یہ دل کچھ اورسمجھاتھا

'بزمِ غزل' میں موضوعات آغاز کردہ از جمشید, ‏اگست 31, 2013۔

  1. جمشید

    جمشید وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    111
    موصول پسندیدگیاں:
    33
    جگہ:
    Afghanistan
    یہ دل کچھ اورسمجھاتھا​



    وہ جذبوں کی تجارت تھی ، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا
    اسے ہنسنے کی عادت تھی ، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا


    مجھے اس نے کہا ، آو نئی دنیا بساتے ہیں
    اسے سوجھی شرارت تھی ، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا



    ہمیشہ اس کی آنکھوں میں دھنک سے رنگ ہوتے تھے
    یہ اس کی عام حالت تھی ، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا


    وہ میری پاس بیٹھی دیر تک غزلیں میری سنتی
    اسے خود سے محبت تھی ، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا



    میرے کندھے پہ سر رکھ کر کہیں پر کھو گئی تھی وہ
    یہ ایک وقتی عنایت تھی ، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا


    مجھے وہ دیکھ کر اکثر نگاہیں پھیر لیتی تھی
    یہ در پردہ حقارت تھی ، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا
    نوید نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,572
    موصول پسندیدگیاں:
    458
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    وہ جذبوں کی تجارت تھی ، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا
    اسے ہنسنے کی عادت تھی ، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا


    مجھے اس نے کہا ، آو نئی دنیا بساتے ہیں
    اسے سوجھی شرارت تھی ، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا

اس صفحے کو مشتہر کریں