مجنونِ دوہزار بارہ :: میری ایک تازہ نظم

  • موضوع کا آغاز کرنے والا پیامبر
  • تاریخ آغاز
پ

پیامبر

خوش آمدید
مہمان گرامی
چھیڑ خانی کے وہ قصے ہم جو سنتے روز تھے
کچھ تو ان میں کامیاب اور کچھ سبق آموز تھے

رفتہ رفتہ یہ فسانے کچھ اثر دکھلا گئے
جو درشتی تھی طبیعت میں اسے پگھلاگئے

کچھ پوائنٹس ہم نے پھر استاد بشیرے سے لیے
رہ گئے جو ایک دو، اللہ بخشے نے دیئے
(استاد بشیر اور اللہ بخش، میرے دو اساتذہ، جن سے عشق فرمانے کے اسباق لیے)

رفتہ رفتہ کچھ طبیعت بھی ادھر مائل ہوئی
دل کو بہلایا تو پھر اس کی رضا شامل ہوئی

ایک جوڑا لے لیا کہ امپریشن بھی پڑے
ساتھ ہی کچھ بال بھی پھر ہم نے لمبے کرلیے

کچھ پریکٹس بھی کَرِی کہ بعد میں غلطی نہ ہو
کہ ایک ہی شمع رہے جو خیر سے جلتی نہ ہو

ایک ڈیمو(demo) کی تمنا پھر ہمارے دل میں تھی۔
دیکھ لیں تاثیر کتنی ہمتِ کامل میں تھی؟

آرزوئے tease (چھیڑنا) لے کر سڑک پر نیکل پڑے
جس طرف اٹھی نظر ہم اس طرف ہی چل پڑے

دفعتاً آنکھوں کے آگے نازنیں اک آگئی
اس سراپے پر ہمارے ظلم سارے ڈھاگئی

ہوش گم کردہ، حواسِ پنج بھی کھویا کیے
کچھ توقف کرلیا، اس سمت پھر دیکھا کیے

استاد کے جن ٹوٹکوں سے تھے مسلح ہم ہوئے
ذہن کے پردے میں اس دم، یک بیک آنے لگے

سادگی کو ترک کرکے، چشمہ ہم پہنا کیے
ہاتھ بھی بالوں میں اِک دوبار ہم پھیرا کیے

لب ہلائیں؟ جملہ بولیں؟ یا اشارہ کریں؟
یہ کریں اور وہ کریں۔ یا اور ہی چارہ کریں؟

سوچتے ہی رہ گئے کہ کیا کریں؟ کیسے کریں؟
ایسے کریں تو کیا کریں، ویسے کریں تو کیا کریں؟

فیصلہ مشکل ہوا تو کچھ ہمیں سوجھا نہیں
بس تو پھر وہ ہوگیا، تھا جس طرح سوچا نہیں

اس طرح ہم ان کو روکے راستے کے بیچ میں
کہ باڈی لینگویج آگئی تھی سادہ سی اسپیچ میں

دو قدم ہم نے اٹھائے، ایک قدم ان کا اٹھا
ایک لحظہ تھا ہوا میں، جم کے سینے پر پڑا

ہم جنہیں محبوب سمجھے، وہ تو نکلے فائٹر
لات کھا، اچھلے گرے، یہ سب اسی کا تھا اثر

بعد اس کے لاتوں اور مکوں کی بارش ہوگئی
جسدِ نازک کی ہمارے خوب مالش ہوگئی

اس قدر خاطر تواضع سے نہ ہم ٹھنڈے ہوئے
بھائی اس کے اور بھی چھ سات مشٹنڈے ہوئے

چھ بار پورے زور سے ظالم ہمیں پھینکا کیے
اتنے ہی زیادہ زور سے وہ سب ہمیں کھینچا کیے

چھیڑنے سے ہم تو یارو توبہ تائب ہوگئے
جتنے دیکھے خواب تھے، وہ سارے غائب ہوگئے​
 
پ

پیامبر

خوش آمدید
مہمان گرامی
ذیشان نصر نے کہا ہے:
واہ۔۔۔! زبردست ۔۔۔!بہت ہی خوب ۔۔۔! پیامبر بھائی کیا یہ آپ کی اپنی نظم ہے ۔۔۔۔؟
بہت شکریہ ذیشان۔۔۔
یہ نظم میری ہی ہے۔
 

ذیشان نصر

وفقہ اللہ
رکن
بہت شکریہ پیامبر بھائی ۔۔۔خوب نظم ہے ۔۔۔چند جگہ پر کچھ عروضی غلطیاں نظر آئیں نشان زد کر دی ہیں ۔۔۔ مگر چونکہ میں خود ابھی طالبِ علم ہوں اس لئے ان کو غلطیاں اس وقت ہی سمجھئے گا جب کوئی استاذ ان کی توثیق کر دے۔۔۔ شکریہ۔۔!
بحر تو غالباً رمل مثمن محذوف ہے

فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
212221222122212
چھیڑ خانی کے وہ قصے ہم جو سنتے روز تھے
کچھ تو ان میں کامیاب اور کچھ سبق آموز تھے

رفتہ رفتہ یہ فسانے کچھ اثر دکھلا گئے
جو درشتی تھی طبیعت میں اسے پگھلاگئے

کچھ پوائنٹس ہم نے پھر استاد بشیرے سے لیے
)کچھ طریقے ہم نے پھر ٹیچر بشیرے سے لیے (
رہ گئے جو ایک دو، اللہ بخشے نے دیئے
(استاد بشیر اور اللہ بخش، میرے دو اساتذہ، جن سے عشق فرمانے کے اسباق لیے)

رفتہ رفتہ کچھ طبیعت بھی ادھر مائل ہوئی
دل کو بہلایا تو پھر اس کی رضا شامل ہوئی

ایک جوڑا لے لیا کہ امپریشن بھی پڑے
ساتھ ہی کچھ بال بھی پھر ہم نے لمبے کرلیے

کچھ پریکٹس بھی کَرِی کہ بعد میں غلطی نہ ہو
(کچھ تیاری بھی کَری کہ بعد میں غلطی نہ ہو)
ایک ہی شمع رہے جو خیر سے جلتی نہ ہو

ایک ڈیمو(demo) کی تمنا پھر ہمارے دل میں تھی۔
دیکھ لیں تاثیر کتنی ہمتِ کامل میں تھی؟

آرزوئے tease (چھیڑنا) لے کر سڑک پر نیکل پڑے
(آرزوئے ٹیز لے کر روڈ پر ہم چل دیے)
جس طرف اٹھی نظر ہم اس طرف ہی چل پڑے
(جس طرف اٹھی نظر ہم اس طرف ہی چل دیے )

دفعتاً آنکھوں کے آگے نازنیں اک آگئی
(دفعتاً آنکھوں کے آگے نازنین اک آگئی )
اس سراپے پر ہمارے ظلم سارے ڈھاگئی

ہوش گم کردہ، حواسِ پنج بھی کھویا کیے
کچھ توقف کرلیا، اس سمت پھر دیکھا کیے

استاد کے جن ٹوٹکوں سے تھے مسلح ہم ہوئے
(عشق کے جن ٹوٹکوں سے تھے مسلح ہم ہوئے)
ذہن کے پردے میں اس دم، یک بیک آنے لگے

سادگی کو ترک کرکے، چشمہ ہم پہنا کیے
ہاتھ بھی بالوں میں اِک دوبار ہم پھیرا کیے

لب ہلائیں؟ جملہ بولیں؟ یا اشارہ ۔۔کریں؟
(لب ہلائیں؟ جملہ بولیں؟ یا اشارہ پھرکریں؟)
یہ کریں اور وہ کریں۔ یا اور ہی چارہ کریں؟
(یہ کریں اور وہ کریں ۔یااور ہی چارہ پھر کریں؟)

