کسی موضوع پر کتب کو پڑھنے کے طریقے

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از شیخ بسم اللہ, ‏مارچ 25, 2016۔

  1. شیخ بسم اللہ

    شیخ بسم اللہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی خاص موضوع پر کوئی تحریر لکھنا چاہتے ہیں یا کوئی تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہمارے پاس اس سے متعلق مواد موجود نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ہم اپنے مقصود کو پورا نہیں کر سکتے۔ جب ہم مختلف علماء کرام کی تحاریر اور مضامین دیکھتے ہیں یا مختلف سکالرز کی تقاریر سنتے ہیں تو ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ انہوں نے اتنی ساری کتب کا مطالعہ کیسے کیا ہوگا۔ اور اگر کر لیا تو یہ کیسے یاد رکھا ہوگا کہ کس کتاب میں کس موضوع پر کیا بات ہوئی تھی؟
    حالانکہ انہوں نے بسا اوقات اس کتاب کو مکمل نہیں پڑھا ہوتا بلکہ وہ بعض طریقوں سے مطلوبہ مضامین تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔
    کسی موضوع پر کسی کتاب کو پڑھنے کے تین طریقے ہوتے ہیں۔ لیکن اس قبل یہ ضروری ہے کہ آپ کو یہ اندازہ ہو کہ آپ کے موضوع کا تعلق کس قسم سے ہے؟ یعنی وہ فقہ کا ہے یا حدیث کا یا طب کا یا انجینئیرنگ کا وغیرہ وغیرہ۔ اس کے بعد اس قسم یا کیٹگری کی کتب جمع کر لیں۔ چاہیں تو کسی مکتبہ چلے جائیں اور چاہیں تو کمپیوٹر میں جمع کر لیں۔ پھر مندرجہ ذیل طریقوں سے انہیں پڑھیں:
    سبک رفتار مطالعہ:
    اس میں ہم دو کام کرتے ہیں: کتاب کی فہرست کو مکمل پڑھ کر مطلوبہ عنوانات کو نشان زد کر لیتے ہیں۔ پھر ان نشان زدہ موضوعات کو کھول کر ایک تیز اور سرسری نظر ڈالتے ہیں جس سے یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہماری مطلوبہ بحث ان میں موجود ہے یا نہیں۔ جن میں موجود ہو انہیں مزید نشان زد کر لیتے ہیں۔
    عمومی مطالعہ:
    اس مرحلے میں ہم نشان زدہ موضوعات کو گہرائی سے پڑھ کر مطلوبہ عبارات پر نشان لگا لیتے ہیں۔ موضوعات کو مکمل کر کے اگر نشان زدہ عبارات کو دوبارہ پڑھ لیا جائے تو یہ بہت بہتر ہوتا ہے (یاد رہے کہ مکتبہ کی کتب یا کمپیوٹر میں موجود کتب میں نشان لگانا اگر ممکن ہو تب بھی نامناسب یا مشکل ہے۔ یہ ذاتی کتب میں ہو سکتا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ اپنے پاس ایک صفحہ رکھیں اور مطلوبہ عنوانات اور عبارت والا صفحہ نمبر بمع عبارت کے پہلے اور آخری حرف کے لکھ لیں)۔
    عمیق مطالعہ:
    اس مرحلے میں اگر ضرورت ہو تو ہم نشان زدہ عبارات کو اصل کتب سے تلاش کرتے ہیں اور ان کو آگے پیچھے کے مضمون کے ساتھ گہرائی سے پڑھتے ہیں۔ اس سے نہ صرف بہت سی چیزیں واضح ہوتی ہیں بلکہ کئی جگہوں پر عبارت کا جو معنی سمجھ میں آ رہا ہوتا ہے اس کے برخلاف یا اس سے تھوڑا الگ معنی بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اس سے قاری اگر کسی غلطی کا شکار ہوتا ہے تو وہ دور ہو جاتی ہے۔

    ان طریقوں کو ذکر کرنے کے بعد دکتور مہدی فضل اللہ اپنی کتاب اصول کتابۃ البحث و قواعد التحقیق میں یہ نصیحت کرتے ہیں کہ قاری ایسی حالت میں مطالعہ ہر گز نہ کرے جب وہ بیمار ہو، پریشان ہو، یا اسے کوئی تقاضا لاحق ہو۔ کیوں کہ ان کیفیات کے اثر کی وجہ سے نہ تو ضبط درست ہوتا ہے اور نہ مکمل طور پر درست طریقے سے سمجھنا آسان ہوتا ہے۔
    اسی طرح جلدی کی حالت میں بھی مضمون نہ پڑھا جائے بلکہ اطمینان سے مکمل مضمون پڑھنا چاہیے اور چونکہ یہ آخری مرحلہ ہے اس لیے اپنی تحریر کے لیے مطلوبہ عبارات کو ساتھ ساتھ تحریر کرتے جائیں اور اگر ساتھ میں کوئی اہم بات ہو تو وہ بھی تحریر کرلیں، حافظہ پر نہ چھوڑیں۔
    نیز ایک حاصل مطالعہ کا چارٹ یا کاپی ضرور بنائیں اور اس میں ہر مطالعہ کا خلاصہ تحریر کریں تا کہ اگر کبھی ضرورت ہو تو نئے سرے سے مطالعہ نہ کرنا پڑے۔

    والسلام
    SHABIR AHMAD AHANGER، qureshi اور اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    439
    موصول پسندیدگیاں:
    274
    صنف:
    Male
    بہت عمدہ
    جزاک اللہ خیرا۔
    SHABIR AHMAD AHANGER نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں