12ربیع الاول کے جلوس کی حقیقت

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد یوسف صدیقی, ‏دسمبر 2, 2016۔

  1. محمد یوسف صدیقی

    محمد یوسف صدیقی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    159
    موصول پسندیدگیاں:
    145
    صنف:
    Male
    12ربیع الاول کے جلوس کی حقیقت
    پروفیسر محمد یونس جنجوعہ
    نبی اکرمﷺ مکہ میں پیدا ہوئے جو اس وقت جہالت کا گڑھ تھا۔ چالیس سال کی عمر میں جب آپ پر وحی نبوت کا آغاز ہوا تو آپ نے اللہ کے حکم سے لوگوں کو راہِ حق کی طرف بلایا: ؎
    اُتر کر حرا سے سوئے قوم آیا اور اک نسخۂ کیمیا ساتھ لایا!
    انتہائی نا مساعد حالات میں آپ اللہ کا حکم لوگوں تک پہنچاتے رہے۔ اس کام میں آپ نے سخت تکالیف اٹھائیں، یہاں تک کہ جو چند لوگ دین اسلام میں داخل ہو گئے مکہ میں ان کا رہنا نا ممکن بنا دیا گیا۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی اور خود بھی مکہ کو خیر باد کہہ کر مدینہ چلے گئے۔ یہاں بھی قریش مکہ نے آپ کو چین سے نہ بیٹھنے دیا، مگر آپ کی مخلصانہ اور انتھک مساعی کا نتیجہ تھا کہ مدینہ منورہ اسلام کا گہوارہ بن گیا۔ اسلام کو مٹانے کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں، مدینہ اسلام کی روشنی سے چمک اٹھا۔ ہجرتِ مدینہ کے آٹھویں سال مسلمان اس قابل ہو گئے کہ وہ نبی اکرمﷺ کی قیادت میں فاتحانہ مکہ میں داخل ہو گئے۔
    (کل نفس ذائقۃ الموت) کے مصداق رسول اللہﷺ ہجرت کے 10سال بعد رفیق اعلیٰ سے جا ملے۔ یہ وہ وقت تھا جب آپ پر دین اسلام کی تعلیم مکمل کر دی گئی تھی اور اسلام ضابطۂ حیات کے طور پر مسلمانوں میں رائج ہو چکا تھا۔ قرآن مجید میں اعلان آچکا تھا کہ رسول اللہﷺ کی زندگی لوگوں کے لیے بہترین نمونہ ہے، چنانچہ آپ کے اصحاب نے آپ کی پیروی میں اپنی زندگیوں کو نہ صرف خود اسلام کے مطابق ڈھالا بلکہ آپ کے مشن کی تکمیل میں لگ گئے۔ آپ کے بعد اسلام روئے زمین پر لاکھوں مربع میل میں پھیل گیا۔
    اسلامی تعلیمات پر عمل کے اعتبار سے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا زمانہ بہترین تھا کہ دین اسلام خالص حالت میں مسلمانوں میں رائج رہا۔ لوگوں کے پیش نظریہ فرمان رسولﷺ تھا کہ لوگو تم پر لازم ہے کہ تم میرے طریقے کو اپنائو اور میرے خلفائے راشدین کا طریقہ اختیار کرو، نیز یہ بھی اعلان کر دیا کہ اسلامی تعلیمات کی تکمیل ہو چکی ہے اور اب اس میں کسی اضافے کی ضرورت نہیں اور یہ تکمیل بھی خود رسول اللہﷺ کے حین حیات اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ ان الفاظ میں کردی کہ (المائدہ: 3پ6)
    آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تمہارے اوپر تمام کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام پسند کیا۔
    نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (آل عمران: 85پ3)
    جو کوئی دین اسلام کے علاوہ کوئی اور دین اپنائے گا وہ اس سے قبول نہ کیا جائے گا۔
