کتاب الآثار امام ابوحنیفہؒ بروایت امام ابو یوسفؒ (عربی) کی طبع بتحقیق سعود العثمان پر تنقید و تبصرہ

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن عثمان, ‏ستمبر 5, 2018۔

  1. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    202
    موصول پسندیدگیاں:
    196
    صنف:
    Male
    کتاب الآثار امام ابو حنیفہؒ بروایت امام ابو یوسفؒ کو کافی عرصہ پہلے مولانا ابو الوفاء افغانیؒ نے اپنی تحقیق سے شائع کیا تھا ۔
    اس کے بعد اس نسخہ پر کوئی خاص کام ہوا ہو علم میں نہیں ہے ۔

    ابھی نیٹ پر ایک اور طباعت جو نئی تحقیق سے شائع ہوئی اپلوڈ ہوئی ہے ۔ جو پشاور پاکستان کے کسی مکتبہ کی ہے ۔
    محقق کا نام ہے سعود ابراہیم محمد العثمان۔ شوق سے ڈاؤنلوڈ کی اور دیکھی ۔

    اس پر کچھ باتیں کہے بغیر رہا نہیں جارہا ۔ کیونکہ اس میں کافی گڑبڑ ہے ۔

    محقق صاحب جو ہیں وہ دراصل صاحب کتاب اور فقہ حنفی کے مخالفین میں سے ہیں ۔ لیکن ذرا چھُپے چھُپے ۔ آخر کو کتاب کو بیچنا بھی تو ہے ۔ ان صاحب نے کتاب پر تحقیق کر کےدراصل اس کی قدرو قیمت کم کرنے کی کوشش کی ہے ۔

    دل تو بڑا کرتا ہے کہ ان صاحب کی نام نہاد تحقیق کہ بارے میں لکھوں لیکن پھر یہ بھی خیال ہوتا ہے محقق صاحب کا مبلغ علم ہی اتنا ہے تو پھر کیا کیا جائے۔

    پورا تبصرہ تو کافی وقت طلب بات ہے ۔ جو باتیں اہم ہیں ان کا ذکر کر دیتا ہوں ۔

    صفحہ ۱۱ پہ امام ابو یوسفؒ کا ترجمہ شروع کرتے ہیں ۔امام المجتہد علامۃ المحدث القاضی القضاۃ۔۔۔۔

    پھر جرح و تعدیل کا کہہ کر ۔۔۔۔حکم صادر کرتے ہیں ۔

    وتحقيق القول فيه انه:

    امام فقيه ، ثقه في نفسه صدوق.....اذا حدث بالحديث ولم ينفرد به فهو مستقيم جيد الحديث ، واذا انفرد ولم يتابع فهو غريب ،

    واما روايته الاثر والفقه فهو جيد الاسناد فيها وان انفرد.

    یعنی پوری کتاب پہ پانی پھیر دیا اور پوری کتاب کو متابعت کا محتاج قرار دے دیا ۔ یعنی امام المجتہد ابویوسف ؒ کی صرف وہ حدیث صحیح ہے جس میں وہ منفرد نہ ہوں ۔ اگر منفرد ہوں اور متابع نہ ہو تو وہ غریب ہے ۔

    ہاں کوئی اثر یا فقہی بات قبول ہے ۔

    یہ ہے حدیث مبارکہ کی تمام موجود طبع شدہ کتب میں فقہی ابواب پر مشتمل سب سے پہلی کتاب کی شرعی حیثیت۔

    اور یہ سارا محقق صاحب نے جرح وتعدیل کا نتیجہ اور ’’تحقیقی ‘‘قول نکالا ہے ۔

    بعد میں جرح و تعدیل کے اقوال ذکر کئے ہیں اور بعض جروح کے جواب بھی دئے ہیں ۔ لیکن کیا فائدہ اس ’’تحقیقی‘‘ قول کے بعد۔

    دراصل موجودہ حضرات محققین کا خصوصا عرب میں یا تو مبلغ علم ہی محدود ہوتا ہے ۔ یا البانی مرحوم کی کتب پر مدار ہوتا ہے ۔ اور ان کی اندھی تقلید کی جاتی ہے ۔

