ہندوستان کی شان میں اردو زبان ہوں : اردو وراثت کارواں مشاعرہ

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از حیدرآبادی, ‏اپریل 7, 2013۔

  1. حیدرآبادی

    حیدرآبادی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    53
    موصول پسندیدگیاں:
    9
    چکبست اور فراق کے ماتھے کا تلک ہوں
    اقبال کے نغمات میں آیات کی جھلک ہوں
    دوہوں میں کبیر کے محبت کی مہک ہوں
    کیوں مجھ کو کہہ رہے ہو کہ میں مسلمان ہوں
    ہندوستان کی شان میں اردو زبان ہوں​

    ہندوستان ایک ایسا گلدستہ ہے کہ جس میں کئی مذاہب کے ماننے والے اور کئی بولیاں بولنے والے اور کئی خطوں کے لوگ آباد ہیں۔ لیکن یہ بات مسلمہ ہے کہ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔اور نہ کوئی علاقہ ہوتا اور نہ کوئی مسلک ہوتا ہے اس کے باوجود آزادی ہند کے بعد سے مسلسل اُردو زبان کو مسلمانوں سے منسوب کرکے اسے اسکے جائز حق سے محروم کیا جاتا رہا ہے اور اُردو پر سرکاری مراعات کے دروازے بند کئے جارہے ہیں اوراُردو کے خاتمہ کوشش کے طور پر اس کے رسم الخط کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں۔
    ایسے دور میں سابق چیف جسٹس آف انڈیا و چیرمن پریس کونسل آف انڈیا جسٹس مارکنڈے کاٹیجو کی قیادت میں ایک نمائندہ وفد جسمیں جناب منظر بھوپالی ، اسیر برہان پوری ، ندافاضلی، منوررانا ، جناب عقیل نعمانی اور آصف اعظمی وغیر شامل ہیں اُردو وراثت کارواں کے نام سے ہندوستان کی تمام ریاستوں اور ا سکے بڑے شہروں کا دورہ کررہا ہے۔ تاکہ اُردوکی موجودہ حالت کا اندازہ کرنے ، اُردو کے تحفظ اور اس کے فروغ کے لیے لائحہ عمل طئے کیا جائے۔ یہ کارواں اپنے پہلے مرحلے میں چار ریاستوں دہلی ، مہاراشٹرا ، مدھیہ پردیش ، اترپردیش کا سفر مکمل کرکے دوسرے مرحلہ کا آغاز آندھرا پردیش کی راجدھانی و موتیوں کے شہر اور اُردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر کے بسائے محبت بھرے شہر حیدرآباد سے شروع کر رہا ہے۔

    شہر حیدرآباد میں جب بھی کسی مشاعرے کا اعلان ہوتا ہے باذوق سامعین کی ایک بڑی تعداد شعرا کو سننے پہونچ جاتی ہے۔ چنانچہ اس مشاعرے میں بھی باذوق محبان اردو کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔اس مشاعرے کے آغاز سے قبل اُردو وراثت کارواں کے کنوینر جناب آصف اعظمی نے تمہیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشاعرہ تہذیب اور کلچر کا ایک حصہ ہے اور حیدرآباد تو اُردو کا شہر ہے چنانچہ حیدرآبادی عوام نا صرف مشاعروں میں ذوق سے شرکت کرتے ہیں بلکہ سخن سے محظوظ بھی ہوتے ہیں ۔

    اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس ماکنڈے کاٹجونے اس کاروان کے آغاز کا مقصد بتایا کہ ہندوستان کی ایک مشترکہ تہذیب ہے اور اس تہذیب کے دوحصے ہیں ایک حصہ اُردو تہذیب اور دوسرا حصہ سنسکرت تہذیب پر مشتمل ہے لیکن آج ہندوستانی تہذیب کے یہ دونوں حصے غلط فہمیوں کی وجہ سے اپنے جائز حقوق سے محروم ہو رہے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان مہاجروں کا مقام ہے پہلے کئی مقامات سے لوگ ہندوستان تجارت کی غرض سے آتے تھے اور خصوصیت کے ساتھ شمال مغرب سے بہت سے لوگ ہندوستا ن آئے لیکن یہاں سے کوئی دوسری طرف ہجرت کرکے نہیں گیا جب مختلف لوگوں کی آمد میل جول اور میل ملاپ سے ایک سادہ تہذیب وجود میں آئی جسے سنسکرت اور اُردو تہذیب کہتے ہیں لیکن آج لوگوں نے سنسکرت کو ہندوؤ ںکی زبان کہہ کر اور اُردو کو مسلمانوں کی زبان کہہ کر ان دونوں کی جڑیں کاٹ دیں ۔ اور 1857کی جنگ آزادی (غدر) کے بعد سے مسلسل اُردو کے ساتھ نا انصافیاں ہورہی ہیں ۔اسی لئے اس کے سد باب کے لئے کاروان کا آغاز کیا گیا ہے۔

    اس کے بعد باقاعدہ مشاعرے کے آغاز کے لئے ناظم مشاعرہ جناب منصور عثمانی صاحب نے میزبان شاعرہ و دکن کی آبرو محترمہ تسنیم جوہر کو دعوت سخن دی ۔وہ اسٹیج پر تشریف لائیں۔
    انہوں نے اُردو پر ایک خوبصورت نظم کہی جس میں اُردو کے شاندار ماضی اور تاریک حال اور تابناک مستقبل کا تذکرہ کیا اس نظم کے ان اشعار پر سامعین نے انہیں خوب سراہا ۔

    چکبست اور فراق کے ماتھے کا تلک ہوں
    اقبال کی نغمات میں آیات کی جھلک ہوں
    دوہوں میں کبیر کے محبت کی مہک ہوں
    کیوں مجھ کو کہہ رہے ہو کہ میں مسلمان ہوں
    ہندوستان کی شان میں اردو زبان ہوں

    اس کے بعد ناظم مشاعرہ نے رائے بریلی سے تشریف لائے مہمان و نوجوان اور جذباتی شاعر عقیل نعمانی کو دعوت سخن دی ان کی غزل کے مندرجہ اشعار پر سامعین نے انہیں دل کھول کر داد دی ۔

    کسی پہ مٹنے مٹانے سے فائدہ کیا ہے
    مزہ تو جب ہے کہ کسی کے لئے جیا جائے
    وہ دیکھتا ہے وضاحت طلب نگاہوں سے
    میں چاہتا ہوں اشارہ سمجھ لیا جائے
    محاذ جنگ پر اکثر بہت کچھ کھونا پڑتا ہے
    کسی پتھر سے ٹکرانے کو پتھر ہونا پڑتا ہے

    اس کے بعد ناظم مشاعرہ نے مشاعرے کو سنجیدگی کے ماحول سے مزاح کی طرف لے جانے کے لئے حیدرآباد کے پڑوسی شہر نظام آباد سے تشریف لائے مزاحیہ کلام کے مخصوص شاعر جناب اقبال شانہ کو دعوت سخن دی انہوں نے اپنی نجی زندگی کی کہانی سناکر کہانی کو اشعار کے قال میں ڈھال کر محفل کو زعفران زار بنادیا ان کے مندرجہ ذیل اشعار پر سامعین نے انہیں خوب سراہا ۔

    تیرا رشتہ چچا غالب سے گر طئے ہوگیا ہوتا
    تو چاچی غالباً ہوتی بھتیجہ میں تیرا ہوتا
    میں اُردو شاعری کرتا فراقت میں تیری جانے جاناں
    خدا کے فن سے پائے کا شاعر بن گیا ہوتا
    شوہر ہو اپنا فرض ادا کررہا ہوں میں
    وہ سورہی ہے اور ہواکر رہاہوں میں
    ہوں خدا کے فضل سے نابغہ روزگار
    عورت کے روزگار پر مزہ کررہا ہوں میں

    ناظم مشاعرہ نے اُردو دنیا کے محبوب شاعر جناب منظر بھوپالی کو دعوت سخن دی۔ انہوں نے ذلت کی زندگی جینے والوں مرجانے کا مشورہ دیتے ہوئے ایک بہترین قطعہ کہا ہے
    عزت کے بناء جینا بھی کیا جینا ہے اے منظر
    ذلت سے ہی جینا ہے تو مرکیوں نہیں جاتے
    ذہن و دل میں تمہیں آباد کریگی دنیا
    کچھ کرو کام تب ہی یاد کریگی دنیا

    انہوں نے بیٹی کو خدا کی رحمت کہتے ہوئے لڑکیوں کی عظمت اور ان کی پرورش کی اہمیت کو ان اشعار کے ذریعے اجاگرکیا۔
    بیٹیاں ہوتی ہیں پرنور چراغوں کی طرح
    روشنی دیتی ہیں جس گھر میں چلی جاتی ہیں
    فاطمہ زہرہؒ کی تعظیم کو اٹھتے تھے رسولﷺ
    محترم بیٹیاں اس واسطے کہلاتی ہیں

    ناظم مشاعرہ مسند نظامت سے اٹھ کر میدان غزل گوئی میں تشریف لائے اور ان اشعار پر سامعین سے بے پناہ داد بھی وصول کیئے

    ہر روز نئے طرح کے غم ٹوٹ رہے ہیں
    محسوس یہ ہوتا ہے کہ ہم ٹوٹ رہے ہیں
    وہ ظلم بھی اس دور کے انساں پہ ہوا ہے
    جس ظلم کو لکھنے میں قلم ٹوٹ رہے ہیں

    اس کے بعد ناظم مشاعرہ نے اسی مائک سے اس ممتاز شاعر کو دعوت دی جس کو سننے کے لئے ہزار وں کا مجمع بے تاب تھا اور وہ شاعر بلا مبالغہ اُردو غزل کی آبرو ہے جس نے غزل کو درباروں کی قید سے آزاد کراکر کوٹھوں کے اتراتے بوتلوں کے نشے سے نکال کر طوائف کی داستانوں سے نکال کر ماں کے مقدس قدموں میں بٹھاکر جنت کے مقدس مقام تک پہنچانے میں اپنی شاعری صرف کردی۔ اور یہ شاعر جناب منور رانا تھے جنہیں دعوت سخن دی گئی ۔انہوں نے اپنے جذبات سے بھر پور اور مقدس رشتوں کی پاسدار شاعری کے مختلف اشعار کہہ کر مشاعرے کو لوٹ لیا ۔
    منور رانا کہ چند اشعار اس طرح ہیں ۔

    کسی کے زخم پر چاہت سے پٹی کون باندھے گا
    اگر بہنیں نہیں ہوں تو راکھی کون باندھے گا

    یہ بازار سیاست ہے یہاں خوداریاں کیسی
    سبھی کے ہاتھ میں کاسہ ہے مٹھی کون باندھے گا

    تمہاری محفلوں میں ہم بڑے بوڑھے ضرور ہیں
    اگر ہم نہ ہوں گے تو پگڑی کون باندھے گا

    مقدر دیکھے وہ بانجھ بھی ہے اور بوڑھی بھی
    ہمیشہ سونچتی رہتی ہے گٹھڑی کون باندھے گا

    وہ نم آنکھیں لبوں سے یوں کہانی چھین لیتی ہیں
    ہوائیں جس طرح بادل سے پانی چھین لیتی ہیں

    مسائل نے ہمیں بوڑھا کیا ہے وقت سے پہلے
    گھریلو الجھنیں اکثر جوانی چھین لیتی ہیں

    ہم کو دنیا نے بسائے رکھا ہے دل میں اپنے
    ہم کسی حال میں بے گھر نہیں ہونے والے

    یہ جو سورج لیے کاندھوں پر پھرا کرتے ہیں
    مربھی جائے تو منور نہیں ہونے والے

    مجھے اپنی وفاداری پر کوئی شک نہیں ہوتا
    میں خونِ دل ملا دیتا ہوں جب جھنڈا بناتا ہوں

    بہر حال اُردو وراثت کارواں کا یہ مشاعرہ تقریباً رات دس بجکر تیس منٹ پر اختتام کو پہنچا ۔
    اس موقع پر ریاست و ملک کے مختلف سیاسی ، سماجی ، سرکاری ، ادبی وہ علمی شخصیات موجود تھیں جن میں قابل ذکر ڈاکٹر خواجہ اکرام الدین ڈائرکٹر قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان جناب فاروق حسین ایم ایل سی ، جناب ابراہیم بن عبداللہ مسقطی ایم ایل سی ، ایم اے وحید کمشنر اقلیتی بہبود حکومت آندھرا پردیش ، جناب ظہیر الدین علی خاں ، پروفیسر ایس اے شکور، جناب کرن راموجی راؤ، پریس کونسل آف انڈیا کے جنرل سکریٹری درگا بھارتی ، و اراکین پریش کونسل آف انڈیا ، جناب اکول سبھروال ڈی سی پی حیدرآباد ، جناب ڈاکٹر اقبال احمد اورخواجہ معین الدین کے علاوہ فرزندان اُردو کی اتنی کثیر تعداد موجود تھی کہ للتھ کلاتھورنم کا وسیع و عریض میدان اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کررہا تھا ۔

    ***
    تعمیر نیوز رپورتاژ : حیدرآباد میں اردو وراثت کارواں کا عظیم الشان مشاعرہ

اس صفحے کو مشتہر کریں