    گویا اب انسان مسلم اور کافر دو فریقوں میں تقسیم ہو گئے۔ مگر زمانے کے ساتھ ساتھ مسلمان قرآن و سنت کے راستوں کو چھوڑتے گئے اور اپنے خود ساختہ طریقے اپنانے لگے، اگرچہ رسول اللہﷺ یہ بھی فرما گئے تھے کہ میری امت کئی گرہوں میں بٹ جائے گی مگر ان میں ایک گروہ ایسا ہوگا جو میرے اور میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کے راستے کو ہی اپنائے گا اور وہ گروہ ہی صحیح راہ پر ہو گا۔
    آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت نے دین کو بازئچۂ اطفال بنا رکھا ہے اور دین میں نت نئی رسموں کا اضافہ کر لیا ہے، حالانکہ رسول اللہﷺ کا واضح ارشاد موجود ہے:
    ’’من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فہو رد ‘‘(متفق علیہ )
    جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز داخل کی جو اس میں نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔
    یعنی وہ شخص بھی مردود ہے اور وہ چیز بھی مردود ہے۔ اسی لیے خیر القرون میں دین اسلام بطور ضابطۂ حیات اپنی اصل حالت میں موجود رہااور جوں جوں مسلمان اسلامی اخلاق چھوڑتے گئے، اپنی من پسند چیزیں دین اسلام میں داخل کرتے گئے، تاکہ وہ جرائم بھی کرتے رہیں اور ان پر حُب نبوی کا زعم بھی رہے، حالانکہ مسلمان معاشرے میں جرائم برائے نام ہی ہوں گے، دَور دورہ عدل و انصاف اور اخلاقی خوبیوں کا ہوگا۔
    آج آپ دیکھیں! حُب نبوی کی آڑ میں رسول اللہﷺ کا میلاد زور و شور سے منایا جا رہا ہے مگر معاشرہ ہے کہ جرائم کا گڑھ بن چکا ہے۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ مسلمان خالص اسلام پر کار بند ہوتے اور ان اقدام کو کافی جانتے جو حقیقی محبان نبوی یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنائے تھے۔ یقینا وہ اقدام خلوص پر مبنی تھے اور عین رسول اللہﷺ کی منشاء کے مطابق تھے لہٰذا معاشرہ امن و سلامتی کا گہوارہ بن گیا اور جرائم اور اخلاقی برائیاں خال خال رہ گئیں۔
    میلاد النبیﷺ کی آڑ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ محبت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے جو سراسر حقیقت کے خلاف ہے۔ جلوس نکالے جا رہے ہیں، جن اخلاقی اقدار کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں۔ بڑی بڑی شاہراہوں سے جلوس اس طرح گزرتے ہیں کہ آمد و رفت گھنٹوں معطل رہتی ہے۔ ایسے جلوسوں کی قیادت علمائے کرام ہی کر رہے ہوتے ہیں جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ راستوں کا بند کرنا ہرگز جائز نہیں، اس سے عوام الناس کو تکلیف ہوتی ہے، ضرورت مند اور مریض مشکلات سے دو چار ہوتے ہیں جبکہ رسول اللہﷺ نے مسلمان اس کو کہا ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ اس کے برعکس تکلیف دہ کسی چیز کو راہ سے ہٹانا بہت بڑی نیکی ہے تو پھر لوگوں کے لیے راہ بند کرنا کتنا جرم ہو گا، کیا اسوۂ حسنہ میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے؟
    اس جلوس میں شامل لوگ جب ان مساجد کے پاس سے گزرتے ہیں جن کے نمازی اس غیر مسنون جلوس میں شمولیت نہیں کرتے تو وہاں رک کر خوب نعرے بازی کرتے ہیں تاکہ اپنے حب نبیﷺ کو عیاں کریں، اس طرح وہ ضد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہاں بھی جلوس کے قائدین لوگوں کو یہ تعلیم نہیں دیتے کہ ان مسجدوں کے نمازی بھی ہیں۔ انہیں بھی نبی مکرمﷺ کے ساتھ محبت ہے، ان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنا درست نہیں، ان کا اس جلوس میں شامل نہ ہونے کاسبب نبی اکرمﷺ کے ساتھ محبت کا نہ ہونا نہیں بلکہ وہ اس جلوس کو مسنون نہیں سمجھتے اس لیے اس میں شامل نہیں ہوتے۔ جلسے جلوس قائم کر کے جو لوگ محبت رسول کا دعویٰ کرتے ہیں اگر یہ لوگ اس دعوے میں سچے ہیں تو معاشرے سے جرائم ختم ہو جانے چاہیںمگر مشاہدہ یہ ہے کہ دن بدن معاشرہ بد سے بدتر جرائم اور گناہوں میں مبتلا ہوتا جا رہا ہے بلکہ معلوم یہ ہوتا ہے کہ میلاد النبیﷺ منا کر اپنے دل کو مطمئن کر لیتے ہیں کہ اگر ہم جرائم بھی کریںگے تو میلاد النبیﷺ کی خوشی میں کیے ہوئے کام ان کو بے اثر کر دیں گے۔
    بازاروں اور گھروں کو طرح طرح سے سجایا جاتا ہے۔ قیمتی وقت، روپیہ اور محنت خرچ کی جاتی ہے۔ اسی طرح مسجدوں کو بھی جھنڈیوں اور قمقموں سے بقعہ نور بنایا جاتا ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ مسجدوں کو سجانے والے ترئین کا کام کر رہے ہوتے ہیں اور مسجد میں نماز پڑھی جارہی ہوتی ہے۔ شاید وہ سمجھتے ہیں کہ حب نبیﷺ کا یہ کام نماز سے زیادہ اہم ہے۔ گلیوں، بازاروں اور مسجدوں میں روشنی کے انتظام کے لیے بجلی بھی عموماً ناجائز طور پر لی جاتی ہے۔ کیا یہ طرزِ عمل بھی اسلامی اخلاق پر پورا اترتا ہے؟ کیا جو شخص رسول اللہﷺ کی محبت میں سرشار ہو اسے چوری کی اجازت ہے؟ جبکہ اللہ اور رسولﷺ کے نزدیک چوری ایسا جرم ہے جس کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے۔ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے کہ ایک وقت آئے گا جب لوگ وہ کام کریں گے جن کا حکم دیا گیا ہے اور وہ کام کریں گے جن کا حکم نہیں دیا گیا۔ مسلمان معاشرے کی اکثریت نماز اور نماز باجماعت ادا نہیں کرتی، حالانکہ نماز پنج گانہ کا تاکیدی حکم احادیث سے ثابت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طرزِ عمل سے ظاہر ہے۔ نماز رکن اسلام ہے۔ یہ آپ کا زندگی بھر کا عمل ہے۔ کیا ہمارے معاشرے میں جو رونق عید میلاد النبیﷺ کے جلوس میں نظر آتی ہے یہ مسجدوں میں نظر آتی ہے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے لوگوں کے لیے آسانی پید اکرو اور تنگی نہ کرو۔ رمضان کی راتوں کی عبادت کی بڑی فضیلت ہے اسی طرح وضو کرتے ہوئے مسواک کرنا اور پھر نماز ادا کرنا ثواب کو بہت بڑھا دیتا ہے مگر نہ تراویح کو فرض کا درجہ دیا گیا اور نہ مسواک کو۔ صاف ظاہر ہے یہ اس لیے ہوا کہ فرض ہونے کی صورت میں یہ کام امت کی اکثریت کے لیے دشوار ہوتا لہٰذا آزادی رکھی گئی کہ جس کے لیے نیکی میں آگے بڑھنے کا جذبہ ہو اور اعمال کی ادائیگی میں آسانی ہو وہ انہیں اختیار کر لے اور اختیار نہ کرنے والے بھی گناہگار نہ ہوں۔ کیا اس قدر آسانیاں پیدا کرنے والے دین میں لوگوں کو مشکل میں ڈالنا جائز ہو سکتا ہے؟
    چونکہ عید الفطر اور عید الاضحی کے دن بلا اختلاف معلوم ہیں اور ان کے پروگرام بھی تفصیل کے ساتھ بتا دیئے گئے ہیں اس لیے یہ دونوں عیدیں منانے میں کسی طرح کا کوئی تکلیف دہ عمل نہیں ہوتا اور نہ کوئی شور شرابہ ہوتا ہے۔ یہ دن سکون و اطمینان سے گزر جاتے ہیں، جبکہ عید میلاد النبیﷺ کا پروگرام انسانوں کا اپنا بنایا ہوا ہے۔ اس میں نہ یکسانیت ہے اور نہ ہی دوسرے لوگوں کا مفاد مد نظر ہے، لہٰذا ان جلوسوں میں بعض جگہ گانے کی طرز پر نغمے، ڈانس اور بھنگڑے کے علاوہ طرح طرح کے خود ساختہ تفریحی پروگرام بنائے جاتے ہیں جو عام لوگوں کے امن و چین کو غارت کرنے والے ہوتے ہیں۔ کیا اس طرح کے طرزِ عمل کی اسلام جیسے ہمدردی اور سکون والے دین میں گنجائش ہو سکتی ہے؟ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’بدعت بانجھ نہیں ہوتی بلکہ نئے نئے بچے جنم دیتی رہتی ہے‘‘۔ چنانچہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ عید میلاد النبیﷺ کے جلوسوں اور پروگراموں میں ہر سال نئے نئے اضافے وجود میں آتے رہتے ہیں۔ اس سال ان پروگراموں میں کرسمس کی طرح کیک بھی کاٹے گئے ہیں۔
    چھوٹے چھوٹے بچے سڑکوں، بازاروں میں موٹر سائیکلوں، سائیکلوں اور گاڑیوں کو روک کر ان سے چندہ مانگتے ہیں۔ گویا مسلمان بچوں کو بھیک مانگنے پر لگا دیا گیا ہے اور وہ معصوم اس کام کو کارِ ثواب سمجھتے ہیں۔ ان کو کیا پتا کہ رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کو کسی سے سوال کرنے سے روکا ہے۔ اگر کسی گھوڑ سوار صحابی کا تازیانہ گر جاتا تو وہ اس بات کو پسند کرتا کہ کسی کو نہ کہے بلکہ خود گھوڑے سے اتر کر اپنا چابک پکڑے۔ دنیوی علوم میں بلاشبہ آگے بڑھنے کی اجازت ہے۔
    تیر اور تلوار کے بعد بندوق اور رائفل، تانگے کے بعد موٹر کار، تیز رفتار گاڑیاں اور پھر ہوئی جہاز ہیں۔ ان سے فائدہ اٹھانا بالکل جائز ہے، کیونکہ یہ دین کی چیزیں نہیں بلکہ دنیوی ایجادات ہیں۔ یہ بدعات نہیں ہیں۔ اسلام سے بہتر کوئی دین نہیں اور نہ اسلام کو مزید بہتر بنانے کی گنجائش ہے۔ اب صرف رسول اللہﷺ کا اسوۂ حسنہ اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا طریقہ ہی صواب ہے اور کامل ہے۔
    جب کوئی بدعت رواج پاتی ہے تو وہ سنت مٹاتی ہے۔ فرض نماز کے بعد مسنون اذکار بتائے گئے ہیں جبکہ نماز کے فوراً بعد غیر مسنون وظائف اونچی آواز میں پڑھے جائیں گے تو حدیث میں مذکور اذکار کو یا چھوڑا جائے گا یا ثانوی حیثیت دی جائے گی حالانکہ رسول اللہﷺ کے بتائے ہوئے اذکار ہی سب سے زیادہ فضیلت والے ہیں۔ جس وقت کے لیے جو اذکار بتائے گئے ہیں وہی بہترین ہیں۔ اسی طرح جو عیدیں رسول اللہﷺ نے منائی ہیں اور منانے کا حکم دیا ہے نیز منانے کا طریقہ بھی بتایا ہے بس وہ عیدیں کافی ہیں۔ اپنی طرف سے بنائی گئی عید حقیقی اسلام کا حصہ نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو حب رسول میں چوٹی پرتھے انہوں نے میلاد النبیﷺ کے دن کو نہ عیدبنایا اور نہ منایا۔
    اسلام میں فضول خرچی کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں فضول خرچی کرنے والوں کو شیاطین کے بھائی کہا گیا ہے۔ فضول خرچی کیا ہے؟ کسی دینی یا دنیوی ضرورت کے علاوہ خرچ کر نا فضول خرچی ہے۔ مسجدوں، بازاروں اور گھروں میں ضرورت سے زیادہ روشنی فضول خرچی میں آتی ہے۔ ہاں اگر رسول اللہﷺ کے وقت خاص خاص موقعوں پر مسجدوں، گھروں اور بازاروں کو سجایا جاتا تھا تو یہ کام مسنون ہو گا ورنہ بدعت جسے قرنِ اولیٰ میں اختیار نہیں کیا گیا۔
    افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ان جلوسوں کی قیادت کرنے والے علمائے کرام ہی ہیں اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان جلوسوں سے حُب نبیﷺ کا تقاضا پورا نہیں ہوتا۔ اس طرح محبت جتا کر رسو ل اللہﷺ کو راضی نہیں کیا جاسکتا۔ آپ کو راضی کرنے والے سارے کام تفصیل کے ساتھ قرآن و حدیث میں مذکور ہیں اور پھر مسلمانوں کو ایسے کاموں میں الجھانا جو سنت سے ثابت نہیں بلکہ ان کے نقصانات اظہر من الشمس ہیں کیسے زیب دیتا ہے کہ علمائے کرام ان کی نکیر کرنے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کریں اور خود بھی ان میں شریک ہوں؟
    اس ضمن میں ایک اور قابل غور بات یہ ہے کہ اکثر بڑے لوگوں کی صحیح تاریخ پیدائش معلوم نہیں ہوتی۔ اُ س کی وجہ یہ ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو کسی کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ بڑا ہو کر مشہور آدمی بنے گا، لہٰذا اس کی تاریخ پیدائش کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیا جاتا۔ یہی معاملہ رسول اللہﷺ کی تاریخ پیدائش میں پیش آیا۔ کسی کو کیا پتا تھا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں۔ چالیس سال یونہی گزر گئے۔ آپ کے بچپن اور لڑکپن کے حالات عام طور پر زیادہ معلوم نہیں۔ نبوت کے آغاز سے آپ کی وفات تک کا لمحہ لمحہ تحریری صورت میں موجود ہے کیونکہ اب آپ کا تعارف ہو چکا تھا اور ہر چیز جو آپ کے متعلق تھی نوٹ ہوتی جاتی تھی، لہٰذا آپ کی تاریخ پیدائش بعض کے نزدیک کچھ ہے بعض کے نزدیک کچھ۔ اکثر علماء اور مؤرخین کے نزدیک آپ کی تاریخ پیدائش 9ربیع الاول ہے، تاہم یہ بھی حتمی نہیں، البتہ آپ کی وفات کی تاریخ 12ربیع الاول بتائی جاتی ہے۔ اس لیے آج سے تیس چالیس سال پہلے تک 12ربیع الاول کو بارہ وفات کہا جاتا تھا اور لوگ اس دن غم کا اظہار کرتے تھے۔ اب اسی 12تاریخ کو آپ کایومِ پیدائش کہا جاتا ہے اور یہ ایک جشن کی صورت اختیار کر گیا ہے حالانکہ جیسا کہ ذکر کیا گیا 12ربیع الاول آپ کی حتمی تاریخ پیدائش نہیں۔ اگر تاریخ پیدائش پر کسی جشن کا اہتمام کرنا شریعت میں مطلو ب ہوتا تو خدائی انتظام کے تحت تاریخ پیدائش نہ صرف صحیح بتائی جاتی بلکہ اس دن خوشی منانے کا بھی حکم دیا جاتا جس طرح عید الفطر اور عید الاضحی کے دن نہ صرف حتمی طور پر بتائے گئے ہیں بلکہ ان عیدوں کے پروگرام بھی تفصیل کے ساتھ بتائے گئے ہیں۔ اس کے بر عکس عید میلاد النبیﷺ کے نام پر منائی جانے والی اس عید کی تاریخ حتمی نہیں اور نہ اس کا پروگرام ہی بتایا گیا ہے۔ معلوم ہوا یہ تقریب شریعت میں مطلوب ہی نہیں۔
    اسلام میں عید الفطر اور عید الاضحی ہی مستند تقاریب ہیں۔ اس کے علاوہ اور کسی خوشی کے موقع کی یاد منانا مسنون ہوتا تو بدر کی فتح کا دن اور فتح مکہ کا دن منائے جاتے اور اگر غم کی یاد منانا ہوتا تو جنگ احد میں اللہ کے رسولﷺ کے دندان مبارک کی شہادت اور طائف میں جو آپ پر تشدد کیا گیا، یہ دن غم کے انداز میں منائے جاتے لیکن سب جانتے ہیں کہ ان میں کسی دن کو نہ خوشی کی تقریب کا رنگ دیا گیا نہ غمی کا، حالانکہ یہ یاد گار دن خود رسول اللہﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں پیش آئے تھے اور کئی سال تک یہ تاریخیں آتی رہیں مگر یہ نہ آپ کی زندگی میں منائی گئیں اور نہ عہد خلافتِ راشدہ میں۔
    بچوں یا بڑوں کی سالگرہ کبھی مسلمانوں کا معمول نہیں رہا، یہ خالصتاً غیر مسلموں کا کام ہے۔ مغربی غیر مسلموں کی غلامی کے دوران جس طرح بہت سے کام ہم نے ان کی نقالی میں اختیار کیے سالگرہ منانا بھی ان میں سے ایک ہے حالانکہ ہمیں دوسری غیر مسلم قوموں کی نقالی سے منع کیا گیا ہے۔ آپ نے جہاں کافروں کی نقالی سے روکا ہے وہاں یہ بھی فرمایا کہ جو مسلمان ان کی نقالی کرے گا وہ ان ہی میں شمار ہو گا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جوں جوں کسی کی عمر کے سال گزرتے ہیں اس کی طبعی عمر اتنے سال کم ہوتی جاتی ہے گویا گزرنے والے دن اور سال انسان کی مہلت عمر کو گھٹا رہے ہیں نیز اس کے لیے آخرت کی تیاری کا وقت کم ہو رہا ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ زندگی کو غنیمت جانے اور اسے نیک کاموں میں گزارے، پتا نہیں کس وقت بلاوا آجائے اور اپنی غفلت پر پچھتانا پڑے۔ زندوں اور فوت شدگان کے دن منانے کی کوئی مثال قرونِ اولیٰ میں نہیں ملتی نہ صحابہ کے دور میں نہ تابعین اور تبع تابعین کے دور میں۔
    یہ حقیقت تو ہر شک و شبہ سے بالا تر ہے کہ ربیع الاول کے کسی دن یا 12تاریخ کا یہ عمل نہ فرض اور سنت ہے نہ واجب اور مستحب۔ اگر اسے کسی درجہ میں خیر بھی سمجھا جائے تو اس میں شامل نہ ہونے والوں پر نکیر نہیں کی جا سکتی۔ جب فرضوں کے علاوہ نفل نماز پڑھنے والوں پر کوئی اعتراض نہیں تو اس اضافی نیکی کا نہ کرنا کیسے قابل اعتراض اور نفرت کا موجب ہو سکتا ہے؟ اگر عید میلاد النبیﷺ کے جلوس میں شامل نہ ہونے والوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو اصحاب رسول کو حُب نبیﷺ کے ضمن میں کس درجہ پر رکھا جائے گا جنہوں نے اس قسم کا جلوس نہ منعقد کیا او ر نہ اس میں شرکت کی کیا وہ بھی شافعِ محشر کی محبت کے اجر سے محروم رہے؟ (بشکریہ ماہنامہ میثاق لاہور)

اس صفحے کو مشتہر کریں