حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے محمد بن ابی بکر کو قتل کرایا(اعتراض)

محمد عثمان غنی

طالب علم
Staff member
ناظم اعلی
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے حوالے سے مودودی صاحب خلافت و ملوکیت میں تحریر کرتے ہیں کہ
"ایسا ہی وحشیانہ سلوک مصر میں محمد بن ابوبکر کے ساتھ کیا گیا ۔ جو وہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گورنر تھے۔ حضر ت معاویہ رضی اللہ عنہ کا جب مصر پر قبضہ ہوا تو انہیں گرفتار کرکے قتل کر دیا گیااور پھر ان کی لا ش ایک گدھے کی کھال میں رکھ کر جلائی گئی۔"
اہل علم و دانش سے رہنمائی و تحقیق درکار ہے؟
 

محمد عثمان غنی

طالب علم
Staff member
ناظم اعلی
اولاً: تو اس بات کی نفی کہ محمد بن ابی بکر کو جلایا نہیں گیا۔

علامہ خیر الدین زرکلی ؒ لکھتے ہیں کہ

لم یحرق ودفنت جثۃ مع راسہ فی مسجد یعرف مسجد "زمام "خارج مدینۃ الفسطاط قال ابن سعید وقد ذرت قبرہ فی الفسطاط۔ ( الاعلام ۔ ص 79 ج 7)

محمد بن ابی بکر کو جلایا نہیں گیا بلکہ اس کے جسم کو اس کےسر کے ساتھ ایک مسجد میں دفن کیا گیا ۔ جس کو مسجد زمام کہتے ہیں۔ اور جو فسطاط شہر سے باہر ہے ابن سعید کہتے ہیں کہ میں نے اس کی قبر فسطاط میں دیکھی ۔"
 

محمد عثمان غنی

طالب علم
Staff member
ناظم اعلی
ثانیاً ۔ کیا محمد بن ابی بکر کو قتل کرنا ٹھیک تھا ؟

یہ جنگ قاتلین عثمان کی شدید خواہش کے مطابق ان کے خلاف لڑی گئی ۔ جس میں محمد بن ابی بکر، کنانہ بن بشر ، اور ان کے دیگر ہمراہی جو قتل عثمان میں براہ راست شریک تھے اپنے انجام کو پہنچے۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر جن لوگوں نے حملہ کیا ان میں یہ جناب بھی شامل تھے۔ بلکہ جناب نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو داڑھی سے پکڑا ۔

حافظ ابن عبدالبر اندلسی ؒ لکھتے ہیں:

وکان ممن حضر قتل عثمان وقیل انہ شارک فی دمہ۔۔ وقیل انہ اشار علی من کان معہ فقتلوہ۔ (الاستیعاب مع الاصابۃ ص 349 ج 3)

ترجمہ : محمد بن ابی بکر ان لوگوں میں سے ہے جو قتل عثمان کے وقت موجود تھے اور کہا گیا ہے کہ یہ ان کی خون ریزی میں بھی شامل تھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے اشارے پر لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا۔

طبری کی جس روایت سے مودودی صاحب نے اعتراض کیا ہے اسی روایت میں محمد بن ابی بکر کے یہ الفاظ بھی موجود ہیں کہ جب اس سے کہا گیا کہ میں تجھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بدلہ میں قتل کرنا چاہتا ہوں تو محمد بن ابی بکر نے کہا:

(وما انت وعثمان؟ ان عثمان عمل بالجور ونبذ حکم حکم القرآن وقد قال اللہ تعالیٰ ۔ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ۔ ۔۔۔۔۔ فنقمنا ذالک علیہ فقتلنا۔ ۔۔ فغضب معاویۃ (ابن خدیج) فقدمہ فقتلہ ثم القاہ فی جیفۃ حمار ثم احرقہ بالنار۔ (طبری ص 59، ج 6 تحت 38ھ)

کہاں تم اور کہاں عثمان ! بے شک عثمان نے ظلم کا راستہ اپنایا اور احکام کو پھینک دیا ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ فیصلہ نہیں کرتا وہ فاسق ہے ۔ ہم نے تو عثمان سے اسی لیے انتقام لیا ہےا ور اسے قتل کر دیا ہے۔ ۔ادھر تو اور تیرے ساتھی عثمان کے اس طریقہ کو اچھا سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس گناہ سے بری کر دے گا اور تو اس کے گنا ہ میں شریک ہے اور اس کے گناہ کو بڑا کرنے والا ہے اور اپنے آپ کو اسی طریقے پر ڈالنے والا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سن کر حضرت معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ غضبناک ہوئے اور آگے بڑھ کر اسے قتل کر دیا ، پھر ایک مردہ گدھے کی کھال میں ڈال کر جلادیا۔2021-04-19 (7).png
181 اٹیچمنٹ کو ملاحظہ فرمائیں2021-04-19 (5).png 2021-04-19 (7).png

