جنات کا دوست

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
ماہنامہ عبقری میں قسط وار سچی کہا نی “جنات دوست“ علامہ لاہوتی کی چھپی ہے اس کہانی میں اوراد وظائف بھی ہیں۔
سوال یہ ہے یہ بزرگ جن سے یہ کہانی منسوب ہے اہل علم موصوف کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ثقہ ہیں یا غیر ثقہ۔ہمارے علماء ومشائخ کا طرز عمل ان بزرگ کے ساتھ کیسا ہے؟ یہ صاحبِ ارشاد ہیں ۔یا مجذوب؟
براہ کرم مصدقہ تبصرے شیئر کئے جائیں۔والسلام
لنک ماہ نامہ عبقری:http://www.ubqari.org
 

اسداللہ شاہ

وفقہ اللہ
رکن
ایک ایسے شخص کی سچی آپ بیتی جو پیدائش سے اب تک اولیاءجنات کی سرپرستی میں ہے۔ اس کے دن رات جنات کے ساتھ گزر رہے ہیں۔
قارئین! لیکن اس پراسرار دنیا کو سمجھنے کیلئے بڑا حوصلہ اور حلم چاہیے۔
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
احمدقاسمی نے کہا ہے:
یہ صاحب ہیں کون؟یعنی ان کا اصل نام کیا ہے ؟ کہا ں کے رہنے والے ہیں؟

میں ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا بس اتنا جانتا ہوں ویسے یہ عالم دین ہیں ان کا نام حضرت حکیم محمد طارق محمود مجزوبی چغتائی صاحب ھے اور یہ لاہور میں رہتے ہیں

بس اتنا ہی جنتا ہوں
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
ذیشان نصر نے کہا ہے:
میں نے یہ کھانی پڑھی . بعض مقامات قابل گرفت محسوس ہوے. جیسا کہ حدیٹ شریف کا مفہوم ہے. کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کا گوبر ہڈیاں وغیرہ کو قضاۓ حاجت کے لۓ استعمال کرنے سے منع کیا ھے کیونکہ یہ جنات کی غذا ہیں. جبکہ یہاں جنات کی غذا انسانوں والی بتائ گئ ہے. اھل علم متوجہ ھوں
اگر کسی کومیری بات سے دکھ پہنچے توپیشگی معذرت

میں تو کم علم ہوں بس ایک بات پر توجہ دلانا چاہتا ہوں گزشتہ دنوں پاکستان کے بھت بڑے اور مایہ ناز مدرسہ جامعتہ الرشید کراچی کے مفتی اور ملک کے مایہ ناز عالم حضرت اقدس مفتی محمد صاحب حفظہ اللہ نے اس رسالے کو نہ پڑھنے کا فتویٰ جاری کیا ھے ان کا کہنا ھے اس میں کئی چزیں درست نہیں ھے ان کا تفصیلی فتویٰ آچکا ھے اور کچھ ہفتوں پہلے ایک مختصر فتویٰ ضرب مومن اخبار میں چھپ چکا ھے اس کی تفصیل ڈھونڈ کر بتا دوں گا

باقی میں نہیں جانتا جو کچھ جانتا ہوں وہ بتا دیا ھے اگر کسی کو دکھ پہنچاہو تو معذرت
 

اسداللہ شاہ

وفقہ اللہ
رکن
ذیشان نصر نے کہا ہے:
میں نے یہ کھانی پڑھی . بعض مقامات قابل گرفت محسوس ہوے. جیسا کہ حدیٹ شریف کا مفہوم ہے. کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کا گوبر ہڈیاں وغیرہ کو قضاۓ حاجت کے لۓ استعمال کرنے سے منع کیا ھے کیونکہ یہ جنات کی غذا ہیں. جبکہ یہاں جنات کی غذا انسانوں والی بتائ گئ ہے. اھل علم متوجہ ھوں

