یزید پر لعنت کا مسئلہ۔ علماء احناف ودیوبند کی نظر میں

'غور کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از اسداللہ شاہ, ‏دسمبر 8, 2011۔

  1. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,317
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    علامہ عبدالعزیز فرہاروی حنفی (م۱۲۳۹ھ)

    برصغیر کے معروف عالم ومصنف علامہ عبدالعزیز فرہاروی حنفی یزید پر لعنت کو غلط فعل قراردیتے ہیں کہ لعن یزید سے روکنے والے اہل سنت کو خارجی قراردینا قواعد شریعت کے منافی ہے :

    لا یجوز لعن کل شخص بفعلہ فاحط ہذا ولاتکن من الذین لایراعون قواعد الشرع ویحکمون بأن من نہی عن لعن یزید فہو من الخوارج۔

    ترجمہ: کسی شخص کو اس کے کسی فعل کی بنا ء پر لعنت ملامت کرنا جائز نہیں۔ پس اس بات کو یاد رکھو اور ان لوگوں میں سے نہ ہو جو قواعد شریعت کا لحاظ نہیں کرتے اور ہر اس شخص پر خارجی ہونے کا فتویٰ لگادیتے ہیں جویزید کو لعن طعن کرنے سے روکتا ہے ۔ (النبراس، شرح العقائد، ص۳۳۲)

    قطب العالم مولانا رشید احمد گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ (م۱۳۲۳ھ/۱۹۰۵ء):

    حدیث صحیح ہے کہ جب کوئی شخص کسی پر لعنت کرتا ہے ، اگر وہ شخص قابل لعن ہے تو لعن اس پر پڑتی ہے ورنہ لعنت کرنے وا لے پر رجوع کرتی ہے۔ پس جب تک کسی کا کفر پر مرنا متحقق نہ ہوجائے، اس پر لعنت نہیں کرنا چاہیے کہ اپنے اوپر عود لعنت کا اندیشہ ہے۔ لہٰذا یزید کے وہ افعال ناشائستہ ہرچند موجب لعن کے ہیں ،مگر جس کو محقق اخبار اور قرائن سے معلوم ہوگیا کہ وہ ان مفاسد سے راضی وخوش تھا اور ان کو مستحسن اور جائز جانتا تھا اور بدون توبہ کے مرگیا تو وہ لعن کے جواز کے قائل ہیں اور مسئلہ یوں ہی ہے ۔

    اور جو علماء اس میں تردد رکھتے ہیں کہ اوّل میں وہ مومن تھا۔ اس کے بعد ان افعال کا وہ مرتکب تھا یا نہ تھا اور ثابت ہوا یا نہ ہوا، تحقیق نہیں ہوا۔ پس بدون تحقیق اس امر کے لعن جائز نہیں۔ لہٰذا وہ فریق علماء کا بوجہ حدیث منع لعن مسلم کے لعن سے منع کرتے ہیں اور یہ مسئلہ بھی حق ہے ۔

    پس جواز لعن اور عدم جواز کا مدار تاریخ پر ہے اور ہم مقلدین کو احتیاط سکوت میں ہے ۔ کیونکہ اگر لعن جائز ہے تو لعن نہ کرنے میں کوئی حر ج نہیں لعن، نہ فرض ہے ، نہ واجب ، نہ سنت محض مباح ہے اور جو وہ محل نہیں تو خود مبتلا ہونا معصیت کا اچھا نہیں۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم ۔ (رشید احمد )]مولانا رشیداحمد گنگوہی، فتاویٰ رشیدیہ، کتاب ایمان اور کفر کے مسائل ، ص ۳۵۰[

    شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی (م ۱۳۷۷ھ/۱۹۵۸ء ):

    شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی یزید کے بارے میں فرماتے ہیں یزید کو متعددمعارک جہاد میں بھیجنے اور جزائر بحر ابیض اور بلادہائے ایشیائے کوچک کے فتح کرنے حتیٰ کہ خود استنبول (قسطنطنیہ) پر بری افواج سے حملہ کرنے وغیرہ میں آزمایا جاچکا تھا۔ تاریخ شاہد ہے کہ معارک عظیمہ میں یزید نے کا رہائے نمایاں انجام دیئے تھے۔ خود یزید کے متعلق بھی تاریخی روایات مبالغہ اور آپس کے تخالف سے خالی نہیں۔

    (مکتوبات شیخ الاسلام حسین احمدمدنی، جلد اوّل ، ص ۲۴۲۔۲۵۲، ببعد)

    مولانامفتی محمد عاشق الہٰی بلند شہری (مہاجر مدنی )رحمتہ اللہ علیہ

    (خلیفۂ مجاز حضرت شیخ الحدیث مولانا محمدزکریا رحمتہ اللہ علیہ)

    بہت سے لوگ روافض سے متاثرہوکر یزید پر لعنت کرتے ہیں۔بھلا اہل سنت کو روافض سے متاثرہونے کی کیا ضرورت؟ان کو اسلامی اصول پرچلنا چاہیے۔روافض کے مذہب کی توبنیاد ہی اس پر ہے کہ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کو کافر کہیں اور یزیداور اس کے لشکر پر لعنت کریں ‘قرآن کی تحریف کے قائل ہوں اور متعہ کیاکریں ۔اور جب اہل سنت میں پھنس جائیں تو تقیہ کے داؤ پیچ کواستعمال کرکے اپنے عقیدہ کے خلاف سب کچھ کہہ دیں ۔بھلا اہل سنت ان کی کیا ریس کرسکتے ہیں۔اہل سنت اپنے اصول پر قائم رہیں جو کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ اسے ثابت ہیں۔ان ہی اصول میں سے یہ ہے کہ لعنت صرف اس پر کی جاسکتی ہے جس کاکفر پر مرنا یقینی ہو۔یزید اور اس کے اعوان وانصار کاکفر پر مرنا کیسے یقینی ہوگیا جس کی وجہ سے لعنت جائز ہوجائے ؟

    حضرت امام غزالی نے احیا ء العلوم میں اوّل یہ سوال اٹھایا ہے کہ یزید پر لعنت جائز ہے یا نہیں؟اس کی وجہ سے کہ وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کاقاتل ہے یا قتل کا حکم دینے والا ہے ۔پھر اس کا جواب دیا ہے کہ یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا یا اس کاحکم دیا یہ بالکل ثابت نہیں ہے ۔لہٰذا یزید پر لعنت کرنا تودرکنار یہ کہنا بھی جائز نہیں کہ اس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کوقتل کیا یا قتل کرنے کا حکم دیا ۔وجہ اس کی یہ ہے کہ کسی مسلمان کوگناہِ کبیرہ کی طرف بغیر تحقیق کے منسوب کرنا جائز نہیں۔نیزامام غزالی نے یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ مخصوص کرکے یعنی نام لے کر افراد واشخاص پر لعنت کرنا بڑا خطرہ ہے ۔اس سے پرہیز لازم ہے اور جس پر لعنت کرنا جائز ہو ‘اس پر لعنت کرنے سے سکوت اختیار کرنا کوئی گناہ اور مؤاخذہ کی چیز نہیں ہے ۔اگر کوئی شخص ابلیس پر لعنت نہ کرے ‘اس میں کوئی خطرہ نہیں ۔چہ جائیکہ دوسروں پر لعنت کرنے سے خاموشی اختیار کرنے میں کچھ حرج ہو۔پھر فرمایا فالاشتغال بذکراللّٰہ اولیٰ فان لم یکن فقی السکوت سلامہ یعنی خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اللہ کے ذکر میں مشغول رہنا اولیٰ اور افضل ہے ۔اگر ذکر اللہ میں مشغول نہ ہوتو پھر خاموشی میں سلامتی ہے (کیونکہ لعنت نہ کرنے میں کوئی خطرہ نہیں اور نام لے کر کسی پر لعنت کردی تو یہ پُرخطر ہے کیونکہ وہ لعنت کامستحق نہ ہوا تو لعنت کرنے والے پر لعنت لوٹ آئے گی ۔پھر کسی حدیث میں مستحقِ لعنت پر لعنت کرنے کاکوئی ثواب واردنہیں ہوا۔اس لیے لعنت کے الفاظ زبان پرلانے سے کوئی فائدہ نہیں)۔

    (’’زبان کی حفاظت ‘‘مولانا مفتی محمدعاشق الہٰی بلند شہری رحمتہ اللہ علیہ)

    حسب الحکم :حضرتِ اقدس ،حجتہ الخلف ،بقیۃ السلف ،برکتہ العصر ، مولانا محمدزکریا کاندھلوی مہاجر مدنی رحمتہ اللہ علیہ

    ناشر:’’مکتبہ خلیل‘‘یوسف مارکیٹ ،غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور۔ص۷۵،۷۶/ناشر:’’دارالاشاعت ‘‘اردو بازار کراچی ۔ص۷۲،۷۳

    حضرت مفتی محمدتقی عثمانی مدظلہ

    یزید کاشراب پینا یا زنا کرنا کسی بھی قابل اعتماد روایت سے ثابت نہیں ہے۔ زنا کی روایت تو میں نے کسی بھی تاریخ میں نہیں دیکھی۔ کمی نے جو شیعہ راوی ہے یزید کا شراب پینا وغیرہ بیان کیا ہے ، لیکن کسی مستند روایت میں اس کا ذکر نہیں۔ اگر یزید کھلم کھلا شرابی ہوتا تو حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی اتنی بڑی جماعت اس کے ساتھ قسطنطنیہ کے جہاد میں نہ جاتی۔ اس دور کے حالات کو دیکھ کر ظنِ غالب یہی ہے کہ یزید کم ازکم حضرت معاویہ کے عہد میں شراب نہیں پیتا تھا اور حدِ شرعی اس وقت قائم ہوسکتی ہے جب کہ دوگواہوں نے پیتے وقت دیکھا ہو۔ ایسا کوئی واقعہ کسی شیعہ روایت میں بھی موجود نہیں ہے۔

    یزید کے بارے میں صحیح بات وہی ہے جو میں لکھ چکا ہوں۔ قانونِ الٰہی کو بدلنے کاکوئی ثبوت کم ازکم مجھے نہیں ملا۔

    یزید ایک سلطان متغلب تھا۔ شر عاً اس کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ پورا کنٹرول حاصل کرچکا ہوتو اس کے خلاف خروج نہ کیا جائے گا، اور اس کا غلبہ روکنا ممکن ہوتو روکنے کی کوشش کی جائے۔ حضرت حسین سمجھتے تھے کہ اس کا غلبہ روکنا ممکن ہے ، اس لیے وہ روانہ ہوگئے اور دوسرے حضرات صحابہ کاخیال تھا کہ اب اس کے غلبہ کوروکنا استطاعت میں نہیں اور اس کو روکنے کی کوشش میں زیادہ خون ریزی کا اندیشہ ہے ، اس لیے وہ خود بھی خاموش رہے اور حضرت حسین کو بھی اپنے ارادے سے باز آنے کامشورہ دیا۔

    ’’سرداد ندادست دردستِ یزید‘‘ کوئی نقطۂ نظر نہیں ہے ۔ حضرت حسین شروع میں یہ سمجھتے تھے کہ سلطان متغلب کا غلبہ روکنا ممکن ہے ، اس لیے روانہ ہوئے اور اہل کوفہ پر اعتماد کیا، لیکن جب عبیداللہ بن زیاد کے لشکر سے مقابلہ ہوا تو کوفیوں کی بدعہدی کا اندازہ ہوا۔ اس وقت آپ کو یقین ہوگیا کہ اہل کوفہ نے بالکل غلط تصویر پیش کی تھی۔ حقیقت میں یزید کا غلبہ روکنا اب استطاعت میں نہیں ہے ۔ اس لیے انھوں نے یزید کے پاس جاکر بیعت تک کرنے کا ارادہ ظاہر کیا مگر عبیداللہ بن زیادہ نے انھیں غیر مشروط طورپر گرفتار کرنا چاہا۔ اس میں انھیں مسلم بن عقیل ؒ کی طرح اپنے بے بس ہوکر شہید ہونے کااندیشہ تھا۔ اس لیے ان کے پاس مقابلہ کے سوا چارہ نہ رہا۔

    فتاویٰ عثمانی، جلد اوّل، فتویٰ نمبر ۴۰۴/۲۲ الف، ص ۱۷۹، ۱

    بشکریہ
    نقیب ختم نبوت
  2. نورمحمد

    نورمحمد وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,119
    موصول پسندیدگیاں:
    354
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    مختصر مگر بہت جامع مضمون پیش کیا ہے

    جزاک اللہ
  3. بدرجی

    بدرجی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    68
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    لعن یزید تو ایک مسئلہ ہے جس پر اکثر علماء امت اتفا ق کرتے ہیں کہ لعنت کرنا یزید پر ٹھیک نہیں
    مگر دومسئلے اوربھی ہیں
    ایک یہ کہ کیا یزید فاسق تھا ؟
    دوسرایہ کہ جو لوگ حضرت حسین کو باغی خطاکار کہتے ہیں اوریزیدکو امیر یزید رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کیا ان کا عمل درست ہے ؟
    ان دومسائل کو پیش کرنا اوراس پر بات کرنا بھی ضروری ہے تاکہ تصویر اپنے تین رخوں سے مکمل ہوجائے
  4. محمد طیب قاسمی

    محمد طیب قاسمی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    445
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ فی الدارین
  5. شاکرالقادری

    شاکرالقادری وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    13
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    آج بڑے عرصہ بعد الغزالی کی طرف چکر لگا تو اتفاق سے یہی موضوع سامنے آگیا میں نے سوچا اس سلسلہ میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ کا موقف بھی پیش کردوں
    شاہ صاحب رحمة اللہ علیہ کا مشہور زمانہ رسالہ “سرالشہادتین“ ہے اس رسالہ کی شرح شاہ صاحب کے شاگرد رشید مولانا سلامت اللہ کشفی بدایونی ، کانپوری نے “تحریرالشہادتین“ کے نام سے لکھی ہے۔ حال ہی میں راقم الحروف نے اس فارسی شرح کا اردو میں ترجمہ کیا ہے اس ترجمہ سے ایک اقتباس پیش ہے:

  6. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,655
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    وعلیکم السلام جہاں تک مجھے یاد پڑتاہے ہمارے علماء نے اس پر سکوت اختیار کیا ہے ۔چنانچہ فتاویٰ ریا ض العلوم میں ہے‘‘‘ بعض قابل اعتماد علماء نے یزید کا نیک کردار اور صالح ہونا ثابت کیا ہے ،اگر چہ بہتوں نے اس کے بر عکس لکھا ہے ،لیکن بحر حال بلا ضرورت شرعیہ یزید کا نا مناسب تذکرہ جائز نہیں ۔اللعن علیٰ یزید خلاف التحقیق ،التفصیل فی النبراس :331 مکتبہ امدادیہ ،ملتان ۔والسلام
  7. سیفی خان

    سیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4,553
    موصول پسندیدگیاں:
    72
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    یزیدپر سب و شتم ​

    امام غزالي فرماتے ہيں:
    ((ما صح قتلہ للحسين رضي اللہ عنہ ولا امرہ ولا رضاہ بذٰلک ومھما لم يصح ذٰلک لم يجز ان يظن ذٰلک فان اسآءۃ الظن ايضا بالمسلم حرام قال اللہ تعاليٰ: }يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱجْتَنِبُوا۟ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ ٱلظَّنِّ إِثْمٌۭ {۔۔۔فھذا الامر لا يعلم حقيقہ اصلا واذا لم يعرف وجب احسان الظن بکل مسلم يمکن احسان الظن بہ))(وفيات الاعيان: 450/2، طبع جديد)
    يعني"حضرت حسين رضي اللہ عنہ کو يزيد کا قتل کرنا يا ان کے قتل کرنے کا حکم دينا يا ان کے قتل پر راضي ہونا، تينوں باتيں درست نہيں اور جب يہ باتيں يزيد کے متعلق ثابت ہي نہيں تو پھر يہ بھي جائز نہيں کہ اس کے متعلق اسي بدگماني رکھي جائے کيونکہ کسي مسلمان کے متعلق بدگماني حرام ہے جيسا کہ قرآن مجيد ميں ہے، بنا بريں ہر مسلمان سے حسن ظن رکھنے کے وجوب کا اطلاق يزيد سے حسن ظن رکھنے پر بھي ہوتا ہے۔
    اسي طرح اپني معروف کتاب احياء العلوم ميں فرماتے ہيں:
    ((فان قيل ھل يجوز لعن يزيد بکونہ قاتل الحسين او آمراً بہ قلنا ھٰذا لم يثبت اصلاً ولا يجوز ان يقال انہ قتلہ او امر بہ مالم يثبت)) (131/3)
    يعني "اگر سوال کيا جائے کہ کيا يزيد پر لعنت کرني جائز ہے کيونکہ وہ (حضرت حسين رضي اللہ عنہ کا ) قاتل ہے يا قتل کاحکم دينے والا ہے ؟ تو ہم جواب ميں کہيں گے کہ يہ باتيں قطعاً ثابت نہيں ہيں اور جب تک يہ باتيں ثابت نہ ہوں اس کے متعلق يہ کہنا جائز نہيں کہ اس نے قتل کيا يا قتل کا حکم ديا۔"
    پھر مذکورۃ الصدر مقام پر اپنے فتوے کو آپ نے ان الفاظ پر ختم کيا ہے:
    ((واما الترحم عليہ فجائز بل مستحب بل ہو داخل في قولنا في کل صلوٰۃ اللھم اغفر للمؤمنين والمؤمنات فانہ کان مؤمنا۔ واللہ اعلم)) (وفيات الاعيان: 450/3، طبع جديد)
    يعني "يزيد کے ليے رحمت کي دعا کرنا (رحمۃ اللہ عليہ کہنا) نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے اور وہ اس دعا ميں داخل ہے جو ہم کہا کرتے ہيں ۔ (يا اللہ! مومن مردوں او ر مومن عورتوں سب کو بخش دے) اس ليے کہ يزيد مومن تھا! واللہ اعلم"
  8. سیفی خان

    سیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4,553
    موصول پسندیدگیاں:
    72
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    [align=center]مولانا احمد رضا خاں کي صراحت:
    [/align]
    مولانا احمد رضا خاں فاضل بريلوي، جو تکفير مسلم ميں نہايت بے باک مانے جاتے ہيں، يزيد کے بارے ميں يہ وضاحت فرمانے کے بعد کہ امام احمد رحمۃاللہ عليہ اسے کافر جانتے ہيں او رامام غزالي وغيرہ مسلمان کہتے ہيں، اپنا مسلک يہ بيان کرتے ہيں کہ:
    "اور ہمارے امام سکوت فرماتے ہيں کہ ہم نہ مسلمان کہيں نہ کافر، لہٰذا يہاں بھي سکوت کريں گے۔۔۔"
    (احکام شريعت، ص:88، حصہ دوم)
  9. سیفی خان

    سیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4,553
    موصول پسندیدگیاں:
    72
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    حضرت حسين رضي اللہ عنہ کے برادر محمد بن الحنفيہ کا يہ بيان ہي کافي ہے جو انہوں نے اس کے متعلق اسي قسم کے افسانے سن کرديا تھا۔
    ((ما رايت منہ ما تذکرون وقد حضرتہ واقمت عندہ فرايتہ مواظباً علي الصلوٰۃ متحريا للخير يسال عن الفقہ ملازماً للسنۃ)) (البدايۃ والنہايۃ: 236/8، دارالديان للتراث، الطبعۃ 1988ء)
    يعني "تم ان کے متعلق جو کچھ کہتے ہو ميں نے ان ميں سے ايسي کوئي چيز نہيں ديکھي، ميں نے ان کے ہاں قيام کيا ہے اور ميں نے انہيں پکا نمازي ، خير کا متلاشي، مسائل شريعت سے لگاؤ رکھنے والا اور سنت کا پابند پايا ہے۔ (البدايۃ والنہايۃ، ج:8، ص:233)
  10. شاکرالقادری

    شاکرالقادری وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    13
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    جولوگ حضرت محمد بن حنیفہ کے قول سے استشہاد کرکے یزید کو معصوم قراردیتے ہیں وہ حضرات یزید کے اپنے بیٹے کے قول کو کس کھاتے میں رکھتے ہیں۔ یہ سمجھنے سے میں آج تک قاصر ہوں۔اس قول میں یزید کے بیٹے نے صراحتا اپنے والد کے بارے میں اقرارکیاہے کہ اس نے رسول پاک کی اولاد کو قتل کیا،شراب کو جائز کیا(بمعنی شراب پیتاتھا) اورخانہ کعبہ کی حرمت وعظمت کو پامال کیا۔ اگرایساشخص فاسق نہ ہوتو پھر فسق کیلئے اورکیاچیز لازمی ہوتی ہے۔ ہم دلدادگان یزید سے اتناتوپوچھ ہی سکتے ہیں کہ جو بات وہ ابن حنفیہ کے تعلق سے دوسروں پر الزام دیتے ہیں وہ خود یزید کے بیٹے کے اس قول کی روشنی میں اپنے طرز عمل کا جائزہ کیوں نہیں لیتے۔

  11. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
  12. شاکرالقادری

    شاکرالقادری وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    13
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ کانام بہت مشہور ومعروف ہے۔علم وفن میں جوان کامقام ومرتبہ ہے وہ کتب سوانح وسیر سے بآسانی معلوم کیاجاسکتاہے اورکچھ لوگوں کیلئے تو بس حضرت ابن تیمیہ کانام ہی کافی ہے اوراسی کو سن کر وہ سرنگوں ہوجاتے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ ایسے لوگ ائمہ اربعہ کے مقلدین پر اعتراض کی بوچھار کرتے ہیں اورخود ان کاحال اس سے زیادہ مختلف نہیں ہوتا۔
    بہرحال دیکھتے ہیں کہ یزید اوراس کے اعمال کے تعلق سے حضرت ابن تیمیہ کیافرماتے ہیں۔
    ۔ ومن آمن باللہ والیوم الآخر لایختار ان یکون مع یزید ولامع امثالہ من الملوک الذین لیسوا بعادلین اورجواللہ اورقیامت کے دن پرایمان رکھتاہے وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ یزید یااس جیسے غیرعادل بادشاہ کے ساتھ بھی ہوسکے۔سوال فی یزید بن معاویہ ص28
    اب جولوگ یزید کوعادل بادشاہ قراردیتے نہیں تھکتے انہیں تو کم ازکم اب تو شرم آنی چاہئے ۔ابن تیمیہ پوری وضاحت اورصراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ جو شخص بھی اللہ اوراس کے رسول پر ایمان رکھتاہے وہ اس کوپسند نہیں کرے گاکہ اس کاشمار یاحشر یزید اوراس جیسے غیرعادل بادشاہوں کے ساتھ ہو۔ظاہر ہے جو بادشاہ عادل نہ ہو ظالم ہوگا۔
  13. بدرجی

    بدرجی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    68
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    حضرت امام غزالی رح باکمال صوفی اورحجۃ الاسلام کے لقب سے ملقب ہیں۔اوران کی بات اس درد وفکر کی غماز ہے جو ہرصوفی اپنے دل میں مومن ومسلم بل کہ بلاتخصیص مذہب وملت تمام افراد انسانی کے لیے اپنے دل میں رکھتاہے۔اس حد تک میں بھی اس سے اتفاق کرتاہوں کہ بلاکسی ضرورت کے یاداعی کے اس بارے میں لعنت کے قصوں میں نہیں پڑنا چاہیے اورویسے بھی مومن کی خوبی آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمائی ہے کہ وہ لعان نہیں ہوتا
    مگر جب ایسے لوگ پیداہوں گے یزید کواللہ کا ولی صحابی اوردرست اورمقابلے میں امام حسین رض کو معاذاللہ باغی خطاکار کہیں گے یا آپ کے شرف صحابیت سے ہی اہل تشیع کے ردعمل میں منکر ہوجائیں گے تو پھر یزید پر بات کرنا مجبوری بن جاتاہے اورتب بھی چاہیے یہی کے افراط وتفریط کے مقابلے میں ہم اعتدال اورحق کا دامن نہ چھوڑیں
    امام صاحب کی نظر اس پر نہیں گئی کہ یزید نے اگر حکم نہیں دیا اوروہ قتل سے راضی نہیں تھا تب بھی اپنے عمال سے اس نے کیا بازپرس کی ؟جو قاتلان حسین تھے انہیں کیا سزادی؟پھر اس کے کھاتے میں صرف قتل حسین ہی تو نہیں کئی دیگر جرائم کے علاوہ حرمت حرمین کی پامالی بھی ہے ۔سعید بن المسیب جو فرماتے ہیں کہ مسجد نبوی میں کئی روزتک نماز نہ ہوسکی وہ کس کا دورتھا اورکس کی فوج تھی اورکس کا حکم تھا اورکعبہ پر سنگ زنی کی تو وہ کس کے کرتوت تھے؟ اورکس کی فوج نے یہ اقدام کیا ؟
    مولانامجیب منصور نے امام ابن تیمیہ کے حوالے سے جو اہل سنت کے دو قول نقل کیے توان میں بھی اخراخیر کیا نکلا یہی کہ ہم سکوت کرتے ہیں گویاقطعی طورپرمحقق نہیں کہ حضرت یزید صاحب ولی تو کیا نیکوکاربھی تھے
    اورامام احمد بن حنبل جیسے جبل علم نے یزید کے بارے میں جو کچھ رائے رکھی میراخیا ل ہے یزیدی یہی کہیں گے کہ امام صاحب بھی شیعہ پروپیگنڈہ کی زد میں آگئے تھے[]==[]
    مولاناامین صفدراوکاڑوی رح نے یزید کے بارے میں جو کچھ لکھا تجلیات صفدر میں وہ بھی پڑھ لینا چاہیے
    اوریہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہدایۃ الشیعہ اورہدیۃ الشیعہ میں حضرت نانوتوی اورحضرت مولانا رشیداحمد گنگوہی رح یزید صاحب کو یزید پلید ہی کہتے اورلکھتے ہیں
    میراخیال ہے علماء دیوبند کی طرف سے ایسا لاحقہ کسی اورکے حصے میں نہیں آیا
    میری دعاہےکہ جو یزیدی ہیں اللہ ان کا حشر یزید کے ساتھ کرے اورجو حسنیی ہیں ان کا حشر حسین کے ساتھ کرے آمین
    اسی پر بات ختم ہونی چاہیے
  14. بدرجی

    بدرجی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    68
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    [/quote]
    یہ توافق ہے یا تواردمعلوم نہیں کیا مگر جو بات میں نے لکھی وہی ابن تیمیہ کے حوالے سے آپ نے بھی ارشادفرمادی
  15. شاکرالقادری

    شاکرالقادری وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    13
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    امین اللھم آمین بجاہ سید الانبیأ و المرسلین وصلی اللہ علیہ وعلی آلہ الطبین الطاھرین
    جزاکم اللہ مولانا

    لیکن بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہونا چاہیئے
    موسیٰ و فرعون و شبیر و یزید
    این دو قوت از حیات آمد پدید
    اس دنیا میں جب تک فرعونیت موجود ہے عصائے کلیمی ناگزیر ہے اور جب تک یزیدیت موجود ہے حسینیت کی آواز بلند ہوتی رہے گی ۔ ۔۔
    علمائے اہل سنت نے اگر لعنت میں توقف سے کام لیا ہے تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں تھا کہ وہ یزید کو مستحق لعنت نہیں جانتے تھے وہ اس کو پوری طرح مستحق لعنت جانتے تھے لیکن ان کے خیال میں لعنت بھیجتے رہنے کے عمل سے بہتریہی تھا کہ وہ ایسے اعمال کرتے رہیں جو اس سے کہیں زیادہ نافع ہو یہی وجہ ہے کہ امام احمد بن حنبل نے اپنے بیٹے کے اس سوال:
    کا جواب یہ نہیں دیا کہ بیٹا یزید پر لعنت کرنا ناروا ہے یا شرعا درست نہیں اس لیے میں لعنت نہیں کرتا
    بلکہ انہوں نے تو یہ جواب دیا:
    امام صاحب کا یہ جواب ہی کافی و شافی ہے اور اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ امام کے نزدیک یزید پر لعنت شرعا ناروا نہیں بلکہ امام صاحب کا یہ عمومی معمول تھا کہ وہ کسی پر لعنت نہیں کیا کرتے تھے
  16. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    صرف تنقیدی پہلواوراپنے مقصد ،مشرب ومسلک کو ثابت کرنے کی خاطرکسی کی قربانیانیوں کو نظر انداز نہ کیا جائے، بلکہ اگر کسی کے حسین کارنامے ہوں تو ان پر بھی مثبت بحث ہونی چاہیے
    جیسا کہ علامہ ذھبی و علامہ ابن تیمیہ رح کے حوالے سے میری تحریرکے کچھ اقتباسات حاضر ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  17. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,655
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ ویزید کی حقیقت

    سوال: (1) یزید کی شخصیت اور کردار کے بارے میں کیا خیال ہے ؟
    (2) یزید کی بیعت وخلافت پر جمہور امت کا اتفاق تھا کہ نہیں ۔
    (3) یزید کی خلافت کیسی تھی؟----------------------------------------
    (4) حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا اقدام خروج کیسا تھا؟
    (5) یزید امام حسین رضی اللہ عنہ کے قتل میں ملوث تھا یا نہیں ؟

    الجواب : حامد ومصلیا ومسلما : !
    ج(1) بعض قابل اعتماد حضرات نے یزید کا نیک کردار اور صالح ہو نا ثابت کیا ،اگر چہ بہتوں نے اس کے بر عکس لکھا ہے ، بحر حال بلا ضرورت شرعیہ یزید کا نا مناسب تذکرہ جائز نہیں ۔
    ج(2)یزید کی خلافت پر اکثر مسلمان راضی نہ تھے ،اگر چہ ساکت تھے۔
    ج(3) بعض حضرات کے نزدیک مناسب اور درست تھی ، جیسے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقا ،اور بعض کے نزدیک درست نہ تھی ، جیسے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ وغیرہم اور جیسا کی حضرات صحابہ میں یزیدکی خلافت مختلف فیہ تھی ، بعد والوں میں دونوں رائے پائی جاتی ہیں ۔واللہ اعلم بحقیقۃ الحال۔
    ج (4) حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے اقدام خروج میں شرعا کوئی قباحت نہیں تھی ، اس لئے کہ آپ یزید کو نا اہل اور واجب العزل سمجھ رہے تھے ۔
    ج(5) تواریخ صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یزید کا منشاء قتل حسین رضی اللہ عنہ ہر گز نہ تھا ، بلکہ صرف آپ کا سے بیعت اور سکوت کا خواہاں تھا ،اور عبد اللہ بن زیاد کو یزید نے حکم دیا تھا کہ آپ بیعت فر مائیں تو بہتر ہے ورنہ میرے پاس بھیج دیا جائے ۔( فتاویٰ ریاض الجنہ جلد 1 ص 521-522

