بڑھا کر دُکان ہم

رشید حسرت

وفقہ اللہ
رکن
وہ ہم سے بد گُمان رہے، بد گُمان ہم
سو کیا گئے کہ چھوڑ کے نِکلے مکان ہم

فاقے پڑے تو پاؤں تلے (تھی زمِیں کہاں)
ایسے کہاں کے عِشق کے تھے آسمان ہم

اب یہ کُھلا کہ جِنسِ محبّت تمام شُد
پچھتائے اپنے دِل کی بڑھا کر دُکان ہم

کرتا ہے پہلا وار جو وہ منہ کے بل گِرے
رکھتے نہیں ہیں کھینچ کبھی بھی کمان ہم

ہم چُپ رہے جو دورِ گِرانی میں اِس طرح
اِک دِن ہوا میں سانس پہ دیں گے لگان ہم

اپنی خُوشی جو بِھینٹ چڑھائی ہے ہم نے آج
جِیون کِسی بھگت کو کریں کیوں نہ دان ہم

پہلی اُڑان کی تو تھکن تک گئی نہِیں
بھرنے لگے ہیں عِشق کی پِھر سے اُڑان ہم

اِتنا یقِیں تو ہے کہ وہ لوٹے گا ایک دِن
بیٹھیں یہِیں کہِیں پہ لگا کر گِدان ہم

مانا کہ دیکھنے کو تو ہم دھان پان ہیں
مسلک ہے عِشق، عشق کی ہیں آن بان ہم

دیکھو تو چار سُو ہے حسِینوں کا اِک ہُجُوم
جاتی رہی حیات، ہُوئے رفتگان ہم

باندھا ہے عہد، عہد کا ہے پاس بھی رشِید
کُنبہ لُٹا کے رکھتے ہیں اپنی زُبان ہم

رشِید حسرت
 

مولانانورالحسن انور

رکن مجلس العلماء
رکن مجلس العلماء
وہ ہم سے بد گُمان رہے، بد گُمان ہم
سو کیا گئے کہ چھوڑ کے نِکلے مکان ہم

فاقے پڑے تو پاؤں تلے (تھی زمِیں کہاں)
ایسے کہاں کے عِشق کے تھے آسمان ہم

اب یہ کُھلا کہ جِنسِ محبّت تمام شُد
پچھتائے اپنے دِل کی بڑھا کر دُکان ہم

کرتا ہے پہلا وار جو وہ منہ کے بل گِرے
رکھتے نہیں ہیں کھینچ کبھی بھی کمان ہم

ہم چُپ رہے جو دورِ گِرانی میں اِس طرح
اِک دِن ہوا میں سانس پہ دیں گے لگان ہم

اپنی خُوشی جو بِھینٹ چڑھائی ہے ہم نے آج
جِیون کِسی بھگت کو کریں کیوں نہ دان ہم

پہلی اُڑان کی تو تھکن تک گئی نہِیں
بھرنے لگے ہیں عِشق کی پِھر سے اُڑان ہم

اِتنا یقِیں تو ہے کہ وہ لوٹے گا ایک دِن
بیٹھیں یہِیں کہِیں پہ لگا کر گِدان ہم

مانا کہ دیکھنے کو تو ہم دھان پان ہیں
مسلک ہے عِشق، عشق کی ہیں آن بان ہم

دیکھو تو چار سُو ہے حسِینوں کا اِک ہُجُوم
جاتی رہی حیات، ہُوئے رفتگان ہم

باندھا ہے عہد، عہد کا ہے پاس بھی رشِید
کُنبہ لُٹا کے رکھتے ہیں اپنی زُبان ہم

رشِید حسرت
تُو مجھ سے اِتنا بدگمان سا کیوں ہے
آخر کچھ تو بول بے زبان سا کیوں ہے

عشق کو تو ہونا چاہیے تھا فقط عشق
مگر یہ ایک کٹھن امتحان سا کیوں ہے

تُو ہے۔ درد ہے۔ اور ہیں تیری یادیں
پھر دل میرا اتنا ویران سا کیوں ہے

وہ جو اپنے آپ کو سمجھتا ہے پارسا
اگر فرشتہ ہے تو انسان سا کیوں ہے

میں نے ڈوب کر کی تیرے حکم کی تعمیل
اے نا خدا اب تُو پریشان سا کیوں ہے

شہرِ محبت میں اگر ہر ہاتھ میں ہے گُل
پھر ہر ایک سر لہولہان سا کیوں ہے

چاند کو چھونے کی ضد کرتا ہے اکثر
یہ دل بچے کی طرح نادان سا کیوں ہے

اِس نفسی‘ نفسی کے عالم میں رہ کر امر
فقط تُو ہی اتنا پریشان سا کیوں ہے
 
Top