سوچتے ہی رہ گئے کہ کیا کریں؟ کیسے کریں؟
ایسے کریں تو کیا کریں، ویسے کریں تو کیا کریں؟
(یوں کریں یا یاں کریں ، ایسے کریں ، ویسےکریں )

فیصلہ مشکل ہوا تو کچھ ہمیں سوجھا نہیں
بس تو پھر وہ ہوگیا، تھا جس طرح سوچا نہیں

اس طرح ہم ان کو روکے راستے کے بیچ میں
کہ باڈی لینگویج آگئی تھی سادہ سی اسپیچ میں
(جیسے باڈی لینگویج ہوسادہ سی اسپیچ میں )

دو قدم ہم نے اٹھائے، ایک قدم ان کا اٹھا
(دو قدم ہم نے اٹھائے، اک قدم ان کا اٹھا)
ایک لحظہ تھا ہوا میں، جم کے سینے پر پڑا
(ایک لحظہ تھا ہوا کہ ، جم کے سینے پر پڑا)

ہم جنہیں محبوب سمجھے، وہ تو نکلے فائٹر
لات کھا، اچھلے گرے، یہ سب اسی کا تھا اثر

بعد اس کے لاتوں اور مکوں کی بارش ہوگئی
جسدِ نازک کی ہمارے خوب مالش ہوگئی

اس قدر خاطر تواضع سے نہ ہم ٹھنڈے ہوئے
بھائی اس کے اور بھی چھ سات مشٹنڈے ہوئے

چھ بار پورے زور سے ظالم ہمیں پھینکا کیے
(چھ دفعہ فل زور سے ظالم ہمیں پھینکا کیے )
اتنے ہی زیادہ زور سے وہ سب ہمیں کھینچا کیے
(اتنے ہی پھر زور سے وہ سب ہمیں کھینچا کیے )

چھیڑنے سے ہم تو یارو توبہ تائب ہوگئے
جتنے دیکھے خواب تھے، وہ سارے غائب ہوگئے
 
پ

پیامبر

خوش آمدید
مہمان گرامی
ذیشان نصر نے کہا ہے:
بہت شکریہ پیامبر بھائی ۔۔۔خوب نظم ہے ۔۔۔چند جگہ پر کچھ عروضی غلطیاں نظر آئیں نشان زد کر دی ہیں ۔۔۔ مگر چونکہ میں خود ابھی طالبِ علم ہوں اس لئے ان کو غلطیاں اس وقت ہی سمجھئے گا جب کوئی استاذ ان کی توثیق کر دے۔۔۔ شکریہ۔۔!
بحر تو غالباً رمل مثمن محذوف ہے

فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
212221222122212
چھیڑ خانی کے وہ قصے ہم جو سنتے روز تھے
کچھ تو ان میں کامیاب اور کچھ سبق آموز تھے

رفتہ رفتہ یہ فسانے کچھ اثر دکھلا گئے
جو درشتی تھی طبیعت میں اسے پگھلاگئے

کچھ پوائنٹس ہم نے پھر استاد بشیرے سے لیے
)کچھ طریقے ہم نے پھر ٹیچر بشیرے سے لیے (
رہ گئے جو ایک دو، اللہ بخشے نے دیئے
(استاد بشیر اور اللہ بخش، میرے دو اساتذہ، جن سے عشق فرمانے کے اسباق لیے)

رفتہ رفتہ کچھ طبیعت بھی ادھر مائل ہوئی
دل کو بہلایا تو پھر اس کی رضا شامل ہوئی

ایک جوڑا لے لیا کہ امپریشن بھی پڑے
ساتھ ہی کچھ بال بھی پھر ہم نے لمبے کرلیے

کچھ پریکٹس بھی کَرِی کہ بعد میں غلطی نہ ہو
(کچھ تیاری بھی کَری کہ بعد میں غلطی نہ ہو)
ایک ہی شمع رہے جو خیر سے جلتی نہ ہو

ایک ڈیمو(demo) کی تمنا پھر ہمارے دل میں تھی۔
دیکھ لیں تاثیر کتنی ہمتِ کامل میں تھی؟

آرزوئے tease (چھیڑنا) لے کر سڑک پر نیکل پڑے
(آرزوئے ٹیز لے کر روڈ پر ہم چل دیے)
جس طرف اٹھی نظر ہم اس طرف ہی چل پڑے
(جس طرف اٹھی نظر ہم اس طرف ہی چل دیے )

دفعتاً آنکھوں کے آگے نازنیں اک آگئی
(دفعتاً آنکھوں کے آگے نازنین اک آگئی )
اس سراپے پر ہمارے ظلم سارے ڈھاگئی

ہوش گم کردہ، حواسِ پنج بھی کھویا کیے
کچھ توقف کرلیا، اس سمت پھر دیکھا کیے

استاد کے جن ٹوٹکوں سے تھے مسلح ہم ہوئے
(عشق کے جن ٹوٹکوں سے تھے مسلح ہم ہوئے)
ذہن کے پردے میں اس دم، یک بیک آنے لگے

سادگی کو ترک کرکے، چشمہ ہم پہنا کیے
ہاتھ بھی بالوں میں اِک دوبار ہم پھیرا کیے

لب ہلائیں؟ جملہ بولیں؟ یا اشارہ ۔۔کریں؟
(لب ہلائیں؟ جملہ بولیں؟ یا اشارہ پھرکریں؟)
یہ کریں اور وہ کریں۔ یا اور ہی چارہ کریں؟
(یہ کریں اور وہ کریں ۔یااور ہی چارہ پھر کریں؟)

سوچتے ہی رہ گئے کہ کیا کریں؟ کیسے کریں؟
ایسے کریں تو کیا کریں، ویسے کریں تو کیا کریں؟
(یوں کریں یا یاں کریں ، ایسے کریں ، ویسےکریں )

فیصلہ مشکل ہوا تو کچھ ہمیں سوجھا نہیں
بس تو پھر وہ ہوگیا، تھا جس طرح سوچا نہیں

اس طرح ہم ان کو روکے راستے کے بیچ میں
کہ باڈی لینگویج آگئی تھی سادہ سی اسپیچ میں
(جیسے باڈی لینگویج ہوسادہ سی اسپیچ میں )

دو قدم ہم نے اٹھائے، ایک قدم ان کا اٹھا
(دو قدم ہم نے اٹھائے، اک قدم ان کا اٹھا)
ایک لحظہ تھا ہوا میں، جم کے سینے پر پڑا
(ایک لحظہ تھا ہوا کہ ، جم کے سینے پر پڑا)

ہم جنہیں محبوب سمجھے، وہ تو نکلے فائٹر
لات کھا، اچھلے گرے، یہ سب اسی کا تھا اثر

بعد اس کے لاتوں اور مکوں کی بارش ہوگئی
جسدِ نازک کی ہمارے خوب مالش ہوگئی

اس قدر خاطر تواضع سے نہ ہم ٹھنڈے ہوئے
بھائی اس کے اور بھی چھ سات مشٹنڈے ہوئے

چھ بار پورے زور سے ظالم ہمیں پھینکا کیے
(چھ دفعہ فل زور سے ظالم ہمیں پھینکا کیے )
اتنے ہی زیادہ زور سے وہ سب ہمیں کھینچا کیے
(اتنے ہی پھر زور سے وہ سب ہمیں کھینچا کیے )

چھیڑنے سے ہم تو یارو توبہ تائب ہوگئے
جتنے دیکھے خواب تھے، وہ سارے غائب ہوگئے
بہت شکریہ ذیشان بھائی۔؎
مجھے عروض اور قوافی کا ذرا سا علم بھی نہیں۔
بس گنگناتا رہتا ہوں، جہاں سُر نہ لگے، لفظ بدل دیتا ہوں۔
کوئی کتابچہ اردو میں عروض پر ہو تو شیئر کردیں۔ شکریہ
اسی طرح عددی نظام میں وزن کی پہچان کس طرح کرتے ہیں، ذرا اس پر بھی فرصت میں روشنی ڈالیں۔ جزاک اللہ
 

سیفی خان

وفقہ اللہ
رکن
پیامبر نے کہا ہے:
چھیڑ خانی کے وہ قصے ہم جو سنتے روز تھے
کچھ تو ان میں کامیاب اور کچھ سبق آموز تھے

رفتہ رفتہ یہ فسانے کچھ اثر دکھلا گئے
جو درشتی تھی طبیعت میں اسے پگھلاگئے

کچھ پوائنٹس ہم نے پھر استاد بشیرے سے لیے
رہ گئے جو ایک دو، اللہ بخشے نے دیئے
(استاد بشیر اور اللہ بخش، میرے دو اساتذہ، جن سے عشق فرمانے کے اسباق لیے)

رفتہ رفتہ کچھ طبیعت بھی ادھر مائل ہوئی
دل کو بہلایا تو پھر اس کی رضا شامل ہوئی

ایک جوڑا لے لیا کہ امپریشن بھی پڑے
ساتھ ہی کچھ بال بھی پھر ہم نے لمبے کرلیے

کچھ پریکٹس بھی کَرِی کہ بعد میں غلطی نہ ہو
کہ ایک ہی شمع رہے جو خیر سے جلتی نہ ہو

ایک ڈیمو(demo) کی تمنا پھر ہمارے دل میں تھی۔
دیکھ لیں تاثیر کتنی ہمتِ کامل میں تھی؟

آرزوئے tease (چھیڑنا) لے کر سڑک پر نیکل پڑے
جس طرف اٹھی نظر ہم اس طرف ہی چل پڑے

دفعتاً آنکھوں کے آگے نازنیں اک آگئی
اس سراپے پر ہمارے ظلم سارے ڈھاگئی

ہوش گم کردہ، حواسِ پنج بھی کھویا کیے
کچھ توقف کرلیا، اس سمت پھر دیکھا کیے

استاد کے جن ٹوٹکوں سے تھے مسلح ہم ہوئے
ذہن کے پردے میں اس دم، یک بیک آنے لگے

سادگی کو ترک کرکے، چشمہ ہم پہنا کیے
ہاتھ بھی بالوں میں اِک دوبار ہم پھیرا کیے

لب ہلائیں؟ جملہ بولیں؟ یا اشارہ کریں؟
یہ کریں اور وہ کریں۔ یا اور ہی چارہ کریں؟

سوچتے ہی رہ گئے کہ کیا کریں؟ کیسے کریں؟
ایسے کریں تو کیا کریں، ویسے کریں تو کیا کریں؟

فیصلہ مشکل ہوا تو کچھ ہمیں سوجھا نہیں
بس تو پھر وہ ہوگیا، تھا جس طرح سوچا نہیں

اس طرح ہم ان کو روکے راستے کے بیچ میں
کہ باڈی لینگویج آگئی تھی سادہ سی اسپیچ میں

دو قدم ہم نے اٹھائے، ایک قدم ان کا اٹھا
ایک لحظہ تھا ہوا میں، جم کے سینے پر پڑا

ہم جنہیں محبوب سمجھے، وہ تو نکلے فائٹر
لات کھا، اچھلے گرے، یہ سب اسی کا تھا اثر

بعد اس کے لاتوں اور مکوں کی بارش ہوگئی
جسدِ نازک کی ہمارے خوب مالش ہوگئی

اس قدر خاطر تواضع سے نہ ہم ٹھنڈے ہوئے
بھائی اس کے اور بھی چھ سات مشٹنڈے ہوئے

چھ بار پورے زور سے ظالم ہمیں پھینکا کیے
اتنے ہی زیادہ زور سے وہ سب ہمیں کھینچا کیے

چھیڑنے سے ہم تو یارو توبہ تائب ہوگئے
جتنے دیکھے خواب تھے، وہ سارے غائب ہوگئے​

:->~~ :->~~ :->~~ :)/\:)
 
Top