اس سے دو باتوں کی وضاحت ایک تو محمد بن ابی بکر کو قتل کیوں کیا گیا؟
دوسری اہم ترین بات ۔۔۔۔ یہاں محمد بن ابی بکر کے قتل میں معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم وارضاہ نہیں بلکہ معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ شریک تھے۔ ۔ ۔۔۔۔۔

2021-04-19 (6).png


آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
 
Last edited:

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
  • پہلی روایت

قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدٍ: " أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ تَسَوَّرَ عَلَى عُثْمَانَ مِنْ دَارِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَمَعَهُ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرِ بْنِ عَتَّابٍ , وَسَوْدَانُ بْنُ حُمْرَانُ , وَعَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ فَوَجَدُوا عُثْمَانَ عِنْدَ امْرَأَتِهِ نَائِلَةَ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَتَقَدَّمَهُمْ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَأَخَذَ بِلِحْيَةِ عُثْمَانَ، فَقَالَ: قَدْ أَخْزَاكَ اللَّهُ يَا نَعْثَلُ، فَقَالَ عُثْمَانُ: لَسْتُ بِنَعْثَلٍ، وَلَكِنْ عَبْدُ اللَّهِ وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ: مَا أَغْنَى عَنْكَ مُعَاوِيَةُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ، فَقَالَ عُثْمَانُ: يَا ابْنَ أَخِي، دَعْ عَنْكَ لِحْيَتِي، فَمَا كَانَ أَبُوكَ لِيَقْبِضَ عَلَى مَا قَبَضْتَ عَلَيْهِ , فَقَالَ مُحَمَّدٌ: مَا أُرِيدُ بِكَ أَشَدُّ مِنْ قَبْضِي عَلَى لِحْيَتِكَ، فَقَالَ عُثْمَانُ: أَسْتَنْصِرُ اللَّهَ عَلَيْكَ وَأَسْتَعِينُ بِهِ , ثُمَّ طَعَنَ جَبِينَهُ بِمِشْقَصٍ فِي يَدِهِ , وَرَفَعَ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرِ بْنِ عَتَّابٍ مَشَاقِصَ كَانَتْ فِي يَدِهِ فَوَجَأَ بِهَا فِي أَصْلِ أُذُنِ عُثْمَانَ، فَمَضَتْ حَتَّى دَخَلَتْ فِي حَلْقِهِ , ثُمَّ عَلَاهُ بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلَهُ

راوی بیان کرتے ہیں کہ عمرو بن حزم کے گھر سے دیوار پھاند کر محمد بن ابی بکر حضرت عثمان کے گھر داخل ہوئے اور ان کے ساتھ کنانہ بن بشیر بن عتاب سودان بن حمران اور عمرو بن الحمق تین آدمی اور بھی تھے جب داخل ہوئے تو حضرت عثمان کو دیکھا کہ وہ اپنے اہلیہ کے پاس بیٹھے قرآن میں کریم سے سورہ بقرہ کی تلاوت کر رہے تھے ان حملہ آوروں میں سے محمد بن ابی بکر آگے بڑھا اور جناب عثمان غنی کی داڑھی پکڑ لی اور کہنے لگا اے نعثل اللہ تجھے رسوا کرے حضرت عثمان نے فرمایا میں نعثل نہیں ہوں بلکہ اللہ کا بندہ اور مومنوں کا امیر ہوں یہ سن کر محمد بن ابی بکر بولا اے عثمان تمہیں فلاں فلاں نے کیا فائدہ دیا حضرت عثمان بولے برادرزادے میری داڑھی چھوڑ دے یہ جرات تو تیرا باپ ابوبکر بھی نہ کر سکتا تھا جس کا مظاہرہ آج تو نے کیا محمد بن ابی بکر بولا داڑھی پکڑنے سے تو کہیں بڑھ کر ایک کام کرنے کا ارادہ ہے( یعنی قتل کرنے کا) حضرت عثمان غنی استغفراللہ کہی اور اس سے طلب مدد کی اس کے بعد محمد بن ابی بکر نے ہاتھ میں پکڑی قینچی سے عثمان غنی کی پیشانی زخمی کر دی ادھر کنانہ بن بشیر نے ان قینچوں سے آپ کو زخمی کرنا شروع کر دیا جو اس کے ہاتھ میں تھیں آپ کے کانوں کی جڑ پر زخم لگائے جو حلق تک اترگے پھر تلوار لے کر آپ پر حملہ آور ہوا پھر اس وقت چھوڑا جب آپ قتل (شہید )ہو گئے

