کیا عربی مدارس اور مٹھ کانونٹوں کا مقابل کر سکتے ہیں؟

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏نومبر 18, 2015۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,577
    موصول پسندیدگیاں:
    771
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    نوٹ: بمبئی صحاٍفت میں غلام غوث صاحب کور منگلا ،بنگلو ر کا مضمون:کیا عربی مدارس اور مٹھ کانونٹوں کا مقابل کر سکتے ہیں؟ ۔دیکھا کئی گھنٹے صرف کر کے ٹائپ کیا ۔اب ہدیہ ناظرین ہے ۔آپ مضمون نگار سے کس حد تک متفق ہیں ضرور اظہار فر مائیں۔
    کیا عربی مدارس اور مٹھ کانونٹوں کا مقابل کر سکتے ہیں؟
    غلام غوث ، کور منگلا ، بنگلور صحافت ممبئی ۱۸ ؍ نومبر ۲۰۱۵​
    دنیا بھر کے تمام ماں باپ یہی چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد علم ( دین اور دنیا دونوں ) حاصل کرے اور روزی روٹی کماکر اپنی زندگی گزارنے کے قابل بنے ۔ کوئی یہ نہیں چاہتا کہ اس کی اولاد تو علم حاصل کرے مگر خود کی روزی روٹی کمانے کے قابل نہ رہے چاہے وہ بچپن میں کسی اسکول میں پڑھے یا کانونٹ میں یا کسی عربی مدرسہ میں ۔ بچپن کھیلنے اور علم حاصل کرنے کیلئے ہوتا ہے اور جوانی علم کے ساتھ ساتھ روزی روٹی کمانے کیلئے ہوتی ہے ۔اگر کوئی علم تو حاصل کرلے مگر روزی روٹی کمانے کے قابل نہ رہے یا علم حاصل کئے بغیر صرف روزی روٹی کمانے کے قابل بن جائے تو دونوں صورتیں قابل قبول نہیں ہیں ۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے اسکول ، کانونٹ ، عربی مدرسے اور مٹھ سب کے سب علم بھی سکھائیں اور روزی روٹی کمانے کا ہنر بھی ۔ایک زمانہ تھا جب اسکول اور کانونٹوں دونوں جگہ تمام مذاہب کی بنیادی تعلیمات اور اخلاقیات کا نچوڑ پڑھایا جاتا تھا ، مگر آج حالات ویسے نہیں ہیں ۔اخلاقیات پر زور کم ہے مگر دوسری دنیاوی معاملات پر زور زیادہ ہے ۔ مذہبی مدرسوں اور مٹھوں کی حالت یہ ہے کہ مذہب کے رسم ورواج پر زور زیادہ ہے مگر دنیاوی معاملات پر بالکل خاموشی ہے ۔ چنا نچہ دونوں جگہ سے جو بچے نکلتے ہیں وہ علم کے ایک میدان سے بہت کم واقفیت رکھتے ہیں ۔ان کی اس حالت کیلئے صحیح لفظ نیم تعلیم یافتہ ہی ہو سکتا ہے ۔اسکولوں اور کانونٹوں سے باہر نکلنے والے بچے تو ملازمت میں ، ہنر میں اور بز نس میں بہت کا میاب ہو جاتے ہیں مگر جو بچے مدرسوں اور مٹھوں سے با ہر نکلتے ہیں وہ بیکار ہو جاتے ہیں ۔ وہ نہ ملازمت کے قابل رہتے ہیں ، نہ کوئی ہنر جانتے ہیں اور نہ ہی اچھے بزنس بن سکتے ہیں ۔ایسے بچے صرف عقیدے کی بنیاد پر یہ کہکر اپنے دل کو تسلی دے لیتے ہیں کہ رزق کا دینے والا اللہ ہے اور جو ہمارے مقدر میں ہے وہ ہمیں ضرور ملے گا ۔ایسے بچے جب دیکھتے ہیں کہ وہ اپنی روزی روٹی کمانے کی قابلیت نہیں رکھتے تو یا تو کسی مسجد مندر میں امام مؤذن یا پجاری بن جاتے ہیں یا خود ایک مدرسہ یا مٹھ کھول کر دوسرے معصوم بچوں کو بھی اپنے جیسا بنا دیتے ہیں ۔