہ ہے جس کے مضمون کا یہ مد عا
    کہ جو شخص پیدا ہو یک جائے سے= وہی جائے ہو جائے مدفن ہو اسے
    ہے کدری میں مہیار مدفن جب= تھا اس گِلز میں سے خمیر اس کا سب
    تھی چندر بدن کی بھی وہاں سے خمیر = کہ بایار وہاں ہو گئی گوشہ گیر
    حقیقت میں معشوق عاشق کا تن=ہے تخمیر میں متحد جیسا من
    مولانا آگاہ نے یہ مثنوی ندرت ۱۲۱۵ ؁ھ میں لکھی تھی جو ان کی آخری عمر کا زمانہ تھا کیو نکہ اس مثنوی کے لکھنے کے پانچ سال بعد انھوں نے مدراس میں وفات پائی یہ وہ زمانہ تھا جب کہ ان کے عقل وذہن اور شاعرانہ کمال میں پختگی آچکی تھی۔ مگر حضرت ذوقی ؔ نے اپنی مثنوی عشق نامہ اس وقت لکھی جبکہ انہوں نے اپنی عمر کے صرف بائیس بہاریں دیکھی تھیں چنا نچہ وہ فرماتے ہیں:

    گہے اتمام ایں فر خندہ تمثال= سراسر عمرِمن ببدیں بست ودوسال
    ترجمہ:اس عظیم الشان کار نامہ کی تکمیل کے وقت میری عمر ۲۲ سال ہے​
    اس مختصر سی عمر میں انہوں نے اس پہلے دو ضخیم مثنویاں ہدیۂ اخبار اور معجز مصطفےٰ لکھدی تھی چنا نچہ خود ہی فرماتے ہیں۔
    ہواے شعر کا دل بار کر دم= بنائے ہدیۂ اخیار کر دم
    چواز فضل خدا کر دم تماش= بنام مصطفےٰ شد اختتامش
    کنوں ایں نامہ را از روئے تحقیق = متمم می کنم بہ مام صدیق
    ترجمہ: دلپذیر شعر کا ارادہ کیا ’’ہدیۂ اخبار‘‘ کے طرز پر (شعر ) لکھا
    خدا کے فضل سے جب تمام ہوا،بنامِ مصطفےٰ اس کا اختتام ہوا۔
    اس مجموعہ کو حقیقت پسندی کے رو سے۔ حضرت صدیقؓ کے نام پر ختم​
    حضرت ذوقی کی یہ مثنوی زبان وبیان اور اسلوب کے لحاظ سے بہت اعلیٰ پایہ کی ہے دو ہزار سے زیادہ اشعار پر مشتمل مثنوی کو صرف بائیس دن میں ختم کیا ہے جس سے ان کی قادر الکلامی کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
    چوں در تزئین ایں پیکر نششتم = بعشرین ودو روزش نقش بستم
    سمر قند ایں کتاب وقند بیت است = چو بشماری دو الف چند بیت است
    ترجمہ: جب اس پیکر کی آزمائش کیلئے بیٹھا۔ ۲۲دن میں تصویر (کتاب) مکمل کر لی ۔
    یہ کتاب (شہر علم وفضل) سمر قند ہے اور اشعار قند (میٹھے ہیں)۔تعداد دو ہزار سے زیادہ ہے۔
    حضرت ذوقی نے حمد سے اس کتاب کی ابتدا کی ہے چونکہ خود ہی ایک زبر دست اہل دل صوفی تھے اس لئے ابتدا ہی میں عرفان اور تزکیہ نفس پر بہت زور دیا ہے فرماتے ہیں۔
    خودی را محو کر دن لا بد آمد = حجابِ دید حق دید خود آمد
    چو کلک صنعِ او بنگاشت انساں = امانت ہای او برداشت انساں
    پس انساں را کہ در بند حضور است = شناسا بودن رازوی با لضرور است
    کسے را کیں صفت نبود مہیا =تلاشِ معرفت نبود مہیا
    خس بے دانش وناداں محض است =نہ انساں است بل حیواں محض است
    چو حق از بہر عرفاں کرد پیدا = نہ بہر جرم وعصیاں کرد پیدا
    ترا جز جرم وعصیاں نیست کاری= ترحم چوں کند حق بر تو بارے
    صفائے دل طلب آئینہ بزدا = چوں زنگی چند باشی زنگ پیرا
    دلت را چوں صفائی نیست در بر = کجا دروی شود حق جلوہ گستر
    صواب آں شد کی بگذاری سر جہل = بیفشانی بسر خاگستر جہل
    شریعت را انیسِ خویش رانی = حقیقت را چو جاں در دل نشانی
    زبد کاری دل خود را بر آری = حقیقت با شریعت جمع داری
    اگر زیں شمع جاں پروانہ داری = باوجِ قرب حق پروانداری
    اگر داری بہ دل نورف صفا را=زذوقی بشنو اسرارِ خدا را
    نخست از گفت ذوقی راہ داں شو= پس انگہ در رہِ عرفاں رواں شو
    تر جمہ: خودی کو فراموش کر نا لازمی ہے۔ اپنا دیدار حق کے دیدار کیلئے پردہ ہے۔
    خدا نے جب انسان کو پیدا کیا ۔اس نے امانتِ خدا وندی کا بار اپنے سر لیا ۔
    انسان بار گاہِ حق کا حضوری ہے حق کی معرفت اس کے لئے ضروری ہے۔
    جس میں یہ صفت پیدا نہ ہو۔ وہ تلاش معرفت میں کا میاب نہ ہوگا۔
    بے عقل اور محض نا دان ہے ۔ انسان نہیں حیوان ہے ۔
    کیونکہ حق نے عرفان کیلئے پیدا کیا ۔جرم وعصیاں کیلئے پیدا نہیں کیا۔
    تجھے جرم وعصیاں کے سوا اور کوئی کام نہیں ہے۔ تو حق تجھ پر ذرا بھی رحم کیوں کرے۔
    آئینہ کی طرح دل کو صاف رکھ۔ میل وکچیل اور لرد وغبار سے بچ۔
    جب تیرا دل ہی صاف نہیں ہے ۔ اس میں حق کا جلوہ آرا سے کہا ہو گا۔
    مناسب یہ ہے کہ جہالت سے باز آ جا۔جہالت کی راکھ( گرد) اسے سر سے جھاڑ دے۔
    شریعت کو اپنا دوست بنا ۔ حقیقت کو روح کی طرح دل میں پوشیدہ رکھ ۔
    بد کاری سے اپنا دل پاک کر۔ حقیقت اور شریعت کو ساتھ ساتھ رکھ۔

    اگر اس شمع کے پروانہ بنو گے۔خدا کا قرب حاصل کر لو گے۔ اگر دل میں نورِ صفا ہے ۔تو ذوقی سے اسرارِ خدا سن۔
    پہلے ذوقیؔ جو اس راستے سے واقف ہے اس کی بات سنو۔پھر اس کے بعد عرفان کے راستے میں قدم رکھنا ۔​
    حضرت ذوقی نے ہر مضمون کی سرخی کچھ ایسی قائم کی ہے جس سے عرفان وتصوف کی جھلکیاں ظہور پذیر ہو تی ہیں۔
    خرد منداں کہ ملکِ عیش رانند = طریقِ عشق برد وگو نہ خوانند
    یکی عشقِ مجازی کز ہوا نیست = دراں مشکِ خطا بوئی خطا نیست
    دگر عشقِ حقیقی، عشق صادق = کزاں فانی شود ہستی عاشق
    بدیں وصف آنکہ موصوف ازازل شد = بنزد اہل معنیٰ بے بدل شد
    ندارد ہیچ گاہی با ہوا کار = بود پیوستہ اورا با خدا کار
    بود عالم بچشم ہمتش پست = کہ می باشد زجام دید حق مست
    چومی گردد زبودِ خود مبرا = شود آخر ببود حق مطرا
    اگر بر چرخ یا بر خاک بیند = تجلی خدائے پاک بیند
    زنیک اورا خبر نبود زبد نیز = دو عالم بے اثر گردد زخود نیز
    بحق گوید اگر حسر فی بگوید = بدو جوید اگر کاری بجوید
    چناں از کار خود مد ہوش ماند = کہ حق را داند خود را نداند
