کون کہتا ہے

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از سیما, ‏اپریل 10, 2011۔

  1. سیما

    سیما وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,131
    موصول پسندیدگیاں:
    4
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    احمد ندیم قاسمی
    کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
    مَیں تو دریا ہوُں، سمندر میں اُتر جاؤں گا

    تیرا در چھوڑ کے مَیں اور کدھر جاؤں گا
    گھر میں گھر جاؤں گا، صحرا میں بِکھر جاؤں گا

    تیرے پہلو سے جو اُٹھوں گا، تو مشکل یہ ہے
    صِرف اِک شخص کو پاؤں گا، جِدھر جاؤں گا

    اب تیرے شہر میں آؤں گا مُسافر کی طرح
    سائیہ ابر کی مانند گُزر جاؤں گا

    تیرا پیمانِ وفا راہ کی دیوار بنا
    ورنہ سوچا تھا کہ جب چاہوں گا، مر جاؤں گا

    چارہ سازوں سے الگ ہے میرا معیار، کہ مَیں
    زخم کھاؤں گا تو کچھ اور سنور جاؤں گا

    اب تو خورشید کو ڈوُبے ہوُئے صَدیاں گُزریں
    اب اسے ڈھوُنڈنے مَیں تا بہ سحر جاؤں گا

    زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوُں ندیم
    بُجھ تو جاؤں گا مرگ صُبح تو کر جاؤں گا​
    طالب علم نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. محمد شہزاد حفیظ

    محمد شہزاد حفیظ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,102
    موصول پسندیدگیاں:
    5
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Saudi Arabia

    زبردست شکریہ بہت ہی اچھا :->~~

اس صفحے کو مشتہر کریں