آج حالت یہ ہے کہ ایسے مدرسوں اور مٹھوں سے نکلنے والے بچے کہیں ملازمت کے قابل نہیں ہیں سوائے ان مدرسوں اور مٹھوں کے جہاں مذہبی علم کے ساتھ ساتھ دنیاوی علم وہنر بھی سکھائے جاتے ہیں ۔اسکولوں اور کانٹوں کے بچے چھوڑیئے کیونکہ وہ روزی روٹی تو ضرور کمالیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اگر کو شش کریں تو خود کتابیں پڑھ کر مذہبی معلومات حاصل کر لیتے ہیں ۔ مشکل تو ان کی ہے جو مذہبی علم تو رکھتے ہیں مگر بڑے لیول پر روزی روٹی کما نہیں سکتے ۔دو وقت کا کھانا تو اٹھا پٹک کر کے ہر کوئی کما سکتا ہے مگر ایسے افراد ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مجبور اور لاچار رہ جاتے ہیں ۔عقیدہ اپنی جگہ اور اللہ پر بھروسہ اپنی جگہ اور جد وجہد تو ہر کسی کو کرنا ، مگر جب بنیاد ہی کمزوری پر رکھ دی جائےتو عقیدہ اور اللہ بھی اسے اتنا ہی دے گاجتنی اس کی صلاحیت ہے ۔ہر بے علم اور بے ہنر آدمی خود کفیل اور مالدار نہیں ہو سکتا ۔ایک دو افراد کی مثال پیش کر کے ہم ہر کسی کو اس راستے پر نہیں ڈال سکتے ۔ اب ذرا اپنے عربی مدرسے پر نظر ڈالئے اور ان کی تاریخ کا مطالعہ کیجئے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اب سے تین سو سال پہلے ہمارے مدرسے ایسے نہیں تھے جیسے آج ہیں۔ اس وقت نہ آج کے جیسے اسکول تھے نہ کانونٹ اور کالج ۔ جو بھی تھا وہ خانقاہ اور مٹھ تھے اور ان میں دینی اور دنیاوی فرق نہیں تھا ۔ خانقاہ تمام علوم کا مراکز ہو ا کرتے تھے ۔آج جس طریقے پر مدرسے چلائے جا ریے ہیں پہلے وہ طرز وطریقہ نہیں تھا ۔آج جس طرح سر کار اسکول اور کالج چلا رہے ہیں اور کچھ پرائیوٹ حضرات بھی چلا رہے ہیں وہ اپنے صرفے سے چلا رہے ہیں ۔ویسے ہی جیسے پہلے راجے مہا راجے اور بادشاہ اپنے صرف خاص سے خانقاہ اور مٹھ چلا یا کر تے تھے جہاں بچوں کے کھانے پینے اور رہنے کا بند وبست ہوتا تھا اور ہر طر ح کا علم اور ہر قسم کا ہنر ان بچوں کی صلاحیت کے مطابق ان کو دیا جاتا تھا ۔چناچہ وہیں سے عالم وفاضل بھی نکلتے تھے ،سپاہی بھی بزنس میں بھی، ٹیچر بھی ، منشی بھی ، فلسفی بھی ،سنار بھی لوہار بھی ، کار پنٹر بھی ، فلسفی بھی ،سائنس دان بھی، اور دیگر ماہرین بھی ۔آج جس طرح عوامی چندے سے مدرسے چل رہے ہیں ویسے پہلے بہت ہی کم مدرسے چلتے تھے اور مدرسوں کے مہتمم خود اپنا بزنس کرتے تھے یا محنت مزدوری کرتے تھے اور خانقاہ بھی چلایا کرتے تھے ۔آج اکثر مدارس بے ہنر لوگوں کیلئے خود کی ملازمت کا ذریعہ بنا لئے گئے ہیں،کچھ مسجدوں میں نماز کے فوراً بعد کوئی مذہبی جلسے والا شخص کھڑا ہو جاتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ فلاں دور دراز (Self emplomyementschemes غربت زدہ علاقے میں ہم ایک مدرسہ چلا رہے ہیں جہاں ساٹھ )غریب بچے پڑھ رہے ہیں جن کا سالا نا خر چ بیس لاکھ روپئے ہے، جو صرف آپ جیسے مخیر حضرات کے چندے سے چلایا جا رہا ہے ۔ اس لئے آپ دل کھول کر چندہ دیجئے اور اپنے اور اپنے خاندان والوں کے لئے جنت الفردوس حاصل کیجئے ۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب یہ صاحب خود مالی حیثیت سے کمزور تھے تو کس نے ان صاحب سے کہا کہ وہ ان غریب بچوں کو جمع کریں اور ان کے نام پر چندہ کر کے ان کا اور خود کا پیٹ بھریں ۔
