ہم حقیقی اسلام سے دور جا پڑے ہیں

'غور کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جولائی 11, 2013۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,624
    موصول پسندیدگیاں:
    789
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    ہم حقیقی اسلام سے دور جا پڑے ہیں​

    ایک (مصری) بزرگ نے اصرار فر مایا کہ میں عالم اسلام کے متعلق اپنے خیالات ظاہر کورں اور بتاؤں کہ مسلمان کے کی اصلاح کی میرینزدیک کیا صورت ہو سکتی ہے ۔اس کے جواب میں میں (مولانا محمد علی جوہرؒ) نے عرض کیا کہ جس طرح آج ہمارے بعض ترک بھائی سمجھتے ہیں اسی طرح مجھے خوف تھا کہ میں بھی سمجھنے لگوں کی شکست ہم کو یورپ نے دی اس کا سبب یہی ہے کہ ہم اسلام کے غلط راستہ پر جارہے ہیں ۔ اور یورپ کی تقلید نہیں کرتے ۔ مگر الحمد للہ کہ میں اس غلطی میں مبتلا ہو نے سے بال بال بچ گیا ۔ افسوس ہے کہ میں اسلام سے تو زیادہ واقف نہ تھا مگر یورپ سے خاصی طرح واقف ہو گیا تھا اور اس کی تہذیب وتمدن کے فریب میں مبتلا نہ ہو سکا ۔ اسلام سے میں جس قدر واقف ہوا ۔ اس نے مجھے یقین دلایا کہ ہماری تباہی کا سبب یہ نہیں ہے کہ ہم اسلام کے سچے پیرو ہیں اور یورپ کی اتباع نہیں کرتے ابلکہ اس کا اصلی سبب یہی ہے کہ ہم حقیقی اسلام سے دور جا پڑے ہیں اور اس پر عامل نہیں ہیں اور یورپ پھر بھی بعض چیزوں میں اسلا کا اتباع کر رہا ہے ۔ جوں جوں میں اسلام کی حقیقت سے اور زیادہ واقف ہو تا گیا میرا یہ گمان درجہ یقین تک پہنچتا گیا اور اب تو میں اپنی زندگی کو اس مشن کیلئے واقف کر چکا ہوں کہ پہلے خود مسلمان بنوں پھر اور مسلمانوں کومسلمان بناؤں اور بالاخر چار دانگ عالم میں نور اسلام پھیلاؤں۔ہم مسلمان وہی غلطی کر رہے ہیں جس کے باعث کفار تباہ حال ہوئے یعنی ہم نے انسانی زندگی کے دو ٹکڑے کر ڈالے اور جسم کو روح سے اور روح کو جسم سے الگ کر کے اپنے اوپر موت کی سی کیفیت طاری کر دی ۔ ہم نے دین اور دنیا میں تقریق کر دی حالانکہ دین دنیا کے صحیح طور پر برتنے ہی کا نام ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں ۔ رسول اللہ ﷺﷺ کے سارے مشن کا خلاصہ اقبال کے اس ایک مصرعے میں ہے کہ
    از کلیدِ دین در دنیا کشاد
    ااور اسلام سارے عالم کو اسکی دعوت دے رہا ہے کہ
    سر عیش جاوداں خواہی بپا
    ہم زمیں ہم آسماں خواہی بپا​
    افسوس کہ ہم نے ارض کوسما ءسے علحدہ کر دیا ۔ جس کا نتیجہ وہی اجارہ داری ہے جس نے کفار کو غلام بنا کر چھوڑا ۔ کچھ لوگ دنیا کے اجارہ دار بن بیٹھے اور بر ہمن اور بطریق اور پاپائے اعظم اور خواجہ اور صوفی اور مولوئی ملا کہلائے ۔حالانکہ اسلام نے نہ باشاہت جائز سمجھا اور نہ بر ہمنیت کو،اور ہر آزاد شخص کو با دشاہت کا لقب دیا اور ہر انسان کو عالم بنانا چاہا ۔ہمارے علماء نے اپنے اور بادشاہوں کے لئے اجارہ داریوں کو قبول کر کے ہم کو حقیقی اسلام سے بہت دور پھینک دیا اور Empiire$ papacy(بادشاہت اور پا پائیت) کے دو بت جو ہبل اور لات وعزیٰ سے بھی بڑھے ہوئے ہیں ساری دنیا میں مع دنیا اسلام کے آج بھی پوجے جارہے ہیں ۔ان بتوں کا توڑنا ہمارا پہلا فر ض ہے اور ہمارے دنیا داروں کو دین دار اور دین داروں کو دنیا دار بننا پڑے گا لیکن حقیقی طور پر دنیا داراور دین دار اس لئے کہ مصنوعی طور پر تو اکثر دنیا دار بنتے ہیں اور اکثر دین دار بد ترین قسم کے دنیا دار ہوتے ہیں(سفر نامہ یورپ مولانا محمد علی جوہر)

اس صفحے کو مشتہر کریں