کرکٹ کا خمار شرائط کے آئینے میں

'اِسلامی تعلیمات' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏مارچ 29, 2011۔

  1. کفایت اللہ

    کفایت اللہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Mumbai
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    عصر حاضر میں کھیل کود معاشرے کا ایک اہم جزء ہے ، جسے اب صرف کھیل ہونے کی حیثیت حاصل نہیں ہے بلکہ اسے ایک مستقل فن کی حیثیت دے دی گئی ہے ، ہر اخبار ، ریڈیو اسٹیشن اور ٹی وی چینل کے پروگراموں میں کھیل کود کو ایک بڑاحصہ دیا جاتا ہے ، بہت سے لوگوں کے یومیہ پروگراموں میں کھیل کود کا ایک ضروری حصہ شامل ہوتا ہے ، بلکہ اب تو صورت حال یہ ہے کہ ایک گروپ ایسا ہے کہ کھیل میں اس کی زندگی کا مقصد ہے خواہ کھیل کھیلنے کی صورت میں ہو یا کھیل دیکھنے کی صورت میں ہو ، مسلمان بچے بچیوں کا بہت بڑا حصہ ایسا ہے جو کھلاڑیوں ہی کو اپنا آئیڈیل بنائے ہوئے ہے اور انہیں ہی اپنے اسوہ زندگی سمجھے ہوئے ہیں ، دوستی و دشمنی کا معیار بھی کھیل و کھلاڑی ہیں ، خصوصی طور پر طلباء و طالبات کا طبقہ تو اس میں بری طرح ملوث ہے اور فی الواقع یہ یہودی شازش ہے جیسا کہ انہوں نے اپنے پروٹوکول میں لکھا ہے ۔

    لیکن سوال یہ ہےکہ کھیل و کھلاڑیوں کے اہتمام کی یہ صورتیں اسلام سے کہاں تک میل کھاتی ہیں ، اسلام میں کھیل کی کیا حیثیت ہے ؟ اس کے جواز کے ضابطے اور قواعد کیا ہیں ؟ کس قسم کا کھیل اسلام میں جائز ہے اور کون کون سے کھیل ناجائز ہیں ؟ یہ وہ نکتہ ہے جس پر ہر مسلمان کو غور کرنا چاہئے ، کیونکہ انسانی زندگی کا اصل مقصد عبادت ہے ، اللہ تعالی نے اسے زمین پر خلیفہ کی حیثیت بھیجا اور رکھا ہے ، اسے اس زمین کی اصلاح کا حکم دیا اور اس کے لئے قاعدے اور ضابطے بھی رکھے ہیں ، اس دنیا میں اپنے فرامین کے نفاذ کا انسان کو ذمہ دار بنایا ہے ، ارشاد باری تعالی ہے : ثُمَّ جَعَلْنَاكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ [ یونس :14] " پھر ان کے بعد ہم نے تمہیں زمین میں جانشین بنایا تاکہ دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو " ۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے : وَلا تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاحِهَا وادعوه خوفا وطعما [الأعراف:56]

    " اور زمین میں حالات کی درستی کے بعد ان میں بگاڑ پیدا نہ کرو اور اللہ تعالی کو خوف و امید سے پکارو " ۔

    زمین پر فساد و بگاڑ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالی کی بندگی چھوڑ کر اپنے نفس یا دوسروں کی اطاعت شروع کردے اور تعالی کی بتلائی ہوئی راہ ہدایت کو چھوڑ کر ایسے اصول و قوانین کو اپنائے جو کسی اور کی رہنمائی سے ماخوذ ہوں۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا د فرمایا : " إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَفِتْنَةَ النِّسَاءِ " .{ صحیح مسلم :2742 ، الرقاق ، مسند احمد :3/22 ، بروایت ابو سعید الخدری }

    دنیا شیرین ہے [ جو زبان کو اچھی لگتی ہے ] اور سر سبز و شاداب ہے [ جو نظر کو بھاتی ہے ] اور اللہ تعالی تمہیں اس میں جانشین بنا کر دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ؟ لہذا دنیا کے قریب سے ڈرو اور عورتوں کے فتنے سے بچتے رہو ، لہذا ہروہ کام جو دنیا میں فساد [ اور سب سے فساد شرک اور اللہ تعالی کی نافرمانی ہے ] کا باعث اور عبادت الہی میں حائل ہو وہ اللہ تعالی کے نزدیک مبغوض اور ناپسندیدہ ہے ، ارشاد باری تعالی ہے :"ان اللہ لا یحب المفسدین " " اللہ تعالی فساد بگاڑ پیدا کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا " ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : " كُلُّ شَيْءٍ لَيْسَ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ ، فَهُوَ لَهْوٌ أَوْ سَهْوٌ غَيْرَ أَرْبَعِ خِصَالٍ : تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَرَسَهُ ، وَمُلاعَبَتُهُ أَهْلَهُ ، وَرَمْيٌ بَيْنَ الْغَرَضَيْنِ ، وَتَعْلِيمُ السِّبَاحَةِ " .{ سنن النسائی الکبری :5/302، 303 – الطبرانی الکبیر :2/193 ، بروایت جابر } "
    ہر وہ کام جو اللہ تعالی کے ذکر میں داخل نہیں ہے وہ کھیل تماشہ یا بھول ہے سوائے چار کام کے :

    ۱- اپنا گھوڑا سدھانا ۔
    ۲- اپنے اہل و عیال سے دل لگی کرنا ۔
    ۳- دو نشانوں کے درمیان چلنا ۔
    ۴- تیراکی سیکھنا ۔

    نیر فرمایا : " لا سبق الا فی خف او حافر او نصل "
    { سنن ابوداود :2574 ، سنن الترمذی :1700، بروایت ابو ہریرہ }

    مقابلہ جائز نہیں ہے مگر صرف تین چیزوں میں ، اونٹ دوڑ ، گھوڑ دوڑ ، اور تیر اندازی ۔

    اس قسم کی متعدد آیات و احادیث کی روشنی میں علماء نے کھیل کو دکے کچھ شرطیں رکھی ہیں ، جن کا لحاظ بہت ضروری ہے ، اگر ان کا لحاظ نہ رکھا گیا تو وہ کھیل غیر شرعی ، مکروہ یا ناجائز ہوگا ۔

    اس سلسلے میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہر وہ کھیل شریعت میں جس کی طرف ترغیب نہیں ہے ، نہ اس کا کوئی دینی مقصد ہے اور کوئی دنیاوی حاجت بھی نہیں ہے تو وہ ناپسندیدہ اور مکروہ ہے ، جن بعض کھیلوں کا ذکر حدیث میں وارد ہے وہ یہ ہیں گھڑ سواری ، تیر اندازی ، نشانہ بازی ، تیراکی ، کشتی اور دوڑ وغیرہ ، گویا ہر وہ کام جس کا مقصد جہاد کے لئے تیاری ہو وہ لائق اجر اور جن سے کوئی دینی و دنیاوی مقصد وابستہ ہو وہ مشروع ہے ۔

    کسی بھی کھیل کی مشروعیت کے لئے علماءنے جو شرطیں رکھی ہیں ، ان میں سے اہم شرطیں درج ذیل ہیں :

    ۱- واجبی امور مین رکاوٹ نہ ہو ۔
    ۲- اس میں جوا اور سٹہ بازی نہ ہو ۔
    ۳- فضول خرچی نہ پائی جائے ۔
    ۴- جسمانی و مالی ضرر کا خطرہ غالب نہ ہو ۔
    ۵- کھیل میں کوئی خلاف شرع چیز شامل نہ ہو ۔
    ۶- حسب حاجت و ضرورت ہو ۔
    ۷- اسے صرف کھیل کی حیثیت دی جائے ۔


    ان شرطوں میں اگر ایک شرط بھی مفقود ہوگی تو وہ کھیل غیر مشروع ہوگا البتہ کراہت و حرمت کا حکم اس شرط کے مفقود ہونے کی کیفیت پر منحصر ہوگا ۔

    اب اگر موجودہ کھیلوں جیسے فٹ بال ، والی بالی کریکٹ اور ہاکی وغیرہ جو بذات خود اگر جواز کا درجہ رکھتے ہیں جب ان کی موجودہ صورت حال اور ان کے ساتھ لوگوں کے تعلقات کو دیکھتے ہیں تو ان کی حرمت میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا ، چنانچہ اگر بنظر انصاف دیکھا تو موجود ہ کھیلوں میں پہلی شرط مفقود نظر آتی ہے خواہ و ہ واجبات شرعیہ ہوں یا دنیوی التزامات یہ امر مشاہدہ میں ہے کہ ٹریننگ اور میچ کے دوران ، اگر نماز کا وقت آجائے تو نہ کھیلنے والے اور نہ ہی دیکھنے والے نماز کے لئے جاتے ہیں جب کہ یہ امر ہر شخص جانتا ہے کہ ایک وقت کی نماز کا چھوڑنا یا اس کے اصلی وقت سے ٹالنا بڑا عظیم گناہ ہے بلکہ بہت سے علماء کے نزدیک دین سے ارتداد ہے ، ہمارے یہاں کریکٹ میچ کے موقعہ پر عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ ہسپتال کا عملہ میچ دیکھنے میں اس قدر مشغول ہوجاتا ہے کہ بر وقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے مریض دم توڑ دیتے ہیں ، ون ڈے میچ میں دفتروں کا عملہ یا تو ڈیوٹی پر آتا ہی نہیں یا پھر آفس میں میچ دیکھنے میں اس قدر مشغول رہتا ہے کہ لوگوں کے معاملات کی پرواہ نہیں رہتی ، طلبہ اور مدرسین کا حال مذکورہ لوگوں سے کچھ بہتر نہیں ہے بلکہ وہ بھی تعلیم و تعلم کی ذمہ داری چھوڑ کر میچ دیکھنے میں مشغول ہوجاتے ہیں عام لوگوں کی تو بات کیا ملک کے وزیر اعظم اور صدر جمہوریہ اپنی تمام ذمہ داریاں چھوڑ کر نہ صرف یہ کہ میچ دیکھتے ہیں بلکہ اس کے لئے دوسرے ملکوں کا سفر بھی کرتے ہیں ، اگر دوسری شرط پر نظر رکھتے ہیں تو کھیلنے والوں اور کھیل کا مشاہدہ کرنے والوں کا یکساں نظر آتا ہے ، علماء نے لکھا ہے کہ ان مقابلوں میں جو مال ملتا ہے اس کا لینا جائز نہیں ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ، مقابلہ جائز نہیں ہے سوائے اونٹ دوڑ، گھوڑ دوڑ اور تیر اندازی کے
    { سنن اربعہ } فتوی رقم :16342 ، جلد :15، فضیلۃ الشیخ سعد الشقری نے بھی اس کو راجح قرار دیا ہے ، المسابقات :202 } ۔

    کھیل دیکھنے والے بھی اس موقعہ پر جس قدر جوا بازی کرتے اور سٹہ کھیلتے ہیں کسی اور موقعہ پر نہیں کھیلتے جیسا کہ ہر شخص کے مشاہدے میں ہے ۔

    اور جہاں تک موجودہ کھیلوں خصوصا میچوں میں غیر شرعی امور کے ارتکاب کا تعلق ہے تو شاید ہی کوئی ایسا میچ ہو جو موسیقی کے بغیر شروع ہوتا ہو بلکہ یہ بھی مشاہدے میں ہے کہ میچ کے دوران گانے اور باجے کی وہ دھوم رہتی ہے کہ دور دور تک اس کی آواز پہنچتی ہے حتی کہ بعض ٹیموں کی تائید کرنے والے تو اپنے ساتھ عریاں اور نیم عریاں ناچنے اور گانے والیوں کو بھی لے کر آتے ہیں ۔

    اور یہ خبر تو سب سے سنی ہوگی کہ موجوہ میچ کے موقعہ پر ایک لڑکی نے یہاں تک کہا کہ اگر میری ٹیم جیت گئی تو میں اس جگہ ننگی ہوکر ناچوں گی ۔۔۔۔ معاذ اللہ

    اور جہاں تک جسمانی ضررر کا تعلق ہے تو اس کا امکان باکسنگ اور فری اسٹائل کشتیوں میں ہی تو زیادہ ہوتا ہے لیکن مالی ضرر تو ہر کھیل اور میچ میں ہوتا بلکہ ہمارے ملکوں میں جس قدر خرچ کریکٹ ، فٹبال اور ہاکی وغیرہ پر ہوتا ہے اگر اس مبلغ کو ملک کے فقیروں پر تقسیم کردیا جائے تو کوئی فقیر نہ رہ جائے ، وہ روپیہ ملک کے ناخواندہ لوگوں کی تعلیم پر صرف کردیا جائے خاص کر دینی تعلیم پر تو ملک میں کوئی جاہل باقی نہ رہے ، اگر یہی پیسہ دین حق کی تبلیغ پر صرف کردیا جائے تو ملک سے غیر اسلامی تنظیموں کا خاتمہ ہوجائے ، اور یہ امر بھی مشاہدے میں ہے کہ آج کھیل صرف کھیل نہیں رہ گیا ہے بلکہ امت مسلمہ کی ایک بہت بڑی تعداد خاص کر جوان لڑکے و لڑکیوں کی زندگی کا ایک حصہ بلکہ زندگی کا مقصد اولین بن گیا ہے اور اگر یہ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا کہ بیٹ بلا اور گیند کو ان کے نزدیک وہ اہمیت حاصل ہے جو قرآن مجید اور دینی کتابوں کو حاصل نہیں ہے ، میچ دیکھنا ان کے نزدیک اس قدر اہم ہے کہ اس کے لئے دینی دروس کی مجلسیں اور نماز باجماعت بھی چھوڑ دیتے ہیں ۔

