ہشت روزہ کورس سبق نمبر۴: سورۃ البقرۃ آیت ۲۸۵ تا ۲۸۶

'تفسیر القرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از qureshi, ‏فروری 4, 2017۔

  1. qureshi

    qureshi وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    292
    موصول پسندیدگیاں:
    209
    جگہ:
    Afghanistan
    سبق نمبر۴: سورۃ البقرۃ
    آیت ۲۸۵ تا ۲۸۶
    بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۝
    شروع اللہ کے نام سے جو بڑے مہربان نہایت رحم کرنے والے ہیں۔
    اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللهِ
    رسول اللہ(ﷺ) اسی (کتاب) پر ایمان رکھتے ہیں جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر اتاری گئی اور ایمان والے بھی۔ سب ایمان لائے اللہ پر
    وَمَلٰئِكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِہٖ ۣ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ ۣ وَقَالُوْا
    اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر (اور کہتے ہیں) ہم اس کے رسولوں کے درمیان کسی میں کوئی فرق نہیں کرتے اور عرض کرتے ہیں
    سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ڭ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيرُ۝۲۸۵ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا
    کہ ہم نے (آپ کا حکم) سنا اور ہم نے قبول کیا۔ اے ہمارے پروردگار! ہم آپ کی بخشش مانگتے ہیں اور آپ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔ اللہ کسی کو اس کی
    اِلَّا وُسْعَهَا ۭ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۭ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ
    طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے جو (اچھا) کرے گا وہ اس کے لئے ہے اور جو برا کرے گا اسی کو نقصان ہوگا اے ہمارے پرودگار!اگر ہم بھول گئے
    اِنْ نَّسِيْنَا اَوْ اَخْطَاْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى
    یا ہم سے خطا ہوئی تو اس پر ہماری گرفت نہ کیجئے۔ اے ہمارے پرودگار! اور ہم پر بوجھ نہ ڈالئے جیسا آپ نے ہم سے
    الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ ۚ وَاعْفُ عَنَّا ۪
    پہلوں پر ڈالا اے ہمارے پروردگار!اور جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں وہ ہم پر نہ ڈالئے اور ہمارے گناہوں سے درگزر فرمائیے
    وَاغْفِرْ لَنَا ۪ وَارْحَمْنَا ۪ اَنْتَ مَوْلٰنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ۝۲۸۶
    اور ہمیں بخش دیجئے اور ہم پر رحم فرمائیے آپ ہی ہمارے مالک ہیں پس ہم کو کافروں کی قوم پر غالب فرمائیے۔
    اختتام ہے اس سورۃ مبارکہ کا ان آیات مبارکہ پر۔
    اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ فرمایا کوئی مانے نہ مانے، میں نے بندے کو اس کا اختیار دیا ہے۔ دو اختیار رب العٰلمین نے دیے ہیں، زندہ رہنے کا (اس لئے قتل کرنا سب سے بڑا جرم ہے کہ زندگی اس نے دی۔ کسی کی زندگی چلی جائے تو ہم اس کا ایک لمحہ بھی لوٹا نہیں سکتے تو پھر ہمیں کسی کی زندگی کا کوئی لمحہ چھیننے کا بھی کوئی حق نہیں۔ قتل صرف اللہ کے حکم سے کیا جائے گا، بندہ کسی کو قتل کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔) اور عقیدہ وہ جو بندہ اپنی پسند سے اپنائے۔ کوئی کسی دوسرے پر کوئی عقیدہ مسلط نہیں کر سکتا کہ اللہ نے پسند کا عقیدہ رکھنے کا اختیار دے دیا ہے۔ اللہ نے انسان کو عقل دی، شعور دیا، دنیا کو درسِ عبرت بنایا، ہر شے میں اپنی عظمت کی نشانیاں رکھیں۔ اس کے باوجود نبی مبعوث فرمائے، لائحہ عمل دیا، اپنی کتاب دی، اب اگر کوئی نہیں مانتا تو نبی؈ کو فرما دیا۔ لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُسَیْطِر آپ کو ان پر داروغہ نہیں لگایا کہ ڈنڈے سے منوائیں۔ اِنَّ اِلَیْنَآ اِیَابَہُمْ۝۲۵ میری مخلوق ہے، اسے پلٹ کر میرے پاس آنا ہے۔ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَہُمْ۝۲۶ (سورۃ الغاشیہ آیات 25-26)میں ان سے اپنا حساب کر لوں گا۔
    تو فرمایا اٰمَنَ الرَّسُوْلُ اگر کائنات میں ایک بندہ بھی نہ مانے، تو رسول اللہﷺ کا یقین ہی کافی ہے۔ رسول کا ایمان اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ کائنات کا ہر بندہ اگر ایمان سے محروم رہ جائے تو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ دنیا پر ایمان نہیں ہے۔ پھر وہ لوگ جنہیں رسول؈ کا اتباع، تعلق اور نسبت نصیب ہوئی اور جنہوں نے میرے رسول؈ کے ساتھ میری عظمت کو مانا۔ فرمایا مجھے سب سے منوانے کا شوق نہیں ہے۔ اگر منوانا چاہوں، تو جو بنتے میرے حکم سے ہیں، جو پیدا میرے حکم سے ہوتے ہیں، جو مرتے میرے حکم سے ہیں، جو دیکھتے میری دی ہوئی نگاہ سے ہیں، چھین لیتا ہوں تو اندھے ہو جاتے ہیں، جو بولتے میری دی ہوئی گویائی سے ہیں، روک دیتا ہوں تو زبان رک جاتی ہے، ان کا دل میری اجازت سے دھڑکتا ہے، روک دیتا ہوں تو رک جاتا ہے۔ تو ان سے اگر میں حکماً منوانا چاہوں تو کیسے نہیں مانیں گے۔ فرمایا! نہیں زبردستی کی ضرورت نہیں، میرا رسولﷺ ہی کافی ہے یا میرے وہ بندے جنہوں نے میرے نبی؈ کا اتباع کیا اور یہ ماننے والے بندے ایسے ہیں کہ سارے کے سارے اللہ کو مانتے ہیں، اللہ کے فرشتوں کو مانتے ہیں، اللہ کی کتابوں کو مانتے ہیں، اللہ کے تمام نبیوں کی نبوت کو رسولوں کی رسالت کو مانتے ہیں اور کہتے ہیں اے اللہ! لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ ہم تیرے رسولوں میں سے کسی کی تفریق نہیں کرتے کہ یہودیوں کی طرح ان میں سے نصف کو مان لیں اور باقی نصف کا انکار کر دیں یا عیسائیوں کی طرح کہ کچھ رسولوں کو اللہ کے بیٹے بنا دیں اور باقی کا انکار کر دیں۔ نہیں! تیرے سارے ہی انبیاء جنہیں ہم جانتے ہیں وہ بھی سچے، جنہیں ہم نہیں جان سکتے وہ بھی سچے ہیں۔ جسے بھی تو نے مبعوث فرمایا وہ برحق بھی تھا، جو کچھ انہوں نے کہا وہ بھی حق تھا اور وہ سب سچے اور خالص اور کھرے تھے اور یہ کہتے ہیں اے اللہ!
    سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ہم نے سنا اور ہمارا عمل گواہ ہے کہ ہم نے مانا۔ یہ قابل توجہ ہے سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا (النساء ۲۶) نہیں کہا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا فرمایا، ہم نے سنا اور ہم نے اس کی اطاعت کی۔ اسی سے محققین فرماتے ہیں کہ ایمان عمل کا نام ہے، ایمان ایک دعویٰ ہے، عمل اس کا گواہ ہے۔ اگر عمل غلط ہے تو اس دعویٰ کی صحت مشکوک ہو جائے گی۔ گواہ جھوٹا ہے تو دعویٰ ثابت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اسی لئے ارشاد ہوا سَمِعْنَا اے اللہ! ہم نے سنا وَ اَطَعْنَا اور ہم نے اپنی کوشش کی اس کی اطاعت کرنے کی۔
    غُفْرَانَکَ رَبَّنَا ہاں انسانی کمزوریوںکی وجہ سے ماننے میں کمی رہ گئی، اطاعت کا حق ادا نہ ہوا، جس خشوع و خضوع سے کرنی چاہیے تھی وہ نہ ہم حق ادا کرسکے اور بہت سی کمزوریاں اور کمیاں، ہماری انسانی کمزوری کے سبب رہ گئیں، اس لئے ہم تیری بخشش کے امیدوار ہیں۔ غُفْرَانَکَ ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرمایا۔
    وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرْ اس لئے کہ پلٹ کر تو تیرے ہی پاس آنا ہے۔ کہاں جائیں ہم، اپنی کمزوری کس کے پاس لے کر جائیں، ہم اپنی حاجت کہاں بیان کریں، ہم اپنے آپ کو کس بارگاہ میں پیش کریں۔ زندگی میں بھی، موت میںبھی، ہر چیز نے بھی تیرے پاس ہی آنا ہے اور اپنی امیدیں بھی تیرے پاس ہی لانی ہیں۔ دعائیں بھی تجھی سے مانگنی ہیں، کمزوریوں پر پردہ بھی تو ہی ڈالے گا، خطائوں کا بخشنا بھی تیرا ہی کام ہے۔ فرمایا اگر تم اس یقین کے ساتھ آئو تو تم دیکھو گے جس بندے سے جو کام ہو نہیں سکتا میں اس سے کروانا ہی نہیں چاہتا۔ ہم نے بندوں کو خود پیدا کیا ہے، جس کو جس کام کرنے کی طاقت دی ہے، میں چاہتا ہوں کہ اس کام میںوہ میری اطاعت کرے۔ میں نے ایک آدمی کو نظر ہی نہیں دی، میں اس سے نظر کا حساب نہیں لوں گا۔ ایک آدمی کو میں نے اٹھنے کے لئے ٹانگیں ہی نہیںدیں، تو میں اسے یہ نہیں کہوں گا کہ تو نے قیام کیوں نہیں کیا؟ نماز میں ایک آدمی کی استعداد سے ایک کام باہر ہے، اس کا محاسبہ نہیں۔ تم میری بارگاہ میں آئے ہو تو تمہیں یہ بتا دوں۔
    لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا۔ میں بندے کو وہ بات، وہ کام، کرنے کا حکم دیتا ہوں جو وہ کر سکتا ہے۔ جب کر سکتا ہے کرتا ہے تو پھر میرے حکم کے مطابق کرے اور جو کر ہی نہیں سکتا، اس کے بارے میں پوچھوں گا ہی نہیں۔ دوسری بات یہ کہ میں کسی کے لئے کسی کو الزام نہ دوں گا۔
    لَھَا مَا کَسَبَتْ۔ جو کوئی (اچھا) عمل کرے گا، اس کا صلہ پائے گا۔