الطبقات الكبرى -نویسنده : ابن سعد جلد : 3 صفحه : 73 مطبوعہ دار صادر - بيروت

  • دوسری روایت

وَرَوَى الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ أَنَّ عُثْمَانَ لَمَّا عَزَمَ عَلَى أَهْلِ الدَّارِ فِي الِانْصِرَافِ وَلَمْ يَبْقَ عِنْدَهُ سِوَى أَهْلِهِ تَسَوَّرُوا عَلَيْهِ الدَّارَ وَأَحْرَقُوا الْبَابَ وَدَخَلُوا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ فِيهِمْ أَحَدٌ مِنَ الصَّحَابَةِ وَلَا أَبْنَائِهِمْ، إِلَّا مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، وَسَبَقَهُ بَعْضُهُمْ، فَضَرَبُوهُ حَتَّى غُشِيَ عَلَيْهِ وَصَاحَ النِّسْوَةُ فانزعروا وَخَرَجُوا وَدَخَلَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ يَظُنُّ أَنَّهُ قَدْ قُتِلَ، فَلَمَّا رَآهُ قَدْ أَفَاقَ قَالَ: عَلَى أَيِّ دِينٍ أَنْتَ يَا نَعْثَلُ؟ قَالَ:
عَلَى دِينِ الْإِسْلَامِ، وَلَسْتُ بِنَعْثَلٍ وَلَكِنِّي أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ: غَيَّرْتَ كِتَابَ اللَّهِ، فَقَالَ: كِتَابُ اللَّهِ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ، فَتَقَدَّمَ إِلَيْهِ وَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ وَقَالَ: إِنَّا لَا يُقْبَلُ مِنَّا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ نَقُولَ: (رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سادتنا وكبراءنا فأضلونا السبيلا) وشطحه بِيَدِهِ مِنَ الْبَيْتِ إِلَى بَابِ الدَّارِ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا ابْنَ أَخِي مَا كَانَ أَبُوكَ لِيَأْخُذَ بِلِحْيَتِي

حافظ ابن عساکر نے روایت بیان کی ہے کہ جب حضرت عثمان نے اپنے گھر رہنے کا ارادہ کر لیا اور آپ کے ساتھ صرف آپ کی اہلیہ رہ گئی تو کچھ لوگ دیوار پھاند کر آپ کے گھر داخل ہوئے دروازے جلا دیے ان حملہ آوروں نے صحابہ کرام اور ان کی اولاد میں سے ماسوا محمد بن ابی بکر کے اور کوئی نہ تھا پھر ان حملہ آوروں میں سے بعض نے آپ کو اتنا زدوکوب کیا کہ آپ پر غشی طاری ہوگئی عورتوں نے شور مچایا جس پر یہ لوگ چھوڑ کر چلے گئے بعد میں محمد بن ابی بکر آیا اس کا خیال تھا کہ عثمان غنی فوت ہو چکے ہوں گے لیکن ابھی انہیں افاقہ تھا کہنے لگا اے نعثل تم کس دن پر ہو فرمایا دین اسلام پر ہوں مین نعثل نہیں ہوں بلکہ مومنوں کا امیر ہوں محمد بن ابی بکر بولا تم نے کتاب اللہ کو تبدیل کردیا ہے فرمایا اللہ کی کتاب میرے اور تمہارے درمیان ہے (یعنی اس بات کا فیصلہ اللہ کے سپرد) یہ سن کر محمد بن ابی بکر نے آگے بڑھ کر عثمان غنی کی داڑھی پکڑ لی اور کہنے لگا کہ اگر کل قیامت کو ہم یہ کہیں کہ اے اللہ ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی انہوں نے ہمیں صراط مستقیم سے بہکا دیا تو ہمارا یہ بہانہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا پھر اس نے آپ کو کمرے سے نکال کر حویلی کے دروازے تک گھسیٹا اس دوران عثمان غنی یہ کہہ رہے تھے بھتیجے تیرا باپ بھی میری داڑھی پکڑنے کی جرات نہ کرتا اگر زندہ ہوتا

البداية والنهاية - نویسنده : ابن كثير جلد : 7 صفحه : 185 مطبوعہ دار الفكر بیروت

  • تیسری روایت

محمد بن ابی بکر تیرہ آدمیوں میں سے ایک تھا جو عثمان غنی پر حملہ آور تھے یہاں تک کہ جب محمد بن ابی بکر حضرت عثمان غنی کے پاس پہنچا تو ان کی داڑھی اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑ لی پکڑ کر خوب جنجھوڑا یہاں تک کہ حضرت عثمان کے دانت آپس میں بجنے لگے اور محمد بن ابی بکر نے کہا اے عثمان معاویہ تمہارے کوئی کام آیا اور نا ابن عامر اور نا ہی تمہاری رقعہ جات کچھ کام آئے یہ سن کر عثمان غنی نے کہا بتیجے میری داڑھی چھوڑ دے راوی کہتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ محمد بن ابی بکر نے ایک مخصوص شخص کو اپنی طرف متوجہ کیا اور اسنے قینچی سے عثمان غنی پر حملہ کرکے زخمی کردیا اور سر میں چھبا چھوڑا کر باہر گیا پھر دوسرے حملہ آور اندر آئے اور انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل( شہید) کردیا

ازالہ الخفاء جلد 4 صفحہ 361 مطبوعہ آرام باغ کراچی

  • چوتھی روایت

وَكَانَ ممن حضر قتل عُثْمَان. وقيل:
إنه شارك فِي دمه، وقد نفى جماعة من أهل العلم والخبر أَنَّهُ شارك فِي دمه وأنه لما قَالَ لَهُ عُثْمَان: لو رآك أبوك لم يرض هَذَا المقام منك- خرج عَنْهُ وتركه، ثُمَّ دخل عَلَيْهِ من قتله. وقيل: إنه أشار على من كَانَ معه فقتلوه.

محمد بن ابی بکر ان لوگوں میں سے ہے جو قتل عثمان کے وقت موجود تھے اور کہا گیا ہے کہ یہ ان کی خونریزی میں بھی شریک تھا اہل علم و خبر کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ محمد بن ابی بکر عثمان غنی کے قتل کرنے میں شریک تھا اور جب عثمان غنی نے اسے یہ کہا کہ اگر تیرا باپ (ابوبکر) آج تجھے اس حالت میں دیکھ پاتا تو وہ قطعا خوش نہ ہوتا یہ سن کر محمد بن ابی بکر وہاں سے نکل گیا اور عثمان غنی کا پیچھا چھوڑ دیا پھر وہ لوگ اندر آگئے جنہوں نے عثمان غنی کو شہید کر دیا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ محمد بن ابی بکر کے اشارے پر لوگوں نے عثمان غنی کو قتل کیا

الاستيعاب في معرفة الأصحاب نویسنده : ابن عبد البر جلد : 3 صفحه : مطبوعہ دار الجيل، بيروت
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
قرائن و شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ۳۸ ھ میں جنگ صفین کے بعد معاویہ نے اہل شام کے باہمی مشاورت اور عمرو بن عاص کو ملا کر مصر میں معاویہ بن خدیج جیسے ناصبیوں کی مدد سے مصر پر حملہ کر دیا اور جناب محمد بن ابی بکر کو شہید کر دیا۔ جب محمد بن ابی بکر شہید ہو گئے تو محمد بن ابی حذیفہ اپنے مختصر لشکر کے ساتھ فرار کر گئے لیکن انہیں فلسطین کے مقام پر گھیرے میں لے لیا گیا اور وہی انہیں بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا۔

ذہبی، محمد بن احمد، سیر اعلام النبلاء، ج ۳، ص ۴۸۱۔


اکثر مؤرخین نے لکھا ہے کہ جب مصر کے حالات خراب ہو رہے تھے تو خلیفہ سوم نے محمد بن ابی حذیفہ کے والی عبد اللہ بن ابی سرح کی مدد کے لیے بھیجا، لیکن محمد نے اہل مصر سے تعلق بھال کر کے ابن ابی سرح کو مصر سے بے دخل کر دیا اور خود مصر پر قابض ہو گئے۔ بعد میں معاویہ نے آپ کا محاصرہ کر کے قید کر کے شہید کر دیا۔ جب محمد بن ابی حذیفہ نے ابن ابی سرح کو مصر سے بے دخل کر دیا تو بعد میں محمد بن ابی بکر بھی ان سے آ ملے اور دونوں نے اہل مصر کو خلیفہ سوم کے خلاف بھڑکایا اور دونوں خلیفہ سوم کی کثرت سے عیبِ جوئی کرتے

طبری، ابن جریر، تاریخ طبری، ج ۳، ص ۳۴۱۔
طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج ۳، ص ۴۴۶۔
 

محمد عثمان غنی

طالب علم
Staff member
ناظم اعلی
قرائن و شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ۳۸ ھ میں جنگ صفین کے بعد معاویہ نے اہل شام کے باہمی مشاورت اور عمرو بن عاص کو ملا کر مصر میں معاویہ بن خدیج جیسے ناصبیوں کی مدد سے مصر پر حملہ کر دیا اور جناب محمد بن ابی بکر کو شہید کر دیا۔ جب محمد بن ابی بکر شہید ہو گئے تو محمد بن ابی حذیفہ اپنے مختصر لشکر کے ساتھ فرار کر گئے لیکن انہیں فلسطین کے مقام پر گھیرے میں لے لیا گیا اور وہی انہیں بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا۔

ذہبی، محمد بن احمد، سیر اعلام النبلاء، ج ۳، ص ۴۸۱۔


اکثر مؤرخین نے لکھا ہے کہ جب مصر کے حالات خراب ہو رہے تھے تو خلیفہ سوم نے محمد بن ابی حذیفہ کے والی عبد اللہ بن ابی سرح کی مدد کے لیے بھیجا، لیکن محمد نے اہل مصر سے تعلق بھال کر کے ابن ابی سرح کو مصر سے بے دخل کر دیا اور خود مصر پر قابض ہو گئے۔ بعد میں معاویہ نے آپ کا محاصرہ کر کے قید کر کے شہید کر دیا۔ جب محمد بن ابی حذیفہ نے ابن ابی سرح کو مصر سے بے دخل کر دیا تو بعد میں محمد بن ابی بکر بھی ان سے آ ملے اور دونوں نے اہل مصر کو خلیفہ سوم کے خلاف بھڑکایا اور دونوں خلیفہ سوم کی کثرت سے عیبِ جوئی کرتے

طبری، ابن جریر، تاریخ طبری، ج ۳، ص ۳۴۱۔
طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج ۳، ص ۴۴۶۔
جزاک اللہ خیر واحسن الجزاء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد بن ابی بکر کے قتل عثمان کے جرم میں شریک ہونے کی وجہ سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اس کا نام لینے کے بجائے "یافاسق" کہتے تھے۔

وکان الحسن لایسمیہ باسمہ انما کان یسمیہ الفاسق (طبقات ابن سعد ۔ 83 ج 3)

خود محمد بن ابی بکر کے بیٹے حضرت قاسم ؒ قتلِ عثمان میں شرکت کی وجہ سے اپنے باپ کے لیے مغفرت کی دعا کیا کرتے تھے۔

وکان القاسم بن محمد یقول فی سجودہ اللھم اغفر لابی ذنبہ فی عثمان۔(ابن خلکان ۔ ص 59 ج 4)

حضرت قاسم بن محمد بن ابی بکر سجدے کی حالت میں کہا کرتے تھے اے اللہ ! میرے باپ کا وہ گناہ معاف کر دے جو عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے مین ہے۔
 

ابن عثمان

وفقہ اللہ
رکن
اللہ کے بندو ، کیا مشاجرات میں سکوت مناسب نہیں ۔ مشاجرات میں ہوتا ہی یہی ہے کہ دو اپنے ہی لوگوں میں لڑائی ہوئی ۔ دونوں طرف سے صحابہؓ شہید ہوئے ۔ تو انفرادی طور پر واقعات نقل کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔
اہل السنۃ کے بہت سے علماء نے محمد بن ابی بکر ؓ کو صحابی نقل کیا ہے ۔ حافظ ابن حجر ؒ نے اصابہ فی تمییز الصحابہ قسم ثانی میں ان کا ترجمہ لکھا ہے یعنی ان کی صحابیت کو ثابت مانا ہے ۔ وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سائے میں پلے ہیں ۔ حافظ نے ابن عبد البر سے ہی نقل کیا ہے کہ
وقال ابن عبد البرّ: كان عليّ يثني عليه ويفضله، وكانت له عبادة. واجتهاد، ولما بلغ عائشة قتله حزنت عليه جدّا، وتولت تربية ولده القاسم، فنشأ في حجرها، فكان من أفضل أهل زمانه.
اگر شیعہ اور مودودی مرحوم ان کی فضیلت کے قائل ہیں تو کیا ہم نے ضرور مخالف گروپ میں ہی جانا ہے ۔
ہم نے تو انصاف کرنا ہے ۔
امت کے جمہور علماء نے عقائد میں یہ بات لکھی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں کوئی صحابی نہیں شریک تھا۔
وہ سبائیوں کے ورغلانے سے گئے ضرور تھے لیکن پھر حضرت عثمان ؓ کے شرم دلانے پر واپس ہوگئے اور دوسروں کو بھی روکنے کی کوشش کی ۔
یہ بات تاریخی روایات میں ہے ۔ اور ایسی روایات فی الباب قابل قبول ہوتی ہیں ۔
لیکن مشاجرات میں شخصیت مجروح کرنے کی روایات نہیں قبول ہوسکتیں
جو کہ اوپر نقل کی ہیں جس میں سے کوئی روایت صحیح نہیں ۔
حافظ ابن حجرؒ نے ابن عبد البر کی استیعاب کے بارے میں فرمایا ہے کہ اچھی کتاب ہے لیکن مشاجرات کے معاملات میں بہت ضعیف روایات نقل کردی ہیں۔اسی طرح مشاجرات کے معاملے میں صرف طبری،خلکان، حتی کے البدایہ والنہایہ کا بھی صرف حوالہ دینے سے بات نہیں ختم ہوگی۔ سند صحیح ثابت کرنی ہوگی ۔ اگر صحیح ثابت ہوجائےتو عقائد و اصول سے بھی نہ ٹکرائے ، یہ بھی بتانا ہوگا۔

حضرت حسن ؒ کی روایت مرسل ہے ۔ اس میں کئی راوی مجروح بھی ہیں ۔پھر حضرت علی ؓ کے مقابلے میں ہے ۔کیسے قبول ہوسکتی ہے ۔
انفرادی طور پر یوں مشاجرات میں تاریخ میں اتنا زیادہ زہر ہے کہ کیا بتایا جائے ۔
قابل احترام حضرات ۔۔۔ سلف نے سکوت کا یوں ہی نہیں کہا۔اگر کوئی روایت بظاہر صحیح سند نظر بھی آجائے تو اچھی توجیح کیجئے ۔ نہیں ہوسکتی تو سکوت بہتر ہے ۔
 