    بلکہ قارئین کو تعجب ہوگا کہ ایک محترمہ نفلی روزے صرف اس لئے رکھ رہی ہیں تاکہ ان کی ٹیم کامیاب ہو جب کہ دنیا کے گوشے گوشے میں مسلمان طاغوتوں اور ظالموں کی چکی میں پس رہے ہیں ان کی فکر ان محترمہ کو نہیں ہے ،سچ ہے :

    آ تجھ کو یہ بتلاوں تقدیر امم کیا ہے ----- شمشیر و سنان اول طاووس و رباب آخر


    اور تعجب کی انتہا اس وقت نہیں رہتی جب یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ اہل علم اور دین کی دعوت میں مشغول لوگوں کی دلچسپی ان کھیلوں سے اس قدر ہوتی ہے کہ اس کے لئے جماعت چھوڑ دیتے اور اگر مسجد میں جاتے بھی ہیں تو نماز میں ان کی توجہ قراءت و دعا کی طرف ہونے کے بجائے چوکا چھکا اور وکٹ کی طرف رہتی ہے اور جماعت ختم ہوتے ہی اپنے موبائل سے یہ خوشخبری سناتے ہیں کہ ہماری ٹیم جیت گئی ۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

    بلکہ آج یہی کھیل باہمی تعلقات بنانے و بگاڑنے میں بہت رول ادا کررہا ہے ، دو بھائیوں میں اختلاف ، میاں بیوی کے درمیان ناچاقی بلکہ طلاق ، فرقہ وارانہ فسادات حتی کہ دو ملکوں میں لڑائی کے واقعات بھی بعض میچوں کی وجہ سے پیش آئے ہیں ، تعجب پر تعجب یہ ہے کہ ایک اسلامک یونیورسٹی کے طلباء جو ایک ہی مسلک سے منسلک ہوتے ہیں ، کتاب وسنت پر عمل کے دعویدار ہوتے ہیں اور اپنا رشتہ سلف امت سے جوڑتے ہیں لیکن جب دو ملکوں میں کریکٹ میچ کی بات آتی ہے تو باہم ناراض اور ایک دوسرے کے مد مقابل نظر آتے ہیں ، ذرا دیکھیں کہ کہاں رہا معاملات و معادات کا عقیدہ ؟

    لہذا ہر صاحب غیرت مسلمان سے التماس ہے کہ اس خطرناکی کو محسوس کرے اور حق و ناحق میں تفریق کرنے کی کوشش کرے ۔

    و ما علینا الا البلاغ ۔
    وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وسلم تسلیما کثیرا ۔
    ختم شدہ

    ازقلم : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ

    منقول از:
    مکتب توعیۃ الجالیات http://www.islamidawah.com/play.php?catsmktba=1230

  2. قاسمی

    قاسمی خوش آمدید مہمان گرامی

    بہت ہی مفید شئرنگ ہے اللہ تعالیٰ مصنف اور ناقل دونوں کو جزائے خیر عطا فرمائے
    البتہ ذیل کی عبارت محل نظر ہے اہل علم حضرات سے گزارش ہے اس پر مزید روشنی ڈالیں۔ والسلام
    علماء نے لکھا ہے کہ ان مقابلوں میں جو مال ملتا ہے اس کا لینا جائز نہیں ہے

    نوٹ پورا مراسلہ پڑھ کر اپنی آرا پیش فر مائیں
  3. راجہ صاحب

    راجہ صاحب وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,379
    موصول پسندیدگیاں:
    358
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اب شریعت کا اس بارے میں کیا حکم ہے اس سے تو میں لاعلم ہوں
    البتہ کھلاڑی کی حوصلہ افزائی کے لئے لازم سی بات ہے کہ اسے کچھ نا کچھ ملنا چاہیئے
  4. کفایت اللہ

    کفایت اللہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Mumbai
    مذکورہ بات مروجہ کرٹ کے بارے میں کہی گئی ہے اس لئے سب سے پہلے یہ فیصلہ ہو کہ :

    1:مروجہ کرکٹ کی ازروئے شرع گنجائش ہے کہ نہیں ؟
    2:اس کے بعد دوسرا مسئلہ یہ کہ اس میں مقابلہ جائز ہے یا نہیں ؟
    3:اس کے بعد تیسرا مسئلہ اٹھے گا کہ ان مقابلوں میں پیسہ لینا جائز ہے یا نہیں ؟


    اگرپہلی چیز کی ازروئے شرع گنجائش نہیں تو بقییہ دونوں چیزیں خود بخود مردود ہوگئیں۔
    اوراگرپہلی چیز درست ہے توضروری نہیں ہے کہ دوسری چیز بھی درست ہے کیونکہ کسی کھیل کا جائز ہونا الگ مسئلہ ہے اور اس میں مقابلہ کا جائز ہونا الگ مسئلہ ہے۔
    لہذا اگردوسری جائز نہیں ہوئی توایسی صورت میں بھی تیسری چیز مردود قرار پائے گی۔

    ہماری نظرمیں مروجہ کرکٹ سے متعلق مذکورہ تینوں چیزیں ناجائز ہیں ، دلائل ملاحظہ ہوں:

    1:پہلی چیزہے مروجہ کرکٹ کا مسئلہ ، اس کے عدم جواز کے لئے صرف یہی کافی ہے کہ اسے نماز سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے نماز کے لئے کرکٹ چھوڑنا تو دورکی بات ہے اسے ٹھوڑی دیرکے لئے روکنا بھی گوارانہیں ہے۔
    اس کے علاوہ اوربھی بہت سی خامیاں ہیں لیکن سردست یہی کافی ہے۔

    2: دوسری چیز ہے مروجہ کرکٹ کا مقابلہ ، صحیح حدیث میں اس بات کی حد بندی ہوگئی ہے کہ کن کھیلوں میں مقابلہ ہوسکتا ہے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
    " لا سبق الا فی خف او حافر او نصل "
    { سنن ابوداود :2574 ، سنن الترمذی :1700، بروایت ابو ہریرہ }
    مقابلہ جائز نہیں ہے مگر صرف تین چیزوں میں ، اونٹ دوڑ ، گھوڑ دوڑ ، اور تیر اندازی ۔
    اس حدیث میں غورکریں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ٹوک میں ارشاد فرمادیا کہ ان چیزوں کے علاوہ کسی بھی چیز میں مقابلہ جائز نہیں ۔
    کیا کرٹ اس حدیث میں بیان کردہ کسی ایک چیز میں بھی آتاہے ، اگرنہیں توکیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات بھی محل نظرہے نعوذ باللہ۔

    3: تیسری چیز ہے اس مقابلہ میں ملنی والی رقم کو لینے کاحکم ۔
    مذکورہ دونوں چیزوں کی وضاحت کے بعد یہ مسئلہ خود بخود حل ہوگیا،یعنی:

    اولا: تو مروجہ کرکٹ ہی حرام ہے۔
    ثانیا: جن محدود کھیلوں میں مقابلہ کی اجازت ہے ان میں یہ داخل نہیں ، اوران محدود کھیلوں کے علاوہ کسی بھی کھیل میں مقابلہ جائز ہی نہیں تو پھر ایک ناجائز کا م پر ملنے والا پیسہ جائز کیسے ہوجائے گا۔

    جس کام سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم منع فرمائیں کہ (مقابلہ جائز نہیں ہے مگر صرف تین چیزوں میں۔۔۔۔۔انظراعلاہ) اس ممنوع کا م کو کرنے پرپیسہ دیا جائے اس کا لینا کیسے جائز ہوسکتاہے۔




    [/size][hr]
    حوصلہ افزائی انہیں کھیلوں کی کی جاسکتی ہے جو مشروع ہوں، حرام کھیل کے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کسی بھی صورت میں نہیں ہوسکتی ۔
    اول : تو کرکٹ کھیل کی مروجہ شکل ہی حرام ہے تفصیل اوپرذکرکی گئی، یاد رکھئے گا کہ ہماری بات کرکٹ کھیل کے مروجہ شکل پر ہورہی ہے۔
    دوم : کھیل میں مقابلہ کا جواز محدود ہے جیسا کہ اوپرحدیث پیش کی گئی ، اوران محدود کھیلوں کے علاوہ کسی بھی کھیل میں مقابلہ جائز ہی نہیں ہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ہے ،توکیا جس کام کے کرنے سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم روکیں اس کے کرنے والے کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے؟؟؟؟؟؟
    وما علینا الا البلاغ۔

اس صفحے کو مشتہر کریں