    وَعَلَیْھَا مَا اکْتَسَبَتْ۔ اگر غلطی کرے گا اس کا نقصان خود اس کو پہنچے گا۔ ہاں تمہارا کام یہ ہے کہ یہ بات دہراتے رہا کرو کہ تم بہت اپنی طرف سے نیکیاں کرتے ہو، ان میں بھی بعض اوقات گستاخی ہو جاتی ہے۔ اپنی طرف سے بھلائی کرتے ہو تو تمہاری عقل کے مطابق بھلائی ہوتی ہے جبکہ اس میں ہوتا نقصان ہے۔ کئی بندوں کو نقصان پہنچ جاتا ہے۔ ایک ڈاکٹر مریض کو صحت کے لئے ٹیکہ لگاتا ہے، صحت کے لئے گولی دیتا ہے، ٹیکہ سے Reaction ہو جاتا ہے، گولی کا اثر الٹ جاتا ہے۔ اس نے زندگی کے لئے دی، وہ مر جاتا ہے۔ یہ ڈاکٹر کے ساتھ نہیں ہوتا، یہ تمہاری زندگی میں بے شمار مس ہیپ (Mishaps) ہوتے ہیں۔ اپنی طرف سے تم اسے نیکی سمجھ رہے ہوتے ہو، ہوتی خطا ہے۔ تو یہ کہتے رہا کرو کہ اے اللہ تو تو واقف ہے۔
    لَا تُؤْاخِذْنَا اِنْ نَّسِیْنَا۔ اگر ہم سے بھول ہوتی ہے ”اَوْاَخْطَاْنَا“ اگر ہم سے خطا ہوتی ہے، اگر ہم اپنے کم علم اور جہالت کی وجہ سے غلط کام کر بیٹھتے ہیں تو تو ہم سے درگزر فرما۔ ہر کوتاہی پر ہمیں پکڑ نہ لے، ہماری ہر غلطی پر روٹھ نہ جانا، ہمارے ساتھ وہ معاملہ نہ کرنا جو ہماری حیثیت ہے، وہ کرنا جو تیری شان کے لائق ہے کہ تو بھولتا بھی نہیں ہے، تو غلط بھی نہیں کرتا، تجھ سے خطا کا بھی کوئی تعلق نہیں، تجھ سے بھول چوک کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ تو ہمارے ساتھ معاملہ اپنی شان کے مطابق کر، ہماری حیثیت کے مطابق نہ کر۔ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا اِصْراً اور اللہ! ہم کمزور ہیں ہم پر بوجھ مت ڈال۔ہمارے لئے آسانیاں پیدا فرما۔ ہم نے اپنے آپ کو تیری بارگاہ میں پیش کر دیا، ہمیں توفیق عمل بھی تو ہی دے۔ ہم میں کچھ نہیں ہے اور ہماری خطائوں سے درگزر بھی فرما اور پہلوں کی طرح پہلی امتوں کی طرح ہمیں سخت احکام نہ دے۔ پہلی امتوں میں بعض عام احکام بھی سخت تھے۔ مثلاً یہود کو کہہ دیا گیا کہ گوشت تو کھا سکتے ہو مذبح جانور کا لیکن چربی نہیں کھا سکتے۔ یا گوشت سینے کا کھا سکتے ہو پیٹھ کا نہیں کھا سکتے عجیب عجیب باتیں ہو گئیں۔ اب دیکھیں ایک ہی جانور میں آدھے اجزاء حلال اور آدھے حرام ہو گئے تو یہ بہت سخت احکام تھے۔ فرمایا ان سے پناہ چاہو کہ بندے کی خطائوں پر اس کے لئے احکام اس پر سخت کر دیے جاتے ہیں۔