بھائی ذیشان نصر ان حضرت نے گوبر ہڈیوں کا انکار تو نہیں کیا ہے۔

محمدداؤدالرحمن علی نے کہا ہے:
احمدقاسمی نے کہا ہے:
یہ صاحب ہیں کون؟یعنی ان کا اصل نام کیا ہے ؟ کہا ں کے رہنے والے ہیں؟

میں ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا بس اتنا جانتا ہوں ویسے یہ عالم دین ہیں ان کا نام حضرت حکیم محمد طارق محمود مجزوبی چغتائی صاحب ھے اور یہ لاہور میں رہتے ہیں

بس اتنا ہی جنتا ہوں

علامہ لاہوتی کوئی اور ہیں اور حکیم صاحب کوئی اور ہیں۔

محمدداؤدالرحمن علی نے کہا ہے:
ذیشان نصر نے کہا ہے:
میں نے یہ کھانی پڑھی . بعض مقامات قابل گرفت محسوس ہوے. جیسا کہ حدیٹ شریف کا مفہوم ہے. کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کا گوبر ہڈیاں وغیرہ کو قضاۓ حاجت کے لۓ استعمال کرنے سے منع کیا ھے کیونکہ یہ جنات کی غذا ہیں. جبکہ یہاں جنات کی غذا انسانوں والی بتائ گئ ہے. اھل علم متوجہ ھوں
اگر کسی کومیری بات سے دکھ پہنچے توپیشگی معذرت

میں تو کم علم ہوں بس ایک بات پر توجہ دلانا چاہتا ہوں گزشتہ دنوں پاکستان کے بھت بڑے اور مایہ ناز مدرسہ جامعتہ الرشید کراچی کے مفتی اور ملک کے مایہ ناز عالم حضرت اقدس مفتی محمد صاحب حفظہ اللہ نے اس رسالے کو نہ پڑھنے کا فتویٰ جاری کیا ھے ان کا کہنا ھے اس میں کئی چزیں درست نہیں ھے ان کا تفصیلی فتویٰ آچکا ھے اور کچھ ہفتوں پہلے ایک مختصر فتویٰ ضرب مومن اخبار میں چھپ چکا ھے اس کی تفصیل ڈھونڈ کر بتا دوں گا

باقی میں نہیں جانتا جو کچھ جانتا ہوں وہ بتا دیا ھے اگر کسی کو دکھ پہنچاہو تو معذرت

حکیم طارق صاحب کے اس رسالے کو ہمارے علمائے دین نے بھی متنازع بنادیا ہے۔ آپ کو ایک اہم بات بتاتا چلوں کہ ماہنامہ عبقری دو علمائے دین کی زیرسرپرستی ہے جن میں ایک نام شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبیداللہ المفتی مدظلہ العالی ہیں اور دوسرے حضرت مولانا محمد کلیم صدیقی مدظلہ العالی ( پھلت )۔
عبقری چھپنے سے پہلے ایک مفتی صاحب پڑھتے ہیں جب وہ اجازت دیتے ہیں تب رسالہ چھپائی کے لئے چھاپہ خانے جاتا ہے۔
جامعہ مدنیہ قدیم لاہور کے حدیث کے استاد مولانا ولید صاحب مدظلہ العالی حکیم طارق صاحب کے خلیفہ ہیں اور حکیم صاحب کی غیر موجودگی میں مولانا ولید صاحب ہی بیان کرتے ہیں۔
میں کسی کو رسالہ پڑھنے کا پابند نہیں کرتا بس اتنا کہوں گا کہ مفتی محمد صاحب کا فتویٰ درست ہے اور ماہنامہ عبقری کے پاس بھی مفتی صاحب ہیں۔
غالباََ مفتی رفیع عثمانی یا مفتی تقی عثمانی کا قول پڑھا کہ اگر ایک چیز کے بارے میں دو فتوے ہوں تو اللہ سے دعا کریں کہ یا اللہ جو تیرے نزدیک ہے اس پر عمل کروا دے۔
 

