۔۔۔۔۔۔۔۔ آہ ان امیروں سے کیا گلہ کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

'غور کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏نومبر 10, 2017۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری میں نہیں مانتاکاغذپہ لکھاشجرہ نسب منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,695
    موصول پسندیدگیاں:
    183
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    ۔۔۔۔۔۔۔۔ آہ ان امیروں سے کیا گلہ کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ مونگ پھلی والا اب سبزی کی ریڑھی لگاتا ہے جس نے اپنے بچوں کو پھلیاں خرید کر نہ دے سکنے پر دوسرے بچوں کے لئے پھلی کی قیمت دس روپے لگائی تھی جب کہ ارد گرد بیس روپے کی مونگ پھلی فروخت ہو رہی تھی __ چند روز قبل میں یونہی چلتے چلتے اس پھلی والے کے سامنے رک گیا ۔ وہ اپنے کام میں مصروف تھا ، ریڑھی پر دو تین لوگ سبزی خرید رہے تھے ۔ میں دیکھتا رہا __ ایک خاتون نے اس سے آلو خریدے ، ساتھ دھنیا مرچ بھی لی اور اسے پچاس کا نوٹ دیا اس نے آلو کے ساتھ از خود دھنیا اور مرچ مفت دی ۔ وہ آلو اٹھا کر پہلے یوں دیکھتا جیسے اس کا ایکسرے کر رہا ہو ۔ گاہک کی نظر سے سبزی کو دیکھنا دوکاندار کے معاشی مفادات کے خلاف جاتا ہے لیکن وہ ہر ہر آلو کا بغور معائنہ کرنے کے بعد اسے شاپنگ بیگ میں ڈالتا جا رہا تھا ۔ جس آلو پر کوئی معمولی ساداغ بھی ہوتا اسے ایک طرف کر دیتا ۔ جو آلو ٹھیک ہوتا صرف اسے ہی ڈالتا...

    اسی طرح ایک اور شخص نے ٹماٹر لیے اس نے ٹماٹر بھی ویسے ہی دیکھ بھال کر اچھے اچھے دیے اور معمولی نوعیت کی خرابی بھی اگر کسی ٹماٹر میں اسے محسوس ہوئی تو اسے ایک طرف کر دیا ۔ حالانکہ اس خرابی کو گاہک بھی تلاش نہ کرپاتا __ جب گاہک رخصت ہو چکے تو میں نے اس سے کہا کہ.. " آپ ریڑھی مین روڈ پر کیوں نہیں لگاتے؟ یہاں سائیڈ پر اور وہ بھی نسبتاً ایک ویران جگہ کا انتخاب آپ نے کیوں کیا ہے؟ " اس نے کہا کہ ...

    " مین روڈ پر ریڑھی کھڑی نہیں کرنے دی جاتی اور مختلف ٹیکسوں کی صورت میں اچھے خاصے اخراجات ہو جاتے ہیں __ یہاں ویران جگہ ہے ، یہاں کوئی کرایہ نہیں دینا پڑتا __ اگر کسی دوکان کے سامنے لگاؤں تو پھر کرایہ الگ سے دینا پڑے گا ۔ یہاں کھڑا ہوں بس اللہ سےحلال رزق مانگتا ہوں تاکہ بچوں کے پیٹ کو حرام لقمے سے بچا سکوں ۔ "

    میں نے اگلا سوال کیا کہ .. " آپ کا اس ریڑھی کے علاوہ بھی کوئی ذریعہ آمدن ہے ؟ " اس نے کہا ... " صبح منڈی میں کام کرتا ہوں ، گاڑیوں سے سبزی وغیرہ اتارتا ہوں ۔ صبح سویرے اس کام سے فارغ ہو کر اپنے لیے سبزی لیتا ہوں اور دن کو اسے ریڑھی پر فروخت کر دیتا ہوں ۔

    پچھلے سیزن میں مونگ پھلی لگا رکھی تھی __ اس سے پہلے ایک مرتبہ چھلی لگائی تھی ۔ رات کو ریڑھی گھر لے جا کرکھڑی کر دیتا ہوں ۔ "

    میں نے پوچھا کہ ..." اس قلیل آمدنی میں گزارا ہو جاتا ہے ؟ "

    اس نے کہا کہ .. " قسم لے لیں اگر میں دس بیس روپے بھی شام کو گھر لے کر جاتا ہوں تو مزید پیسے آنے تک وہ مجھ سے ختم نہیں ہوتے ۔ خواہ مزید پیسے کتنے ہی دن بعد کیوں نہ آئیں ۔ اور کسی چیز کی قلت بھی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر بھی ادا کروں کم ہے __ وہ مجھ ناچیز کو بھی رزق دے رہا ہے ۔ "

    میں نے پوچھا کہ ... " یہ خراب آلو اور ٹماٹروں کا آپ کیا کرتے ہیں ؟ "

    اس نے کہا کہ ... " یہ میں خود اور اپنے گھر والوں کو کھلاتا ہوں ۔ کسی گاہک کو نہیں دیتا ۔ اس سے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری بھی نہیں ہوتی اور میں بھی حرام کھانے سے بچ جاتا ہوں ۔ "

    میں اس کے سراپے کا جائزہ لینے لگا تو میری نظر اس کے کپڑوں پر لگے پیوند پر جا کر رکی ، اس نے کپڑوں پر پیوند لگا رکھے تھے ، جنہیں خود سوئی دھاگہ لے کر سیا گیا تھا __ لگتا یوں تھا کہ کپڑے صاف مگر انتہائی بوسیدہ ہیں ۔ اس نے میری نظروں کے تعاقب میں اس پیوند کو دیکھ لیا اور مسکرا کر کہنے لگا.. " بھائی سچ کہوں اگر ہم جیسے اس دنیا میں نہ ہوں تو رب کے حبیب صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اس سنت کو کون زندہ رکھے گا ؟... اس نے یہ بات پیوند لگی جگہ کو ہاتھ میں پکڑ کر کہی ۔ "

    میرے لیے ضبط مشکل ہو رہا تھا __ میں بوجھل قدموں سے دفتر کی جانب چل پڑا ۔ میرا دماغ الجھ کر رہ گیا تھا ۔
    کیا اب بھی کسی کو شک ہے کہ اللہ نے دولت کی تقسیم درست نہیں کی ؟ ...

    میرا دل گواہی دینے لگا کہ یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ہر ہر سنت کو زندہ رکھنے پر قادر ہے ۔ میں سوچتا رہ گیا ۔ اس دور میں بھی پیوند لگے کپڑے پہننے والا مجھ سے بہت بلند اور عظیم تھا __ اس کےکپڑوں کے پیوند اس کے لیے نہیں بلکہ مجھے اپنے لیے آزمائش لگنے لگے تھے ، ان بوسیدہ کپڑوں سے اس چھلی والے کو نہیں بلکہ ہم سب کو آزمایا جا رہا ہے جن کے کپڑوں پر کوئی پیوند نہیں لگا ہوا ۔

    یہ پیوند لگانے والے کے نہیں بلکہ ان معاشی فلاسفروں کے منہ پر طمانچہ ہے جو دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے ذمہ دار بھی ہیں اور کمزور طبقات کا دھڑلے سے استحصال بھی کرتے ہیں ۔ اس ریڑھی والے کی طرح اگر کامل یقین سے کوئی غربت کا عذاب خاموشی سے سہہ رہا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ( نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ) کے معلمانہ اور کریمانہ اخلاق کے وسیلے سے اتنی قوت برداشت دی ہوئی ہے ۔ ورنہ وہ کبھی کا اخلاقی قدروں پر سمجھوتہ کر چکا ہوتا...

    اللّٰہ تعالٰی ہمیں بھی اپنے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دین پر چلنے کے لیے استقامت نصیب فرمائے
    آمین !......(ماخوذ)
    احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں