باطل فرقہ اور صحابہ کرام کی شان میں گستاخیاں

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
اہل السنة والجماعة کے علاوہ فرقوں نے صحابہٴ کرام کو نشانہ بنایا، مثلاً ماضی بعید میں معتزلہ اور خوارج نے صحابہٴ کرام کو تنقید کا نشانہ بنایا، شیعوں نے مخالفت میں نہایت مکروہ روش اختیار کی، یہ صحابہٴ کرام کو کافر ومرتد کہتے ہوئے بھی نہیں چوکتے، عصر حاضر کے بعض فرقے صحابہٴ کرام کے سلسلے میں انھیں باطل فرقوں کی روش پر ہیں؛ مثلاً ”جماعتِ اسلامی کے سربراہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے جگہ جگہ صحابہ پر تنقید کی ہے، ان کی کتاب ”خلافت وملوکیت“ میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں، ایک جگہ نہایت ہی بے باکی سے لکھتے ہیں:

”محض صحابیت کے شرف سے کوئی غلطی ”شریف کام“ نہیں بن سکتا؛ بلکہ صحابی کا بلند مقام اس غلطی کو حددرجہ نمایاں کردیتا ہے۔“ (خلافت وملوکیت، ص:۱۴۳)

مولانا مودودی نے جماعتِ اسلامی کے دستور میں یہ وضاحت کی ہے کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی بھی تنقید سے بالاتر نہیں(دستور جماعت اسلامی ص۵)، گویا انھوں نے صحابہٴ کرام پر تنقید کرنے کو اپنے اصول میں داخل کیا ہے۔ ان کے نزدیک صحابہٴ کرام کے اقوال وافعال کی کوئی اہمیت نہیں، یہ بھی شیعہ اور خوارج کی طرح اہل السنة والجماعة کی راہِ مستقیم سے ہٹے ہوے ہیں۔

عصرِ حاضر کے فرقوں میں غیرمقلدین بھی اہل السنة والجماعة کے طرزِ فکر وعمل سے منحرف ہیں، انھوں نے آثارِ صحابہ کو درخورِ اعتناء نہیں سمجھا، اجماعِ صحابہ کا انکار کیا، اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ انھوں نے ”بیس رکعات تراویح“ کو بدعتِ عمری قرار دیا، ”جمعہ کی پہلی اذان“ کو بدعتِ عثمانی قرار دیا اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ترکِ رفع یدین کو نقل کیا تو ان پر الزامات کی بوچھاڑ کردی، صحابہٴ کرام کے اجتہادات ان کے فتاویٰ اور تفاسیر کو ناقابلِ اعتبار ٹھہرایا، بعض غیرمقلدین نے صحابہٴ کرام کے خلاف بغض ونفرت کا شدید اظہار کیاہے؛ چنانچہ:

* مشہور غیرمقلد عالم مولانا وحیدالزماں حیدرآبادی لکھتے ہیں: ”بعض صحابہ فاسق تھے“ (نزلُ الأبرابر، ۲/۹۴) انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ: ”معاویہ پر دنیا کی طمع غالب ہوگئی تھی، ان کو تمام خاندانِ رسالت سے دشمنی تھی“۔ (لغاتُ الحدیث: ۲/۱۴) ایک جگہ انھوں نے حضرت امیر معاویہ وعمرو بن عاص دونوں کو باغی سرکش اور شریر لکھا ہے۔ (لغاتُ الحدیث:۲/۳۶)

* ایک دوسرے غیرمقلد عالم مولوی عبدالحق لکھتے ہیں: ”عائشہ حضرت علی سے لڑتے ہوئے مرتد ہوئی، اگر بے توبہ مری تو کافر مری“۔ ایک جگہ لکھتے ہیں: ”صحابہ کو پانچ پانچ حدیثیں یاد تھیں، ہم کو سب حدیثیں یاد ہیں، صحابہ سے ہمارا علم بڑا ہے صحابہ کو علم کم تھا“۔ (کشف الحجاب:ص:۲۱)

* ایک دوسرے غیرمقلد جناب حکیم فیض عالم لکھتے ہیں: ”سیدنا علی کے خود ساختہ حکمرانہ عبوری دور کو خلافتِ راشدہ میں شمار کرنا صریحاً دینی بددیانتی ہے“۔ اس طرح کی گستاخی اس کتاب میں متعدد جگہوں پر موجود ہے۔ (خلافتِ راشدہ، ص:۵۵،۵۶)

ایک جگہ حضرت حسن وحسین کی توہین کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”حضراتِ حسنین کو زُمرئہ صحابہ میں شمار کرنا صریحاً سبائیت کی ترجمانی ہے، یا اندھا دھندتقلید کی خرابی۔“ (سیدناحسن بن علی، ص:۲۳)

ایک جگہ لکھتے ہیں: ”سیدنا حسن کی موت کے متعلق اپنی تالیفات ”عترتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم “ اور ”حسن بن علی“ میں دلائل کے ساتھ ثابت کرچکا ہوں کہ کثرتِ جماع، ذیابیطس اور تپِ محرِقہ سے ہوئی، آپ کہاں شہید ہوئے تھے اورآپ کو کس نے شہید کیا تھا؟“۔ (خلافتِ راشدہ، ص:۱۱۵)

ایک جگہ لکھتے ہیں: ”سیدنا حسن کثرت سے حرم کی زندگی (کثرتِ جماع) کے دل دادہ تھے، جس کی وہ سے آپ کو بعض روایات کے مطابق آخری ایام میں سِل کا عارضہ لاحق ہوگیا تھا۔“ (سیدنا حسن بن علی، ص:۸۰)

غیرمقلدین شیعوں کی طرح صحابہٴ کرام کے تئیں سب سے زیادہ گستاخ ہیں، مذکورہ بالا مثالیں محض نمونہ کے لیے دی گئی ہیں، ورنہ ان کی کتابیں اس طرح کے مکروہ مواد سے بھری ہوئی ہیں۔ یہ لوگ ”عظمتِ صحابہ“ کے عنوان سے جہاں کہیں پروگرام کرتے ہیں وہ محض اہل السنة والجماعة کو دھوکہ دینے کے لیے کرتے ہیں کہ آؤ! غیرمقلدیت قبول کرلو، ہم بھی تمہاری طرح صحابہٴ کرام کو مانتے ہیں، بہ ظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ شیعوں کی طرح تقیہ کرتے ہیں۔
 
Top