یہ شوق کتابت کے گنہگار

'بزمِ طلبہ و طالبات' میں موضوعات آغاز کردہ از مظاہری, ‏دسمبر 23, 2015۔

  1. مظاہری

    مظاہری نگران ای فتاوی ای فتاوی ٹیم ممبر رکن

    پیغامات:
    211
    موصول پسندیدگیاں:
    202
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    بعض طلبا کی عادت ہوتی ہے کہ جہاں قلم ہاتھ میں آیا. کلاکاری شروع، دیوار سپاٹ ملی اسپر لکھدیا، تپائی پر، دروازوں پر،رجسٹر اور کتاب کی جلد پر " کتاب کے حاشیہ پر، مسجد کی دری پر، یہاں تک کہ بعض تو کپڑوں تک کو نہیں بخشتے، اور اسے کچھ گناہ نہیں سمجھتے، یاد رہے! یہ امر علم، اور آلات علم کی بے حرمتی اور استخفاف میں داخل ہے، اور استخفاف استفادہ کی راہ کا سب سے بڑا روڑا ہے، خبردار! اس سے بچو، بچو، بچو!
    پیامبر، اشماریہ اور احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    دروازے بھی کہاں کے ہوں فرق نہیں پڑتا۔ بس کچھ مل جائے۔
    احمدقاسمی اور اشماریہ .نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    440
    موصول پسندیدگیاں:
    274
    صنف:
    Male
    مساجد کے بیت الخلا کی دیواروں اور دروازوں پر تو اتنے زریں اقوال لکھے ہوتے ہیں کہ انسان کا وقت وہاں بآسانی کٹ جائے۔
    پیامبر اور احمدقاسمی .نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں