کتاب مذہبی داستانیں اور انکی حقیقت از حبیب الرحمن صدیقی کاندھلوی

'حکایات' میں موضوعات آغاز کردہ از imani9009, ‏اکتوبر 4, 2017۔

  1. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    98
    موصول پسندیدگیاں:
    47
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اس کتاب مذہبی داستانیں اور انکی حقیقت از حبیب الرحمن صدیقی کاندھلوی میں بہت سی عجیب و غریب قسم کی باتیں لکھی ہیں۔ اس میں صفحہ نمبر 287 پر لکھا ہے کہ ان امور سے یہ بات خودبخود ثابت ہوجاتی ہے کہ حضرت حسن صحابی نہ تھے کجا کہ حضرت حسین کی صحابیت۔
    عکس اٹیچ ہے
    [​IMG]

    تحقیق درکار ہے
  2. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    138
    صنف:
    Male
    یہ صاحب ایک بڑے عالم مولانا ادریس کاندھلویؒ کے رشتہ دار ہیں ۔ لیکن اس سے آدمی مستند نہیں ہوتا ۔ بڑے اچھے گھرانوں میں بھی جاہل پیدا ہو جاتے ہیں ۔
    اور یہ صاحب بھی ایسے ہی ہیں ۔ آج کل منکر حدیث کی ایک شکل تجدد پسند ہوتی ہے ۔ جو مغرب سے بہت مرعوب ہوتے ہیں ۔ اور بیچارے مغرب کو جواب دینے کے لئے اسلام کو اُن کے حساب سے اڈجسٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
    اس طبقہ کے پاکستان میں آج کل مشہور غامدی صاحب ہیں ۔ جو براہ راست احادیث کا انکار نہیں کرتے ۔ لیکن مانتے اپنی مرضی سے ہی ہیں ۔ اور تشریح بھی اپنی مرضی کی کرتے ہیں ۔
    یہ کاندھلوی صاحب بھی اسی قسم سے ہیں ۔ ان کی تقریباََ تمام کتب اسی طرح کی ہیں ۔ اُن میں ایک اضافی عنصر یہ پایا جاتاہے کہ کسی بدعت کے رد میں دوسری انتہاء کا موقف اپنا لیتے ہیں ۔
    اسی طرح شیعوں کے رد میں جناب نے یہ عبارات لکھی ہیں ۔اور یہ دیہان نہیں رہا کہ شیعوں کے رد میں اپنے مزاج میں خارجیت و ناصبیت آگئی ہے ۔ ایسا ہو جاتا ہے جب آدمی سلف صالحین ، اور جمہور علماء سے ہٹ کر تشریحات کرے تو۔
    اس صفحہ کا آخری جملہ پڑھ کر تو بے اختیار مسکراہٹ آگئی کہ ’’ان باتوں کا تجزیہ کمپیوٹر سے کر لیا جائے تو۔۔۔‘‘
    جمہور امت میں حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ کی صحابیت میں کوئی اختلاف نہیں ۔
    اور جمہور علماء بھی کوئی اُن کو بڑی عمر کا نہیں ثابت کرتے اور نہ ہی کثیر احادیث روایت کرنے والا کہتے ہیں ۔
    لیکن صحابیت تو دیکھنے سے بھی ثابت ہوجاتی ہے ۔ اور اُن کی خود کی روایت تصریح کے ساتھ بھی مسند احمد میں جو مسند حسن ؓ ہے اُن میں موجود ہیں ۔اسی طرح حضرت حُسینؓ کی بھی ۔مثلاََ
    حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ هُوَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ قَالَ كُنَّا عِنْدَ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ فَسُئِلَ مَا عَقَلْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَهُ فَمَرَّ عَلَى جَرِينٍ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَأَخَذْتُ تَمْرَةً فَأَلْقَيْتُهَا فِي فِيَّ فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَهُ فِي فِيَّ فَأَخْرَجَهَا بِلُعَابِي فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ وَمَا عَلَيْكَ لَوْ تَرَكْتَهَا قَالَ إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ قَالَ وَعَقَلْتُ مِنْهُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ
    ترجمہ:
    ابو الحوراء سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کو نبی ﷺ کی کچھ باتیں بھی یاد ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے اتنا یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں نے صدقہ کی ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی تھی، نبی ﷺ نے تھوک سمیت اسے باہر نکال لیا اور اسے دوسری کھجوروں میں ڈال دیا، ایک آدمی کہنے لگا کہ اگر یہ ایک کھجور کھالیتے تو کیا ہوجاتا؟ آپ انہیں کھالینے دیتے؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہم آل محمد ( ﷺ ) کے لئے صدقہ کا مال حلال نہیں ہے، نیز میں نے نبی ﷺ سے پانچ نمازیں یاد رکھی ہیں ۔
    یہی روایت حضرت حسین ؓ بھی بیان کرتے ہیں ۔ یعنی وہ بھی اس وقت ساتھ ہی ہوں گے ۔
    اور ان روایات کی سند بالکل صحیح ہے ۔
    اسی سند میں ہی دو اور باتیں بھی حضرت حسن ؓ نے ارشاد فرمائی ہیں ۔ جودو مستقل احادیث ہیں۔
    قَالَ وَكَانَ يَقُولُ دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ
    ترجمہ:
    نبی ﷺ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ شک والی چیز کو چھوڑ کر بے شبہ چیزوں کو اختیار کیا کرو ، سچائی میں اطمینان ہے اور جھوٹ میں شک ہے۔
    اور دعائے قنوت کی دوسری دعا۔