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
شاہ صاحب فتویٰ تو شیئر ہونے دیں۔الغزالی پر قابل اور جید عالم موجود ہیں جو مفتیان کرام کا حد درجہ احترام کرتے ہوئےاپنی بات عرض کریں گے ان شاء اللہ
 

ذیشان نصر

وفقہ اللہ
رکن
حکیم خالد محمود صاحب سے تو میری ملاقات بھی ھو چکی ہے. ان کا رسالہ عبقری بھی میری نظر سے گزرا ھے. لاھور میں مذنگ کے پاس ان کا مطب ہے. حکیم صاحب روحانی و جسمانی دونوں علاج کرتے ھیں. اس کہانی کا انداز تحریر تو حکیم صاحب کا لگتا ھے باقی اللہ بہتر جانتا ھے
 

اسداللہ شاہ

وفقہ اللہ
رکن
ذیشان نصر نے کہا ہے:
حکیم خالد محمود صاحب سے تو میری ملاقات بھی ھو چکی ہے. ان کا رسالہ عبقری بھی میری نظر سے گزرا ھے. لاھور میں مذنگ کے پاس ان کا مطب ہے. حکیم صاحب روحانی و جسمانی دونوں علاج کرتے ھیں. اس کہانی کا انداز تحریر تو حکیم صاحب کا لگتا ھے باقی اللہ بہتر جانتا ھے
بھائی معذرت کے ساتھ ان کا نام طارق ہے خالد نہیں ہے۔خالد غالباََ انکے بھائی کا نام ہوگا۔
 

مفتی رضوان یونس،

وفقہ اللہ
رکن
اسداللہ شاہ نے کہا ہے:
ذیشان نصر نے کہا ہے:
میں نے یہ کھانی پڑھی . بعض مقامات قابل گرفت محسوس ہوے. جیسا کہ حدیٹ شریف کا مفہوم ہے. کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کا گوبر ہڈیاں وغیرہ کو قضاۓ حاجت کے لۓ استعمال کرنے سے منع کیا ھے کیونکہ یہ جنات کی غذا ہیں. جبکہ یہاں جنات کی غذا انسانوں والی بتائ گئ ہے. اھل علم متوجہ ھوں

بھائی ذیشان نصر ان حضرت نے گوبر ہڈیوں کا انکار تو نہیں کیا ہے۔

محمدداؤدالرحمن علی نے کہا ہے:
احمدقاسمی نے کہا ہے:
یہ صاحب ہیں کون؟یعنی ان کا اصل نام کیا ہے ؟ کہا ں کے رہنے والے ہیں؟

میں ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا بس اتنا جانتا ہوں ویسے یہ عالم دین ہیں ان کا نام حضرت حکیم محمد طارق محمود مجزوبی چغتائی صاحب ھے اور یہ لاہور میں رہتے ہیں

بس اتنا ہی جنتا ہوں

علامہ لاہوتی کوئی اور ہیں اور حکیم صاحب کوئی اور ہیں۔

محمدداؤدالرحمن علی نے کہا ہے:
ذیشان نصر نے کہا ہے:
میں نے یہ کھانی پڑھی . بعض مقامات قابل گرفت محسوس ہوے. جیسا کہ حدیٹ شریف کا مفہوم ہے. کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کا گوبر ہڈیاں وغیرہ کو قضاۓ حاجت کے لۓ استعمال کرنے سے منع کیا ھے کیونکہ یہ جنات کی غذا ہیں. جبکہ یہاں جنات کی غذا انسانوں والی بتائ گئ ہے. اھل علم متوجہ ھوں
اگر کسی کومیری بات سے دکھ پہنچے توپیشگی معذرت

