ہائے بجلی وائے بجلی - میری ایک نظم

'مزاحیہ شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از پیامبر, ‏مارچ 24, 2014۔

  1. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ہائے بجلی! ہائے بجلی!
    دو دو گھنٹے جائے بجلی
    ہائے بجلی، ہائے بجلی

    اس کے بنا ہے جینا مشکل
    بے چینی ہو ہر دم ہر پل
    کیوں ہم کو تڑپائے بجلی
    ہائے بجلی! ہائے بجلی!

    صبح، دوپہر اور شام کو جائے
    جب جائے واپس نہ آئے
    ہر شخص کو رلائے بجلی
    ہائے بجلی ! ہائے بجلی!

    چھوٹے بڑے، سب ہیں پریشان
    اس سے بچنا نہیں ہے آساں!
    عمر کا فرق مٹائے بجلی
    ہائے بجلی! ہائے بجلی!

    جب آئے الحمدللہ!
    جب جائے تو انّا للہ!
    اللہ یاد دلائے بجلی
    ہائے بجلی! ہائے بجلی!

    سب کی راج دُلاری ہوں میں!
    لیکن غم کی ماری ہوں میں!
    آتے جاتے گائے بجلی
    ہائے بجلی، وائے بجلی​
    Last edited: ‏مارچ 24, 2014
    محمدداؤدالرحمن علی نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. نورمحمد

    نورمحمد وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,119
    موصول پسندیدگیاں:
    354
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    جب آئے الحمدللہ!
    جب جائے تو انّا للہ!
    اللہ یاد دلائے بجلی

    چلو ۔ ۔ کم از کم اس بہانے تو لوگ رب کو یاد کرتے ہیں / / / /

    ہمارے ممبرا - ( انڈیا ) میں بھی یہی حال تھا۔ کی نہ جانے کا کوئی ٹائم اور نہ آنے کا کوئی ٹائم ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں مگر اب حال میں کچھ تبدیلیا ں ضرور ہوئی ہیں ۔ ۔ اور آج کل صبح شام ایک وقت مقررہ پہ گل ہو جاتی ہے ۔ مگر یہ بہتر ہے کہ آدمی اپنے ضروری کام بجلی کے جانے سے قبل ہی مکمل کر لیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
    پیامبر اور بنت حوا .نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں