کردارخودابھرکے کہانی میں آئے گا

'غور کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏نومبر 22, 2018۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,729
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    کردارخودابھرکے کہانی میں آئے گا
    مفتی ناصرالدین مظاہری
    وہ اپنی بیٹی سے ملاقات کیلئے بذریعہ کار لکھیم پورسے کاس گنج پہنچاکھڑکی کاشیشہ کھول کرباہر موجودایک شخص سے راستہ معلوم کرناچاہامگراس نے کہاکہ بھاگ لو!بلوائیوں نے حملہ کردیاہے،یہ صاحب اپنی حاملہ بیوی اورچھوٹی سی بچی کے ہمراہ تھے،جلدی جلدی گاڑی موڑنے لگے مگرتب تک بہت دیرہوچکی تھی،بلوائیوں نے اُن صاحب کی ڈاڑھی دیکھتے ہی شیشے توڑدئے، پے درپے حملے شروع کردئے ،بے چارے کی ایک آنکھ بھی پھوٹ گئی،بلوائیوں کے حوصلے بلندتھے ،جان سے ماردیناچاہتے تھے مگراُن ہی بلوائیوں میں سے ایک نے کہاکہ مارنے سے پہلے پوچھ تولوکہ کون ہے ؟ جب انھیں معلوم ہواکہ یہ شخص لکھیم پورسے اپنی بیٹی سے ملنے آیا ہے تواس شخص نے آگے بڑھ کربلوائیوں کومزیدحملہ کرنے سے روک دیااورکہاکہ یہ تو ہمارامہمان ہے ۔
    وہ صاحب اسپتال پہنچے،مرہم پٹی کرائی ا،واپس لکھیم پورپہنچے،میڈیاسے رُوبرو ہوئے اوریہ بیان دیاکہ
    ’’اُن بلوائیوں نے غلط فہمی میں مجھ پرحملہ کردیا،اُن کوجب معلوم ہواکہ میں مہمان ہوں اورمیرااِس بلواسے کوئی لینادینانہیں ہے توایک صاحب نے سختی کے ساتھ نہ صرف مزیدحملہ سے روکابلکہ معذرت خواہانہ اندازمیں اظہارندامت بھی کیا،میں ان صاحب کابہت ہی شکرگزارہوں جو فرشتہ بن کر میری حمایت میں آگے بڑھے‘‘
    یہ خبرٹی وی پرنشرہوئی تواگلے دن ’’دَینک جاگرن‘‘ نامی اخبارمیں ایک بڑاسااشتہار موجود تھا جس کامضمون کچھ اس طرح تھا:
    ’’میں فلاں ہوں کاس گنج ہی کارہنے والاہندو ہوں،مجھے آپ کے ساتھ ہوئی اس زیادتی پر بہت ندامت ہے ،میں آپ کانام پتہ کچھ نہیں جانتااس لئے اِس اخبارکے سہارے اپناپیغام آپ تک پہنچانا چاہتاہوں کہ آپ کی ایک آنکھ بے قصورضائع ہوگئی ہے اس کے لئے میں آپ کواپنی ایک آنکھ دان کرناچاہتاہوں اوردونوں آپریشن کاخرچ بھی میں ہی برداشت کروں گا‘‘
    اگلے دن اُسی اخبارمیں ایک اورصاحب کااشتہارشائع ہواجس کامفہوم بھی تقریباًوہی تھا۔
    قارئین کرام ! اللہ تعالیٰ ہرشرسے خیرکاپہلوکس حکمت کے ساتھ نکال دیتاہے، ہماری گھٹیاسوچ کچھ بھی سوچنے پرمجبورکردے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی ہندوستان کااکثر ہندومثبت سوچ، بہترفکر، احسان شناس انصاف پسنداورمہمان نوازہے،جس کی تازہ ترین مثال میں نے اوپرپیش کی۔
