نفس کو پاکیزہ رکھیں

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
انسان کو حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے نفس کو پاکیزہ رکھے۔ نفس کو پاکیزہ بنانے کا مطلب یہی ہے کہ انسان کے دل میں جو اچھی خواہشات اور اچھے جذبات پیدا ہوتے ہیں، انہیں ابھار کر اس پر عمل کرے اور جو بری خواہشات اور جذبات پیدا ہوتے ہیں انہیں دبائے اسی طرح مسلسل مشق کرتے رہنے سے نفس پاکیزہ ہو کروہ نفس مطمئنہ بن جاتا ہے۔

سورۃ الشمس آیت 9 قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا ۔
فلاح اسے ملے گی جو اس نفس کو پاکیزہ بنائے۔

جیسے اور جگہ ہے
قدأَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ [87-الاعلیٰ:14-15] ‏‏‏‏
فلاح اس نے پائی ہے جس نے پاکیزگی اختیار کی۔
اور اپنے پروردگار کا نام لیا، اور نماز پڑھی۔

مسند احمد میں بھی ہے کہ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا ، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
جبہ اوسی کا مطلب میں نہیں سمجھتی لیکن جب انسان اللہ سے لو لگاتا ہے اور دنیا کے خرافات کو پس پشت ڈال دیتا ہےتو جیسے جیسے اللہ کی محبت اس کے دل میں داخل ہوتی رہتی ہے اسی طرح دنیا کی محبت دل سے نکلتی رہتی ہے اور اللہ وہ حقائق انسان پر آشکار کردیتا ہے کہ جس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔

ایک سجدہ انسان کی تقدیر بدل سکتا ہے
ایک نماز انسان کا بیڑا پار کر سکتا ہے
دل ایک پانی کے بھرے گلاس کے مانند ہے جس میں پانی کی جگہ اللہ کی محبت بھر دو تو پھر اس میں کسی اور چیز کی گنجائش نہیں رہتی۔ اور اگر اسے دنیا کی محبت سے بھر دیا تو پھر اللہ کی محبت اس میں سما نہیں سکتی۔
 

اثم اثری

وفقہ اللہ
رکن
اولیاء اللہ کے انوارات ہوتے ہیں انوارات تو ہر مومن پر اترتے ہین مگر ہمارے دل انہیں سنبھال نہیں سکتے ۔۔ ولی کادل انکو سمیٹ لیتا ہے جیسے ایک لوٹا اور بالٹی پانی دونوں میں ڈالا جاتا ہے مگر لوٹے کے اندر سوراخ تھے پانی نکل جاتا اور بالٹی سلامت پانی محفوظ ہم سوراخ والے لوٹے ہیں ان انوارات کو سنبھال نہیں سکتے
 

اثم اثری

وفقہ اللہ
رکن
اسی لیے عالم ہو یا جاہل سب کو کسی بزرگ کی جبہ اوسی کر کے مرید ہونا ضروری ہے
میرے خیال میں جبہ سائی ہوتا ہے
ایک عالم نے جبہ سائی کی
اے بتو تم نے بھی خدائی کی

عاشقوں کے لہو کی پیاسی ہیں
مچھلیاں اس کف حنائی کی

زلف پر پیچ سے جو دل الجھا
بیچ میں رخ پڑا صفائی کی

مرغ بے بال و پر ہوں اے صیاد
آرزو ہے کسی رہائی کی

اے جنوں دشت کو چلیں گے ہم
ہے قسم اس برہنہ پائی کی

سر جدا ہم نے اپنا کر ڈالا
آئی جب گفتگو جدائی کی

پھر گیا یار گھر کے پاس آ کر
بخت برگشتہ نے برائی کی

سیکڑوں جامے تجھ پہ پھٹتے ہیں
دھوم ہے تیری میرزائی کی

تجھ سے تو ہم کو اے خم ابرو
تھی نہ امید کج ادائی کی

کوئی قاتل کی راہ بھولا تھا
اے اجل تو نے رہنمائی کی

دل کہیں اور ہم نے اٹکایا
بے وفاؤں سے بے وفائی کی

نہ گئی زاہدوں کے پاس کبھی
دختر رز نے پارسائی کی

شہر میں جائے گی مری پاپوش
قدر واں کیا برہنہ پائی کی

صاف ہے آئنہ تن پر نور
ہے دلیل اس پہ خود نمائی کی

کاسۂ ماہ کیوں نہ ہو پر نور
برسوں اس کوچے کی گدائی کی

کعبۂ دل میں بھی مقام کیا
اے بتو تم نے کیا رسائی کی

خط کے آنے پہ بھی مکدر ہے
صورت اب کون سی صفائی کی

بال و پر بھی گئے بہار کے ساتھ
اب تو صورت نہیں رہائی کی

کس کے کوچے کی راہ بھولا ہوں
خضر نے بھی نہ رہنمائی کی

شاہ کہلائے ہر طرح سے وزیرؔ
بادشاہی نہ کی گدائی کی
 

اثم اثری

وفقہ اللہ
رکن
اسی لیے عالم ہو یا جاہل سب کو کسی بزرگ کی جبہ اوسی کر کے مرید ہونا ضروری ہے
میرے خیال میں یہ جبہ سائی ہے
ایک عالم نے جبہ سائی کی
اے بتو تم نے بھی خدائی کی

عاشقوں کے لہو کی پیاسی ہیں
مچھلیاں اس کف حنائی کی

زلف پر پیچ سے جو دل الجھا
بیچ میں رخ پڑا صفائی کی

مرغ بے بال و پر ہوں اے صیاد
آرزو ہے کسی رہائی کی

اے جنوں دشت کو چلیں گے ہم
ہے قسم اس برہنہ پائی کی

سر جدا ہم نے اپنا کر ڈالا
آئی جب گفتگو جدائی کی

پھر گیا یار گھر کے پاس آ کر
بخت برگشتہ نے برائی کی

سیکڑوں جامے تجھ پہ پھٹتے ہیں
دھوم ہے تیری میرزائی کی

تجھ سے تو ہم کو اے خم ابرو
تھی نہ امید کج ادائی کی

کوئی قاتل کی راہ بھولا تھا
اے اجل تو نے رہنمائی کی

دل کہیں اور ہم نے اٹکایا
بے وفاؤں سے بے وفائی کی

نہ گئی زاہدوں کے پاس کبھی
دختر رز نے پارسائی کی

شہر میں جائے گی مری پاپوش
قدر واں کیا برہنہ پائی کی

صاف ہے آئنہ تن پر نور
ہے دلیل اس پہ خود نمائی کی

کاسۂ ماہ کیوں نہ ہو پر نور
برسوں اس کوچے کی گدائی کی

کعبۂ دل میں بھی مقام کیا
اے بتو تم نے کیا رسائی کی

خط کے آنے پہ بھی مکدر ہے
صورت اب کون سی صفائی کی

بال و پر بھی گئے بہار کے ساتھ
اب تو صورت نہیں رہائی کی

کس کے کوچے کی راہ بھولا ہوں
خضر نے بھی نہ رہنمائی کی

شاہ کہلائے ہر طرح سے وزیرؔ
بادشاہی نہ کی گدائی کی
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
اگر جبہ اوسی کا مطلب جبہ سائی کہنا ہے تو پھر جبہ سائی کا مطلب بھی جان لیجیے
جبہ سائی ۔ جبہ جبیں جبہ سائی یعنی ماتھا رگڑنے کو ماتھا ٹھیکنے یا سجدہ کرنے کو کہتے ہیں
سجدہ صرف اللہ کے آگے کیا جاتا ہے جو خالق ہے مخلوق کو نہیں۔
 
Top