کلام حضرت مزرا مظہر جانِ جاناں رحمۃ اللہ علیہ

'پسندیدہ کلام' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جنوری 8, 2014۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,624
    موصول پسندیدگیاں:
    790
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    کلام حضرت مزرا مظہر جانِ جاناں رحمۃ اللہ علیہ

    چلی اب گل کے ہاتھوں سے لٹا کر کارواں اپنا
    نہ چھوڑا ہائے بلبل نے چمن میں کچھ نشاں اپنا

    یہ حسرت رہ گئی کیا کیا مزے سے زندگی کرتے
    اگر ہوتا چمن اپنا گل اپنا باغباں اپنا

    الم سے یان تلک روٗئیں کہ آخر ہوگئیں رسوا
    ڈبایا ہائے آنکھوں نے مژہ کا خاندان اپنا

    رقیبان کی نہ کچھ تقصیر ثابت ہے نہ خوبان کی
    مجھے ناحق ستاتا ہے یہ عشق بد گماں اپنا

    میرا جی جلتا ہے اس بلبلِ بیکس کی غربت پر
    کہ جس نے ٓ آسرے پر گل کے چھوڑا آشیاں اپنا

    جو تو نے کی سو دشمن بھی نہیں دشمن سے کرتا ہے
    غلط تھا جانتے تھے تجھ کو جو ہم مہرباں اپنا

    کوئی آزردہ کرتا ہے سجن اپنے کو ہے ظالم
    کہ دولت خواہ اپنا مظہرؔ جانِ جاں اپنا
    کیفی خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا
  3. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,276
    موصول پسندیدگیاں:
    1,706
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ احسن الجزا
  4. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,572
    موصول پسندیدگیاں:
    452
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا

اس صفحے کو مشتہر کریں