کاش یہ بات ترے گوش گراں تک پہنچے

'غور کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏اکتوبر 22, 2018۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,710
    موصول پسندیدگیاں:
    199
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    کاش یہ بات ترے گوش گراں تک پہنچے
    ناصرالدین مظاہری
    ۱۸؍اکتوبر۲۰۱۸عیسوی کوگجرات کے مشہورتعلیمی وتربیتی ادارہ دارالعلوم فلاح دارین ترکیسرضلع سورت میں فخرگجرات، مفکرملت حضرت مولانامحمدعبداللہ کاپودرویؒکی حیات اورخدمات پرعظیم الشان سیمینارمنعقدہوا،یہ سمیناراس معنیٰ کرنہایت اہمیت کاحامل تھاکیونکہ اپنی نوعیت کاپہلابھی تھااورملک کی بے شمار شخصیات بھی بیک وقت ایک بینرتلے جمع تھیں،بیرون ملک سے بھی بہت سے مہمانان نے سیمینارمیں شرکت کی،گویاایک بین الاقوامی اجتماع تھا،حضرت مولانامحمدعبداللہ کاپودرویؒکی شخصیت سے متعلق کثیرتعدادمیں مقالے لکھوائے گئے اورمقالہ نگاروں کوشرکت کی دعوت دی گئی،چنانچہ منتظمین کے مطابق ۱۳؍اکتوبرتک ۱۸۵؍ مقالات موصول ہوگئے تھے جب کہ شایدکم وبیش اتنے ہی مقالات ۱۳؍اکتوبرکے بعدجمع ہوگئے ہوں گے۔ایک آوازپراتنے مقالات کالکھاجاناصاحبِ سیمینارحضرت کاپودرویؒکی بے مثال مقبولیت اورمحبوبیت پردلالت کرتاہے۔یہ سچ ہے کہ اتنی بڑی تعدادمیں مقالہ نگاروں نے شرکت فرمائی لیکن پانچ فیصدبھی مقالے نہ توپڑھے جاسکے نہ ہی مقالہ نگاروں کوتلخیص ہی پیش کرنے کی نوبت آسکی۔
    چونکہ وقت کم تھااوروہ شخصیات بھی کافی مقدارمیں جمع تھیں جن کوموضوع کی مناسبت سے اظہارخیال کرناتھا’’آمدم برسر مطلب‘‘ملک کے مشہورعالم حضرت مولاناسیدسلمان حسینی ندوی مدظلہ کی تقریرسے پہلے تک سب کچھ ٹھیک تھا،پھرمولاناآئے اورحسب عادت موضوع سے ہٹ کرکافی عمدہ اورجوشیلی تقریرکرکے چلے بھی گئے لیکن باقی ماندہ لوگوں کوجواب الجواب کاموضوع دے گئے،سچ پوچھئے تومولانانے کوئی عجیب اوراچھوتی بات یاغیرشرعی اورغلط بات کی ہی نہیں،انہوں نے تو’’آئینۂ وطن‘‘کی وہ تصویرپیش کی جس سے فی زماننانہایت غفلت برتی جارہی ہے۔
    ہمیں یہ تسلیم ہے کہ مولانااپنے موضوع سے ہٹ کرتقریرکرگئے اوریہ بھی سچ ہے کہ انھیں جووقت انتظامیہ کی طرف سے ملاتھااس سے زیادہ وقت لے لیاجواخلاقاًصحیح نہیں کہاجاسکتا۔مگراُن کے بعدوالوں نے بھی اسی طرزاورروِش کواختیارکیااورنہ صرف موضوع سے بہکے بلکہ بہکتے چلے گئے پھرچاہے دیوبندسے مولانااحمدخضرکشمیری ہوں یاحیدرآبادسے مولانامحمدمحسن عثمانی ندوی یاندوے سے مفتی محمدزیدکانپوری، اِن تمام حضرات کوصرف اورصرف حضرت مولانامحمدعبداللہ کاپودرویؒکے بارے میں گفتگوکرنی تھی،ان کی شخصیت پرروشنی ڈالنی تھی،اُن کی حیات اورخدمات پرکلام اورتفصیل بیان کرنی تھی،اُن کی شبانہ روزمحنتیں اورملک وقوم کے لئے اُن کی آہ سحرگاہی بیان کرنی تھی مگریہ سب حضرت ایک دوسرے کی کاٹ اورایک دوسرے پراپنے تفوق اوربرتری کے اظہارمیں اس درجہ آگے نکل گئے کہ انتظامیہ بھی پریشان بلکہ سرمشارہورہی ہوگی کہ یاخدا!یہ کون ساموضوع چل پڑاہے۔
    حالانکہ اسی مجلس میں حضرت مولاناسعیدالرحمن اعظمی ندوی ،مفتی خالدسیف اللہ رحمانی،حضرت مولانامفتی محمدعبیداللہ اسعدی، حضرت مولانامفتی برہان الدین سنبھلی اورحضرت مولاناخلیل الرحمن سجادنعمانی مدظلہم جیسی عبقری شخصیات موجودتھیں اورعالمانہ جواب دینے کاحق اورہنربھی ان کے پاس ہے مگریہ تمام حضرات اپنے علوِشان اورعظمت ِبرہان نیزپروگرام کو مدنظررکھتے ہوئے خاموش رہے اورایسے موقع پراِن حضرات کاخاموش رہناہی ہم خردوں کے لئے ایک سبق اورراہنمالائحۂ عمل ہے۔
    ہمارے علمائے دین کی یہ بڑی غفلت اورکوتاہی ہے کہ وہ وقت کاقطعاًلحاظ نہیں کرتے،غورکریں جواضافی وقت آپ نے لے لیاہے وہ کسی اورکاحق تھااورکسی کاحق بلااجازت مارلینانہ توشرعاًدرست ہے نہ ہی اخلاقاً،پورے اجلاس میں صرف دیوبندسے مولاناندیم الواجدی ہی وہ فردہیں جنہوں نے بجائے تین منٹ کے دومنٹ میں گفتگوکومختصرکرکے باقی تمام مقالہ نگاروں یامقررین کوایک مثبت راہ بتانے اورسجھانے کی کوشش کی مگراُن کی یہ کوشش بھی کارآمدنہیں ہوسکی۔پھرانتظامیہ نے اتنے مصارف سے جوپروگرام منعقدکیا ہے اس کی نافعیت اورافادیت پربھی سوالیہ نشان لگ گیا،میری دانست میں ایک بھی مقالہ مکمل نہیں پیش ہوسکااورنہ ہی اِس افراتفری میں کسی بھی مقررکوخاطرخواہ بات کرنے کاموقع مل سکا،شخصیات اِس قدراوروقت بالکل نہیں،وجہ صرف اورصرف طناطنی اورکھینچاتانی۔
    ہم لوگ حضرت مولانامحمدسعیدی مدظلہ ناظم مظاہرعلوم(وقف)سہارنپور کے حکم سے اس عظیم الشان سیمینارمیں صرف اس لئے شریک ہوئے تھے کہ حضرت مولانامحمدعبداللہ کاپودرویؒکے بارے میں نئی نئی معلومات ہوں گی،ملت اسلامیہ کے لئے ان کے ذریعہ گزشتہ پچاس سال سے زائدعرصہ میں جوعلمی ،دینی ،اصلاحی،معاشرتی ،سیاسی،سماجی،تصنیفی،تالیفی اورانسانی بنیادوں پرجو بھی کارہائے نمایاں ہوں گے اُن سے پردہ اٹھے گا،حضرت علیہ الرحمہ کی ہشت پہلوشخصیت کے عجیب وغریب کمالات سے واقفیت ہوسکے گی، تحقیق اورتاریخ کے باب میں مولاناکے نقوشِ قدم اورنقوشِ قلم پرمشایعت کاہمیں بھی موقع مل سکے گا،ہم بھی اپنی نسلوں کوحضرت کی عدیم النظیرہستی کے قصے سنائیں گے اوروہ اپنے بعدوالوں کومگرافسوس!جواب الجواب کی ذہنیت اورموضوع سے ہٹ کربات کرنے کی پرانی روِش نے ’’سیری‘‘نہیں ہونے دی اورہم تشنہ کامان کواسی حالت میں واپس آناپڑا۔
    اِس پروگرام کے بعدمیں تواس نتیجہ پرپہنچاہوں کہ یاتواِس قدرمختلف الاذہان شخصیات کوبولنے کاموقع ہی نہ دیاجائے یاپہلے ہی دعوت دیتے وقت موضوع کابھی تعین کرلیاجائے اوراس کے باوجوداگرکوئی مقررموضوع سے راہ فراراختیارکرے تومعذرت کے ساتھ مائک ہی بندکردیاجائے کیونکہ اسٹیج سے اتنے سربرآوردہ حضرات کے اِس طرزعمل سے ملت کوئی اچھاتأثرنہیں لیتی بلکہ مزیدبدگمانیاں جنم لیتی ہیں،ملت ایک نئے ذہنی انتشارسے دوچارہوجاتی ہے،منبرومحراب جہاں سے اتحادامت کاآوازہ بلندہوناچاہئےمگراسی اسٹیج سے جب انتشارامت کامظاہرہ دیکھنے کوملتاہے تودل خون کے آنسوروتاہے اورہم جیسے زمینی لوگوں کوطرح طرح کی باتیں سننے کوملتی ہیں کیونکہ بڑے حضرات سے ملنے کے لئے بھی ’’اوقات ملاقات‘‘مانع ہے۔
    اِس قسم کے پروگرام روزآنہ نہیں ہوتے،نہ ہی عام لوگ اتنازبردست پروگرام کرنے کی وسعت رکھتے ہیں،اہلِ انتظام کااپناایک مقصدہوتاہے اورمقصدیت میں ناکامی ناقابل تلافی نقصان ہے۔اگراپنے دل کی بھڑاس نکالنی ہی ہے تواس کے لئے خودنظام بنائیں،خودخرچاکریں،خودچرچاکریںاورخودداعی بنیں ،یوں کسی کے بنے بنائے نظام کوسبوتاژکرناقطعاًمناسب نہیں ہے۔
    یہ سطورمحض ایک درداورکرب کے تحت لکھی گئی ہیں،ہمارامقصدکسی کی کردارکشی قطعاًنہیں ہے،نہ ہی جواب اورجواب الجواب کی توقع رکھی جائے ۔
    جگرؔمرحوم نے شایدایسے ہی مواقع کے لئے اپناجگرکھول کررکھ دیاہے:
    کیاتعجب کہ مری روح رواں تک پہنچے
    پہلے کوئی مرے نغموں کی زباں تک پہنچے
    جب ہراک شورش غم ضبط فغاں تک پہنچے
    پھرخداجانے یہ ہنگامہ کہاں تک پہنچے
    توجہاں پرتھابہت پہلے وہیں آج بھی ہے
    دیکھ رندان خوش انفاس کہاں تک پہنچے
    جوزمانے کوبراکہتے ہیں خودہیں وہ برے
    کاش یہ بات ترے گوش گراں تک پہنچے
    بڑھ کے رندوں نے قدم حضرت واعظ کیلئے
    گرتے پڑتے جودرِپیرمغاں تک پہنچے
    تومرے حال پریشاں پہ بہت طنزنہ کر
    اپنے گیسوبھی ذاردیکھ کہاں تک پہنچے
    اُن کاجوفرض ہے وہ اہل سیاست جانیں
    مراپیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
    عشق کی چوٹ دکھانے میں کہیں آتی ہے
    کچھ اشارے تھے کہ جولفظ وبیاں تک پہنچے
    جلوے بیتاب تھے جوپردۂ فطرت میں جگر
    خودتڑپ کرمری چشم نگراں تک پہنچے
    احمدقاسمی اور محمدداؤدالرحمن علی .نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں