ہم مسافر یونہی مصروفِ سفر جائیں گے

'پسندیدہ کلام' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نبیل خان, ‏دسمبر 2, 2013۔

  1. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ہم مسافر یونہی مصروفِ سفر جائیں گے
    بے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گے

    کس قدر ہو گا یہاں مہر و وفا کا ماتم
    ہم تری یاد سے جس روز اتر جائیں گے

    جوہری بند کیے جاتے ہیں بازارِ سخن
    ہم کسے بیچنے الماس و گہر جائیں گے

    نعمتِ زیست کا یہ قرض چکے گا کیسے
    لاکھ گھبرا کے یہ کہتے رہیں، مر جائیں گے

    شاید اپنا بھی کوئی بیت حُدی خواں بن کر
    ساتھ جائے گا مرے یار جدھر جائیں گے

    فیض آتے ہیں رہِ عشق میں جو سخت مقام
    آنے والوں سے کہو ہم تو گزر جائیں گے
    شاعر فیض احمد فیض
  2. احمدقاسمی

    احمدقاسمی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,624
    موصول پسندیدگیاں:
    790
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    کس قدر ہو گا یہاں مہر و وفا کا ماتم
    ہم تری یاد سے جس روز اتر جائیں گے

    اب اترو بھی خالی کھولی دھمکی۔۔۔۔۔۔۔دیئے جارہے ہو
  3. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,572
    موصول پسندیدگیاں:
    452
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    ہم مسافر یونہی مصروفِ سفر جائیں گے
    بے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گے

    کس قدر ہو گا یہاں مہر و وفا کا ماتم
    ہم تری یاد سے جس روز اتر جائیں گے
    بہت خوب
  4. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    پسندیدگی کا شکریہ صاحبان و قدردان

اس صفحے کو مشتہر کریں