    اور تم پر اللہ نے یہ مہربانی کی کہ امت مرحومہ میں ہر کام میں آسانی پیدا فرما دی اور کلیہ ارشاد فرمایا دیا کہ تم سے جو نہیں ہو سکتا۔ میں تم کو اس کے کرنے کا حکم بھی نہیں دیتا۔ بات ہی ختم ہو گئی۔ اس کاحق ادا اس طرح سے ہوتا ہے کم از کم اس کا شکر تو ادا کرتے رہو اور یہ کہتے رہو کہ اللہ ہم پر اس طرح سے بوجھ مت ڈالنا جس طرح ہم سے پہلی امتوں پر ڈالا گیا۔ مثلاً یہی رمضان کو لے لیجئے تو فرمایا ہر امت پر روزہ فرض تھا، آدم سے لے کر حضور نبی کریمﷺ تک۔ لیکن سب امتوں میں روزے کے اوقات یہ ہوتے تھے کہ مغرب کو افطار کیا، جب تک کوئی جاگتا رہا کھاتا پیتا رہا، جیسے سو گئے روزہ بند ہو گیا۔ خواہ آدھے گھنٹے بعد ہی سو گیا، خواہ آدھی رات کو جا کر سویا، لیکن سونے کے بعد اٹھ کر نہیں کھا سکتا۔ عیسائی جو رکھتے ہیں، وہ اب بھی اسی طرح چوبیس گھنٹے کا روزہ ہوتا ہے۔ اسلام میں بھی ابتداً اسی طرح تھے۔
    اللہ کروڑوں کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے صحابہ کرام پر۔ قرآن کے مثالی مسلمان۔ اللہ جل شانہ کے وہ بندے جنہیں سب سے پہلے رب العالمین نے خطاب فرمایا۔ اللہ کے وہ مقرب بندے، جنہیں براہ راست رسول اللہﷺ کی شاگردی کی سعادت نصیب ہوئی۔ یہ کوئی بڑے ہی عجیب لوگ تھے، بڑے خوش نصیب تھے اور ان کے صدقے تمام امت کے لئے بے شمار آسانیاں پیدا فرمائی گئیں۔ ان کا خلوص، ان کی جان نثاری، ان کی قربانیاں قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لئے آسانیاں پیدا کر گئیں۔ ایک صحابی؄ جو پیشے کے لحاظ سے مزدور تھے، دن بھر مزدوری کی، شام کو آئے۔ گھر میں کھانے کو کچھ نہیں تھا، مزدوری کی اجرت نہیں ملی تھی۔ اہلیہ اس بات کی منتظر تھی کہ وہ لائیں گے تو سودا سلف آئے گا اور وہ لائے کچھ نہیں۔ فرمایا گھر کچھ کھانے کو ہے؟ نہیں تو پھر کچھ انتظام کرو۔ اس نے کہا میں کچھ کرتی ہوں۔ کہیں سے مانگ لیتی ہوں، کہیں سے لاتی ہوں۔ وہ چلی گئیں اور یہ لیٹے، اونگھ آئی اور آنکھ لگ گئی۔ جب وہ واپس آئی تو وہ سوئے ہوئے تھے۔ لہٰذا اب روزہ تو بند ہو گیا بغیر کھائے پیے۔ غریب آدمی تھے، اگلے دن پھر مزدوری پر چلے گئے۔ اجرت تو شام کو پھر نہ ملی۔ شاید یہ ہو کہ کام ختم ہوگا تو ملے گی۔ کام دو چار دن کا ہوگا ختم نہ ہوا ہوگا۔ بہرحال کسی وجہ سے کچھ بھی نہ لا سکے تو گھر آکر پھر وہی صورت حال ان کی منتظر تھی۔ پھر بیوی بھاگی دوڑی کہ کہیں سے کچھ پکڑ لاتی ہوں، آئی تو وہ سو چکے تھے۔ اگلے دن صبح کام پر گئے تو بے ہوش ہو گئے، دوپہر کو بات بارگاہ نبوی ﷺ تک پہنچی، اللہ نے اس کا جواب یہ دیا کہ:
    كُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۔ ( البقرہ 187) یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی کہ سو جائو یا جاگتے رہو، اب فجر طلوع ہونے تک تمہیں کھانے پینے کی اجازت ہے۔ تمہارا روزہ قبول ہے۔ کیسے عجیب لوگ تھے اور اللہ نے انہیں اتنا خلوص دیا تھا کہ انہوں نے جانیں دے دیں، تکلیفیں اٹھائیں، گھر بار لٹائے اور قیامت تک آنے والی امت مرحومہ کے لئے آسانیاں پیدا فرما گئے۔ تو فرمایا یہ دعا کرتے رہا کرو۔
