ہشت روزہ کورس سبق نمبر۲: سوۃ البقرہ آیات ۱ تا ۱۰

'تفسیر القرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از qureshi, ‏فروری 1, 2017۔

  1. qureshi

    qureshi وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    292
    موصول پسندیدگیاں:
    209
    جگہ:
    Afghanistan
    سبق نمبر۲: سوۃ البقرہ
    آیات ۱ تا ۱۰
    بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۝
    شروع اللہ کے نام سے جو بڑے مہربان نہایت رحم کرنے والے ہیں۔
    الۗمّۗ۝۱ۚ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَارَيْبَ ٻ فِيْهِ ڔ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۝۲ۙ الَّذِيْنَ
    الم۔ یہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں پرہیزگاروں کی رہنمائی کرتی ہے۔ وہ جو
    يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ۝۳ۙ
    غائب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور جو ہم نے ان کو نعمتیں دی ہیں ان میں سے خرچ کرتے ہیں۔
    وَالَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ج وَبِالْآخِرَةِ
    اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر جو آپ پر نازل کی گئی اور جو آپ سے پہلے نازل کی گئی اور وہ آخرت پر
    هُمْ يُوْقِنُوْنَ۝۴ۭ اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْق وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝۵
    یقین رکھتے ہیں۔ وہ لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں۔
    اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ۝۶
    یقیناً جن لوگوں نے کفر اختیار کیا انہیں آپ متنبہ کریں یا نہ کریں برابر ہے کہ وہ ایمان لانے والے نہیں۔
    خَتَمَ اللهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰى سَمْعِهِمْ وَعَلٰى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ز
    اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے اور ان کے کانوں پر (بھی) اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے
    وَّلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۝۷ۧ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ آمَنَّا بِاللهِ وَبِالْيَوْمِ
    اور ان کے لئے بڑا عذاب (تیار) ہے۔ اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان
    الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِيْنَ۝۸ۘ يُخٰدِعُوْنَ اللهَ وَالَّذِينَ آمَنُوْا ج وَمَا
    رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے۔اللہ کو اور مومنوں کو دھوکا دینا چاہتےہیں مگر (درحقیقت) وہ سوائے
    يَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ۝۹ۭ فِيْ قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ لا فَزَادَهُمُ
    اپنے آپ کے کسی کو دھوکا نہیں دے رہے مگر وہ اس بات کا شعور نہیں رکھتے۔یہ ان کے دلوں میں مرض ہے جسے اللہ نے
    اللهُ مَرَضًا ج وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيمٌۢ ڏ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ۝۱۰
    اور بڑھا دیا ہے اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے انہیں دردناک عذاب ہوگا۔
    یہ آیات مبارکہ سورۃ البقرۃ کی ابتدائی آیات ہیں اور پہلا رکوع ہے۔
    اس دعا کا جو سورۃ فاتحہ میں تعلیم فرمائی گئی، فوری جواب عطا فرمایا گیا۔ اس کی ابتداء بسم اللہ کے بعد حروف تہجی الم سے ہوتی ہے ۔ بض حضرات نے ان کے معنی لکھے ہیں اور بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ اس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ انہی حروف تہجی الف ب ج د سے یہ کلام بھی بنایا گیا ہے۔ اور قرآن حکیم کا کھلا اعلان ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اس جیسا کلام کوئی نہیں بنا سکتا۔ تو یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ یہ بھی وہی حروف تہجی ہیں۔ لیکن حق یہ ہے کہ یہ ایسے الفاظ ہیں جن کے پڑھنے سے ہر مومن کو ان کا فائدہ جو قلبی یا باطنی اور قرب الٰہی کے لہاظ سے پہنچنا چاہیے، اسے پہنچ جاتا ہے۔ ان سے مراد کیا ہے؟ وہ اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کے درمیان بھید ہے انھا سربین اللّٰہ و بین رسولہ۔ بعض محققین کے نزدیک راسخین فی العلم جنہیں اللہ راسخ علم عطا کرتا ہے، انہیں اس بھید سے آگاہ فرما دیتا ہے، باوجود اس کے وہ سرِ الٰہی ہی رہتا ہے کہ کسی خاص بندے کو رب چاہے تو اس کا مفہوم بتا دے۔ عامتہ الناس کے لئے اس کی ضرورت نہ سمجھی گئی اس لئے وہ بتایا نہ گیا اور جو اس کا فائدہ ہے اس کی تلاوت میں اللہ کریم نے مقرر فرما دیا وہ تلاوت کرنے والے کو مل جاتا ہے۔
    ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ۔ فرمایا، مانگنے والے دیکھ تو نے لائحہ عمل مانگا، تو نے خطائوں سے معافی چاہی، تو نے میری مدد کی درخواست کی، تو نے گمراہی سے بچنا چاہا تو تیرے ان سب سوالوں کا جواب یہ کتاب ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کے کسی بھی جملے، حرف یا لفظ میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر اس نے آئندہ کی خبر دی ہے تو وہ حرف بحرف سچ ہے اور اگر اس نے گذشتہ واقعات بیان کئے تو حرف بحرف سچ ہیں۔ اگر کسی کام کو کرنے کا طریقہ بتایا تو وہ صحیح ترین طریقہ ہے اور اس کے علاوہ کوئی دوسرا طریقہ صحیح نہیں ہو سکتا۔ یہ اس کتاب کی خصوصیات میں سے ہے۔
    اب اگر یہ کہا جائے اور جیسا کہ عام طور پر کہا جارہا ہے کہ اسلام اور اسلامی قوانین فی الوقت قابل عمل نہیں ہیں، ہاں کسی زمانے میں بہت مفید تھے۔ تو یہ جملہ اللہ کی اس کتاب کے اس دعوے کی کھلی تردید ہے۔ یعنی اگر قابل عمل نہیں ہیں تو پھر تو یہ بات صحیح نہ ہوئی کہ اس کے کسی جملے میں شبہے کی کوئی گنجائش نہیں، شبہہ تو دور کی بات ہے وہ قابل عمل ہی نہ رہے۔ حق یہ ہے کہ قرآن حکیم نے انسانی مزاج کی اور انسانی ضرورت کی اور ان کی تکمیل کے ذرائع کی حد بندی کی ہے۔ لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ زمانہ بدل گیا۔ زمانہ بدلا نہ زمانے والے بدلے۔ چند چیزیں تبدیل ہو گئیں، زمانہ بھی وہی ہے اہل زمانہ بھی وہی ہیں۔ انسانوں کو آج بھی بھوک لگتی ہے، انسان کو آج بھی کپڑے کی ضرورت ہے، انسان کو آج بھی پیاس لگتی ہے، انسان آج بھی دوستی اور دشمنی کرنے میں ویسا ہی ہے جیسا پہلے دن تھا، انسان آج بھی محبت و نفرت کے وہی جذبات رکھتا ہے جو پہلے تھے۔ انسانی سوچ بھی وہی ہے، انسان کی طلب اور ضرورت بھی وہی ہے اور ان کی تکمیل بھی انہی چیزوں سے ہوگی۔ کیا آج پانی پیئے بغیر پیاس بجھ جاتی ہے؟ یا آج کھانے کے لئے کوئی آسمان سے تحفے آتے ہیں؟ زمین آج بھی فصلیں اگل رہی ہے جو پہلے دن تھیں۔ بات ان ضرورتوں کے احساس اور ان کی تکمیل کے ذرائع کے تعین کی ہے۔ اسلام نے وہ ضرورتیں بدلیں اور نہ ان کی تکمیل کی خواہش اور ضرورت بدلی تو اسلام ناقابل عمل کیسے ہو گیا؟