محمد عثمان غنی

طالب علم
Staff member
ناظم اعلی
صحابہؓ
میرے بھائی آپ بجا فرما رہے ہمیں اعتدال سے کنارہ نہین کرنا چاہیے
۔۔لیکن محمد بن ابی بکر کےبارے مین شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ (منہاج السنۃ ) میں لکھتے ہیں :
(ومحمد بن أبي بكر إنما ولد عام حجة الوداع بذي الحليفة، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم أمه أسماء بنت عميس أن تغتسل للإحرام وهي نفساء، وصار ذلك سنة، ولم يدرك من حياة النبي صلى الله عليه وسلم إلا خمس ليال من ذي القعدة، وذا الحجة والمحرم، وصفراً، وأوائل شهر ربيع الأول، ولا يبلغ ذلك أربعة أشهر، ومات أبوه أبو بكر رضي الله عنه وعمره أقل من ثلاث سنوات ولم يكن له صحبة مع النبي صلى الله عليه وسلم ولا قرب منزلة من أبيه، إلا كما يكون لمثله من الأطفال) منہاج السنۃ ج4 ص374
" محمد بن ابی بکر حجۃ الوداع کے سال (ذوالقعدہ ) میں ذوالحلیفہ کے مقام پر پیدا ہوئے ،
اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی والدہ سیدہ اسماء بنتِ عمیس رضی اللہ عنہا کو احرام کیلئے نفاس سے غسل کا حکم دیا ،اور یہ حکم اسلام میں سنت ٹھہرا ،
محمد بن ابی بکر ؒ نے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے صرف تین ماہ ،پانچ دن اپنی زندگی میں پائے ،
ان کے والد گرامی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب فوت ہوئے تو ان کی عمر تین سال سے بھی کم تھی ،
انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میسر نہ آسکی ،
اور نہ اپنے والد مکرم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (حالت شعور میں ) قرب منزلت مل سکی ، سوائے اس قربت کے جو شیر خوار بچوں کو ملتی ہے "

اصول حدیث اور عربی ادب کے مشہور عالم شیخ طاہر بن صالح الجزائریؒ مصطلح الحدیث کی مشہور کتاب " توجیہ النظر الی اصول اہل الاثر " میں ان تابعین کے نام بتاتے ہوئے ( جو نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں پیدا ہوئے ،لیکن رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ سنا نہیں ) لکھتے ہیں :
(ومن التابعين بعد المخضرمين طبقة ولدوا في زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يسمعوا منه، منهم محمد بن أبي بكر الصديق، وأبو أمامة بن سهل بن حنيف وسعيد بن سعد بن عبادة والوليد بن عبادة بن الصامت وعلقمة بن قيس)
یعنی وہ تابعین جو نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا ہوئے ،لیکن رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ سنا نہیں ، ان میں محمد بن ابی بکر ،ابو امامہ بن سہل ،سعید بن سعد بن عبادہ وغیرہم "
دیکھئے " (توجیہ النظر الی اصول اھل الاثر ج1 ص416)
 
Last edited:

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
شکریہ ابن عثمان بھائی۔میں نے بھی ایک جگہ پڑھا تھا
محمد بن ابی بکر عثمان ؓ کے شرم دلانے پر واپس ہوگئے تھے۔
ہمارے اساتذہ نے ہمیں مشاجرآت صحابہ میں چپ ہی نہیں بالکل چپ رہنے کا حکم دیا تھا ۔ایک قسم کی الجھن تھی ۔طبقات ابن سعد ۔۔۔۔۔۔۔خلکان ۔طبری وغیرہ کو کیسے نظر انداز کیا جاۓ۔الحمد للہ آپ کی تحریر نے سارے شبہات دور کر دئیے۔بعض احباب کا الغزالی پر اس طرح مباحث شروع کرنے کی غرض وغایت محض اصلاح ورفع شبہات ہے طالب علمانہ حیثیت سے بس۔
 

محمد عثمان غنی

طالب علم
Staff member
ناظم اعلی
شکریہ ابن عثمان بھائی۔میں نے بھی ایک جگہ پڑھا تھا
محمد بن ابی بکر عثمان ؓ کے شرم دلانے پر واپس ہوگئے تھے۔
ہمارے اساتذہ نے ہمیں مشاجرآت صحابہ میں چپ ہی نہیں بالکل چپ رہنے کا حکم دیا تھا ۔ایک قسم کی الجھن تھی ۔طبقات ابن سعد ۔۔۔۔۔۔۔خلکان ۔طبری وغیرہ کو کیسے نظر انداز کیا جاۓ۔الحمد للہ آپ کی تحریر نے سارے شبہات دور کر دئیے۔بعض احباب کا الغزالی پر اس طرح مباحث شروع کرنے کی غرض وغایت محض اصلاح ورفع شبہات ہے طالب علمانہ حیثیت سے بس۔
میں بالکل متفق ہوں محترم ۔۔۔۔۔۔لیکن خادم ایک طالب علم ہے رہنمائی آپ احباب فرماتے ہیں۔۔۔۔اللہ سلامت رکھیں آپکو۔۔۔گزارش یہ ہے کہ بطور طالب علم ہم ان چیزوں سے صرف نظر کریں گے تو باطل انکو استعمال کرے گا۔۔۔۔۔۔۔الحمد للہ اپنے اکابر کی تحقیقات پر اعتماد ہے۔۔۔۔۔لیکن ایک طالب علم اصلاح کے لیے ان مباحث کو زیر بحث لاتا ہے۔۔۔۔
 

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
میں بالکل متفق ہوں محترم ۔۔۔۔۔۔لیکن خادم ایک طالب علم ہے رہنمائی آپ احباب فرماتے ہیں۔۔۔۔اللہ سلامت رکھیں آپکو۔۔۔گزارش یہ ہے کہ بطور طالب علم ہم ان چیزوں سے صرف نظر کریں گے تو باطل انکو استعمال کرے گا۔۔۔۔۔۔۔الحمد للہ اپنے اکابر کی تحقیقات پر اعتماد ہے۔۔۔۔۔لیکن ایک طالب علم اصلاح کے لیے ان مباحث کو زیر بحث لاتا ہے۔۔۔۔
آپ کی نیت مبارک ہے اور آپ کی سعی مبارک ہے۔اللہ تعالی قبول فر مائے
 
Last edited:

محمد عثمان غنی

طالب علم
Staff member
ناظم اعلی
اللہ کے بندو ، کیا مشاجرات میں سکوت مناسب نہیں ۔ مشاجرات میں ہوتا ہی یہی ہے کہ دو اپنے ہی لوگوں میں لڑائی ہوئی ۔ دونوں طرف سے صحابہؓ شہید ہوئے ۔ تو انفرادی طور پر واقعات نقل کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔
اہل السنۃ کے بہت سے علماء نے محمد بن ابی بکر ؓ کو صحابی نقل کیا ہے ۔ حافظ ابن حجر ؒ نے اصابہ فی تمییز الصحابہ قسم ثانی میں ان کا ترجمہ لکھا ہے یعنی ان کی صحابیت کو ثابت مانا ہے ۔ وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سائے میں پلے ہیں ۔ حافظ نے ابن عبد البر سے ہی نقل کیا ہے کہ
وقال ابن عبد البرّ: كان عليّ يثني عليه ويفضله، وكانت له عبادة. واجتهاد، ولما بلغ عائشة قتله حزنت عليه جدّا، وتولت تربية ولده القاسم، فنشأ في حجرها، فكان من أفضل أهل زمانه.
اگر شیعہ اور مودودی مرحوم ان کی فضیلت کے قائل ہیں تو کیا ہم نے ضرور مخالف گروپ میں ہی جانا ہے ۔
ہم نے تو انصاف کرنا ہے ۔
امت کے جمہور علماء نے عقائد میں یہ بات لکھی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں کوئی صحابی نہیں شریک تھا۔
وہ سبائیوں کے ورغلانے سے گئے ضرور تھے لیکن پھر حضرت عثمان ؓ کے شرم دلانے پر واپس ہوگئے اور دوسروں کو بھی روکنے کی کوشش کی ۔
یہ بات تاریخی روایات میں ہے ۔ اور ایسی روایات فی الباب قابل قبول ہوتی ہیں ۔
لیکن مشاجرات میں شخصیت مجروح کرنے کی روایات نہیں قبول ہوسکتیں
جو کہ اوپر نقل کی ہیں جس میں سے کوئی روایت صحیح نہیں ۔
حافظ ابن حجرؒ نے ابن عبد البر کی استیعاب کے بارے میں فرمایا ہے کہ اچھی کتاب ہے لیکن مشاجرات کے معاملات میں بہت ضعیف روایات نقل کردی ہیں۔اسی طرح مشاجرات کے معاملے میں صرف طبری،خلکان، حتی کے البدایہ والنہایہ کا بھی صرف حوالہ دینے سے بات نہیں ختم ہوگی۔ سند صحیح ثابت کرنی ہوگی ۔ اگر صحیح ثابت ہوجائےتو عقائد و اصول سے بھی نہ ٹکرائے ، یہ بھی بتانا ہوگا۔

حضرت حسن ؒ کی روایت مرسل ہے ۔ اس میں کئی راوی مجروح بھی ہیں ۔پھر حضرت علی ؓ کے مقابلے میں ہے ۔کیسے قبول ہوسکتی ہے ۔
انفرادی طور پر یوں مشاجرات میں تاریخ میں اتنا زیادہ زہر ہے کہ کیا بتایا جائے ۔
قابل احترام حضرات ۔۔۔ سلف نے سکوت کا یوں ہی نہیں کہا۔اگر کوئی روایت بظاہر صحیح سند نظر بھی آجائے تو اچھی توجیح کیجئے ۔ نہیں ہوسکتی تو سکوت بہتر ہے ۔
میں متفق ہوں آپ سے میرے بھائی ۔۔۔تاریخ تو رطب و یابس سے بھری پڑی۔۔۔۔لیکن کنارہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔
 