    کچھ لوگ ایسے معصوم ہیں کہ جنت کو آسانی سے خرید لینے والی چیز سمجھ کر ایسے لوگوں کی مدد کر دیتے ہیں ۔اس کے چلتے ہر بیکار شخص اسے کمانے کا آسان راستہ سمجھ کر مدرسے کے نام پر مکتب کھولنے شروع کر دیتے ہیں جہاں نہ کوئی مخصوص کورس ہوتا ہے اور نہ کوئی ہنر سکھایا جاتا ہے ۔ کچھ مذہبی حضرات کو ضرور برا لگے گا مگر ان ساٹھ بچوں کا کیا جو تھوڑی تعلیم حاصل کر کے نکل جاتے ہیں اور بیکاری کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ جگہ چندے کی ، عمارت چندے کی ، روز انہ خرچ اور تنخواہ چندے کے مگر سب کا سب ٹرسٹ کہہ کر مہتمم کے نام اور اس کے خاندان کے نام اسے کہیں تو کیا کہیںَ ؟آج سے بیس سال پہلے تک ہمارے عربی مدارس میں کمپیوٹر اور دیگر ہنر سکھانے پر پا بندی تھی اور آج بھی کچھ مدارس میں یہ پا بندی ہے ۔آج کچھ مدارس ایسے بھی ہیں جہاں نہ تو اساتذہ اخبار پڑھتے ہیں اور نہ طالب العلم بچے ۔اب ایسے بچے جب ان مدارس سے با ہر نکلیں گے تو ان کی حالت با لکل ایسی ہو گی جیسے گہرے پا نی کے اندر اپنی آنکھیں کھول رہا ہے ۔
    اللہ کا فضل ہے کہ آج کئی مدارس نے اس کمزوری کو محسوس کرت ہو ئے بچوں کو ہنر سکھانے کا کام شروع کیا ہے ۔جس کے سبب وہ مدرسوں سے نکل کر خود کا کارو بار کر سکتے ہیں ، یہ جو موجود اسکول اور کا نونٹ ہیں وہ سب ۱۹۵۸ کے بعد انگریزوں کی دین ہے ورنہ پہلے ایسا کچھ بھی نہیں تھا نلکہ صرف خانقاہ اور مٹھ ہوا کر تے تھے ۔دینی تعلیم اور عصری تعلیم کا فرق بھی وہیں سے شروع ہوا ۔ ہمیں ہر بچے کو عالم ، فاضل اور قاری بنا نا نہیں ہے بلکہ جس طرح ہر سبجکٹ کے پرو فیسر اور ماہر کچھ خاص اور کم لوگ ہو تے ہیں ویسے ہی ان کی تعداد بھی محدود ہو نا چاہئے جبکہ ضروری دینی معلومات ( یعنی پی یو سی لیول کی ) ہر کسی کو ہو نی چاہئے ، کوئی شخص چاہے وہ کتنی ہی ڈگریاں اور سند کیوں نہ لے لے وہ اگر حالات حاضرہ سے واقف نہیں رہتا اور ریسرچ کے ذریعہ پیش آنے والے نئے نئے نظریات سے واقف نہیں جس کا مطالعہ اور غور وفکر زیادہ نہیں رہتا تو وہ نیم تعلیم یا فتہ ہی کہلائے گا ۔ آج ہمارے ملک ہندوستان کو ماہر ورک فورس کی اشد ضرورت ہے ہمیں ڈاکٹر ،انجینئر، حکیم ،میکانک، کا پینٹر، سنار ، لوہار، پلمبر، یلیکٹڑیشین ، پنٹرس اور دیگر کاریگروں کی بیحد ضرورت ہے ۔اگر یہ تمام علوم ہمارے عربی مدرسوں میں بچوں کی قابلیت کی بنیاد پر سکھائے جائیں تو آج بھی ہم سر کاری اسکولوں اور کانونٹوں کو پیچھے چھوڑ کر آگےنکل سکتے ہیں آج ہمارے دینی مدارس کو دین اور دنیا دونوں علوم کی ضرورت ہے ۔اس لئے آج ہمیں ایسے مہتمم حضرات کی ضرورت ہے جو ان دونوں علوم کے ماہر ہیں ۔ خوشی کی بات یہ بھی ہے کہ جس طرح پہلے راجے مہا راجے اور بادشاہ اپنے خزانوں سے خانقاہ اور مٹھوں کو چلایا کر تے تھے نلکل اسی انداز سے آج کی حکومتیں مالی امداد دے رہی ہیں ۔اگر تھوڑی عقلمندی سے کام لیں تو انشاٗء اللہ ہمارے اقامتی مدارس اور مٹھ سرکاری اسکولوں اور کانونٹوں کا مقام لیں گے اور پھر عالم وفاضل ، سپاہی ، بزنس مین، منسی ، ٹیچر ، لوہار ، سنار میکانکس، کار پنٹر اور دیگر ماہرین ہمارے عربی مدرسوں سے نکلنے لگیں گے جو خود کفیل بھی ہوں گے اور دوسروں کا سہارا بھی بنیں گے ۔ انشاء اللہ اگر ایسا ہو گیا تو ہم تعلیمی اور معاشی میدان میں نہایت تیزی سے آگے بڑھنے لگیں گے اور معاشی طور پر بھی ہم دیگر اقوام سے آگے نکل جائیں گے ۔سب سے پہلے ہم مسلمانوں کو سوچنا اور ڈبیٹ کرنا ہے کہ کیا امت مسلمہ کو اس دنیا میں کا میاب بنانے کئلئے مسجد پر مسجد تعمیر کرنا ہے یاہر جگہ مدرسے قائم کرنا ہے یا ہر غریب اور محتاج کو حاجی بنا نا ہے یا میرا مسلک تیرا مسلک لے کر لڑت رہنا ہے یس ملت میں موجود عصری اداروں ( تعلیمی ، فلاحی ، سیاسی ، ہیلتھ ، ہو ڑنگ ، کونسلنگ ) کو مالی امداد دے کر مضبوط بنانا ہے وغیرہ ۔جب تک ہم یہ طئے نہیں کریں گے اور اولیت(priorities)قائم نہیں کریں گے ہماری ترقی اور کامیابی ممکن نہیں۔
    دانشور حضرات، مالدار اور مذہبی حضرات سب نوٹ کر لیں تو اچھا ہوگا کسی نے سچ کہا ہے کہ مسلمان اپنی فضول خرچی میں دولٹ لٹا کر ملت کے لئے زوال خرید رہے ہیں ۔اب ہماری قسمت ہماری مٹھی میں ہے صرف عقلمندی اور حکمت کی ضرورت ہے ۔اگر ہم نے انا اور ضد کو چھوڑ دیا اور کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے لگے تو کامیابی ہمارے دامن میں آجائے گی ۔آج ملت میں ہر موضوع پر ڈبیٹ کر نے کی ضرورت ہے جس سے ہم کترارہے ہیں ۔اگر میرے ٰیہ خیالات اور مشورے غلط ہیں تو ملت کے اندر ڈبیٹ کرا دیجئے اور جو سب طئے کریں وہ مان لیجئے ۔
    Last edited: ‏نومبر 18, 2015
    اشماریہ اور abusufiyan .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. abusufiyan

    abusufiyan وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    51
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    صنف:
    Male
    جگہ:
    سرونج،(ایم پی )انڈیا
    اللہ تعالیٰ آپکو جزائے خیردے زبردست ۔ انشاء اللہ جلدہی پمفلٹ کی شکل میں کرکے تقسیم کرواتے ہیں
    اشماریہ اور احمدقاسمی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,577
    موصول پسندیدگیاں:
    771
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    جزاک اللہ۔ پمپلٹ کی عبارت ضرور شیئر کیجئے گا۔
    اشماریہ اور abusufiyan .نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں