ہادئ عالم ﷺ کا عہدِ شباب (مولانا نور احمد بیگ باقوی

'سیرت سرور کائنات ﷺ' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر, ‏فروری 17, 2011۔

  1. عامر

    عامر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    983
    موصول پسندیدگیاں:
    61
    صنف:
    Male
    جگہ:
    United Kingdom
    ] بسم اللہ الر حمٰن الرحیم
    ]ہادئ عالم ﷺ کا عہدِ شبابe
    نبی اکرم ﷺ کا وجود ان تمام خوبیوں اور کمالات کا جامع تھاجو متفرق طور پر لوگوں کے مختلف طبقات میں پائے جاتے ہیں ۔ آپ ﷺاصابتِ فکر ،دور بینی اور حق پسندی کا بلند مینار تھے۔آپ ﷺ کو حسنِ فراست ، پختگئ فکر اور وسیلہ ومقصد کی درستگی سے حظِ وافرعطا ہو ا تھا۔ آپ ﷺ اپنی طویل خاموشی سے مسلسل غور وخوض ، دائمی تفکیر اور حق کی کرید میں مدد لیتے تھے ۔ آپ ﷺ نے اپنی شاداب عقل اور روشن فطرت سے زندگی کے صحیفے، لوگوں کے معاملات اور جماعتوں کے احوال کا مطالعہ کیا اور جن خرافات میں یہ سب لت پت تھیں ان سے سخت بیزاری محسوس کی ۔ چنانچہ آپ نے ان سب سے دامن کس رہتے ہوئے پوری بصیرت کے ساتھ لوگوں کے درمیان زندگی کا سفر طے فرمایا۔ یعنی لوگوں کا جو کام اچھا ہو تا اس میں شرکت فرماتے ورنہ اپنی مقررہ تنہائی کی طرف پلٹ جاتے ۔ چنانچہ آپ ﷺ نے شراب کو کبھی منہ نہ لگایا ،آستانوں کا ذبیحہ نہ کھایا اور بتوں کے لئے منائے جانے والے تہوار اور میلوں ٹھیلوں میں کبھی شرکت نہ کی۔آپ کو شروع ہی سے ان باطل معبودوں سے اتنی نفرت تھی کہ ان سے بڑھ کر آپ کی نظر میں کوئی چیز مبغوض نہ تھی حتی کہ لات وعزیٰ کی قسم سننا بھی آپ کو گوارا نہ تھا۔اس میں شبہ نہیں کہ تقدیر نے آپ ﷺ پر حفاظت کا سایہ ڈال رکھا تھا ۔جب بعض دنیاوی فوائد کے حصول کے لئے نفس کے جذبات متحرک ہو ئے اور بعض نا پسندیدہ رسم وراج کی پیروی پر طبیعت آمادہ ہوئی تو عنایت ربانی دخیل ہو کر رکاوٹ بن گئی ۔ ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہلِ جاہلیت جو کام کرتے تھے مجھے دو دفعہ کے علاوہ کبھی ان کا خیال نہیں آیا ۔ لیکن ان دونوں میں سے بھی ہر دفعہ اللہ تعالیٰ نے میرے اور اس کے درمیان روکاوٹ ڈال دی۔ اس کے بعد پھر کبھی مجھے اس کا خیال نہ گذرا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی پیغمبری سے مشرف فرمادیا ۔نبی اکرم ﷺ اپنی قوم میں شیریں کردار ،فاضلانہ اخلاق اور کریمانہ عادات کے لحاظ سے ممتاز تھے ۔چنانچہ آپ سب زیادہ با مروت، سب سے زیادہ خوش اخلاق ،سب سے معزز ہمسایہ ۔سب سے بڑھ کر دور اندیش سب سے زیادہ راست گو، سب سے زیادہ نرم پہلو سب سے ذیادہ پاک نفس خیر میں سب زیادہ کریم،سب سے نیک عمل، سب سے بڑھ کر پابندِ عہد اور سب سے بڑے امانتدار تھے حتیٰ کی آپ کی قوم نے آپ کا نام ہی ’’امین‘‘ رکھ دیا تھا ۔ کیونکہ آپ احوالِ صالحہ اور خصائل حمیدہ کے پیکر تھے ۔اور جیسا کہ حضرت خدیجہؓ کی شہادت ہے ۔آپ در ماندوں کا بو جھ اٹھاتے تھے ،تہی دستوں کا بندو بست فرماتے تھے ۔مہمانوں کی میز بانی کر تے تھے۔ مصائب میں مبتلا لو گوں کی اعانت فر ماتے تھے۔آپ کی عین جوانی کا عالم جس وقت جنگ فجار ہوئی اس جنگ میں آپ بھی شریک تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں بیس برس کے تھے اس جنگ میں اپنے چچا حضرت حمزہ کو ڈھال کے ذریعے تحفظ دیا جبکہ خود حمزہ دشمنوں پر تیر بر ساتے تھے یہ جنگ حج کے متبرک مہینوں میں پیش آئی یہ خونریزی مکہ مکرمہ کے متعدد صاحبِ ضمیر افراد کے لئے سوہانِ روح تھی الزبیر جو حضور ﷺ کے سب سے بڑے تایا تھے اور خاندان کے سر براہ تھے ،آگے بڑھ کر اور مکہ کے ایک معزز رئیس عبد اللہ ابن جدعان کے ہاں ایک اجلاس عام طلب کیا اس اجلاس میں ایک منثور تیار کیا گیا جو تاریخ میں حلف الفضول کے نام سے موسوم ہوا اس معاہدہ کے تحت یہ عہد کیاگیا کہ معاہدہ کے ارکان ہر س شخص کی مدد کریں گے جس سے زیادتی کی جائے گی حضورؐ بھی اس معاہدہ میں پیش پیش تھے بعد میں جب حضورؐ کونبوت سے سرفراز کیا گیا اور انھیں صحرائے عرب میں پیغمبرِ خدا تسلیم کر لیا گیا تو بھی آنحضرتؐ فر مایا کر تے تھے کہ میں اس (معاہدہ کی رکن کی حیثیت سے )اعزاز سے دستبر دار ہو نے و تیار نہیں خواہ مجھے اللہ کیلئے سرخ اونٹوں کا پورا گلہ کیوں نہ پیش کیا جائے ۔آج بھی کوئی شخص اس معاہدہ کے تحت مجھے مدد کیلئے پکارے تو میں بھاگ کر اس کی امداد کوپہنچوں گا عنفوانِ شباب میں رسواللہ ﷺ کوئی متعین کار نہ تھا البتہ یہ خبر متواتر ہے کہ مکہ میں اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط کے عوض چراتے تھے۔حضور ؐ کی عمر شریف پچیس سال کی ہوئی ۔تجارت اور لین دین کے امور میں دیانت اور بے داغ کردار کے باعث لوگوں نے انھیں امین کا لقب دیا ان کے چچا اور سرپرست ابو طالب اتنے بو ڑھے ہو چکے تھے کہ ان کے لئے سفرِ تجارت ممکن نہ تھا چنانچہ اب یہ محمدؐ کی ذمہ داری تھی کہ وہ سالانہ میلے ٹھیلوں کے موقع پر مختلف علاقوں یں سامانِ تجارت لے کر جائیں ۔ خدیجہ بنت خویلد ایک معزز مالدار اور تاجر خاتون تھیں ۔ لوگوں کو اپنا مال تجارت کے لئے دیتی تھیں۔ اور مضاربت کے اصول پر ایک حصہ طے کر یتی تھیں۔ پورا قبیلہ قریش ہی تاجر پیشہ تھا۔ جب انھیں رسول اللہؐ کی راست گوئی ،امانت اور مکارم اخلاق علم ہوا تو انہوں نے ایک پیغام کی پیش کش کی آپ ان کا مال لے کر تجارت کے لئے ان کے غلام میسرہ کے ساتھ ملکِ شام تشریف لے جائیں ۔وہ دوسرے تاجروں کو جو کچھ دیتی ہیں اس سے بہتر اُجرت آپ کو دیں گی آپ نے یہ پیش کش قبول کرلی اور ان کا مال لے کر ان کے غلام کے ساتھ ملکِ شام تشریف لے گئے۔ ملکِ شام سے تجارت سے فارغ ہو کر جب مکہ آپ تشریف لائے اور حضرت خدیجہؓ نے اپنے مال میں ایسی امانت وبرکت دیکھی جو اس سے پہلے کبھی نہ د یکھی تھی اور اُدھر ان کے غلام میسرہ نے آپ کے شیریں اخلاق۔ بلند پایہ کردار موزوں اندازِ فکر راست گوئی اور امانتدارانہ طور طریق کے متعلق اپنے مشاہدات بیان کئے تو حضرت خدیجہؓ کو اپنا گم گستہ گوہرمطلوب دستیاب ہو گیا ۔ اس سے پہلے بڑے بڑے سردار اور رئیس ان سے شادی کے خواہاں تھے ۔لیکن انہوں نے کسی کا پیغام منظور نہ کیا تھا ۔ اب انہوں نے اپنے دل کی بات اپنی سہیلی نفیسہ بنت منبہ سے کہی اور نفیسہ نے جاکر نبیؐ سے گفت وشنید کی آپؐ راضی ہو گئے اور اپنے چچاؤں سے اس معاملے میں بات کی ۔انہوں نے حضرت خدیجہؓ کے چچا سے بات کی اور شادی کا پیغام دیا ۔ انہوں نے قبول کرلیا ۔تاریخ معین پر ابو طالب اور تمام رؤسا ئے خاندان جس میں حضرت حمزہ ؒ بھی تھے حضرت خدیجہ کے مکان پر آئے ابو طالب نے خطبۂ نکاح پڑھایا اور پانچسو طلائی درہم مہر قرار دیا۔
    اس وقت حضرت خدیجہؓ زندگی کی چالیس بہاریں دیکھ چکی تھیں اور وہ نسب ودولت اور سوجھ بوجھ کے لحاظ سے اپنی قوم کی سب سے معزز اور افضل خاتون تھیں یہ پہلی خاتون تھیں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی اور ان کی وفات تک کسی دوسری خاتون سے شادی نہیں کی ۔ابراہیم کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بقیہ تمام اولاد سب انھیں کے بطن سے تھیں سب سے پہلے قاسم پیدا ہو ئے اور انھیں کے نام پر آپ کی کنیت ابو القاسم پڑی ۔ پھر زینبؓ، رقیہؓ ، ام کلثوم ،فاطمہؒ اور عبد اللہ پیدا ہوئے عبد اللہ کا لقب طیب اور طاہر تھا آپ ؐ کے سب بچے بچپن ہی میں انتقال کر گئے البتہ بچیوں میں سے ہر ایک نے اسلام کا زمانہ پایا مسلمان ہو ئیں اور ہجرت کے شرف سے مشرف ہوئیں ۔لیکن حضرت فاطمہؓ کے سوا باقی سب کا انتقال آپ کی زندگی ہی میں ہو گیا ۔ حضرت فاطمہؓ کی وفات آپ کے چھ ماہ بعد ہوئی ۔نکاح کے دو تین ماہ بعد حضرت خدیجہ کے گھر آپ منتقل ہو گئے اس طرح محمدؐ کو اپنے پیارے چچا ابو طالب سے علحدہ ہو نا پڑا ۔ ابو طالب اپنے کثیر عیال کے لئے روزی کمانے میں ایک معاون سے محروم ہو گئے مگر محمدؐ اس صورتِ حال سے بے خبر نہ تھے ۔ وہ نہ صرف ابو طالب کے بیٹے علیؓ کو اپنے پاس لے گئے بلکہ اپنے دوسرے چچا عباسؓ کو بھی ابو طالب کے دوسرے بیٹے کو گود لینے پر رضا مند کر لیا اور یوں اپنے چچا پر خاندان کا بوجھ ہلکا کیا ۔ حضرت خدیجہؓ کے پہلے شوہر وں سے دو بچے تھے۔ ایک شوہر سے بیٹا تھا اور دوسرے سے بیٹی دونوں کا نام ’’ہند‘‘ تھا دونوں بچے اپنے والد کے خاندان میں ہی رہتے تھے ،بیٹا ہند ابن ابی ہالہ اپنے سوتیلے والد( رسولِ خدؐا) سے بیحد مانوس ہو گیا تھا اورآگے چل کر وہ اسلام میں حضور اکرمؐ کے حلیہ شریف کے بارے میں سب سے بڑا راوی قرار پایا ۔وہ نہایت ہی دلنشیں انداز میں حضور ؐ کا سراپا بیان کرتا ہے ۔ ان کا منہ یاقوتوں سے بھرا ہوا صندوقچہ تھا ان کا چہرہ چودھویں کے چاند سے زیادہ حسین تھا۔ ہند کے اس بیان میں بلا شبہ حضورؐ سے غیر معمولی محبت اور احترام پوشیدہ ہے ۔