ابن عثمان

وفقہ اللہ
رکن
قابل احترام بھائی ۔ صاحب توجیح النظر تو بہت متاخر ہیں ،اور ظاہری عالم ہیں اگرچہ ان کی بعض تحقیقات اچھی ہوتی ہیں ۔
اور حافظ ابن تیمیہؒ بہت محترم ہیں ۔ اور ان دونوں کا حوالہ کچھ اتنا خلاف بھی نہیں ہے ۔ اس کی بھی توجیح ممکن ہے ۔

لیکن بھائی ، حافظ ابن حجرؒ رجال کے عالم ہیں ۔ انہوں نے طبقات صحابہؓ پر کتاب لکھی ہے ۔ جو صحابہ ؓ پر لکھی کتب میں سب سے جامع سمجھی جاتی ہے ۔ان کے حوالہ کی مزید تنقیح کرتا ہوں ۔انہوں نے اس میں صحابہ رضی اللہ عنہم کے طبقات کی قسمیں قائم کی ہیں ۔ قسم اول ۔ جن کا صحابہؓ ہونے میں کوئی دو رائے نہیں ۔ قسم ثانی ۔ اور پھر ثالث ، پھر رابع بھی قائم کی۔
قسم ثانی کے بارے میں وہ خود فرماتے ہیں ۔
القسم الثاني:
من ذكر في الصحابة من الأطفال الذين ولدوا في عهد النبي صلّى اللَّه عليه وسلم لبعض الصحابة [ (6) ] من النساء والرجال، ممن مات صلّى اللَّه عليه وسلم وهو في دون سن التمييز، إذ ذكر أولئك في الصحابة إنما هو على سبيل الإلحاق، لغلبة الظنّ على أنه صلّى اللَّه عليه وسلم رآهم لتوفّر [ (7) ] دواعي أصحابه على إحضارهم أولادهم عنده عند ولادتهم ليحنّكهم ويسمّيهم ويبرّك عليهم، والأخبار بذلك كثيرة شهيرة: ففي صحيح مسلم من طريق هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة أن النبي صلّى اللَّه عليه وعلى آله وسلم «كان يؤتى بالصبيان فيبرّك عليهم» [ (8) ] .

ترجمہ کا مفہوم۔
بعض صحابہ ؓ کےوہ بچے جو نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں پیدا ہوئے اور وہ آپﷺ کی وفات کے وقت سن تمیز کو نہ پہنچے ، کیونکہ ان کا ذکر صحابہ ؓمیں کرنا اس گمان غالب پر مبنی ہے کہ آپﷺ نے انہیں دیکھا ہے اس واسطے کہ آپ کے صحابہؓ کا اپنے بچوں کو ولادت کے وقت آپﷺ کی خدمت میں لانے کے بے شمار اسباب ہیں، تاکہ آپ ﷺ انہیں گھٹی دیں ان کا نام رکھیں ان کے لئے برکت کی دعا کریں ۔ اس بارے میں احادیث و اخبار بہت مشہور ہیں ۔ چناچہ صحیح مسلم کی روایت میں کہ ((نبی کریمﷺ کے پاس بچے لائے جاتے تو آپ ان کے لئے برکت کی دعا فرماتے تھے۔ اسی طرح حاکم کی روایت میں ہے کہ جس کسی کے ہاں بچہ ہوتا وہ نبی کریم ﷺ کے پاس لایا جاتا اور آپ ﷺ اس کے لئے دعائے خیر فرماتے۔

اور پھر حافظ ابن حجرؒ کے علاوہ طبقات صحابہؓ کی اکثر کتب ابن حبان، ابونعیم ، اسدالغابہ ، وغیرہ میں ان کا ذکر صحابہ ؓ میں ہے ۔
اور حافظ ذہبی ؒ نے تجرید اسماء الصحابہ ؓ میں بھی ان کا ذکر کیا ہے ۔
اور صاحب توجیح کی توجیح یہ ہے کہ وہ تفقہ اور روایت کے باب میں ان کا ذکر کر رہے ۔ جیسا کہ ذہبی ؒ نے دوسری کتاب میں کبار تابعین میں بھی ان کاذکر کیا۔

میرے دوست ، یہ جو آپ نے کہا کہ ۔۔کنارہ نہیں کیا جاسکتا ، یا باطل استعمال کرے گا۔ تو صحیح ہے کہ اُس وقت جواب دینا چاہیے ۔ لیکن اس وقت بہت متشدد ہونا پڑتا ہے ۔۔۔کیونکہ یہ باب فضائل یا تاریخ نہیں ۔
باقی ان شاء اللہ آپ کی نیت پر شبہ نہیں ،
اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے۔
 
Top