    یاد رکھئے! دین کو بوجھ نہیں بنانا چاہیے۔ دین میں جو پہلو رخصت کے اللہ نے دیئے ہیں، جس طرح اللہ کے دیے ہوئے مشکل احکام کو ماننا سعادت مندی اور رضائے الٰہی کا سبب ہے۔ اسی طرح اللہ کی دی ہوئی رعایتوں سے فائدہ اٹھانا بھی سعادت مندی ہے اور اگر ان سے فائدہ نہ اٹھایا جائے تو بعض اوقات بڑے تلخ نتائج سامنے آجاتے ہیں۔ اگر ریاکاری ہو پھر تو ایمان تباہ ہو جاتا ہے۔ مخلصین پر دنیوی مصیبتیں ضرور آجاتی ہیں۔ میں ایک دن حسین بن منصور حلاجؒ کے حالات پڑھ رہا تھا۔ ایک عجیب واقعہ میری نظر سے گزرا کہ ایک دفعہ مکہ مکرمہ میںکوئی شیخ تشریف فرما تھے۔ ان کے ساتھ ان کے شاگرد بھی تھے۔ ان کے کسی شاگرد نے عرض کی کہ حضرت یہاں کوئی صوفی ہے جو بہت مجاہدہ کرتا ہے۔ وہ حسین بن منصور حلاجؒ تھے۔ جبل ابو قیس پر مسجد بلال کے سامنے کی چٹانوں پر جا کر بیٹھ جاتے اور سارا سارا دن بیٹھے ذکر اور مراقبات کرتے رہتے اور اٹھ کر سایے تک جانے کا تکلف نہ کرتے۔ ان دنوں صحرائے عرب میںبہت سخت گرمی ہوتی تھی۔ سبزہ نام کو بھی نہیں تھا۔ آج کل وہ گرمی تو پچاس فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔ جگہ جگہ پانی اور سبزہ ہو گیا ہے، وہ شدت نہیں رہی۔ اس وقت تو بہت شدید گرمی ہوتی تھی۔ شیخ نے کہا کہ چلیے زیارت تو کرتے ہیں اور وہ اس کے ساتھ تشریف لے گئے۔ دوپہر کا وقت تھا، یہ چٹان پر بیٹھے ذکر میں مگن تھے، پسینہ ٹپک ٹپک کر چٹان میں جذب ہو رہا تھا، بخارات اڑ رہے تھے۔ شیخ نے فرمایا! یہاں سے بھاگ چلو! کیونکہ یہ شخص اللہ کی ابتلاء کو دعوت دے رہا ہے۔ بھئی جب مسجد پاس ہے، سایہ موجود ہے تو یہ سائے میں کیوں نہیں بیٹھتا۔ دھوپ میںکیوں بیٹھا ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ یہ اللہ کی آزمائش کو دعوت دے رہا ہے، اپنی جرأت کا اظہار کر رہا ہے، اس پر کوئی بڑی سخت گرفت ٹوٹے گی یہاں سے بھاگ چلو۔ اور وہی ہوا، ان کی بات سچ نکلی کہ بالآخر حکومت نے ان کے قتل کا حکم دیا کہ پہلے ہاتھ اور پائوں کاٹے جائیں، پھر سولی پر لٹکایا جائے۔ جب مر جائے، تو اسے جلا کر دریا میں پھینکا جائے۔ چونکہ خلوص تھا، ایمان پر زد تو نہ آئی لیکن خواہ مخواہ رعایت سے روگردانی کی تو مشکلات بڑھا دی گئیں۔
    اس لئے یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ ہم پر بوجھ نہ ڈال، نرمی کر، نرمی کا معاملہ فرما، ہم کمزور ہیں۔ ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں۔ ہم اپنی جرأت کا اظہار نہیں کرتے اور اس طرح کے مشکل احکام ہم پر نازل نہ فرما جس طرح کے پہلوں پر تھے۔
    وَلَا تُحَمِّلْنَا مَالَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ۔ کوئی ایسی خدمت بھی ہم سے نہ لے جو ہم کر ہی نہ سکتے ہوں۔ ایسا بوجھ ہم پر نہ لاد جو ہم اٹھا نہ سکتے ہوں۔ وَاعْفُ عَنَّا ہم سے تو درگزر کا معاملہ فرما وَاغْفِرْلَنَا اللہ ہمیں بخش دے۔ ہم تیری بخشش کے محتاج ہیں، ہمیں اپنے اعمال پر فخر نہیں ہے، ہمیں اپنے مجاہدے پر ناز نہیں ہے، ہمیں اپنی خوبیوں کا کوئی احساس نہیں ہے بلکہ ہمیں تیری بخشش کی امید ہے۔ ہماری کامیابی یہ ہے، ہماری ولایت یہ ہے، ہمارا علم یہ ہے، ہمارا جہاد یہ ہے، ہمارا سب کچھ یہ ہے کہ تو ہمیں بخش دے۔ ہمیں تیری بخشش چاہیے۔ وَارْحَمْنَا اور ہمیشہ ہم پر رحم فرما اَنْتَ مَوْلٰناَ سب کچھ تجھی سے اس لئے مانگ رہے ہیں کہ تو ہی ہمارا مالک ہے۔ تیرے ساتھ ہی ہم نے عہد وفا باندھا ہے۔ تجھے نہیں چھوڑ سکتے، تیری ساری کائنات کو چھوڑ سکتے ہیں، تیری مخلوق سے منہ موڑ سکتے ہیں، تیرے بندوں کے سوا گزارا ہو سکتا ہے، حکومت و سلطنت چھوڑی جا سکتی ہے، گھر بار چھوڑا جا سکتا ہے لیکن تیری ذات سے منہ موڑنا یہ ممکن نہیں ہے۔ ہم تیرے ہی تو بندے ہیں۔ تو ہی تو ہمارا مالک ہے۔ اور بارِ الہ جس طرح ہمیں اور مصیبتوں سے بچاتا ہے اسی طرح اپنے نہ ماننے والوںکو ہم پر مسلط نہ کر۔ ہمیشہ کفار
    کے مقابلے میں ہمیں فتح دے۔ ہمیں ان کے مقابلے میں رسوا نہ ہونے دینا۔
    اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح دوسرے بہت سے اللہ کے عذاب ہیں، اسی طرح کفار سے شکست کھانا بھی مومن کے لئے بڑا عذاب ہے۔ اگر بندے میں شعور ہو، احساس ہو تو کافر سے دب کر رہنا اور معاشرے میں کافر سے شکست خوردہ ہو کر رہنا اور کافر کا دست نگر ہو کر رہنا اور کافروں سے امیدوارِ کرم رہنا، یہ بات اسلام کے ساتھ زیب نہیں دیتی۔ لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ جہاں ہمارے سر جھکنے چاہیں تھے (اللہ کی چوکھٹ پر)، وہ چوکھٹ ہمارے سجدوں سے خالی ہے اور جہاں ہمارے سر بلند رہنے چاہیں (کفار کے مقابلے میں) وہاں ہماری گردنیں جھکی ہوئی ہیں۔ عزیزو! قرآن حکیم ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اپنا ٹوٹا پھوٹا کمزور عمل بھی اللہ کے پاس لے جائو۔ اے اللہ! تو میرا مالک ہے، یہ ٹوٹا پھوٹا بھی تو ہی قبول فرما۔ اس سے امیدوار کرم رہو اور اللہ کے نہ ماننے والوں کے سامنے اللہ کے بندے بن کر اور جرأت وہمت سے زندگی گزارو۔ کافر سے دب کر رہنا عذاب الٰہی ہے، خلافِ ایمان ہے۔ گناہوں کی سزا ہے۔ اپنے آپ کو اس جگہ لے جائو کہ کفر تم سے دبے نہ کہ تمہیں کفر سے دب کر جینا پڑے۔
    مزید مطالعہ کے لئے سورۃ البقرہ آیات 285تا286 تفسیر اسرار االتنزیل اور تفسیر اکرم التفاسیر ملاحظہ فرمائیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں