چٹکلے

'افکارِ قاسمی شمارہ 6: مئی 2013' میں موضوعات آغاز کردہ از پیامبر, ‏مئی 14, 2013۔

  1. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    <div style="direction:rtl;"><TABLE border="1" width="800">
    <table border="1" width="600" align="center">
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:36px; padding:20px;">
    چٹکلے
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:26px; padding:20px;">
    محمد نبیل خان
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:justify; font-size:22px; padding:20px;">

    2 سردار ایک گاڑی میں بم فٹ کر رہے تھے۔
    پہلا سردار: اگر یہ بم لگاتے ہوئے پھٹ گیا تو تم کیا کرو گے ؟
    دوسرا سردار: پریشانی کی کوئی بات نہیں میرے پاس دوسرا بم بھی ہے۔
    -------------
    ایک شوہر اپنی بیوی کا جنازہ لے کر جا رہا تھا۔
    جنازے کے آگے ایک کتا اور پیچھے آدمیوں کی ایک لمبی لائن تھی۔
    ایک آدمی آ کر پوچھتا ہے: بھائی صاحب یہ سب کیسے ہوا ؟
    شوہر: اس کتے نے کاٹ لیا تھا۔
    آدمی: یہ کتا ایک دن کے لیے ادھار دے دو۔
    شوہر: پیچھے لائن میں لگ جائو۔
    -------------
    ایک خاتون اپنی سہیلی سے کہ رہی تھی، 'میں نے اپنے شوہر کو کروڑ پتی بنا دیا'۔
    'اور اس سے پہلے وہ کیا تھے؟، سہیلی نے پوچھا۔
    'عرب پتی، خاتون نے جواب دیا۔
    -------------
    سردار: آج میں نے پانی کو الو بنایا۔
    دوست: پانی کو الو؟ وہ کیسے ؟
    سردار: اوئے! صبح میں نے پانی گرم کیا اور ٹھنڈے پانی سے نہا لیا۔
    -------------
    آدمی ہوٹل منیجر سے: جلدی کرو، میری بیگم کھڑکی سے کود کر جان دینا چاہتی ہے۔
    منیجر: تو اس میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں۔
    آدمی: ابے کھڑکی نہیں کھل رہی۔
    -------------
    ایک شخص: میں سامنے والی دکان سے گھی کا ڈبا لاسکتا ہوں۔
    دوسرا شخص: اگر تم ایسا کرنے ممیں کامیاب ہوگئے تو ممیں تمہمیں سو روپے دوں گا۔
    پہلا شخص گیا اور گھی کا ڈبا لے آیا۔
    دوسرا شخص: تمہمیں یہ جان کر دکھ ہوگا کہ میرا تعلق پولیس سے ہے۔
    پہلا شخص: اور آپ کو یہ جان کر دکھ ہوگا کہ یہ دکان میری ہے۔
    -------------
    باپ: اگر تم امتحان میں اول آئے تو میں تمہیں نئی گاڑی خرید کر دوں گا۔

    بیٹا: میں سمجھ گیا، آپ کا مجھے گاڑی دلوانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
    -------------
    استاد: بجلی کہاں سے آتی ہے ؟
    شاگرد: میرے ماموں کے گھر سے۔
    استاد: (حیران ہو کر) کیا مطلب۔۔۔ وہ کیسے ؟
    شاگرد: جب بھی بجلی جاتی ہے تو میرے ابو کہتے ہیں، سالوں نے پھر بند کردی
    </td>
    </tr>
    </table></div>

اس صفحے کو مشتہر کریں