    اسی طرح کا ایک اور چھوٹا سا مگر پُر اثر واقعہ ہے جس سے رسول اللہ ﷺ کا اخلاقِ حسنہ اور معاشرتی رویہ اجاگر ہو تا ہے ایک نو عمر عرب لڑکا مکہ کی منڈی میں بطورغلام فروخت ہوا ۔اس کا نام زید بن حارث تھا اور اس کا تعلق شمالی عرب کے ایک بڑے قبیلہ کلب سے تھا۔ اس لڑکے کو بنو کلب کے ایک ہمسایہ قبیلہ نے ایک تصادم کے د وران گرفتا ر کر لیا تھا اور مکہ لا کر فروخت کر دیا ۔یہ لڑکا بڑا حسین اور دانشمند تھا بی بی خدیجہﷺ نے اسے خرید لیا اور اسے اپنے شوہر کی خدمت میں بطور ذاتی ملازم کے پیش کیا۔اس لڑکے کے غمزدہ باپ جو اپنے قبیلہ کے سردا ر تھا،بیٹے کی تلاش میں دور دور تک مارا مارا پھر تا رہا اور با لاخر اسے معلوم ہوا کہ اس کا بیٹا کہا ہے وہ بھاری رقم لے کر پہنچا تا کہ زرِ فدیہ ادا کر کے بچے کو آزاد کر ائے جب وہ رسولِ خدا سے ملا تو حضور اس کی بپتا سے بے حد متاثر ہوئے رسولِ خدا نے کہا بچے کو یوں واپس خرید نے کی نسبت ایک اور بہتر طریقہ بھی ہے وہ یہ کہ میں خود بچے سے پوچھ لیتا ہوں۔ اگر وہ آپ کے ساتھ جانا چاہے آپ ایک کوڑی ادا کئے بغیر اپنے بیٹے کو لے جا سکتے ہیں ۔ اس کے بعد رسو ل اللہ ﷺ نے زید کو بلایا، وہ فوراً ہی حاضری خدمت ہوا اور اپنے باپ کو پہچان لیا۔ جب رسول خدا ﷺ نے زید سے جانے کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے بلا توقف جواب دیا۔ آپ نے مجھ سے جو محبت بھرا سلوک کیا ہے اس کے بعد میں آپ کے ہاں بطورِ غلام رہنے کو اپنے باپ کے گھر بطورِ آقا زندگی گذار نے پر ترجیح دیتا ہوں۔ رسولِ خدا ﷺ اس رقت انگیزجواب سے بے حد متاثر ہو ئے انھوں نے لڑکے کا ہاتھ پکڑا اسے کعبہ کے احاطہ میں لے گئے اور سرِ عام اعلان کیا۔ میں زید کو آزاد کرتا ہوں اور آج سے اسے گود لیتا ہو۔ زید کے والد حارث تو خالی ہاتھ لوٹے مگر ان کا دل اپنے بیٹے کی پرورش کے ضمن میں اطمینان سے پُر تھا۔
    آپ کی عمر کا پینتیسواں سال تھا کہ قریش نے نئے سرے سے خانۂ کعبہ کی تعمیرشروع کی۔وجہ یہ تھی کہ کعبہ صرف قد سے کچھ اونچی چہار دیواری کی شکل میں تھا ۔ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے زمانے ہی سے اس کی بلندی نو ہاتھ تھی اور چھت نہ تھی اس کیفیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ چوروں نے اس کے اندررکھا ہوا خزانہ چرا لیا اس کے علاوہ اس کی تعمیر پر ایک طویل زمانہ گذر چکا تھا ۔ عمارت خستگی کا شکار ہو چکی تھی اور دیواریں پھٹ گئیں تھیں۔ اُدھر اسی سال ایک زور دار سیلاب آیا جس کے بہاؤ کا رخ خانۂ کعبہ کی طرف تھا اس کے نتیجے میں خانۂ کعبہ کسی بھی لمحہ ڈھ سکتا تھا۔ اس لئے قریش مجبور ہو گئے کہ ا س کا مرتبہ ومقام بر قرار رکھنے کے لئے از سرِ نو تعمیر کریں اس مر حلے پر قریش نے یہ متفقہ فیصلہ کیا کہ خانۂ کعبہ کی تعمیر میں صرف حلال رقم ہی استعمال کریں گے اس میں سود کی دولت اور کسی کا ناحق لیا ہوا مال استعمال نہیں ہو نے دیں گے نئی تعمیر کے لئے پرانی عمارت کو ڈھانا ضروری تھا لیکن کسی کو ڈھانے کی جرأت نہیں ہو تی تھی بالآخر ولید بن مغیرہ مخزومی نے ابتدا کی۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ اس پرکوئی آفت نہیں ٹوٹی تو باقی لوگوں نے بھی ڈھانا شروع کیا اور جب قواعد ابراہیم تک ڈھا چکے تھے تعمیر کا آغاز کیا۔ تعمیر کے لئے الگ الگ ہر قبیلے کا حصہ مقرر تھا اورہر قبیلے نے علٰحدہ علٰحدہ پتھر کے ڈھیر لگا رکھا تھا تعمیر شروع ہوئی ۔ باقومؔ نامی ایک رومی معمار نگراں تھا جب عمارت حجر اسود بلند ہو چکی تویہ جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا کہ حجر اسود کو اس کی جگہ رکھنے کا شرف اور امتیازکس کو حاصل ہو یہ جھگڑا چار پانچ روز تک جاری رہا اور رفتہ رفتہ اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ معلوم ہو تا تھاکہ سر زمینِ عرب میں سخت خون خرابہ ہو جائے گا ۔لیکن ابوعمر مخزومی نے یہ کہہ کر فیصلے کی ایک صورت پیدا کردی کے مسجد حرام کے دروازے سے کل صبح جو شخص پہلے داخل ہو اسے اپنے جھگڑے کا حَکم مان لیں لوگوں نے یہ تجویز منظور کر لی اللہ کی مشیت کہ اس کے بعد سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ تشریف لائے لوگوں نے آپ کو دیکھا تو چیخ پڑے کہ ھذ الامین رضیناہذا محمداً یہ امین ہیں ہم ان سے راضی ہیں یہ محمد ہیں پھر جب آپ ان کے قریب پہونچے اور انہوں نے آپ کو معاملہ کی تفصیل بتائی تو آپ نے ایک چادر طلب کی چادر کے بیچ میں حجرِ اسود رکھا اور متنازع قبائل کے سرداروں سے کہا کہ آپ سب حضرات چادر کا کنارہ پکڑ کر اوپر اٹھائیں انھوں نے ایسا ہی کیا جب چادر حجرِ اسود کے مقام تک پہو نچ گئی تو آپ نے اپنے دستِ مبارک سے حجرِ اسود کو اس کے مقررہ جگہ پر رکھ دیا یہ بڑا معقول فیصلہ تھا اس پر ساری قوم راضی ہو گئی اس طرح اس گمبھیر مسئلہ کا حل فرمایا رسول اللہ ﷺ کی عمر شریف جب چالیس برس کے قریب ہو چلی اور اس دوران آپ ﷺ کے اب تک کے تا ملات نے قوم سے آپ کا ذہنی اور فکری فاصلہ بہت وسیع کر دیا تھا تو آپ کو تنہائی محبوب ہو گئی چنانچہ آپ ستو اورپانی لے کر مکہ سے کوئی دو میل دور کوہِ حرا کے ایک غار میں جا رہتے یہ ایک مختصر سا غار ہے جس کا طول چار گز اور عرض پونے دو گز ہے آپ ﷺ جب یہاں تشریف لے جاتے تو حضرت خدیجہ بھی آپ ﷺ کے ہمراہ جاتیں اور قریب ہی کسی جگہ موجود رہتیں آپ ﷺ رمضان بھر اس غار میں قیام فرماتے آنے جانے والے مسکینوں کو کھانا کھلاتے اور بقیہ اوقات اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گذارتے کائنات کے مشاہد اور اس کے پیچھے کار فرما قدرتِ نادرہ پر غور فرماتے آپ ﷺ کو اپنی قوم کے شرکیہ عقائد اور واہیات تصورات پر بالکل اطمینان نہ تھا لیکن آپ ﷺ کے سامنے کوئی واضح راستہ معین طریقہ اور افراط تفریط سے ہٹی ہوئی کوئی ایسی راہ نہ تھی جس پر آپ اطمینان وانشراح قلب کے ساتھ رواں دواں ہو سکتے نبی ﷺ کی یہ تنہائی پسندی بھی در حقیقت اللہ تعالیٰ کی تدبیر کا ایک حصہ تھی اس طرح اللہ تعالی ٰآنے والے کارِ عظیم کیلئے تیار کر رہا تھا در حقیقت جس روح کیلئے بھی یہ مقدر ہو کہ وہ انسانی زندگی کے حقائق پر اثر انداز ہو کر انکا رخ بدل ڈالے اس لئے ضروری ہے کہ زمین کے مشاغل، زندگی کے شور اور لوگوں کے چھوٹے چھوٹے ہم اور غم کی دنیا سے کٹ کر کچھ عرصہ کیلئے الگ تھلگ اور خلوت نشین رہیں ٹھیک اسی سنت کے مطابق جب اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو امانتِ کبریٰ کا بوجھ اٹھانے روئے زمین کو بدلنے اور خطۂ تاریخ کو موڑنے کیلئے تیار کر نا چاہا تو رسالت کی ذمہ داری عائد کر نے سے تین سال پہلے آپ ﷺ کیلئے خلوت نشینی مقدر کردی آپ ﷺ اس خلوت میں ایک ماہ تک کائنات کی آزاد روح کے ساتھ ہمسفر رہتے اور اس وجود کے پیچھے چھپے ہوئے غیب کے اندر تدبر فرماتے تا کہ جب اللہ کا اذن ہو تو اس غیب کے ساتھ تعامل کیلئے مستعد رہیں جب آپ ﷺ کی عمر شریف چالیس برس ہو گئی اور یہی سن کمال ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہی پبیغمبروں کی بعثت کی عمر ہے تو زندگی کے افق کے پار سے آثارِ نبوت چمکنا اور چمکانا شروع ہو ئے یہ آثا خواب تھے آپ ﷺ جو بھی خواب دیکھتے وہ سپیدۂ صبح کی طرح نمودار ہوتا اس حالت پر چھ ماہ کا عرصہ گذر گیا جو مدت نبوت کاچھیالسواں حصہ ہے اور کل مدتِ نبوت تئیس برس ہے اس کے بعد جب حرا میں خلوت نشینی کا تیسرا سال آیا تو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ روئے زمین کے باشندوں پر اس کی رحمت کا فیضان ہو چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو نبوت سے مشرف کیا اور حضرت جبرئیل ؑ قرآنِ مجید کی چند آیات لے کر آپ ﷺ کے پاس تشریف لائے اور آپ کو رب کائنات نے تمام جہانوں کیلئے نبی اور رسول کے تاجِ زریں سر فراز فرمایا ۔
    وہ شمع، اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
    ایک روز جھلکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میں
    ر ارض وسماں کی محفل میں لو لاک لما کا شور نہ ہو
    یہ رنگ نہ ہو گلزاروں میں یہ نور نہ ہو سیاروں میں
    جو فلسفیوں سے کھل نہ سکا اور نکتہ وروں سے حل نہ ہوا
    وہ راز اک کملی والے نے بتلادیا چند اشاروں میں​
    مولانا نور احمد بیگ صاحب باقوی چیر مین الماس ایجو کیشنل ٹرسٹ بنگلور
  2. اعجازالحسینی

    اعجازالحسینی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,080
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
  3. أضواء

    أضواء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,522
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Saudi Arabia
    السلام عليكم و رحمة الله و بركاته

    الله يجزاك كل خير و بارك الله فيك ....
  4. سیفی خان

    سیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4,553
    موصول پسندیدگیاں:
    72
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا

اس صفحے کو مشتہر کریں