ہر طرف ہے ان کے جلوؤں کی بہار (عرفان محبت)

'پسندیدہ کلام' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جنوری 31, 2013۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,627
    موصول پسندیدگیاں:
    790
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    ہر طرف ہے ان کے جلوؤں کی بہار (عرفان محبت)
    احمد عاصی پہ ہو مولیٰ کرم
    تیری رحمت کی نہیں حد لا جرم

    اور کوئی دوسرا مالک نہیں
    جز تیرے کس سے کریں فریاد ہم

    یہ دعا عاجز کی اب مقبول ہو
    عرض تجھ سے یہی با چشم نم

    وہ بھی دن آئے میرےاللہ اب
    جب روانہ ہوں پھر سوئے حرم

    اے میرے اللہ، ارض پاک پر
    ڈرتے ڈرتے پھر پڑیں میرے قدم

    پھر نہاؤں بارشِ انوار میں
    پھر دکھا مولیٰ مجھے صبحِ حرم

    ان کے درپر پھر ہو میری حاضری
    تو نے جن کی جان کی کھائی قسم

    سرورِ عالم کے صدقے میں کریم
    روح کی راحت کے ساماں ہو بہم

    وصل کی لذت سے اب مسرور کر
    بھول جاؤں ہجر کے سب دردو غم

    ہائے کب تک ہجر میں تڑپا کروں
    کھینچ لے اب کھینچ لے ارضِ حرم

    مھر مقدر ہو اپنے مجھ کو ناز
    پھر دکھاوے یا الٰہی ملتزم

    کاش یہ دولت ہو پھر مجھ کو نصیب
    میری پیشانی ہو اور تیرا قدم

    کونِ طیبہ کے لئے بیتاب ہے
    قلب مضطر سے صدا آئی کہ ہم

  2. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    سبحان اللہ! کیا دردبھری مناجات ہے۔
  3. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,572
    موصول پسندیدگیاں:
    458
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    احمد عاصی پہ ہو مولیٰ کرم
    تیری رحمت کی نہیں حد لا جرم

    اور کوئی دوسرا مالک نہیں
    جز تیرے کس سے کریں فریاد ہم

    یہ دعا عاجز کی اب مقبول ہو
    عرض تجھ سے یہی با چشم نم

    وہ بھی دن آئے میرےاللہ اب
    جب روانہ ہوں پھر سوئے حرم

    اے میرے اللہ، ارض پاک پر
    ڈرتے ڈرتے پھر پڑیں میرے قدم

    پھر نہاؤں بارشِ انوار میں
    پھر دکھا مولیٰ مجھے صبحِ حرم

    ان کے درپر پھر ہو میری حاضری
    تو نے جن کی جان کی کھائی قسم

    سرورِ عالم کے صدقے میں کریم
    روح کی راحت کے ساماں ہو بہم

    وصل کی لذت سے اب مسرور کر
    بھول جاؤں ہجر کے سب دردو غم

    ہائے کب تک ہجر میں تڑپا کروں
    کھینچ لے اب کھینچ لے ارضِ حرم

    مھر مقدر ہو اپنے مجھ کو ناز
    پھر دکھاوے یا الٰہی ملتزم

    کاش یہ دولت ہو پھر مجھ کو نصیب
    میری پیشانی ہو اور تیرا قدم

    کونِ طیبہ کے لئے بیتاب ہے
    قلب مضطر سے صدا آئی کہ ہم
  4. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan

اس صفحے کو مشتہر کریں