    نوٹ یہی مسلک علمائے دیوبند کا ہے ۔
  18. سیفی خان

    سیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4,553
    موصول پسندیدگیاں:
    72
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    قادری صاحب ۔ ۔۔۔ کیا حسینیت کا پرچم کسی پر لعن طعن کیئے بغیر بلند نہیں ہو سکتا ۔ ۔ ۔؟
  19. شاکرالقادری

    شاکرالقادری وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    13
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    محترم سیفی خان! بجا فرمایا آپ نے حسینیت کا پرچم لعن طعن کے بغیر بھی بلند ہو سکتا ہے اور یہی اہل سنت کا مسلک ہے کہ لعن طعن سے گریز کرتے ہوئے حسینیت کا پرچم بلند کیا جائے ۔ ۔ ۔
    لیکن جب فورم کے ذمہ دار افراد کی جانب سے مسلک حسینی کو فروغ دینے کی بجائے لعن طعن کے سوالات اٹھائے جائیں گے تو کلام کرنے کی گنجائش تو پیدا ہوگی ناں ۔ ۔ ۔ ۔ عاشورہ محرم کی مناسبت سے اگر انتظامیہ اسوۂ حسینی پر کوئی مضمون پیش کرتی تو میں خیال ہے کہ اس معاملہ میں دو بکریاں بھی آپس میں سینگھ نہ لڑاتیں ۔ ۔ ۔ لیکن محرم کے ان ایام میں میری نظر میں الغزالی فورم پر کم از کم تین مضامین ایسے آئے ہیں جن میں عنواں تو سیدنا حسین کی شہادت کا دیا گیا ہے لیکن کسی نہ کسی طور ان تمام کے تمام مضامین میں یزیدپلید کا دفاع کیا جا رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ایسی صورت میں میں نے بھی علمائے اہل سنت ہی کے موقف میں رہتے ہوئے کہا ہے کہ گوکہ علمأئے اہل سنت یزید پر لعنت کو ناجائز اور غیر مشروع نہیں جانتے لیکن لعنت کرتے رہنا انکا وطیرہ بھی نہیں ۔ ۔ ۔ الحمد للہ امام عالی مقام کا دفاع جس انداز میں اہل سنت نے کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ ۔ ۔ ۔اور اس موضوع میں تو علمائے دیوبند کا ذکر ہو رہا ہے چنانچہ دارالعلوم دیوبند کے پلیٹ فارم سے حضرت مولانا قاری طیب رحمة اللہ نے حسینیت کے پرچم کو جس انداز میں بلند کیا اور امام عالی مقام کا جو دفاع کیا اس کی نظیر شاید ہی اس مکتبہ کے دیگر اکابرین میں سے پیش کیا جا سکے
    نور اللہ مرقدہ ۔۔۔ آمین
  20. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جی ہاں قادری صاحب آپ نے صحیح لکھا ہے علماء دیوبند کا مؤقف یزید کے بارے میں واضح ہے۔ اور قاری طیب صاحب رحمۃ اللہ ےلہہ نے اس پر خوب لکھا ہے ۔ ۔ ۔ ہم نواسہ رسول سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو حق پہ سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔ بات صرف یہ ہے جیسا کہ آپ نے بھی فرمایا ہے : یہی اہل سنت کا مسلک ہے کہ لعن طعن سے گریز کرتے ہوئے حسینیت کا پرچم بلند کیا جائے ۔ ۔
    جی جناب یہی ہمارا مسلک ہے ۔ ۔ ۔ اور ہم حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرنا ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے بغض ایمان کی خرابی سمجھتے ہیں
    اور یہی ہمارا نعرہ ہے ۔ ۔ ۔ حب حسین رحمۃ اللہ ۔ ۔ ۔ بغض حسین لعنۃ اللہ

اس صفحے کو مشتہر کریں