    جنہوں نے اپنی کتب میں کہیں ابو یوسف کو ثقہ کہیں ضعیف کہا ہے ۔شاید جہاں جیسا چاہا ویسا کیا ۔ لیکن ان کے مزاج کو دیکھیں کے جمہور علما اور ائمہ کے اونچے اقوال توثیق کے موجود ہیں ۔اور بعض ناواقف اور بعض متعصب کی جروح میں سے البانی صاحب اللہ ان کی مغفرت کرے ۔ کے انتخاب کی داد دیجئے کہ انہوں نے نتیجہ کے لئے ’’معتدل‘‘ قول چنا تو کیا چنا۔

    قال الفلاس: كان كثير الغلط صدوقاً". قلت: ولعل قول الفلاس هذا، هو أعدل الأقوال فيه

    ایک آدمی پر قتل کی تہمت لگے اور بعض کہیں کہ نہیں یہ بے قصورہے ۔

    یا ایک آدمی پر ڈکیتی کا الزام ہے اور بعض کہیں کہ نہیں یہ بالکل بے قصور ہے ۔

    کیا ہم متعدل قول اور تحقیقی قول یہ نکالیں کی درمیانہ راستہ یہ ہے کہ قتل والے نے قتل تو نہیں مار کٹائی ضرور کی ہے ۔ اور ڈکیتی والے نے چھوٹی چوری ضرور کی ہے ۔

    نہیں ۔ بلکہ یا تو وہ مجرم ہے یا نہیں ہے ۔

    مثال کے طور پر جرح و تعدیل کے بڑے ائمہ ابو زرعۃؒ اور ابو حاتم ؒ نے امام بخاریؒ پر ترک کی جرح کی ہے ۔ اور کی بھی آخری عمر میں ۔ اب یہ ترک کرنے کی جرح انتہائی جرح ہے ۔ اور ہے امام المحدثین بخاریؒ پر ۔ اور ابن ابی حاتمؒ نے امام بخاریؒ کی تاریخ میں خطا پر کتاب لکھی ہے جو موجود ہے ۔

    اب جمہورامت کے نزدیک وہ ائمہ میں سے ہیں ۔ تو کیا یہاں بھی کوئی درمیانہ راستہ نکالیں کہ وہ ترک کی جرح اور خطا بخاری کو بھی جگہہ دیں ۔ اور متروک، امیر المؤمنین فی الحدیث کہہ دیں ۔

    نہیں ۔ ہر گز نہیں ۔ بلکہ جرح کا سبب بیان کریں ۔ اور جس کی عدالت ثابت ہوجائے ۔اس کی طرف سے جواب دیں ۔اور یہاں درمیانہ راستہ نہ نکالیں ۔ بلکہ یا حق ثابت ہو جائے یا باطل۔ یعنی امام ابو زرعہؒ اور ابو حاتمؒ نے غلط فہمی اور غلط معلومات کی وجہ سے امام بخاریؒ کے بارے میں رائے دی۔ وہ معزور ہیں ۔

    قاضی امام ابو یوسفؒ جیسے ائمہ مجتہدین ثقاہت کے محتاج نہیں ہوتے، ان پر جروح پر جواب کے لئے ،
    تلامذہ امام ابو حنیفہ ، مولانا ظہور احمد حسینی دیکھیں۔

    ----------------------------------------

    آگے صفحہ ۱۷ میں محقق نے ایک قدم اور بڑھایا ہے اور پہلے سے بھی بڑھ کر اپنا مزید غبار نکالاہے اور مسلمانوں کے فروع میں سب سے بڑے امام اور حدیث کی سب سے پہلی فقہی ابواب پر مشتمل کتاب کے مصنف کو اسی کی کتاب میں یہ درجہ دیتے ہیں ۔

    القول الفصل فی امام ابو حنیفہؒ ۔

    ابوحنیفہ امام فقیہ مجتہد۔۔۔۔صدوق ۔ سمع الحدیث۔۔۔۔۔لم یعتن بالحدیث کعنایۃ بالفقہ ۔۔۔۔

    آگے جرح و تعدیل کا ذکر کر کے جرنیلی حکم صادر کر دیا ہے ۔

    وھو لیس بالضابط لحدیثہ ، ینفرد ویھم و یخطئ ، فی احادیث غرائب ۔۔۔۔

    یعنی معلوم نہیں کوئی گرا پڑا معمولی راوی ہے جس کا ذکر ہو رہا ہے ۔آگے انکی بھی احادیث کو متابعت کا محتاج بنا دیا ہے ۔اس پر کیا تبصرہ کریں ۔ کیا حیثیت ہے اس کی ۔ بس اتنا ہی کافی ہے کہ حافظ ابن عبد البرؒ کے الفاظ میں بکرا اگر پہاڑ سے سر ٹکرائے تو پہاڑ کا تو کچھ نہیں بگڑنا ۔ بکرے کا ہی بگڑے گا۔

    آگے ابن عدی کی جرح نقل کی پھر ابن عبد البرؒ ، ابن حجرؒ اور امام ابوداود ؒ کے اونچے تعدیلی اقوال نقل کئے ۔

    یوں لگتا ہے کہ یا تو محقق کوئی بالکل ہی علم سے فارغ آدمی ہے یا اس کا اصل ذہن تو بد ظنوں والا ہے ۔ لیکن تعدیلی اقوال اس لئے ڈالے گئے ہیں کہ کتاب کو بیچنا بھی تو ہے ۔ تاکہ کوئی ون سائڈڈ کی تہمت نہ لگے ۔ واللہ اعلم

    ناشرین بھی بڑی حرکتیں کرتے ہیں ۔ اور افسوس کی بات ہے اب ناشرین مسلک سے زیادہ کاروبار کا زیادہ سوچتے ہیں ۔

    ناشرین کی اس طرح کی حرکتوں کے لئے آپ عرب سے چھپی عرف الشذی ، مولانا انور شاہؒ کو دیکھیں ۔ اس میں شروع میں بغیر ذکر کئے تحفۃ الاحوذی مبارکپوری کا مقدمہ لگا ہوا ہے ۔ اور آپ جانتے ہیں کہ مبارکپوری مرحوم کی کتاب میں عرف الشذی کا اور احناف کا رد ہے ۔

    اسی طرح فتح الملہم کی ایک طباعت میں شرح مسلم نووی ڈال دی ہوئی ہے ۔ جس پر دار العلوم کراچی والوں نے اس ناشر کو تنبیہہ بھی کی ۔ لیکن اس نے نہیں سنی۔

    امام ابوحنیفہ ؒ پر جو بھی باتیں کی جاتی ہیں ۔ اس کے لئے عربی میں مکانۃ الامام ابی حنیفہ عبد الرشید نعمانیؒ ، اور

    اردو میں مولانا ظہور احمد حسینی کی کتاب امام ابو حنیفہ کا محدثانہ مقام پڑھیں ۔

    -----------------------------------------------

    آگے کتاب میں وہی مزاج کے تحت تحقیق کی گئی ہے جو کہ آج کل کے ظاہر پرست حضرات کا ہے ۔ کئی جگہہ محقق نے احادیث پر اسنادہ جید کا احسان فرمایا ہے ۔ لیکن جہاں تابعین کے مراسیل آئے ہیں سب کو مرسل ، منقطع کہتے جاتے ہیں ۔

    حتی کہ ابراہیم نخئ جن کی مراسیل سب سے زیادہ ہیں ان کی بھی کسی مرسل کی تصحیح نہیں کی ۔اگرچہ لفظ ضعیف نہیں استعمال کیا ۔ لیکن معلوم ہوجاتا ہے کہ محقق کا رجحان کیا ہے ۔ ابراہیم نخئ کی مراسیل کی صحت کا محدثین کو بھی اقرار ہے ۔ اور احناف کے نزدیک تو ان کی مراسیل خصوصا حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے ان کی مسند اور متصل سے بھی زیادہ قوی ہوتی ہے ۔ لیکن ان سب کے ذیل میں بھی محقق کہتے گئے ہیں ۔ ابراہیمؒ نے عبد اللہ ؓ سے نہیں سنا ، علیؓ سے نہیں سنا ، عمرؓ سے نہیں سنا وغیرہ۔۔

    کتاب الآثار ابی حنیفۃ (جس میں تمام نسخے شامل ہیں خصوصاََ امام محمدؒ اور امام ابو یوسفؒ کے ) کی عظمت اور اہمیت لمبا موضوع ہے ۔ اس کی اہمیت کے لئے مقدمہ کتاب الآثار مولانا عبد الرشید نعمانیؒ ، اور

