’’غافلوں کیلئے پیغام ہے بیداری کا‘‘

'کالم اورادارئیے' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏نومبر 17, 2012۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    207
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    ’’غافلوں کیلئے پیغام ہے بیداری کا‘‘

    ناصرالدین مظاہری

    اگر موجیں ڈبو دیتیں تو کچھ تسکین ہوجاتی
    کناروں نے ڈبویا ہے مجھے اس بات کا غم ہے
    مفکراسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی الحسنی الندوی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا تھا کہ
    ’’دنیا کی سعادت وکامرانی کی منزل تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ مسلمان نوجوان اپنی قربانیوں سے ایک پل تعمیر کریں اس پل پر گزرکر دنیا بہتر زندگی کی منزل تک پہنچ سکتی ہے‘‘
    زمانہ اپنی پوری رفتار اور روانی کے ساتھ منزل کی طرف رواں دواں ہے ،اس کی رفتار میں حبہ اور شمہ برابر کمی اور سست رفتاری کا صدور ناممکن ہے،ایک عہد کا خاتمہ ہوتا ہے تو دوسرے عہدکی شروعات ہوجاتی ہے،نسلیں بدلتی رہتی ہیں،حالات میں اتھل پتھل اورمد وجزرہوتا رہتا ہے،یہاں پر دوام واستمرار اور قرار کسی کو نہیںہے ۔
    دوام واستحکام سے عاری ،قرارواستمرار سے ماورائ،اس دنیا میں نہ جانے کتنے علوم وفنون وجود میں آئے،کس قدر ایجادات واکتشافات نے جنم لیا ،کس قدر محیر العقول کارنامے ہوئے اور کتنی عالی دماغ اور شہ زور قومیں پیداہوکر فنا ہوگئیں،عقلاء ومحققین کی تحقیقات،سائینسی وتکنالوجی ایجادات اور شبانہ روز کی محنتیں رہ گئیں،کارناموں سے شخصیات کو اور شخصیات سے زمانوں کو یاد کیا جاتا رہا،انسان کی بے لوث محنت،جذبۂ خدمت خلق،خیر سگالی ،عالی ظرفی،قلمی وعلمی خدمات اور جدید علمی اکتشافات عموماً فنا نہیں ہوتے،ان کے قدر دانوں کی ایک کھیپ اور اچھی خاصی تعداد موجود رہتی ہے۔
    ایسا کبھی نہیں ہوا کہ زمانہ نیکوکاروں ،اچھے لوگوں،اور صالح وبرگزیدہ انسانوں سے یکسر خالی وعاری ہوگئی ہو،ہر دور اور ہر زمانے میں کچھ نہ کچھ تعداد ایسے فرشتہ صفت لوگوں کی رہی ہے جن کے اصلاحی کارناموں ،دعوتی مجاہدوں،علمی وتصنیفی تحقیقی اور اجتہادی کاموں کو آئندہ نسلیں نہ صرف سراہتی اور قبول کرتی ہیں بلکہ ان کے ذریعہ صحیح سمتوں اور درست راستوں کا تعین کرنے میں مدد بھی لیتی ہیں۔
    اس زمانہ میں بھی پچھلے زمانوں کی طرح پچھلوں کی ذمہ داریاں اگلوں پر عاید ہوتی ہیں ،نئی نسلوں کے کاندھوں پر وہ گرانبار بوجھ ہے جو اپنے بزرگوں کے ذریعے ہم تک پہنچاہے ،ان ذمہ داریوں کا صحیح فکر ،احساس اور شعور نئی نسلوں کا اولین فریضہ ہے،ہمارے اسلاف اور اکابر نے ہم سے جو توقعات اور امیدیں وابستہ کی ہیں جن خوابوں اور آرزؤوں کو لے کر وہ ہم سے جدا ہوئے ہیں ان کی توقعات پر پورا اترنا ہی نسل نو کی ذمہ داری ہے۔
    باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
    پھر پسر قابل میراث پدر کیوں کر ہو