    بمدہوشی زند آوازِ عشقِ مطلق
    ترجمہ:عقلمند لوگ جو ملکِ عشق کے حکمراں ہے۔عشق کی دو قسمیں بتا تے ہیں۔
    ایک عشق مجازی جس میں کچھ فائدہ نہیں اس مشکِ ختن میں مشک کی بو نہیں۔
    دوسرا عشق حقیقی یا عشقِ صادق ہے ۔جس میں عاشق کی ہستی فنا ہو جاتی ہے۔
    جو ابتدا سے اس رنگ میں رنگا ہوا ہے۔اہلِ دل کے نزدیک ’’ لا فانی‘‘ہے۔
    وہ ہوا وہوس سے مطلب نہیں رکھتا ۔وہ خدا سے لو لگائے رکھتا ہے۔
    اس کی نظر میں دنیا کی کوئی قدر وقیمت نہیں۔ جو دیدارِ حق کا جام پی کر مست ہو گیا۔
    جو اپنے وجود کو مٹا دیتا ہے۔ وہ حق کے وجود سے معطر ہو جاتا ہے۔
    اگر آسمان پر یا زمین پر نظر ڈالتا ہے ۔ خدائے پاک کی تجلی نظر آتی ہے ۔
    اسے نہ اچھے سے خوسی، نہ برے سے غم۔دونوں جہاں یہاں تک کہ اپنی ذات سے بے خبر ہوتا ہے ۔
    زبان کھولتا ہے تو حق کا ورد کرتا ہے۔ اپنی مراد خدا سے مانگتا ہے۔
    اسے اپنا بھی ذرا بھی ہو ش نہیں رہتا ۔خدا کو جانتا ہے خودی کو نہیں پہچانتا۔
    مدہوشی میں عشق مطلق کی صدا لگاتا ہے۔ یعنی انا الحق انا الحق کہتا ہے​
    اس کے بعد اصل کہانی شروع ہو تی ہے ۔

    لکھا ہے شہر سندر میں ایک بادشاہ تھا جس کی ایک خوبصورت لڑکی تھی جس کا نام ’’چندر بدن‘‘ تھا اس لڑکی کے اوصاف حسنہ گنا نے کے بعد اس کے حسین وجمیل باغ اور سامانِ عیش اور گوناں گو ساز ہائے موسیقی کو بیان کیا ہے ۔اس کے بعد مہار کے حسن وجمال اور تعلیم وتربیت کی تفصیل پیش کی ہے اس کا باپ ایک تاجر تًھا جو شہرسندر کے قریب ایک گاؤں میں رہتا تھا اس نے اپنے لڑکے کیلئے اعلیٰ پیمانہ پر تعلیم وتربیت کی اور سپہگری کے سارے فنون سکھائے تیر اندازی اور نیزہ بازی میں اس کا کوئی نظیر اور مثیل نہیں تھا ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بہت متقی، اور پر ہیز گار تھا۔ اس کی عبادت گذاری بہت سے مشہور عابدوں اور زاہدوں کی عبادت اور ان زہد پر فوقیت حاصل کر چکی تھی۔ اس کے باپ نے بہت سی امیدیں اس کے ساتھ باندھی تھیں ، وہ چاہتا تھا کہ اس کا لڑکا دنیا کا نامور عالم وفاضل اور بہادر بن کر نکلے، مگر قسمت کی ستم ظریفی کہ وہ چندر بدن کو دیکھ کر وارفتہ ہو گیا اور اپنی عقل وہوش کھو بیٹھا۔ مدت تک اس مندر کا طواف کرتا رہا جہاں چندر بدن پوجا کیلئے آیا کرتی تھی۔ جب ایک موقع پا کر حرفِ مطلب کا اس کے سامنے اظہار کیا تو وہ بہت براشفتہ ہوئی اور اس نے کہا ۔
    کہ ائے سرِزمرۂ غفلت پسنداں = شدہ غافل زاراہِ ہوش منداں
    سر عقل وخرد رابر گرفتہ = طریق ہر زہ کاراں در گرفتہ
    کنی دیوانہ آسا تر کتازی= نہ در خوردِ نو با شد عشق بازی
    عناں در کش زراہ ہر زہ کاری = مکن چو طرہِ من بیقراری
    منم از أت پرستانِ خطا کار = مسلمانی تو داری با خدا کار
    زاہلِ شرعی ودیندار مردی = چرا با بت پر ستاں یار کردیا
    ازیں پایۂ بکش پا اے خرد مند = وزیں سودا بروں آرای خرد مند
    روا نبود بہ نزد ،ہیچ انساں = زنا شوی کافر با مسلماں
    بمن خواہی کہ باشی یارو دمساز = مگر دیوانۂ ایں گفت وشد باز​
    ترجمہ:کہ ائے بیوقوفوں کے سردار ۔عقلمندوں کا راستہ بھول گئے۔ عقل وخرد کے ہوتے ہوئے ۔اوباشوں کا طور طریقہ کیوں اختیار کیا۔دیوانوں کی طرح اچھل کود کرتا ہے۔ تجھ سے عشق بازی خاک ہو گی۔ ہوس پرستی سے باز آ جا ۔ میرے آنچل کی طرح لہرانا چھوڑ دے۔میں گنہ گار بت پرست ہوں۔ تو مسلمان ہے خدا سے تعلق رکھتا ہے۔ تو شریعت پرست دیندار آدمی ہے۔ بت پرست سے محبت کیوں کرتا ہے۔ اے عقلمند اس جگہ قدم روک لے۔ سمجھدار لوگ اس کا خیال بھی نہیں رکھتے۔کوئی بھی انسان اس کو اچھا نہیں کہتا ۔ کہ کافر اور مسلمان باہم نکاح کریں۔تو میرا یار ودم ساز بننا چاہتا ہے۔ تو پاگل ہے ۔ اتنا کہہ کر وہ چلی گئی۔
    دونوں کی محبت اور وصال کے درمیان مذہب کی خلیج حائل تھی جس کا پاٹنا مشکل تھا۔ مہیار نہ اپنے مذہب کو ترک کر سکتا تھا اور نہ چندر بدن ہی اپنے مذہب کو چھوڑ سکتی تھی چندر بدن کے اس سخت جواب سے بجائے اس کے کہ عشق کا سودا مہیار کے دماغ سے دور ہو جائے اور زیادہ ہو گیا اس نے صحرا وجنگل کی راہ لی اور اپنے معشوق کےفراق میں دل سوز آہیں بھر نے لگا۔ جب مہیار لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا تو باپ نے اس کی تلاش کی اور آخر اس کو ایک جگہ ڈھونڈ نکالا اسکو مہیار کی حالت پر بہت افسوس ہوا اس نے نرمی کے ساتھ اس کو نصیحت کی اور کہا ۔
    مکن زیں گونہ اے فرزند دلبند =تماشائے کہ نا ید از خرد مند
    خرد مندے کہ دانش پیشہ باشد = ازیں اندیشہ پُر اندیشہ باشد
    طریقِ ہو شمنداں راز سر گیر = ز آ ئینِ ہنر مندی ہنر گیر
    چہ باشد خویش را بے آب کردن = ترا دل می دہد کز دل ستانے
    بہ بینی ایں قدر رنج وزیانے = بد خت کا فرے شیدا شدستی
    وزیں غم بے سرو بے پا شدستی=گہے زانساں گریزی ہمچو دیوے
    گہے چوں دیو برداری غریوے = بہ بیں دل تنگی ودل گیری من
    خدا را رحم کن بر پیری من
    ترجمہ :اے فر زند دلبند ایسا مت کرو۔عقلمند ایسا تماشا نہیں کرتے۔
    جو سمجھدار عقلمند ہے۔ وہ اس تہمت سے دور ہی رہتا ہے۔
    عقلمندوں کا طریقہ اختیار کر ۔اور ہنر مندوں کے اصول پر پیرا ہو۔
    اپنے آپ کو ذلیل کر نے کا کیا فائدہ۔ غم سے بیتاب وبے چین ہو نے کا کیا فائدہ۔
    کیا ترا دل تجھے کہتا ہے کہ اپنے محبوب سے ۔اس قدر رنج وزیاں برداشت کر ۔
    کافر کی لڑ کی پر تو عاشق ہوا ہے۔ اور اس غم سے بے قعل واپاہج ہوا ہے۔
    کبھی انسانوں سے جن کی طرح بھا گتا ہے۔ اور کبھی بھوت کی طرح آدمی سے چمٹ جاتا ہے۔
    بیٹے! میری بیقراری اور بے چینی دیکھ۔ خدا را میرے بڑھاپے پر رحم کر ۔
    مگر مہیار پر باپ کی نصیحت کا ر گر نہیں ہو سکی اس نے صاف جواب دیدیا
    منم شیدا مرا عقل وخرد نیست = اگر باشم بکوہ ددشت بذیست
    مکن با من سخن از عقل وادراک = کہ ایں خاشاک از رہ کر دہ ام پاک
    ترجمہ: میں عاشق ہوں مجھے عقل وخرد سے کیا کام۔اگر میں کوہ وصحرا میں رہتا ہوں تو برا نہیں ہے ۔
    مجھ سے عقل وخرد کی بات مت کیجئے۔کہ یہ گھاس پھوس میں اپنے راستہ سے پاک کر چکا ہوں۔
    اس زمانہ میں اس طرف کا ایک بادشاہ شکار کرتا ہوا اس طرف آ نکلا اس نے اس نوجوان مہیار کو انتہائی سوز وگداز کی حالت میں دیکھا تو اس سے پوچھا، تم کون ہو کہاں کے رہنے والے ہو۔ مگر مہیار نے کوئی جواب نہ دیا راجہ سمجھ گیا کہ یہ نوجوان کسی کے عشق میں سر گرداں ہوا ہے ۔ اس کو اپنے ساتھ محل میں لے آیا مگر یہاں آ کر اس نے کسی حسین وخوبصورت لڑکی کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔ اور جب کچھ زمانہ بعد حقیقت حال سے اطلاع ہوئی تو بادشاہ نے چاہا کہ چندر بدن کے باپ سے اس نوجوان کی سفارش کرے۔مگر چندر بدن کے باپ نے صاف انکار کردیا اور کہا ۔
    بدینداری سر کافر نباشد = مسلماں شوہر کافر نباشد
    بہ ہم کیشاں شٹوم زیں کار مذموم = شوم بومی دریں مرزو درین بوم
    نہ خواہم خویش را مذموم کر دن = بمردز بوم خود را بوم کر دن
    تر جمہ: دینداری کا خیال کافروں کو کہاں۔ مسلماں کافر عورت کا شوہر نہیں ہو سکتا۔
    اپنے ہم مذہبوں میں میں یہ کام کر کے برا بن جاؤں گا۔ جنگل میں الو کی طرح ہو جاؤں گا۔
    اپنے آپ کو برا بنانا مجھے قبول نہیں۔ لوگوں میں منحوس کہلانا مجھے گوارا نہیں۔
    جب بادشاہ نے اس کا کڑا یہ جواب سنا تو بہت آزردہ ہوا اور افسوس کیا کہ اس کی سفارش بھی کام نہیں کر سکی اس نا کامی کا داغ اس کے دل پر کچھ ایسا بیٹھا کہ خود گوشہ گیر ہو نے کا فیصلہ کر لیا مہیار نے پھر مندر کا طواف کر نا شروع کیا اور اپنے معشوق سے اپنی محبت صادق کا دوبارہ اظہار کیا لیکن اس دفعہ بھی چندر بدن نے نہایت ترش رو ہو کر یوں جواب دیا۔

    بخنداں گفت کاہی در عشق کامل = سپردی از ہوائے من بمن دل
    اگر خواہی حریف دلستاں را = بیاد ہمچوں دل بسیار جاں را
    ترجمہ : وہ ہنسی اور بولی اے میرے عاشق زار۔ تم نے اپنا دل مجھے دے دیا ہے ۔
    اگر معشوق کو منانا چاہتے ہو۔ تو جیسے اپنا دل دیا ہے جان بھی دیدو۔
    جب اپنے معشوق سے اس قسم کا کھلا ہوا مطالبہ مہیار نے سنا تو اسی وقت جان دیدی
    چو بشنید ایں سخن مہیار حیراں =ہماں دم کرد جاں تسلیم جاناں
    چو پر وانہ بروی او فدا شد = بسر افتاد ودرراھش زباں شد
    دل خود دادہ بود از پیش اورا = بآخر داد جانِ خویش او را
    تر جمہ: جب یہ بات مہیار عاشق نے سنی ۔ اسی وقت محبوب کے قدموں پر جان دیدی ۔
    پروانہ کی طرح اس پر فدا ہو گیا۔ سر کے بل گرا اور دم توڑ دیا۔
    اس کے آگے اپنا دل پہلے ہی رکھ دیا تھا۔ آخر میں اپنی جان بھی اس پر قربان کردی ۔
    اس پر حضرت ذوقیؒ تبصرہ کر تے ہوئے فر ماتے ہیں۔
    نباشد عاشق آں کو ایں چنیں نیست= کمالِ عشق بازی غیر ایں نیست
    اگر عاشق نزیزد بر منم جاں = براہ عشق صادق کی بود آں
    زہر کار ہست کارِ عشق مشکل = کہ افتد کار اوبا جاں وبا دل
    ترجمہ: جو ایسا نہیں وہ عاشق ہی نہیں ۔ عشق بازی کا کمال اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
    اگر عاشق اپنی جان نہ دے۔ تو ملکِ عشق میں اس کا کیا اعتبار۔
    عشق مشکل بلکہ زہرِ مہلک ہے۔ اس میں جان اور دل کی بازی لگانی پڑتی ہے۔
    اس عاشق جا نباز کی فوری موت سے چندر بدن بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ واقعی ایک عاشق صادق تھا چنا نچہ اس کے دل ودماغ میں بھی محبت کے جذبات ابلنے لگے وہ بھی گھر پہو نچ کر آ ہیں بھر نے لگی۔
    لوگوں نے اس عاشق جانباز کی تجہیز وتکفین کی اور جنازہ لے کر روانہ ہوئے لیکن یہ جنا زہ چندر بدن کے محل کے سامنے آ کر رک گیا ۔تمام لوگ حیران تھے کہ جنازہ کیوں آگے نہیں بڑھ رہا ہے چندر بدن کے پاس آدمی بھیجا گیا ۔ وہ عالم دین کو بلا کر خود ہی مسلمان ہو چکی تھی ، نہا دھو کر اجور کپڑے پہن کر جنازہ کے پاس آئی۔ جیسے ہی وہ جنازے کے پاس آئی جنازہ روانہ ہوا ۔ چندر بدن اپنے گھر واپس ہوئی جب قبر ستان میں جنازہ لا کر نیچے رکھا گیا اور لاش قبر میں اتاری گئی تو لوگوں نے دیکھا کہ دو لاشیں ہیں۔ چندر بدن بھی اس کے ساتھ مری ہوئی پڑی ہے لوگوں کو اس پر بڑی حیرت ہوئی۔ ہر کاروں نے چندر بدن کے باپ کو خبر دی۔ اس نے دیکھا کہ چندر بدنؔ گھر میں نہیں ہے ، وہ دوڑا ہوا قبر ستان آیا ، دیکھا کہ چندر بدن مہیار ؔ کے لاش لپٹی پڑی ہے، اور بے روح ہے
    باپ نے اس کو عاشق سے جدا کر نے کی بہت کوشش کی مگر وہ الگ نہ ہوسکی مجبوراً دونوں کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔
    حضرت ذوقی کہتے ہیں کہ یہ’’ قبر کدری ‘‘میں ہے ، جس کے سر ہانے ایک بڑا درخت اگا ہوا ہے ۔
    بکدری گذشتہ مدفون آں وویکتا = بپائیں شاں درخستی ہست والا​
    ترجمہ: وہ ’’ دوبدن ایک جاں‘‘ کدریؔ میں مدفون ہوئے۔ اس قبر کے قریب ایک بڑا درخت ہے۔
    شفارس کر نے والے بادشاہ پر بھی اس دلدوز واقعہ کا بہت اثر ہوا اس نے اپنی حکومت میں مجلسِ ماتم مقرر کی اور سب نے ان دونوں عاشقِ صادق پر اپنی دلسوزی پر آنسو بہائے
    Last edited: ‏اکتوبر 10, 2014

اس صفحے کو مشتہر کریں