    مقدمہ کتاب الآثار مولانا ڈاکٹر عبد الحلیم چشتی صاحب اور

    مولانا ظہور احمد حسینی کی کتاب میں اس کا تعارف دیکھئے ۔

    مختصراََ یہ کہ کتاب الآثار کی روایات بالکل صحیح ہیں ۔


    عبد الله بن المبارك قال: سألت أبا عبد الله سفيان بن سعيد الثوري عن الدعوة للعدو أواجبة هي اليوم؟ فقال: قد علموا على ما يقاتلون، قال ابن المبارك: فقلت له: إن أبا حنيفة يقول في الدعوة ما قد بلغك، قال فصوب بصره وقال لي: كتبت عنه؟ قلت: نعم، قال فنكس رأسه ثم التفت يمنياً وشمالاً، ثم قال: كان أبو حنيفة شديد الأخذ للعلم، ذاباً عن حرام الله عز وجل عن أن يستحل، يأخذ بما صح عنده من الأحاديث التي تحملها الثقات وبالآخر من فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم، وما أدرك عليه علماء الكوفة، ثم شنّع عليه قوم نستغفر الله، نستغفر الله.

    (فضائل ابي حنيفة, ابی ابی العوامؒ- الانتقاء ,ابن عبد البر المالكي– مناقب ائمه اربعه , ابن عبد الهادي الحنبلیؒ)

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    أَبَا حَمْزَةَ السُّكَّرِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا حَنِيفَةَ يَقُولُ إِذَا جَاءَ الْحَدِيثُ الصَّحِيحُ الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلامُ أَخَذْنَا بِهِ

    (الانتقا ء ، ابن عبد البر،عن ابن الدخیلؒ۔ مناقب ابن عبد الہادیؒ عن الدولابیؒ)

    یعنی امام عبد اللہ بن مبارکؒ کے سوال پر امام سفیان ثوریؒ نے امام ابوحنیفہؒ کے بارے میں فرمایا۔

    جس روایت کے راوی ثقات میں سے ہوں ۔تو امام ابوحنیفہؒ اسی پر عمل کرتے ہیں۔

    ابو حمزہ السکریؒ کی روایت میں امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ کہ اگر نبی کریم ﷺ سے جو حدیث صحیح سند سے ہم تک پہنچ جائے ہم اس پر عمل کرتے ہیں۔

    یعنی جس حدیث پر انہوں نے عمل کیا وہ بھی ان کے نزدیک بالکل صحیح ہے ۔

    ان دو اقوال کی اول مصداق امام ابو حنیفہؒ کی کتاب الآثار کی روایات ہیں ۔کہ ان میں اگر بعض راوی اگر بعد کے لوگوں کے نزدیک کچھ ضعیف یا مجہول بھی ہوں ۔۔۔لیکن امام صاحب کے نزدیک وہ صحیح اور معروف ہی ہوں گے۔ یا ایسا راوی جس میں کچھ ضعف ہوا بھی تو امام صاحب نے اس سے وہ روایت ہی کی ہو گی ۔۔۔جس پر ان کو اعتماد ہوگا۔ اور اس کو روایت کرنا اور اس کو اخذ کرنا یعنی اس پر عمل کرنا امام ابوحنیفہؒ کی طرف سے اس روایت کی تصحیح ہے۔


    مجہول کی مثال میں زید ابو عیاش ایک راوی ہیں جو موطا امام مالک ؒ میں بھی راوی ہیں ۔ ان کو بعض محدثین جن میں
    بقول حاکم ؒ ، بخاری ؒ و مسلمؒ بھی ہیں مجہول یا جہالت کا خدشہ رکھتے ہیں ۔ان کی روایت مستدرک میں بیان کر کے حاکمؒ فرماتے ہیں ۔

    هذا حديث صحيح لإجماع أئمة أهل النقل على إمامة مالك وأنه محكم في كل ما يرويه وإذا لم يوجد في روايته إلا الصحيح خصوصا في حديث أهل المدينة إلى أن قال والشيخان لم يخرجاه لما خشيا من جهالة زيد بن عياش

    اسی طرح امام سفیان ثوریؒ نے امام ابوحنیفہؒ کے بارے میں فرمایا۔

    يأخذ بما صح عنده من الأحاديث التي تحملها الثقات وبالآخر من فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم، وما أدرك عليه علماء الكوفة

    اور ان احادیث میں جن میں بعض کو مجہول کی شکایت ہے کے ذیل میں امام مجتہد محمد بن الحسن ؒ نے بہ ناخذ وھو قول ابی حنیفہ کہہ کر تصحیح بھی کی ہے ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ضعیف کی مثال میں

    مثلاََ عبد الکریم بن ابی المخارق ابو امیہ ؒ کی روایات بھی کتاب الآثار میں موجود ہیں ۔ اور بعد کے محدثین نے ان کے ضعف پر اتفاق کر لیا ہے ۔

    لیکن ثقہ محدث فقیہ حنفی امام قدوریؒ نے التجرید میں ان کی ثقاہت کے لئے بس یہ کہا ہے کہ ابو حنیفہؒ ان سے روایت کرتے ہیں ۔

    اور عبد الکریم ؒ سے امام مالکؒ بھی موطا میں روایت کرتے ہیں ۔
    اب بعد کے محدثین کی بات ان دو بڑے اماموں پر تو حجت نہیں ہے ۔
    یااتنا نہیں مان سکتے تو کم از کم یہ تو مان سکتے ہیں کہ ان دو بڑے اماموں نے ان سے صرف وہی روایت لی ہوگی جس کی انہوں نے تحقیق و تفتیش کر لی ہوگی ۔ اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ عبد الکریمؒ کی جو روایات ہیں ان کے متابعات صحیحین میں ہیں ۔جیسا کہ مولانا ایوب الرشیدی شاگرد مولانا عبد الحلیم چشتی ، نے جمع بین الآثار (محمد و ابو یوسف)میں بیان کیا ہے ۔

    اور امام مزیؒ اور امام ذہبیؒ کے مطابق تو عبد الکریم ؒ سے امام بخاریؒ نے استشہاد کیا ہے اور امام مسلمؒ نے بھی متابعت میں روایت کی ہے ۔

    ------------

    ایک اور مثال۔

    محقق علی الاطلاق امام حافظ کمال الدین ابن ہمامؒ ، فتح القدیر میں ایک جگہہ الآثار ابی حنیفہؒ بروایت محمد سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں ۔۔۔۔۔

    قال محمد بن الحسن في كتاب الآثار : أخبرنا أبو حنيفة ، حدثنا ليث بن أبي سليم عن مجاهد عن ابن مسعود قال : ليس في مال اليتيم زكاة .

    وليث كان أحد العلماء العباد ، وقيل اختلط في آخر عمره .

    ومعلوم أن أبا حنيفة لم يكن ليذهب فيأخذ عنه في حال اختلاطه ويرويه

    وهو الذي شدد في أمر الرواية ما لم يشدده غيره على ما عرف

    حافظ ابن ہُمام ؒ لیث بن سلیم پر جو جرح کی جاتی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ

    ’’اس روایت میں لیث بن ابی سلیمؒ ہیں جو ایک بڑے عالم اور عابد ہیں اور کہا گیا ہے کہ آخری عمر میں ان کو اختلاط ہوگیا تھا‘‘

    اور اس کے بعد فرماتے ہیں کہ امام ابوحنیفہؒ ایسے نہیں ہیں کہ انہوں نے لیثؒ سے حالت اختلاط میں سنا ہوگااور روایت کی ہوگی ۔ کیونکہ امام صاحبؒ وہی ہیں جنہوں نے حدیث کی روایت (کی احتیاط میں ) وہ شدت برتی ہے جو دوسروں نے نہیں برتی ۔

    اس احتیاط کی سخت شرائط کے بارے میں اصول حدیث کی کتب پڑھیں۔

    ---------------------------

    خلاصہ یہ کہ کتاب الآثار طبقہ اول کی کتاب ہے ۔ اور اس کے روایات بالکل صحیح ہیں ۔ اور اس کے کسی راوی کا بعد کے ائمہ کو ترجمہ نہیں ملا تو امام صاحبؒ کے نزدیک وہ مجہول نہیں ہےاور اس کے راوی ثقہ ہیں ۔ جیسا کہ امام سفیان ثوریؒ نے امام عبد اللہ بن مبارکؒ سے فرمایا۔ اور امام صاحب اور ان کے مجتہد شاگردوں نے اس سے احتجاج کیا ہے اور اس پر عمل کیا ہے ۔ یہ بھی دلیل ہے کہ یہ روایات بالکل صحیح ہیں ۔

    اور اس میں مراسیل ، مقطوعات ، آثار اس لئے ہیں کہ یہ تابعین کے آخری دور کی ہے جب یہی طرز تھا ۔ جیسا کہ موطا امام مالک میں بھی ایسا ہی ہے ۔
    یعنی امام ابوحنیفۃؒ ، یا امام مالکؒ اسی طرح امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ اگر بلغنا کہہ دیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ان کو ہوا سے پرندوں نے یہ بات پہنچائی ہے ،یا سنی سنائی ہے ۔
    یا وہ کسی صحابیؓ یا تابعیؒ کا نام چھوڑ دیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کو معلوم ہی نہیں کہ درمیانہ راوی کون ہے ۔
    بلکہ یہ تابعین اور اس دور کا طرز ہے ۔ اور وہ مراسیل سے احتجاج کرتے تھے ۔
    ہاں بعد کے محدثین کا مزاج اور ہے ۔ جو ان سے پہلے ائمہ پر حجت نہیں ۔

    اگر کسی آج کے مزاج والے کو اس کی مثال چاہیے تو صحیحین میں جو مدلسین کی روایات عن کے ساتھ ہیں ۔ ان کو بھی تو ہم محدثین کے اعتماد پر ہی متصل سمجھتے ہیں ۔

    اور پہلے ائمہ کے انداز کے لئے ایک مثال یہ ہے جامع المسانید خوارزمیؒ اور امام ابو حنیفہؒ کی باقی مسانید میں کچھ قدیم اور مفقود مسانید اور کتاب الآثار کے نسخوں کی بھی روایات موجود ہیں ۔ تو کسی نسخہ میں روایت مرسل ہوتی ہے ۔ دوسرے نسخہ میں وہی روایت مسند اور متصل ہوتی ہے ۔ ایسا بہت جگہہ ہوتا ہے ۔ بعد کے محدثین جو شوافع کی تقلید کرتے ہیں ۔ وہ ایسی صورت کو اپنے اصول کے تحت کبھی اضطراب کہہ دیتے ہیں ۔ حالانکہ ایسا بالکل نہیں ۔

    یہی بات موطا امام مالکؒ کے بارے میں بھی ہے ۔

    اکثر جگہہ جو متشدد متعصب یا مخالف محدثین امام صاحب ؒ پر خطا و وہم کی جرح کہتے ہیں وہ بھی اکثر ایسی ہی ہوتی ہے ۔ بہرحال یہ لمبا موضوع ہے ۔
    جیسے امام اوزاعیؒ کے بارے میں امام احمدؒ کے ایک قول میں یہ بات ہے کہ حدیث ضعیف ۔(یہ قول منکر ہے ۔لیکن ابھی اس سے بحث نہیں )
    اس قول پر امام ذہبیؒ تعلیق کرتے ہیں کہ کیونکہ امام اوزاعیؒ مراسیل و مقطوع روایات سے چونکہ احتجاج کرتے ہیں اس لئے ان میں ضعف ہے یہ نہیں کہ وہ خود ضعیف ہیں ۔
    اس طرح کے تکلف امام بیہقی ؒ نے بھی مناقب شافعیؒ میں کئے ہیں ۔
    امام اوزاعیؒ بھی چونکہ مراسیل سے احتجاج کرتے ہیں ۔ اس لئے جن کا طرز عمل اس کے کچھ خلاف ہے ۔ ان کو پھر تکلف کرنا پڑتا ہے ۔ پہلے ائمہ کا طرز ہی وہی تھا ۔

    بہرحال طبقہ اول کی کتب پر حکم نہیں لگائے جاتے ۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی صحیح روایت سے اصح روایت یا ہم پلہ روایت ہو تو مقابلے میں پیش کرکے مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔ جیسا کہ ائمہ کے درمیان بھی مقابلہ کیا جاتا ہے ۔ جیسا کہ علمائے احناف بلکہ تمام مسالک،صحیحین و موطا وغیرہ کی حدیث پر بھی کلام کرتے ہیں ۔

    بات طویل ہوگئی ۔جو کہ اصل میں ایک عظیم کتاب پر ایک علم سے فارغ متعصب محقق کی تحقیق یا متعصب ناشر کی اشاعت پر کچھ تبصرہ تھا۔

    اور اپنے لوگوں سے بھی گلہ ہے کہ وہ اہم کتب پر تحقیق کوئی نہیں کرتے ۔ پہلے یہ خیال تھا شاید سرمایہ وغیرہ نہیں ہوتا ۔ لیکن پھر دیکھیں تو دوسری قسم کی کتب اتنی زیادہ شائع ہورہی ہیں کہ یہ بھی عذر صحیح نہیں ۔

    اللہ تعالیٰ فرقہ واریت سے سب کومحفوظ فرمائے اور تمام ائمہ کی محبت پیدا فرمائے ۔ اور دین کا صحیح فہم اور عمل نصیب فرمائے ۔ آمین

اس صفحے کو مشتہر کریں