    ہمیں اپنے اعمال وافعال اور اخلاق وکردار سے ثابت کرنا ہے کہ ہمارے بزرگوں کی محنتیں اور شبانہ روز کی کوششیں بے سود اور رائیگاں نہیں گئی ہیں،ہمیں والبلد الطیب یخرج نباتہ باذن ربہ کا مصداق بننا ہوگا۔مذموم اعمال وافعال ،فاسد اخلاق وعادات،مکروہ طور وطریقوں اور غلط روش سے نہ صرف خود کو بچانا ہوگا بلکہ عقل ودانائی اور صالح فکر وشعور کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے ساتھ اپنے عزیز واقارب ،محبین ومتعلقین اور ایک خدا کا نام لینے والی قوم کو راہ راست پر لانا ہے،ہمیں عزم مصمم کرنا ہوگا کہ ایسے حالات اور ایسے مواقع نہ پیدا ہو نے دیں جس کی طرف قرآن کریم نے واضح لفظوں میں اشارہ کیا ہے ظہر الفساد فی البر والبحر لیذیقہم بعض الذی عملوا لعلہم یر جعون (روم ۴۱) خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تا کہ خدا تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کا مزہ چکھائے عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں۔
    ہمارے نوجوانوں کا فکر اسلاف کے افکار کا ترجمان ہونا چاہئے ،ان کے افکار وعلوم کی ہم آہنگی،نشست وبرخاست کی یکسانیت اور اقوال وافعال کی موزونیت ہی حقیقی ترقی کا ذریعہ اور وسیلہ ہے ،الولد سرلابیہ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اگر باپ خوبیوں،اچھائیوں اور نیکیوں سے مالامال تھا تو اس کے بیٹے میں بھی اچھائیوں اور خوبیوں کی صفات بدرجہ اتم موجود ہونی چاہئیں۔البرکۃ مع اکابرکم کا اصول اور قانون ایک مسلمہ حقیقت ہے ،بزرگوں کے ارشادات وملفوظات،ان کے فرامین واحکامات،ان کے حالات طیبات اور انکے نقوش قدم پر چلنے سے ہی ہمارے راستوں کی رکاوٹیں دور اور ہماری مشکلات کافور ہوں گی۔
    ہمارے نوجوانوں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ علوم وفنون کی چاہے جس یونیورسٹی سے فارغ ہوں، سندات اور ڈگریوں کے چاہے جتنے پشتارے حاصل کرچکے ہوں،پھر بھی انھیں اپنے سے پہلوں کو کسی بھی طرح خاطی،قصوروار،کم فہم اور کج علم نہیں سمجھنا چاہئے ،ممکن ہے سندات کے لحاظ سے آپ آگے ہوجائیں،یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ڈگریوں کا پشتارہ جو آپ نے حاصل کیا ہے ،اسے حاصل کرنے میں پہلے لوگ ناکام رہے ہوں،اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ آپ اپنے زمانہ کے رائج جملہ علوم وفنون میں مہارت پیدا کرکے اپنے ہم عصروں میں طاق اور ممتاز ہو چکے ہوں لیکن کیا ڈگریوں کے اس جم غفیر،سندات کے ان ڈھیروں اور ’’مصلوں‘‘کے حصول سے آپ امام غزالیؒ بن سکتے ہیں،کیا رازیؒ اور ارسطو کو فیل کر سکتے ہیں،کیا بوعلی سینا اور شکسپیئر ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں کیا ملا علی قاریؒ یا قاسم نانوتویؒ کے ہم پلہ ہونے کا گمان ہوسکتا ہے ،کیا سرسید احمد خان ؒاور اشرف علی تھانویؒ بن جانے کا ’’بھوت‘‘ سوار ہوسکتا ہے؟ظاہر ہے کہ نہیں! اس لئے کہ پہلوں کے پاس صدیوں سالہ تجربات کی وراثت تھی اور اب محض علوم وفنون کی ڈگریاں ہیں،پہلوں کے پاس اپنے علم پر عمل کرنے کی خوبیاں تھیں اور اب اپنے علوم پر غرور،تکبر اور گھمنڈ کی صفات پیدا ہو چکی ہیں۔
    اللہ تعالیٰ غریق رحمت کرے مولانا علی میاں ندویؒ کو
    ’’خبردار تمہاری تحریریں اور اسلام ،اس کے حقائق اور اس کے اصولوں کے پیش کرنے کا تمہارا انداز ہر گز قاری کو یہ تأثر نہ دینے پائے کہ مسلمان اس طول طویل مدت میں مستقل جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکتے رہے اور دین کو صحیح طور پر نہ سمجھ سکے جو کہ ہر زمانہ اور ہر ماحول کا دین ہے اور اسی طرح قرآن کی بنیادی اصطلاحات اور تعبیرات کو سمجھنے سے بھی قاصر رہے کیو نکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس طویل مدت میں یہ کتاب غفلت اور جہالت کی نذر رہی اس کے حقائق کو سمجھا نہیں جاسکا اور نزول کے تھوڑے ہی مدت کے بعد اس سے استفادہ کا سلسلہ منقطع ہوگیا ،یہ تصویر قرآن کی آیت مبارکہ انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون کے بالکل خلاف ہے کیونکہ فضل واحسان کے موقع پر حفاظت کے وعدہ میں اس کے مطالب کا فہم ،ان کی تشریح ،اس کی تعلیمات پر عمل اور زندگی میںان کا انطباق بھی شامل ہوتا ہے اور ایسی کتاب کی قدر ومنزلت ہوسکتی ہے جو طویل مدت تک معطل پڑی رہے،نہ سمجھی جائے،نہ اس پر عمل کیا جائے۔‘‘
    نئی نسلوں کو خوب سمجھ لینا چاہئے کہ جس وقت وہ اپنے سے پہلے لوگوں پر لعن وطعن کے تیر ونشتر چلانا شروع کردیتے ہیں،اپنی تخلیقات اور اپنی تحقیقات کو حرف آخر سمجھنے لگتے ہیں تو ان کے تنزل ،گمراہی اور بے راہ روی کی یہ سب سے پہلی منزل اور گمراہی کا سب سے پہلا زینہ ہوتا ہے پھر ابوالاعلیٰ مودودی،مولانااحمد رضاخان اور مرزا غلام احمد قادیانی بننے میں دیر نہیں لگتی ،ایسے گمراہوں کو من جانب اللہ پہلے تو ڈھیل دی جاتی ہے جسے قرآن کریم میں استدراج کہا گیا ہے پھر وہی استدراج گمراہی اور گمراہی قعرمذلت بن جاتی ہے۔
    جن لوگوں نے اپنے سے پہلوں کو برا کہا ان کے بعد کی نسلوں نے ان کے ساتھ بھی وہی حشر کیا جوانہوں نے کیا تھا،درخت اپنی جڑوں سے پہچانا جاتاہے،ہماری جڑیں ہمارے آباء واجداد ہیں اس لئے ہمیں ایساموقع نہیں دینا چاہئے کہ ہماری وجہ سے ہمارے اجداد کی عزت وعظمت اور ان کے وقار پر داغ لگے۔
    گنوادی ہم نے جواسلاف سے میراث پائی تھی
    ثریا سے زمیں پرآسماں نے ہم کو دے مارا
    حکومت کا تو کیا روناکہ وہ اک عارضی شئی تھی
    نہیں دنیا کے آئین مسلم سے کوئی چارہ
    مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی
    جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ
    ’’غنی روز سیاہ ،پیرکنعاں راتماشا کن
    کہ نودیدہ اش روشن کند چشم زلیخارا‘‘
  2. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    گنوادی ہم نے جواسلاف سے میراث پائی تھی
    ثریا سے زمیں پرآسماں نے ہم کو دے مارا
    حکومت کا تو کیا روناکہ وہ اک عارضی شئی تھی
    نہیں دنیا کے آئین مسلم سے کوئی چارہ
    مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی
    جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ

    بہت مفید تحریر ہے ۔ اللہ کریم ہمیں سمجھنے اور سنبھلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
    جزاک اللہ خیرا
  3. مولانانورالحسن انور

    مولانانورالحسن انور رکن مجلس العلماء Staff Member رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    1,537
    موصول پسندیدگیاں:
    144
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ’’غنی روز سیاہ ،پیرکنعاں راتماشا کن
    کہ نودیدہ اش روشن کند چشم زلیخارا‘‘
  4. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,572
    موصول پسندیدگیاں:
    458
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    بہت مفید تحریر ہے ۔ اللہ کریم ہمیں سمجھنے اور سنبھلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
    جزاک اللہ خیرا

اس صفحے کو مشتہر کریں