کیا ایک خاتون مسجد میں جھاڑو پوچا لگا سکتی ہے اگر کوئی نا محرم وہاں موجود نہ ہو؟

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

ایک خاتون جو مسجد سے متصل گھر میں مقیم ہے اور مؤذن کی بیوی ہے یا نہیں ہے کیا مسجد میں جھاڑو پوچا لگا سکتی ہے اگر کوئی نا محرم وہاں موجود نہ ہو اور مسجدکا گیٹ اندر سے بند ہو؟
 

محمدداؤدالرحمن علی

وفقہ اللہ
رکن
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
فقہاء اس شرط کے ساتھ اجازت دیتے ہیں کہ حالتِ پاکی میں بے پردگی کی قباحت نہ ہوتو عورت مسجد کی صفائی کے لیے جا سکتی ہے۔
فتاویٰ رحیمہ میں مفتی سید عبدالرحیم صاحب لاجپوریؒ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں
'' پے پردگی وغیرہ کی کوئی قباحت نہ ہوتوعورت مسجد کی صفائی کی سعادت حاصل کرسکتی ہے۔(فتاویٰ رحیمہ جلد نمبر9 صفحہ نمبر118)
واللہ اعلم الصواب
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
فقہاء اس شرط کے ساتھ اجازت دیتے ہیں کہ حالتِ پاکی میں بے پردگی کی قباحت نہ ہوتو عورت مسجد کی صفائی کے لیے جا سکتی ہے۔
فتاویٰ رحیمہ میں مفتی سید عبدالرحیم صاحب لاجپوریؒ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں
'' پے پردگی وغیرہ کی کوئی قباحت نہ ہوتوعورت مسجد کی صفائی کی سعادت حاصل کرسکتی ہے۔(فتاویٰ رحیمہ جلد نمبر9 صفحہ نمبر118)
واللہ اعلم الصواب
جزاک اللہ خیرا کثیرا
مزید بھی کچھ حوالے مل جائیں تو ضرور شئیر کیجیے گا
 

محمدداؤدالرحمن علی

وفقہ اللہ
رکن
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک حبشی عورت مسجدنبوی میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔ ایک دن اس کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق دریافت فرمایا۔ لوگوں نے بتایا کہ وہ تو انتقال کر گئی۔ آپ نے اس پر فرمایا کہ تم نے مجھے کیوں نہ بتایا، پھر آپ قبر پر تشریف لائے اور اس پر نماز پڑھی۔
صحیح بخاری،کتاب الصلوٰۃ,٠٧٢،حدیث نمبر: 458
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک حبشی عورت مسجدنبوی میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔ ایک دن اس کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق دریافت فرمایا۔ لوگوں نے بتایا کہ وہ تو انتقال کر گئی۔ آپ نے اس پر فرمایا کہ تم نے مجھے کیوں نہ بتایا، پھر آپ قبر پر تشریف لائے اور اس پر نماز پڑھی۔
صحیح بخاری،کتاب الصلوٰۃ,٠٧٢،حدیث نمبر: 458
جزاک اللہ خیرا کثیرا
 
Top