    بدلا کیا ہے! صرف یہ کہ پہلے سفر گھوڑے پر ہوتا تھا اب جہاز پر ہوتا ہے۔ تو مسافر کے جو احکام گھوڑے کی پیٹھ پر تھے وہ احکام جہاز کی نشست پر بھی ہیں۔ تبدیلی کیا ہوئی، یہ چند چیزیں ہی بدل گئیں ناں۔ قرآن جب نازل ہو رہا تھا تو جنگ تلوار، تیر اور نیزے سے دست بدست ہوتی تھی۔ اب اٹامک (Atomic)دور آگیا تو کیا ایٹم بم سے ان کو مارنا جائز ہو گیا ہے جو مغربی اقوام بے گناہ عورتوں اور بچوں کا قتل عام کر رہی ہیں؟ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام ایٹم بم سے بھی انہی کو مارنے کی اجازت دے گا جو لڑائی کے لئے میدان جنگ میں آئیں گے، تو پھر ناقابل عمل کیسے ہو گیا؟ اسلام عین قابل عمل ہے۔ لوگوں کی جو سوچ ہے وہ بے لگام ہو گئی ہے۔ مجھے یہ بتائیے کہ جو مظلوم عورتیں افغانستان میں قتل کی گئیں، جو معصوم بچے کھلونا بم دے کر قتل کئے گئے، ان کا کیا قصور ہے؟ لڑائی میں اسلام محدود کرتا ہے کہ جو لڑے، اس سے لڑنے کی اجازت دیتا ہے۔ تو اس لئے وہ ناقابل عمل ہو گیا۔ انسانی وجودوں کو درندگی دے کر اور ساری اخلاقی حدود و قیود پامال کر کے لوگ اسے جدید معاشرت کہہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں اسلام اس میں قابلِ عمل نہیں ہے۔ یہ صحیح نہیں۔ اسلام تمام تر انسانوں کے لئے ہے، ہمشیہ کے لئے ہے، دائمی ہے، ہر عہد میں، ہر ملک میں، ہر قوم میں قابل عمل ہے۔ قوموں کے رنگ بدلتے ہیں، قوموں کے قد بدلتے ہیں، قوموں کی زبان بدلتی ہے، قوموں کی سوچ بدل سکتی ہے لیکن روح و بدن کی ضروریات نہیں بدلتیں۔ قرآن نے اس پہلو سے رہنمائی فرمائی اور فرمایا:
    یہ وہ کتاب ہے جس کی کسی بات میں کوئی شبہہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اور جو نہیں مانتا وہ بھی پرکھ سکتا ہے کہ قرآن نے جو پیش گوئیاں کیں، وہ حرف بحرف درست ہوئیں۔ تو جس کی آئندہ کی بات حرف بحرف صحیح ہوتی ہے، اس نے جو گزشتہ کی بات کی ہے وہ کیسے غلط ہو سکتی ہے۔ ہاں! یہ الگ بات ہے کہ اس سے ہدایت حاصل کرنے کے لئے تقویٰ چاہیے، اللہ سے رشتہ چاہیے۔ اس بات پر یقین چاہیے کہ میں بندہ ہوں، میرا ایک مالک ہے اور یہ کتاب اس مالک نے مجھے ایک نظام الاوقات یا ایک لائحہ عمل عطا فرمایا ہے اور مجھے اس کے مطابق عمل کرنا ہے۔ اگر یہ کیفیت نصیب ہو تو یہ رہنمائی کا حق بھی ادا کر دیتی ہے۔ لیکن اگر اسے Just a book محض ایک کتاب سمجھ کر پڑھیں کہ چلو دیکھیں اس میں کیا ہے، تو آپ کو معلومات تو فراہم کرے گی لیکن رہنمائی نہیں کہ آپ رہنمائی کے طالب ہی نہیں ہیں۔ رہنمائی کی طلب اس بندے میں ہو گی جسے یہ یقین حاصل ہو جائے کہ اللہ کے نبیﷺ برحق ہیں، سچے رسولﷺ ہیں۔ جو بات اللہ کے بارے بتاتے ہیں وہ بھی سچ ہے، جو کتاب کے بارے بتاتے ہیں وہ بھی سچ ہے۔ اور جو یہ دعا مانگے کہ اے اللہ! اب میں تیری عظمت کو قبول کر چکا، اب تو میری رہنمائی فرما تو اس کے لئے کتاب ہدایت ہے، اس کی رہنمائی کا حق ادا کر دیتی ہے۔ زندگی کے ہر معاملے اور ہر سوال کا جواب عطا کرتی ہے۔ گدا سے لے کر شہنشاہ تک، سیاسیات ہوں یا اخلاقیات ہوں، ایمانیات ہوں یا اعمال، ہر پہلو پر رہنمائی کا حق ادا کرتی ہے۔ لیکن لِلْمُتَّقِیْن۝ صرف اس کے لئے جو اس سے رہنمائی چاہے۔
    متقی کون ہوتے ہیں؟ فرمایا: الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیَبِ۔ وہ لوگ جو برزخ اور آخرت کے کھل جانے سے پہلے اسے مان چکے ہوتے ہیں۔ کیونکہ جب موت آتی ہے، آخرت واضح ہو جاتی ہے۔ یا جب قیامت قائم ہوگی تو ہر چیز سامنے ہوگی پھر تو ماننا ہی پڑے گا، لیکن وہ سب ابھی تو انسانی عقل کی رسائی سے دور ہے۔ نبی؈ کی صداقت پر یقین کرتے ہوئے آپﷺ کے کہنے سے مان لینا غائبانہ ایمان ہے۔
    پھر ومِمَّارَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ۝۳ اور ماننے کا حق یہ ہے کہ مِمَّا جو کچھ رَزَقْنٰہُمْ ہم نے انہیں دیا ہے۔ رزق میں علم بھی ہے، اس میں طاقت بھی ہے، اس میں حکومت و اقتدار و اختیار بھی ہے، اختیارات بھی ہیں، اس میں مال ودولت بھی ہے۔ جو نعمتیں اللہ فرماتا ہے میں نے انہیں دی ہیں ہُمْ یُنْفِقُوْنَ ان سے استفادہ تو کرتے ہیں لیکن ان حدود کے اندر جو میں نے متعین کر دیں۔ کسی شے کو اس حد کے اندر خرچ کرنا جو اللہ نے متعین کر دی ہے، انفاق ہے خواہ وہ اختیارات کا ہو اقتدار کا ہو، مال و دولت کا ہو یا اپنے علم اور تعلیم و تعلم کا۔ تو فرمایا جس طرح کی دولت بھی میں نے انہیں دی ہے، اسے ان حدود کے اندر رہ کر خرچ کرتے ہیں جو میں نے متعین کی ہے۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو آپﷺ پر نازل کی گئی یا جو آپﷺ سے پہلے کتابیں نازل کی گئیں، ان کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہیں وَبِاْلاٰخِرَۃِ ہُمْ یُؤقِنُوْنَ۔ ان کتابوں کی حقانیت پر یقین، ہمیں حساب کتاب پر، بعثت پر، مرنے کے بعد جی اٹھنے پر اور اٹھ کر اللہ کی بارگا ہ میں جواب دینے پر یقین عطا کرتا ہے اور قیامت پر جب تک یقین محکم نہ ہو، آدمی عمل نہیں کر سکتا۔
    ہم جہاں فائدے کی امید نہ ہو وہاں سرمایہ نہیں لگاتے۔ کہیں پہنچنے کی امید نہ ہو تو ہم سفر نہیں کرتے۔ کسی کو یہ کہہ دیا جائے کہ یہ گاڑی فلاں شہر نہیں پہنچے گی اس سے پہلے فیل ہو جائے گی، اس میں کوئی بیٹھتا ہے؟ تو کیا پھر کسی کو کہہ دیا جائے کہ سرمایہ لگائو اور یہ فرم ڈوب جائے گی، کوئی لگاتا ہے؟ تو جب تک آخرت کا یقین نہ ہو زندگی کا سرمایہ کوئی نہیں لگاتا۔ فرمایا یہ وہ لوگ کرتے ہیں جنہیں پہلے آخرت کے ساتھ یقین ہو اور یہ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں کہ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔
    عَلٰیْ ھُدًی مِّنْ رَّبِہِّمْ۔ رب اس ہستی کو کہتے ہیں جو ہر ضرورت کو پورا کرے اور ہدایت کا پہنچانا اور ہدایت نصیب فرمانا یہ اس کی ربوبیت کا تقاضا ہے۔ اس لئے اس نے ہر بندے کے لئے نبی مبعوث فرمایا خواہ وہ بندہ فرعون تھا یا ہامان، وہ متکبر تھا یا ظالم، قاتل، کافر تھا یا مشرک، اس نے ہدایت کو اس تک پہنچا دیا۔ اس نے اپنی کتاب، اپنا نبی، اپنا پیغام اس تک پہنچایا۔ اور جن لوگوں نے قبول کیا انہیں اللہ کی طرف سے وہ دولت نصیب ہو گئی اور یہ فلاح پا گئے۔ فلاح قرآن حکیم میں لا محدود کامیابی کے معنوں میں آتا ہے۔ ذاتی مسائل میں، خانگی زندگی میں، اجتماعی زندگی میں، قومی زندگی میں، موت میں، آخرت میں، ہر جگہ کی کامیابی اس لفظ فلاح کے اندر آجاتی ہے کہ انہوں نے وہ سب کچھ پالیا۔
    اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔ اتنے اہتمام کے باوجود بھی جو لوگ کفر پر جمے رہے، سَوَآئٌ عَلَیْہِمْ ئَ اَنْذَرْتَہُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْہُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۝۶ اے میرے حبیبﷺ! برابر ہے کہ اب آپؐ انہیں ان کے انجام بد کی خبر دیں یا نہ دیں لَا یُوْمِنُوْنَ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ کیوں نہیں لائیں گے؟ خَتَمَ اللهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰى سَمْعِهِمْ وَعَلٰى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ز وَّلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۝۷ۧ اللہ نے مہر کر دی ہے ان کے دلوں پر، ان کے کانوں پر، ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دیئے، آنکھیں بند کر دیں اور عذاب مقدر کر دیاتو ان کا کیا قصور ہے؟ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ مسلسل نافرمانی ان کا قصور ہے۔ بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر توبہ کرتا ہے تو وہ صاف ہو جاتا ہے۔ توبہ نہیں کرتا اور مسلسل گناہ کرتا ہے تو سیاہی بڑھتی جاتی ہے حتیٰ کہ ایک وقت آتا ہے کہ وہ سیاہی سارے دل کو گھیر لیتی ہے۔ یہ وہ حالت ہوتی ہے کہ اللہ کریم خفا ہوکر، ناراض ہو کر، اس سیاہی کو وہاں دائمی کر دیتے ہیں کہ اگر تجھے یہی پسند ہے تو اب میں تجھے ہدایت کے قریب بھی نہیں آنے دوں گا۔ یہ سزا ہوتی ہے ان گناہوں کی، ان جرائم کی، جنہیں وہ زندگی بھر کرتے رہے۔ اللہ کی دی ہوئی ان نعمتوں کے غلط استعمال کی جو اس نے انہیں استعمال کرنے کے لئے دی تھیں، اپنے دوسرے بندوں کو تباہ کرنے کے لئے نہیں۔ اللہ نے انہیں حق دیا تھا زندہ رہنے کا لیکن دوسروں کی زندگی چھیننے کا نہیں۔ اللہ نے بندے کو حق دیا ہے نعمتیں حاصل کرنے کا لیکن دوسرے سے چھیننے کا نہیں۔ تو جو لوگ اس طاقت سے، اللہ کی دی ہوئی قوت سے، اللہ کے دیے ہوئے اعضاء و جوارح سے دوسروں کے حقوق چھینتے ہیں یا حقوق اللہ کو ضائع کرتے ہیں یا اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں تو محققین کے مطابق پہلے عبادات سے لذت سلب ہوجاتی ہے۔ توبہ نہ کرے تو عبادات چھوٹنے لگتی ہیں، پھر عبادات کی مطلق توفیق چلی جاتی ہے۔ اس پر بھی اگر توبہ نہ کرے تو ایمانیات سلب ہو جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں ایک گھر میں اگر دس بندے ہیں تو دس مذہب اور دس عقیدے بھی چل رہے ہیں۔ ہر چوتھے دن ایک نیا عقیدہ کیوں پیدا ہو جاتا ہے؟ آپ نے دیکھا! جس پتنگ کی ڈور کٹ جاتی ہے وہ کسی بھی جھاڑی سے الجھ سکتی ہے، کسی بھی درخت پر ٹنگی جا سکتی ہے، کسی بھی بچے کے ہاتھ میں آسکتی ہے، تو یہ کٹی ہوئی پتنگیں ہیں۔ بداعمالی اور گناہ کی وجہ سے جب اسلامی عقائد سلب ہو گئے تو برابر ہے وہ کسی جھاڑی سے الجھ گیا، اسے کسی نے اچک لیا، کسی دوسری نبوت کے چکر میں پھنس گیا یا کسی کذاب مدعیٔ ولایت کے چکر میں پھنس گیا۔ کسی گمراہ اور بدعتی کے چکر میں کوئی تب پھنستا ہے جب گناہ کرتے کرتے اس کی ڈور کٹ جاتی ہے۔ آپ نے دیکھا کسی ایسے بندے کو جو ورع و تقویٰ کی وجہ سے گمراہ ہوا ہو، کبھی نہیں۔ ہمیشہ نفاق اور برائی گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔
    دوسری بات اس آیت کریمہ میںبڑی عجیب ہے کیونکہ یہاں وسعت مطلوب نہیں، مطلب سبقاً پڑھانا ہے تو ایک حد کے اندر رہنا پڑتا ہے۔ ہاں بات میں ضرور عرض کرنا چاہوں گا وہ یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کو بھی ربّ نے کچھ لوگوں کے بارے میں بتایا کہ ان کے اور میرے تعلقات اتنے بگڑ چکے ہیں، تب آپﷺ کو پتہ چلا تھا۔ اللہ نے بتایا کہ ان پر محنت نہ کیجئے کہ آپﷺ کو خواہ مخواہ کلفت ہوگی، میں نے ان کے دلوں پر مہر کر دی۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر بندے کا ایک رشتہ اپنے ربّ کے ساتھ ایسا ہے جس سے صرف رب ہی واقف ہے یا خود بندے کو پتہ ہے۔ شیخ ہے یا پیر، وہ آپ کی رہنمائی تو کر سکتا ہے لیکن ربّ کے ساتھ معاملہ آپ نے کرنا ہے۔ وہ جب نبی؈ کو نہیں پتہ اور تب پتہ چلتا ہے کہ جب اللہ بتاتے ہیں تو وہ کسی دوسرے کو کسی کے حال کی خبر نہیں دیتا۔ وہ بڑا ستار العیوب ہے اور بڑا غیور ہے۔ اپنے بندوں کو رسوا کر کے کبھی راضی نہیں ہوتا۔ بندہ جتنا بھی خطا کار ہو، اللہ اس کی رسوائی پسند نہیں فرماتا کہ آخر وہ اس کا بندہ ہے۔ تو بندے کو اپنا معاملہ لوگوں کے ساتھ نہیں، پیر کے ساتھ نہیں، استاد کے ساتھ نہیں، رب العٰلمین کے ساتھ صحیح رکھنا ہوگا تب وہ ہدایت پر قائم رہ سکے گا۔ کوئی دیکھ رہا ہو یا نہ دیکھ رہاہو، کوئی مانے نہ مانے۔ ہم کہتے ہیں بڑی محنت کی، کوئی مانتا نہیں، کیا تم نے منوانے کے لئے کی؟ ارے! اللہ کی اطاعت کی، وہ جانتا ہے کہ تم نے کتنی محنت کی۔ ماننے نہ ماننے کا اس نے دوسرے کو حق دیا ہے۔ نہیں مانتا تو اس کے پاس اس کا حق ہے، نہ مانے۔ آپ اسے مجبور نہیں کر سکتے۔ اسے اللہ کے پاس جانا ہے، وہ جانے اس کا رب جانے۔ اس کا حساب وہاں ہوگا۔ آپ نے جو محنت کی اللہ دیکھ رہا ہے۔
    یوں جس طرح ہر بندے کا معاملہ مختلف ہے تو ہر بندے کے ذکر پر، عبادت پر مختلف انوارات وارد ہوتے ہیں اور اگر مل کر ذکر کیا جائے تو وہ بڑا باغ و بہار گلدستہ بن جاتا ہے۔ کسی کے انوارات کسی نسبت سے (ہر ایک کی الگ نسبت ہے) اگر دس بندے مل گئے تو دس رنگ ہو گئے، اگر دس ہزار مل گئے تو دس ہزار رنگ بن جائیں گے۔ اور ایک یہ حکمت بھی ہے نماز باجماعت میں کہ ایک بندہ پڑھتا ہے تو ایک ہی نسبت کی رحمت آتی ہے، اگر پچاس مل کر پڑھ رہے ہیں تو پچاس قسم کی۔ اللہ کے ساتھ رابطہ ہر بندے کا الگ ہے۔ تو پچاس قسم کی رحمتیں نازل ہو رہی ہیں۔ بندے کو اپنے رب کے ساتھ معاملہ کھرا رکھنا چاہیے۔ فرمایا، انہوں نے بگاڑتے بگاڑتے مجھ سے اتنی بگاڑ لی کہ اب ان پر بڑا سخت عذاب وارد ہوگا۔ اب انہیں آپﷺ کی دعوت بھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ آمَنَّا بِاللهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِيْنَ۝۸ۘ فرمایا، یہ دو قسمیں ہیں، ایک ماننے والے اور دوسرے محروم۔ ایک تیسری قسم بھی ہے وہ اس دوسری قسم سے بھی گئی گذری ہے۔ وہ زبان سے کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے، آخرت کو مانا، لیکن حق یہ ہے کہ انہوں نے مانا نہیں۔ ان کی زندگی ایسی ہوتی ہے کہ اللہ اور اس کے بندوں سے مذاق کرتے ہیں۔ ان کا عمل، ان کا کردار، مذاق ہے۔ کلمہ بھی پڑھتے ہیں، یہ دعویٰ بھی رکھتے ہیں کہ اللہ کومانتے ہیں، لیکن جب ان کا کردار آپ دیکھتے ہیں تو یوں پتہ لگتا ہے جیسے اسلام تو کوئی شے ہی نہیں اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں، بزعم خویش یہ بڑی دانش مندی اور عقل مندی کا کام ہے۔
    یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا۔ مومنین کو دھوکا دے کر، اللہ کو دھوکے میں رکھنا چاہتے ہیں، دل سے نہیں مانا۔ حرام ملتا ہے کھا لیتے ہیں، کہتے ہیں ہم مانتے ہیں۔ بھئی مانتے ہو تو حرام کیوں کھاتے ہو۔ جھوٹ بول لیتے ہیں، کہتے ہیں ہم مانتے ہیں، جھوٹ بولنا بری بات ہے، بری بات ہے تو کیوں بولتے ہو۔ چوری کر لیتے ہیں، کہتے ہیں ہم مانتے ہیں۔ بھئی مانتے ہو تو کیوں کرتے ہو؟ مانتے ہو کہ زہر خراب ہے، کبھی کھایا؟ مانتے ہو کہ آگ سے جل جائیں گے، کبھی اس میں پائوں رکھا؟ ماننا تو اس کا نام ہے۔ یہ تو مذاق ہے دین کے ساتھ کہ کہتے ہیں ہم مانتے ہیں اور ہر برائی کرتے ہو اور ہر غلطی کرتے ہو۔ جہاں سے روکتا ہے، وہیں جاتے ہو۔ یہ کیا ماننا ہے؟ فرمایا یہ دھوکا دینا چاہتے ہیں اللہ کو کہ دنیا میں عیش بھی کریں۔
    شب کو مئے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی
    رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
    فرمایا اللہ کے ساتھ دھوکا نہیں چلتا یہ لوگ تو بے وقوف ہیں۔
    وَمَایَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ۝۹۔ انہیں اپنے کردار کے نتائج بھگتنے ہیں، دعوئوں کے نہیں۔ یہ ایسے بے وقوف ہیں کہ محض کہنے پر نتیجہ مرتب سمجھتے ہیں۔ ایک آدمی کہتا ہے میں نے کھانا کھا لیا، کبھی اس کا پیٹ بھرتا ہے؟ کھائے گا تو بھرے گا۔ اسی طرح جو کہتا ہے میں مومن ہوں اور ایمان پر عمل نہیں کرتا، فرمایا آخرت کو اسے پتہ چلے گا کہ میرا ایمان تو تھا ہی نہیں۔ جب تک عمل نہیں کرتا اس کا نتیجہ تو مرتب نہیں ہوتا۔ تو یہ اللہ کو دھوکا نہیں دے رہے، نہ اللہ کے بندوں کو۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں کہ جب نتیجے کا وقت آئے گا تو خالی ہاتھ رہ جائیں گے اور ان میں اتنا بھی شعور نہیں کہ یہ اپنے ساتھ دھوکا کر رہے ہیں۔
    فرمایا اصل بات یہ ہے کہ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ۔ ان کے دلوں کو مرض لگ گیا، بیمار ہو گئے۔ بیمار نہ غذا ہضم کرتا ہے اور نہ مشقت اور محنت کرتا ہے، نہ کام کر سکتا ہے۔ ان کے دل بیمار ہو گئے، نہ انہیں اللہ کی بات ہضم ہوتی ہے، نہ انہیں تعمیل ارشاد کی توفیق ہوتی ہے۔ جب تک دل صحت مند نہیں ہوگا، نہ قرآن و حدیث کی بات اس پر اثر کرے گی اور نہ اسے توفیق عمل ہو گی۔ تو پتہ چلا کہ اصل شے جس کے متعلق حضور اکرمﷺ نے فرمایا تھا کہ ہر وجود میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے ”اذا صلحت صلح الجسد کلہ“ اگر وہ صحت مند ہو جائے تو پورا جسم صحت مند ہو جاتا ہے اور اگر وہ بیمار پڑ جائے یا اس میں خرابی ہو جائے تو سارے جسم کو تباہ کر دیتا ہے۔ ”الا وھی القلب“ خوب غور سے سن لو! یہ قلب ہے۔ قلب ایک ایسی شے بندے کے سینے میں اللہ نے رکھ دی ہے کہ ایک تو یہ پمپنگ سٹیشن ہے، بدن کے ہر ایک جزو کی زندگی کا مدار خون کے اس قطرے پر ہے جو دل پمپ کر کے اور صاف کر کے پہنچاتا ہے۔ دوسرے، دل کے اندر کوئی ایسی کیفیت اللہ نے رکھ دی ہے کہ اس میں سے جذبات امڈتے ہیں۔ خوشی کے، غم کے، دکھ کے، محبت کے، خواہش اور طلب کے، نفرت اور حقارت کے، تو اگر اس میں سے جذبات ہی صحیح امڈیں تو سارا عمل صحیح ہو جاتا ہے۔ اگر اس میں سے نفرت امڈے تو آپ محبت کیسے کریں گے۔ اگر اس میں سے چوری کی خواہش اٹھے تو آپ دیانت داری کہاں کریں گے۔ اللہ کریم فرماتے ہیں کہ یہ اپنے لب و گفتار کو سجاتے رہے، ظاہری ٹیپ ٹاپ میں لگے رہے، کپڑے انہوں نے اچھے پہن لئے، عہدے اچھے لے لئے لیکن اپنے اندر انہوں نے خیال ہی نہیں کیا کہ اندر جو دل ہے وہ بیمار ہے، اس میں مرض ہے۔ اس کی اصلاح کیا ہے؟ فرمایا۔ اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْب۔ جب تک دل خود اللہ کا نام لینا نہیں سیکھ جائے گا، اسے صحت نصیب نہیں ہوگی۔ اسے اطمینان نہیں آتا بے قرار ہی رہتا ہے۔ تو فرمایا فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ ان کے دلوں میں مرض تھا۔ اس مرض کی وجہ سے انہوں نے اور بدپرہیزی کی جس کا نتیجہ یہ ہوا۔
    فَزَادَھُمُ اللّٰہُ مَرَضًا۔ جوں جوں بدپرہیزی کرتے گئے وہ مرض توں توں بڑھتا گیا۔ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ۝۱۰ تو ان حقائق کے انکار کا بدلہ انہیں ایک دردناک عذاب کی صورت میں ملے گا جو بہت تکلیف دہ ہوگا۔ کافر سے زیادہ تکلیف دہ عذاب اس بندے کو ہوگا جو دعویٰ ایمان رکھتا ہے لیکن اسلام پر عمل کرنے کو تیار نہیں۔ یہ منافق ہے، دھوکا دینا چاہتا ہے احکام الٰہی کو، اللہ کے بندوں کو اور یہ مذاق کرتا ہے دین کے ساتھ۔ کیا یہ مذا ق نہیں ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ میں مانتا ہوں دین برحق ہے اور ہم اس پر عمل نہیں کرتے۔ تو اگر ایسا کیا جائے تو کیا یہ صورت مذاق کی نہیں ہے۔ یہ دھوکا دینے کی نیت نہیں ہے؟ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ دھوکا اللہ سے نہیں، یہ دھوکا بندہ اپنے آپ سے کرتا ہے۔
    دیکھیں معاشرے میں ہمارے روزمرہ ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ ہم سمجھ رہے ہوتے ہیں یہ بات ناجائز ہے۔کوئی کہہ دے جائز ہے تو ہم کر لیتے ہیں۔ تو آپ سے کسی نے حساب بھی لینا ہے۔ میں نے کتنے معاملات نکاح طلاق کے دیکھے ہیں، ایک آدمی طلاق دیتا ہے، اسے خود علم ہوتا ہے طلاق ہو گئی، میں نے دے دی۔ وہ کہتا ہے کوئی کہہ دے کہ طلاق واقع نہیں ہوئی تو ہماری صلح ہو جائے۔ کوئی کیوں کہہ دے ۔کل کس کے سامنے حساب دو گے۔ اللہ کے حضور تمہیں حساب دینا ہے، معاملہ رب سے رکھو۔ یہی حال اعمال کا ہے اور نماز روزے کا بھی۔ کوئی دیکھتا ہے، اچھا کہتا ہے، کوئی برا کہتا ہے۔ یہی حال تبلیغ کا ہے۔ کوئی مانتا ہے یا نہیں مانتا، ان نتائج سے بالا تر ہو کر اپنی ذمہ داری محسوس کر کے، دیانت داری سے اللہ کے حکم کی تعمیل کی جائے۔ نتیجہ کیا ہے یہ اس کا کام ہے، ہمارا کام نتائج مرتب کرنا نہیں ہے۔
    مزید مطالعہ کے لئے سورۃ البقرہ آیات 1تا 10 تفسیر اسرار التنزیل اور تفسیر اکرم التفاسیر ملاحظہ فرمائیں۔
    ٭ ٭ ٭

اس صفحے کو مشتہر کریں