    قَالَ وَكَانَ يُعَلِّمُنَا هَذَا الدُّعَاءَ اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ وَرُبَّمَا قَالَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ
    اسی طرح نبی ﷺ ہمیں یہ دعاء بھی سکھایا کرتے تھے
    اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ وَرُبَّمَا قَالَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ
    ترجمہ:
    اے اللہ، جن لوگوں کو آپ نے ہدایت عطاء فرمائی ان میں مجھے بھی شامل فرما، جنہیں عافیت عطاء فرمائی، ان میں مجھے بھی شامل فرما، جن کی سرپرستی فرمائی، ان میں مجھے بھی شامل فرما اور اپنی عطاء کردہ نعمتوں کو میرے لئے مبارک فرما اپنے فیصلوں کے شر سے میری حفاظت فرما اور اپنے فیصلوں کے شر سے میری حفاظت فرما، جس کا تو دوست ہوجائے اسے کوئی ذلیل نہیں کرسکتا اور اے ہمارے
    رب! تو بڑا بابرکت اور برتر ہے۔

    اس نام نہاد عقلی طبقہ کی تقریباََ تمام کتب میں یہی ہوتا ہے کہ قرآن و حدیث کو عقل اور مغرب کی سائنس پر پرکھو اور اسکے معیار پہ جو پورا اترے وہی قبول کرو ۔ اور یہاں عقل سے مراد اِن کی اپنی ناقص عقل ہے ۔ اور سائنس سے مراد ۔۔Atheist ملحدمادہ پرست والی سائنس۔تو جب یہ قرآن وحدیث کے ساتھ یوں کرتے ہیں تو تاریخ کے ساتھ کیا کریں گے ۔
    اللہ تعالیٰ ہدایت دے ۔ ان کو بھی اور ہم کو بھی ۔ آمین
  3. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    98
    موصول پسندیدگیاں:
    47
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بعض لوگ ان حضرت کو علماء دیوبند کے ساتھ منصوب کرتے ہیں۔ اسکی کیا وجہ ہے
  4. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    391
    موصول پسندیدگیاں:
    244
    صنف:
    Male
    ویسے بھی کیا عمدہ بات کی ہے کہ نو دس سال کے بچے کو صبی نہیں غلام کہا جا سکتا ہے. فقہ میں صبی ممیز کے مسائل ہیں وہ اب غالبا پانچ سال تک خاص ہو جائیں گے. اس کے بعد ہر مسئلہ بلوغ اور قریب البلوغ سے شروع ہوگا اور بیچ کا نو دس سالہ عرصہ ہر بچہ مسائل سے فارغ ہوگا کیوں کہ غلام بمعنی لڑکے کے مسائل تو شاید ہی کہیں ہوں فقہ میں.
    ابن عثمان نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    138
    صنف:
    Male
    جیسا کہ میں نے لکھا تھا کہ وہ مولانا ادریس کاندھلویؒ کے رشتہ دار ہیں ۔ غالباََ بھانجے ہیں ۔
    اور مولاناادریس معروف دیوبندی عالم ہیں ۔ مولانا انور شاہؒ ، مولانا اشرف علی ؒ ، مولانا عثمانیؒ وغیرہ کے شاگرد ہیں ۔ جامعہ اشرفیہ لاہور میں تدریس کرتے رہے ہیں ۔
    بلکہ اُس سے بھی زیادہ جو رشتہ قریب ہے وہ ۔ مولانا اشفاق الرحمٰن کاندھلویؒ ایک عالم دیوبند یا سہارنپوری کے فاضل ہیں ۔
    بعض احادیث کی کتب پر اُن کے حواشی مشہور ہیں ۔ مثلاََ مشہور مکتبہ البشری کراچی سے جو موطا امام مالک شائع ہوئی ہے وہ اُن کے حاشیہ کے ساتھ ہے ۔ وہ نیٹ پر بھی ہے ۔مولانا اشفاقؒ کے ایک لائق بیٹے مشہور عالم تھے ۔ مولانا ساجد الرحمٰن کاندھلوی ؒ جو دار العلوم کراچی میں تخصص کے شعبہ میں تھے ۔ اور یہ اوپر والے مولانا اشفاق الرحمٰن کے نالائق بیٹے تھے ۔
    اسی طرح ایک اور عالم ہیں صاحب اعلاء السنن مولانا ظفر احمد عثمانیؒ ۔۔۔اُن کے بیٹے بھی کچھ اسی مزاج کے نکل آئے تھے قمر احمد عثمانی۔
    ایسا برگزیدہ ہستیوں تک کے خاندان میں بھی ہوچکا ہے ۔
    بس ۔اللہ تعالیٰ نے ہدایت دینا اپنے پاس رکھا ہے ۔ اُس سے ہدایت کی دعاء مانگتے رہنا چاہیے ۔
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    138
    صنف:
    Male
    اس کا جواب شاید آخری لائن سے اخذ کیا جاسکتا ہے ۔ ’’کمپیوٹر سے مسائل شاید نکل آئیں ‘‘(مسکراہٹ)
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    391
    موصول پسندیدگیاں:
    244
    صنف:
    Male
    یہ جو انہوں نے کہا ہے کہ بچہ سات آٹھ سال کی عمر کا ہو تو قریبی چاہنے والوں کا حلیہ پورا ذہن میں رہتا ہے، یہ بھی مکمل طور پر درست نہیں ہے۔ انسانی اذہان الگ الگ ہوتے ہیں۔
    حضرت مفتی رشید احمد لدھیانویؒ میرے والد کے شیخ تھے۔ ان کی وفات کے وقت میں دس یا گیارہ سال کا تھا۔ میں نے حضرت کو تقریباً ہر جمعے دیکھا ہے کیوں کہ میں والد صاحب کے ساتھ حضرت کی مجلس میں جاتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود مجھے ان کا حلیہ یاد نہیں۔ اسی طرح تقریباً اسی سال میرے نانا کا انتقال بھی ہوا لیکن مجھے ان کا حلیہ تو بالکل یاد نہیں۔ اس کے قریب قریب ہی میرے پھوپھا کا انتقال ہوا، تب میں مزید سمجھ دار ہو چکا تھا لیکن ان کا بھی حلیہ یاد نہیں ہے۔ حالانکہ اسی زمانے کے بلکہ اس سے بھی کافی پہلے کے مجھے کئی واقعات اپنی تمام جزئیات اور الفاظ سمیت یاد ہیں۔ جب افغانستان پر 2001ء میں حملہ ہوا تو مفتی رشید احمد نور اللہ مرقدہ نے امریکا کے خلاف جہاد کا فتوی دیا تھا اور یہ فتوی اسلام اخبار میں شہہ سرخی بنا تھا، اسلام اخبار انہی دنوں جاری ہوا تھا، اسلام اخبار 9۔11 کے بعد جاری ہوا تھا اور اس میں 9۔11 کی خبر اس کے جاری ہونے کے بعد چھپی تھی۔۔۔۔۔۔ یہ تمام واقعات مجھے مکمل طور پر یاد ہیں۔
  8. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    138
    صنف:
    Male
    جی بالکل صحیح تجزیہ اور مشاہدہ ہے ۔
    ایساہی ہوتا ہے ۔ کبھی کوئی چوٹ لگنا یاد رہ جاتا ہے ۔ کبھی کوئ مہمان آنا ۔ کبھی بعد کے واقعات یاد نہیں رہتے ، پہلے کے رہتے ہیں ۔

اس صفحے کو مشتہر کریں