کتب میں ضعیف احادیث - اور ضعیف حدیث پر عمل کا معیار

'علوم الحدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن عثمان, ‏نومبر 7, 2017۔

  1. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    185
    موصول پسندیدگیاں:
    179
    صنف:
    Male
    ضعیف احادیث کے موضوع سے متعلق دو بھائیوں کی عبارات نظر آئی ہیں ۔ ان کو یہاں پر نقل کر رہا ہوں ۔
    یہ آج کل کا مشہور موضوع ہے ۔ کسی کے ذہن میں اس موضوع سے جو پوائنٹ نظر آئے وہ یہاں نقل کریں ۔

    احمد قاسمی بھائی نے یہ عبارت نقل کی ہے ۔

    ضعیف او ر موضوع احادیث پر مشتمل کتب مع تعداد حادیث
    ۱۔ امام بیہقی کی کتاب " الاسماء والصفات " میں موضوع اور ضعیف روایات کی تعداد (۳۲۹) ہیں ۔

    ۲۔ابو بکر محمد بن حسین آجری بغدادی کی کتاب"الشریعۃ " میں مذکور ضعیف اور مو ضوع احادیث کی تعداد(۶۵۷) ہے۔

    ۳۔ابو بکر احمدبن محمدبن ہارون خلا ل متوفی ( ۳۱۱ھ) کی "کتاب السنۃ" کی ضعیف اور موضوع روایات کی تعداد (۳۸۹) ہے۔

    ۴۔ امام ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن امام احمد بن حنبل ؒ شیبانی متوفی ۲۹۰ھ کی "کتاب السنۃ" میں ضعیف اور موضوع روایات کی تعداد (۳۰۳) ہے۔

    ۵۔حافظ ابو بکر بن ابو عاصم ضحاک بن مخلد شیبانی متوفی ۲۸۷ھ کی "کتاب السنۃ "کی ضعیف اور موضوع روایات کی تعداد (۲۹۸) ہے

    ۶۔امام بخاری رحمۃ اللہ کی " تاریخ کبیر"بقول دکتور محمد بن عبد الکریم بن عبید حفظہ اللہ کے ۔احادیث مرفوع کی تعداد( ۱۱۲۷) صحیح احادیث تعداد ( ۲۱۰)حسن احادیث ( ۳۷۰)ضعیف اور بالکل نا اعتبار (۳۹۹) اور موضوع احادیث ایک ہے۔

    ۷۔ امام بخاری علیہ الرحمہ کی"کتاب الا دب المفرد "علامہ جیلانی والے نسخے کی ضعیف احادیث کی تعداد (۹۹) تک پہونچ جاتی ہے۔

    نیز عبد الفتاح ابو غدہ نے " الادب المفرد "کے ایسے رواۃکا جو مستور ،ضعیف یا مجہول یا ان جیسے اوصاف سے متصف ہیں "تقریب " کی ورق گردانی کے بعد ان اعداد وشمار ذکر کئے ہیں ۔جن میں مستورین کی تعداد ۲۰ اور ضعیف رواۃ کی تعداد ۲۲ اور مجہول کی تعداد ۲۸ ہے۔

    ۸۔ حافظ مجد الدین عبد السلام ابن تیمیہ کی کتاب (احکام ) "المنتقیٰ " میں ضعیف احافدیث کی تعداد (۲۶۲) ہے ۔

    ۹۔ حافظ ابن حجرؒ کی کتاب " بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام " میں درج شدہ احادیث کی تعداد (۱۱۷ ہے ۔

    ۱۰۔ امام نوویؒ کی کتاب " خلاصۃ الاحکام من مہمات السنن وقواعد الاسلام" میں نقل کردہ احادیث ضعیفہ کی تعداد ( ۶۵۴) تک پہونچ جاتی ہے

    ۱۱۔ ابن المقلن شافعی فر ماتے ہیں میں نے " تحفۃ المحتاج کی شرح عمدۃ المحتاج الیٰ کتب المنھاج" میں ضعیف احادیث سے جا بجا استدلال کیا ہے ۔

    ۱۲۔ محقق عصر جناب ڈاکٹر مصطفٰیاعظمی اور عالی مقام شعیب ارناؤط نے ابن خزیمہ کی ضعیف احادیث کی تعداد ( ۳۵۲ ) بیان کی ہے ۔

    ۱۳۔ صحیح ابن حبان کی ضعیف احادیث محقق عصر جناب ڈاکٹر مصطرفیٰ سباعی اور عالی مقام شعیب ارناؤط کے مطابق ( ۲۹۴) ہے ۔

    ۱۴۔ حافظ ضیاء مقدسی کی کتاب " الاحادیث المختارہ" میں موجود ضعیف احادیث کی تعداد (۶۰۶) ہے

    ۱۵۔ ابو عبد اللہ حاکم کی کتاب " المستدرک " میں ضعیف احادیث کی تعداد بقول ابن المقلن اور علامہ ذھبی ( ۹۰۷) ہے ۔

    ۱۶۔ سید صدیق حسن خان کی کتاب " نزل الابرار " میں درج شدہ ضعیف احادیث کی تعداد بقول مصنف مقال سرسری تلاش میں (۱۳۳) ملی دقتِ نظری سے تلاش میں اور مل سکتی ہیں ۔

    ۱۷ؕصلوٰۃ الرسول بقول غیر مقلد عالم مولوی عبد الرؤف انتہائی ضعیف احادیث ( ۸۴ ) ہیں۔
    بحوالہ:جماعت تبلیغ پر اعتراضات کے جوابات .کتب فضائل حقائق ۔۔غلطیاں ۔ مزید تفصیل دیکھیں ( تلخیص الخیال ،تلخیص وترجمہ تحقیق المقال۔
  2. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    185
    موصول پسندیدگیاں:
    179
    صنف:
    Male
    احمد پربھنوی بھائی نے لکھا ہے ۔

    علماء نےاحکام کے بارے میں شدت برتی لیکن ترغیب میں ایسے راویوں کی حدیث سبھی نے لائی ہیں اسی طرح امام بخاری نے بھی ایک حدیث لائے ہیں جو متابعت میں بھی صحت کے درجہ تک نہیں پہنچتی ـ
    ابی بن عباس جس سے امام بخاری نے بھی اپنی صحیح میں اصول میں روایت لی ہے
    عن ابی بن عباس بن سهل بن سعد عن ابیه عن جدہ قال: کان للنبی في حائطنا فرس یقال له اللحیف“
    حافظ نے ابی بن عباس کا کمزور حافظہ بتلاتے ہوئے محدثین کے اقوال پیش کیے اور کہا ان کے بھائی نے اس حدیث میں متابعت بھی کی ہے لیکن وہ بھی ضعیف ہے
    چنانچہ النکت میں لکھتے ہیں

    ”وعبد المهیمن ایضاً فیه ضعف‘ فاعتضد‘ وانضاف الی ذلك انه لیس من احادیث الاحکام‘ فلهذہ الصورة المجموعة حکم البخاری بصحته“ انتہی۔

    امام مسلم نے تو صحیح کے مقدمہ میں جہاں وہ اصول بتلارہے ہیں ان میں مجہولین سے بھی روایت لی ہیں
  3. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    428
    موصول پسندیدگیاں:
    264
    صنف:
    Male
    علامہ عبد الحئی لکھنویؒ نے الاجوبۃ الفاضلۃ میں اس سلسلے میں یہ موقف اختیار فرمایا ہے کہ جن جگہوں پر (فضائل وغیرہ میں) ضعیف احادیث قبول کی گئی ہیں وہ احادیث ضعیف نہیں بلکہ حسن ہیں۔ چونکہ امام ترمذیؒ سے پہلے تک "حسن" احادیث کا تصور نہیں تھا اس لیے ان علماء نے انہیں ضعیف کہا ہے۔
    الاجوبۃ الفاضلۃ نظر سے گزرے بہت عرصہ ہو گیا اس لیے اس موضوع کو وہاں ملاحظہ فرما لیجیے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ بہت سی ایسی احادیث جنہیں ہم ضعیف کہتے ہیں وہ در حقیقت حسن ہوتی ہیں اور ان کے راوی کے صرف حافظے پر جرح ہوتی ہے۔ اگر کسی راوی کی عدالت بیان ہو اور اس کے باوجود اسے "منکر الحدیث" یا "ربما اخطا" وغیرہ کے الفاظ سے یاد کیا جائے تو اس کی روایت کو بھی میرا خیال ہے کہ حسن ہی کہنا چاہیے۔ واللہ اعلم
    @احمد پربھنوی
    احمد پربھنوی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں