دُمدار تارے

محمدداؤدالرحمن علی

وفقہ اللہ
رکن
ہمارے نظامِ شمسی کے اندر 9 بڑے سیاروں، اُن کے چاندوں اور سیارچوں کے علاوہ کچھ ایسے اَجرام بھی پائے جاتے ہیں جو برس ہا برس ہماری آنکھوں سے اوجھل رہنے کے بعد اپنے مقررہ وقت پر چند روز کے لئے ظاہر ہوتے ہیں اور بعد ازاں پھر اپنے طوِیل مدار پر روانہ ہو جاتے ہیں۔ اُنہیں دُمدار تاروں (comets) کا نام دیا جاتا ہے۔ سورج کے گرد اُن کا مدار اِنتہائی بیضوِی ہوتا ہے۔ وہ برف سے بنے بڑے بڑے گولے ہوتے ہیں، عام طور پر اُنہیں ’گرد آلود برف کے گولے‘ بھی کہا جاتا ہے۔ جوں جوں کوئی دُمدار تارہ سورج کے قریب آتا چلا جاتا ہے اُس کا مرکزہ بخارات پر مشتمل روشن دُم بنانے لگتا ہے، جو ہمیشہ سورج کی مخالف سمت میں چمکتی ہوئی دِکھائی دیتی ہے۔ بعض دفعہ چند کلومیٹر قطر کے دُمدار تارے کی دُم کئی لاکھ کلومیٹرز تک طوِیل ہوتی ہے۔

سورۂ تکویر میں اللہ ربّ العزت نے دُمدار تارے کی اِس اہمیت کے پیشِ نظر اُس کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا :

فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِO الْجَوَارِ الْكُنَّسِO

(التکوير، 81 : 15، 16)

تو میں قسم کھاتا ہوں اُن (اَجرامِ فلکی) کی جو (ظاہر ہونے کے بعد) پیچھے ہٹ جاتے ہیںo جو بلا روک ٹوک چلتے رہتے ہیں، (پھر ظاہر ہو کر) چھپ جاتے ہیںo
قرآنِ مجید میں دُمدار تاروں کو ’’اَلْخُنَّس‘‘ اور ’’اَلْجَوَارُ الْکُنَّس‘‘ کے لفظوں میں اِس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ وہ کبھی ظاہر ہوتے ہیں اور پھر عرصۂ دراز کے لئے چھپ جاتے ہے۔

صاحبِ قاموس المحیط لکھتے ہیں :

الکنّس : هی الخنّس، لأنّها تکنس في المغيبِ.

(القاموس المحيط، 2 : 256)

’’الکنس‘‘ کا معنی چھپنا اور گم ہو جانا ہے۔ وجہِ تسمیہ اُس کی یہ ہے کہ وہ comet (طویل عرصے کے لئے) کسی نادِیدہ مقام میں کھو جاتےہیں
 
Top