    راقم ایک بار لکھیم پورریلوے اسٹیشن پرٹکٹ لائن میں لگاہوااپنی باری کامنتظر تھاکہ اچانک ایک ٹرین آکررکی،ٹرین کوصرف دومنٹ رکناتھا، ایک صاحب حواس باختہ،ہانپتے کانپتے لائن کے قریب آئے اورکھڑکی کے پاس موجودایک غیرمسلم سے کہاکہ بھائی مجھے اسی ٹرین سے پیلی بھیت جاناہے پلیزمیراٹکٹ لے لیں ،اس شخص نے انکارکردیا،اس کے بعدمیرانمبرتھامیں نے اُن سے کہاکہ مجھے ٹکٹ کے روپے دیجئے اس نے جلدی جلدی کرایہ نکالا،میں نے ٹکٹ خریدکراس کے حوالہ کیااور پھرپیچھے جاکرلائن میں لگ گیا،کیونکہ اب ضابطہ بنادیاگیاہے کہ ایک شخص کوایک ہی جگہ کے متعددٹکٹ تومل سکتے ہیں الگ الگ اسٹیشنوں کے نہیں،وہ صاحب پیاربھری تعجب خیزنظروں سے مجھے دیکھنے لگے اورپھرجلدی سے اپنی جیب سے ایک نوٹ نکالا،اس نوٹ کومیرے سرپرگھمایا اور وہیں موجودایک فقیرکودے کریہ جاوہ جا۔
    یہ سب اتنی جلدی ہواکہ میں اس کامطلب ہی نہ پوچھ سکا،قریب کھڑے ایک شخص سے پوچھاکہ اس نے روپے میرے سرپرسے گھماپھراکرفقیرکوکس لئے دئے ؟وہ بھی غیرمسلم تھاکہنے لگاکہ
    ’’ارے جناب آپ نے پنیہ کاکام کام کیاہے اس لئے اس نے آپ کی نظراتاری ہے‘‘
    میری ایک عزیزہ اپنے بھتیجے کے ساتھ تمبورسے گاؤں جارہی تھیں،دریائی راستہ ہے،ریت میں پہنچ کرموٹرسائیکل کاتیل ختم ہوگیا،منزل وہاں سے کم ازکم تیرہ کلومیٹردورتھی،پیٹرول پمپ تقریباًچھ کلیومیٹرکے فاصلے پرتھا،قریب سے ایک غیرمسلم گزرا،اس کی پیشانی پرگیروارنگ لگاہواتھااس نے پیدل چلتے دیکھ کرپوچھاکہ کیاتیل ختم ہوگیاہے یاگاڑی خراب ہوگئی ہے؟بھتیجے نے جواب دیاکہ تیل ختم ہوگیا ہے، تواس نے کہاکہ رکومیں تیل دیتاہوں ،چنانچہ اُس نے اپنی گاڑی سے اتناتیل دے دیاکہ بھتیجے کی گاڑی گھرتک پہنچ گئی ۔
    مفکراسلام حضرت مولاناسیدابوالحسن علی حسنی ندویؒایک بارسہارنپورسے لکھنؤ بذریعہ ٹرین تشریف لے جارہے تھے ،کمرمیں تکلیف تھی اس لئے خاص کرزیریں سیٹ حاصل کی گئی ،ابھی مولانا اپنی سیٹ پربیٹھے بھی نہ تھے کہ ایک ہندوفیملی پہنچی اورمولاناسے عرض کیاکہ نیچے والی سیٹ سے بدل لیں، مولانانے کمرمیں تکلیف اوربڑھاپے کے باوجودسیٹ بدل لی،خادم مولانابلال حسنی ندوی نے عرض کیاکہ حضرت! آپ کواس سیٹ کی زیادہ ضرورت تھی؟فرمایاکہ
    ’’حسن اخلاق کامظاہرہ کرنے کے بہت کم مواقع آتے ہیں یہ اسلامی اخلاق کے اظہارکابہترین موقع تھاجس کومیں نے گنوانامناسب نہیں سمجھا‘‘
    ایسانہیں ہے کہ ابھی انسانیت بالکل ہی ختم ہوگئی ہے ،روئے زمین سے جس دن پورے طورپرانسانیت ختم ہوجائے گی وہی دن دنیاکاآخری دن ہوگا۔
    اے تعصب زدہ دنیاترے کردارپہ خاک
    بغض کی گردمیں لپٹے ہوئے معیارپہ خاک
    بھوک سے نڈھال ایک ہندوستانی نے دبئی کے ایک ہوٹل میں کھانے کی میزپربیٹھے بیٹھے کھانے کا آرڈردیا، کھاناآگیا…ابھی اس نے کھاناکھاناشروع نہیں کیاتھاکہ اچانک اسے محسوس ہواکہ کوئی کھڑکی پار سے اسے دیکھ رہاہے،آخرکارکمارنامی اس شخص نے کھڑکی کے پارکھڑے ایک لڑکے اورلڑکی کودیکھ لیا جوللچائی نظروں سے کھانے کودیکھ رہے تھے،کمارنے مزیدکھانے کاآرڈردیا، تینوں نے ایک میزپرکھانا کھایا، وہ دونوں بہن بھائی تھے اوراسی ہوٹل میں صفائی کاکام کرکے گزر اوقات کرتے تھے۔
    دونوں بہن بھائیوں کے جانے کے بعدکماراپنی میزسے اٹھا،کاؤنٹرپرپہنچا،بل مانگا،بل دیکھ کر کمار کو حیرت ہوئی کیونکہ بل میں صاف لفظوں میں لکھاہواتھا’’ہمارے پاس ایسی کوئی مشین نہیں جوانسانیت کاکوئی بل کراداسکے،تم ہمیشہ خوش رہو‘‘
    کہنے کوتویہ واقعہ عام بھی ہے ،سادہ بھی اوربہت زیادہ لائق توجہ بھی نہیں لیکن آپ انسانی بنیادوں پرکوئی بھی انسانی کام کرکے اس سے ہونے والی خوشی کااندازہ تب ہی کرسکیں گے جب کبھی آپ کواس سے سابقہ پڑاہو۔
    بلند رکھنا نگاہ اپنی،وقار اپنا شعار اپنا
    نہ ڈگمگائیں قدم تمہارے کچھ ایسارکھناکرداراپنا
    صحابۂ کرام کی پوری پوری زندگیاں خدمت خلق میں گزرگئیں ،چنانچہ حضرت ابوبکرصدیقؓ ؓکے بارے میں تاریخ کی کتابوں میں یتیموں، بیواؤں،غریبوں، محتاجوں،فقراء،معذورین سب کا کام اتنی خوش دلی اور خندہ پیشانی کے ساتھ کرنے کے اس قدرواقعات ہیں کہ مستقل کتاب بن سکتی ہے۔
    مدینہ منورہ کی ایک ضعیفہ،عفیفہ بڑھیاغریب بھی تھی اورمعذورواپاہج بھی،بے سہارا بھی تھی اورمستحق تعاون بھی،حضرت عمررضی اللہ عنہ خیرکے ہرکام میں پیش پیش رہتے تھے ،چنانچہ روزانہ اس ضعیفہ کے گھریلوکام کاج کرکے چلے جاتے۔
    ایک بار حضرت ابوبکرصدیق ؓاس بوڑھی کے گھرپہنچے اوربوڑھی کے گھرصفائی ستھرائی وغیرہ کرکے چلے گئے،جب حضرت عمرفاروق ؓپہنچے تودیکھاکہ تمام کام سلیقہ سے انجام دیے جاچکے ہیں،تعجب ہواکہ کون بندۂ خدا ہے ،اگلے دن پہنچے توپھرکام ہوچکاتھا، اب تجسس میں لگ گئے، پہلے سے ایک جگہ چھپ کرانتظارکرنے لگے تھوڑی ہی دیرمیں دیکھاکہ حضرت صدیق اکبرؓاس بوڑھی کے گھرمیں داخل ہوئے ۔
    آج ہم اپنے گریبان میں منہ ڈال کردیکھیں،ہم کسی گندے شخص کواپنی جیب سے اگرپیسے دینے بھی ہوتے ہیں تو بچے کے ذریعہ بھیجواتے ہیں۔ہم ہرصورت میں اپنامفاداوراپنی اناکومقدم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں،حالانکہ:
    وہ چاندہے توعکس بھی پانی میں آئے گا
    کردارخودابھرکے کہانی میں آئے گا
    یادرکھیں!
    l -------اگرآپ زندگی کے حقیقی لطف سے لطف اندوزہوناچاہتے ہیں توخود’’انسانیت‘‘کی خدمت کیلئے کمربستہ ہوجائیے!
    l -------اگراللہ نے آپ کوسالم ہاتھ پیرعطافرمائے ہیں توکسی کوعصااوربیساکھی دینے کے بجائے خودبیساکھی بن کردیکھئے۔
    l -------اگراللہ نے آپ کوامیربنایاہے توکسی بچے کے ذریعہ فقیرکوروپے بھیجوانے کے بجائے خود جاکر روپے دینے کی کوشش کیجئے۔
    l -------اگراللہ نے آپ کوگاڑی دی ہے توآپ اس وقت تک صحیح معنوں میں گاڑی کی لذت نہیں پاسکتے جب تک کسی غریب مسکین اجنبی کوسرراہ اپنی گاڑی میں بٹھاکرمنزل تک نہ پہنچاسکیں۔
    l -------اگراللہ نے آپ کوبہترین لباس اورپوشاک سے نوازاہے توپہنتے وقت ان ہزاروں غریبوں کویادکیجئے جن کوسترچھپانے کے لئے ٹاٹ بھی میسرنہیں ہیں۔
    l -------اگراللہ تعالیٰ نے آپ کواپنامکان دیاہے توان لاکھوں مسکینوں کویادکیجئے جن کوپھونس کا جھونپڑا بھی حاصل نہیں ہے۔
    l -------اگراللہ تعالیٰ نے آپ کوچستی وتندرستی عطافرمائی ہے تواسپتالوں میں موجودان لاکھوں لوگوں کویادکیجئے جوبسترعلالت پرایڑیاں رگڑرگڑکرموت کی تمناکرنے لگے ہیں۔
    l -------اگرآپ ٹرین میں ہیں اورخوشی کی تلاش ہے تویہ خوشی اس طرح بھی حاصل کرسکتے ہیں کہ آپ اپنی سیٹ کسی معذورشخص یاخاتون کودے دیجئے ،خودکھڑے ہوجائیے پھردیکھئے آپ کے اس کردارکی وجہ سے چاروں طرف سے لوگ آفرکرنے لگیں گے کہ آپ ہمارے پاس بیٹھ جائیے کیونکہ:
    جن کے کردارسے آتی ہوصداقت کی مہک
    اُن کی تدریس سے پتھربھی پگھل جاتے ہیں
    l -------اگرآپ سفرمیں ہیں اوردائمی خوشی چاہتے ہیں تواپنے ہمنشین سے اس کامذہب، مسلک،حسب ، نسب کچھ بھی معلوم نہ کریں اورانسانی بنیادوں پراس کے ساتھ ہمدردی وخیرخواہی کامعاملہ کریں،کیونکہ:
    کرداردیکھناہے توصورت نہ دیکھئے
    ملتا نہیں زمیں کاپتاآسمان سے
    l -------اگراللہ تعالیٰ نے آپ کوایمان کی دولت سے نوازاہے تواُن لاکھوں ایمان سے محروم بھائیوں کویادکیجئے… جو آنکھ بندہوتے ہی جہنم کی ابدی سزاؤں کے مستحق ہوجاتے ہیں …اور… یہ صرف ہماری کوتاہیوں اوربداعمالیوں کانتیجہ ہے …ورنہ اگرہم نے انھیں ایمان کاراستہ بتایاہوتا …قرآن کانوردکھایاہوتا…جنت کاسروربتایاہوتا…دوزخ کاخوف دلایاہوتا… آخرت کادھیان اور حساب وکتاب کاگیان دلایاہوتا…مرضی مولیٰ بتائی ہوتی…مقصدتخلیق سجھایاہوتا …اسوۂ رسول سے آشناکیا ہوتا… چندروزہ دنیا کی تباہی اورآخرت کی دوامی زندگی کاعکس وآئینہ دکھایاہوتا…توبہت ممکن تھاکہ اتنی بڑی تعداد جوآنکھیں بندہوتے ہی جہنم کاایندھن بن جاتی ہے شایدبچ جاتی۔ظلم کیاچیزہے؟ظالم اورمظلوم کون ہے؟
    سوچئے!یہی لوگ اگرکل اللہ احکم الحاکمین کے دربار میں شکوہ کرنے لگے ،ہماری کوتاہیوں پر ہمارا دامن پکڑنے لگے توکیاجواب دیں گے؟…ہے کوئی جواب؟
  2. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,599
    موصول پسندیدگیاں:
    780
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    میں کبھی نہیں بھولوں گا۔50 گھنۃ کا سفر اہلیہ کے ساتھ غزالی ، شیرازی، صدف۔ویٹنگ لسٹ کا ٹکٹ ،واپسی نا ممکن جا ننے والے انجان بن کر گزر رہے تھے ۔غیزمسلم بزرگوار اپنی اکلوتی کنفرم سیٹ پر ہم چاروں کو بٹھا لیا اور تب تک بٹھائے رکھا جب تک سیٹ نہیں مل گئی ۔بہت سادہ سا معمولی سا واقعہ لگتا ہوگا ۔پر ہمارے دل پر ہمیشہ کیلئے نقش ہو گیا ۔سچ فرمایا مفتی صاحب نے:سوچئے!یہی لوگ اگرکل اللہ احکم الحاکمین کے دربار میں شکوہ کرنے لگے ،ہماری کوتاہیوں پر ہمارا دامن پکڑنے لگے توکیاجواب دیں گے؟…ہے کوئی جواب؟: ​

اس صفحے کو مشتہر کریں