میں تو کم علم ہوں بس ایک بات پر توجہ دلانا چاہتا ہوں گزشتہ دنوں پاکستان کے بھت بڑے اور مایہ ناز مدرسہ جامعتہ الرشید کراچی کے مفتی اور ملک کے مایہ ناز عالم حضرت اقدس مفتی محمد صاحب حفظہ اللہ نے اس رسالے کو نہ پڑھنے کا فتویٰ جاری کیا ھے ان کا کہنا ھے اس میں کئی چزیں درست نہیں ھے ان کا تفصیلی فتویٰ آچکا ھے اور کچھ ہفتوں پہلے ایک مختصر فتویٰ ضرب مومن اخبار میں چھپ چکا ھے اس کی تفصیل ڈھونڈ کر بتا دوں گا

باقی میں نہیں جانتا جو کچھ جانتا ہوں وہ بتا دیا ھے اگر کسی کو دکھ پہنچاہو تو معذرت

حکیم طارق صاحب کے اس رسالے کو ہمارے علمائے دین نے بھی متنازع بنادیا ہے۔ آپ کو ایک اہم بات بتاتا چلوں کہ ماہنامہ عبقری دو علمائے دین کی زیرسرپرستی ہے جن میں ایک نام شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبیداللہ المفتی مدظلہ العالی ہیں اور دوسرے حضرت مولانا محمد کلیم صدیقی مدظلہ العالی ( پھلت )۔
عبقری چھپنے سے پہلے ایک مفتی صاحب پڑھتے ہیں جب وہ اجازت دیتے ہیں تب رسالہ چھپائی کے لئے چھاپہ خانے جاتا ہے۔
جامعہ مدنیہ قدیم لاہور کے حدیث کے استاد مولانا ولید صاحب مدظلہ العالی حکیم طارق صاحب کے خلیفہ ہیں اور حکیم صاحب کی غیر موجودگی میں مولانا ولید صاحب ہی بیان کرتے ہیں۔
میں کسی کو رسالہ پڑھنے کا پابند نہیں کرتا بس اتنا کہوں گا کہ مفتی محمد صاحب کا فتویٰ درست ہے اور ماہنامہ عبقری کے پاس بھی مفتی صاحب ہیں۔ غالباََ مفتی رفیع عثمانی یا مفتی تقی عثمانی کا قول پڑھا کہ اگر ایک چیز کے بارے میں دو فتوے ہوں تو اللہ سے دعا کریں کہ یا اللہ جو تیرے نزدیک ہے اس پر عمل کروا دے۔
جب ایک چیز کے بارے میں دو مختلف قول ، رائے ، یا فتوے ھوں تو اس قول ، رائے ، یا فتوے پر عمل کیا جائے گا جو مبنی بر احتیاط ھو
اور امام اعظم رحمہ اللہ کا ایسے مواقع پر یہی عمل رہا ہے کہ امام صاحب کی رائے ایسے مواقع پر احتیاط پر مبنی ھوتی تھی
فقط واللہ اعلم
 

محمد نبیل خان

وفقہ اللہ
رکن
جزاک اللہ خیرا مفتی صاحب
جو باتیں عالم غائب سے تعلق رکھتی ہیں وہ ہمارے لئے عجیب بلکہ عجیب تر ہوتی ہیں ۔ اس لئے جب ان حالات واقعات کا مشاہدہ کرنے والا بیان کرتا ہے تو ہماری عقل میں عجیب و غریب باتیں آتی ہیں ۔ باقی مجھے یہ واقعات عجیب تو لگے ہیں مگر ناقابل یقین نہیں ۔
 

ذیشان نصر

وفقہ اللہ
رکن
محترم اسداللہ صاحب۔۔۔۔ ودیگر احباب ۔۔۔۔!
السلام علیکم !
انتہائی ادب و احترام کے ساتھ آپ کی خدمت میں چند گذارشات پیش کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔ اگر کوئی غلطی ہو تو اصلاح کی جائے ۔۔۔۔!
مجھے تو یہ واقعات مبنی بر حقیقت معلوم نہیں ہوتے ۔۔۔۔ کیونکہ ان میں سے اکثر باتیں ایسی ہیں جو عقل ونقل کے خلاف ہیں۔۔ جس طرح کے واقعات یہ لکھے ہیں اس پر میرا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اگر علامہ موصوف واقعی اتنے بڑے بزرگ اور پہنچی ہوئی شخصیت کہ وہ جنات کی مدد سے مدینہ شریف بھی پہنچ جاتے بڑے بڑے بزرگان سے جو کہ فوت شدہ ہیں ان سے ملاقات اور حال احوال بھی معلوم کر لیتے ہیں ۔۔۔ تو یہ امت کے تمام اختلافی مسائل کا حل کیوں ان بزرگوں سے نہیں پوچھتے تاکہ یہ امت کو جو فرقوں میں بٹ کر گمراہی کی طرف جارہی ہے کچھ اس کا مداوا ہو جائے ۔۔۔! یہ تمام متنازعہ احادیث کی تصحیح کیوں نہیں کروا لیتے ۔۔۔ جبکہ ان کے پاس صحابی جنات تک موجود ہیں ۔۔۔۔!
کیا جنات انہیں صرف اعمال ۔۔۔۔اذکار اور اوراد ہی بتاتے ہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں بتاتے ۔۔۔؟ یہ ان جنات کی مدد سے اپنے ملک کے عیاش اور بے دین حکمرانوں کو کیوں ٹھکانے نہیں لگواتے ۔۔۔۔؟ یہ اوبامہ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین آمیز فلم بنانے والے گستاخ اور ملعونین کو کیوں قتل نہیں کرتے ۔۔۔۔! جبکہ علامہ موصوف کو کوئی تنگ کرے تو یہ جن اسے ضرور سزادیتے ہیں ۔۔۔۔؟ عجیب بات ہے ۔۔۔۔؟
اس کے علاوہ کئی ایسی باتیں ہیں جو عقل کے خلاف ہیں ۔۔۔ جیسا کہ علامہ موصوف فرماتے ہیں کہ صحابی بابا اور دوسرے جنات ان کی بہت عزت کرتے ہیں اور انہیں اپنا حاکم بنایا ہوا ہے ۔۔۔ ۔اور ان کے مشورے کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے ۔۔۔ حالانکہ مجھ جیسا ادنیٰ علم رکھنے والا ایک شخص بھی یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ امت کا بڑے سے بڑا ولی آ جائے وہ صحابہ کے جوتے کی خاک کے برابر بھی نہیں ہو سکتا ۔۔۔ تو پھر یہ موصوف تو ان صحابی جن پر بھی اپنے حکم چلا رہے ہوتے ہیں ۔۔۔ حالانکہ ان کو خود صحابی جن کے تابع ہونا چاہیے تھا نا کہ صحابی جن کو ان کے تابع۔۔۔!
اور دوسرا ہو سکتا ہے آپ میں سے بعض لوگ میری ان باتوں کا یہ جواب دیں کہ جی یہ باتیں عالمِ غیب سے تعلق رکھتی ہیں ۔۔۔ اور غیب کی باتوں کا عقل ادراک نہیں کر سکتے ۔۔۔ تو میری دانست میں یہ جواز غلط ہے کیونکہ دین عقل اور نقل دونوں پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بھی نقلی دلائل کے ساتھ ساتھ عقلی دلائل کو بھی ذکر فرمایا ہے ۔۔۔ اس لئے نہ صرف نقل ہی نجات کے لئے کافی ہے اور نہ صرف عقل ۔۔۔ بلکہ جب یہ دونوں اکھٹے ہو جائیں تو پھر انسان نجات کا راستہ پا جاتا ہے ۔۔۔!
(میری ان گذارشات کا غلط مطلب نہ لیا جائے ۔۔۔ میں علماء کرام اور بزرگوں کی بہت قدر کرتا ہوں مگر جو بات دل میں کھٹک رہی ہو اس کہنے سے گریز نہیں کرتا۔۔۔۔ تاکہ اگر میں غلط ہوں تو میری تصحیح ہو سکے۔۔۔ )
 

اسداللہ شاہ

وفقہ اللہ
رکن
ذیشان نصر نے کہا ہے:
محترم اسداللہ صاحب۔۔۔۔ ودیگر احباب ۔۔۔۔!
السلام علیکم !
وعلیکم السلام

انتہائی ادب و احترام کے ساتھ آپ کی خدمت میں چند گذارشات پیش کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔ اگر کوئی غلطی ہو تو اصلاح کی جائے ۔۔۔۔!
مجھے تو یہ واقعات مبنی بر حقیقت معلوم نہیں ہوتے ۔۔۔۔ کیونکہ ان میں سے اکثر باتیں ایسی ہیں جو عقل ونقل کے خلاف ہیں۔۔ جس طرح کے واقعات یہ لکھے ہیں اس پر میرا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اگر علامہ موصوف واقعی اتنے بڑے بزرگ اور پہنچی ہوئی شخصیت کہ وہ جنات کی مدد سے مدینہ شریف بھی پہنچ جاتے بڑے بڑے بزرگان سے جو کہ فوت شدہ ہیں ان سے ملاقات اور حال احوال بھی معلوم کر لیتے ہیں ۔۔۔ تو یہ امت کے تمام اختلافی مسائل کا حل کیوں ان بزرگوں سے نہیں پوچھتے تاکہ یہ امت کو جو فرقوں میں بٹ کر گمراہی کی طرف جارہی ہے کچھ اس کا مداوا ہو جائے ۔۔۔! یہ تمام متنازعہ احادیث کی تصحیح کیوں نہیں کروا لیتے ۔۔۔ جبکہ ان کے پاس صحابی جنات تک موجود ہیں ۔۔۔۔!

کیا آپ کا یقین ہے کہ صحابی جن موجود ہیں
اگر ہیں اور یقیناََ ہیں توہوسکتا ہے انھوں نے بتایا بھی ہو لیکن امت کے فرقے بننے ہیں اور ایک فرقہ نجات والا ہوگا یہ حدیث میں ہے۔

کیا جنات انہیں صرف اعمال ۔۔۔۔اذکار اور اوراد ہی بتاتے ہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں بتاتے ۔۔۔؟ یہ ان جنات کی مدد سے اپنے ملک کے عیاش اور بے دین حکمرانوں کو کیوں ٹھکانے نہیں لگواتے ۔۔۔۔؟ یہ اوبامہ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین آمیز فلم بنانے والے گستاخ اور ملعونین کو کیوں قتل نہیں کرتے ۔۔۔۔! جبکہ علامہ موصوف کو کوئی تنگ کرے تو یہ جن اسے ضرور سزادیتے ہیں ۔۔۔۔؟ عجیب بات ہے ۔۔۔۔؟

ہمارے گزرے ہوئے بزرگوں نے کتنے توہین کرنے والوں کو جنات کے ذریعے تہ تیغ کروایا۔ یہ سب کام اسباب کے ہیں کل کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ نعوذباللہ اللہ موجود نہیں ہے کیونکہ اللہ کے سامنے محبوب دوجہاں کی توہین ہوئی اور اللہ نے کچھ نہیں کیا۔

اس کے علاوہ کئی ایسی باتیں ہیں جو عقل کے خلاف ہیں ۔۔۔ جیسا کہ علامہ موصوف فرماتے ہیں کہ صحابی بابا اور دوسرے جنات ان کی بہت عزت کرتے ہیں اور انہیں اپنا حاکم بنایا ہوا ہے ۔۔۔ ۔اور ان کے مشورے کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے ۔۔۔ حالانکہ مجھ جیسا ادنیٰ علم رکھنے والا ایک شخص بھی یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ امت کا بڑے سے بڑا ولی آ جائے وہ صحابہ کے جوتے کی خاک کے برابر بھی نہیں ہو سکتا ۔۔۔ تو پھر یہ موصوف تو ان صحابی جن پر بھی اپنے حکم چلا رہے ہوتے ہیں ۔۔۔ حالانکہ ان کو خود صحابی جن کے تابع ہونا چاہیے تھا نا کہ صحابی جن کو ان کے تابع۔۔۔!

بھائی انسان اشرف المخلوقات ہے علامہ صاحب صحابی بابا پر نہ حکم چلاتے ہیں نہ اس توہین کا سوچ سکتے ہیں۔ آپ مجھے ایک بات بتائیں ایک عالم کی کیا حیثیت ہے کہ ایک عابد ساری رات عبادت کرے اور ایک عالم ساری رات آرام کرے تب بھی عالم کو عابد پر فضیلت ہے۔ بھائی اس سب کے باوجود کتنے علمائے کرام و شیوخ عظام حضرت پیرجی نفیس شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے حکم کو مانتے تھے۔ بھائی جان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی نیا پھل آتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں موجود سب سے چھوٹے بچے کو پہلے دیتے تھے یہ محبت اور عنایات کا معاملہ ہوتا ہے۔ برادر عزیز بندہ ناچیز گناہگار ہے لیکن علمائے کرام صرف سید ہونے کی وجہ سے خادم کے لئے اپنی جگہ چھوڑ دیتے ہیں ابھی چند دن پہلے ایک عالم نے بندہ عاصی کے جوتے سیدھے کردیے اس سے مراد یہ نہیں لیا جائیگا کہ بندہ خطاکار حضرات علمائے کرام سے رتبے اور مقام میں بڑھ گیا ہے امید ہے بھائی کو بات سمجھ آگئی ہوگی۔

اور دوسرا ہو سکتا ہے آپ میں سے بعض لوگ میری ان باتوں کا یہ جواب دیں کہ جی یہ باتیں عالمِ غیب سے تعلق رکھتی ہیں ۔۔۔ اور غیب کی باتوں کا عقل ادراک نہیں کر سکتے ۔۔۔ تو میری دانست میں یہ جواز غلط ہے کیونکہ دین عقل اور نقل دونوں پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بھی نقلی دلائل کے ساتھ ساتھ عقلی دلائل کو بھی ذکر فرمایا ہے ۔۔۔ اس لئے نہ صرف نقل ہی نجات کے لئے کافی ہے اور نہ صرف عقل ۔۔۔ بلکہ جب یہ دونوں اکھٹے ہو جائیں تو پھر انسان نجات کا راستہ پا جاتا ہے ۔۔۔!
(میری ان گذارشات کا غلط مطلب نہ لیا جائے ۔۔۔ میں علماء کرام اور بزرگوں کی بہت قدر کرتا ہوں مگر جو بات دل میں کھٹک رہی ہو اس کہنے سے گریز نہیں کرتا۔۔۔۔ تاکہ اگر میں غلط ہوں تو میری تصحیح ہو سکے۔۔۔ )
 

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
کئی سوالات ذہن میں ہیں ان میں فی الحال اس کا جواب چاہئے کسی صحابی کی زیارت کر نے والا بحالتِ ایمان تابعی کہلاتا ہے تو گویا موصوف علامہ پُر اسراری صاحب کو تابعیت کاشرف حاصل ہوگیا؟
مشہور قاعدہ ہے “مثال اور ممثل لہ“ میں مطابقت ہونی چاہئے جب کہ ذیشان بھائی لفظ “اس کے “علاوہ“ سے جو سوال کیا ہے شاہ صاحب کا جواب لفظ“بھائی“ کی تشریح سے کوئی مطابقت نہیں معلوم ہوتی ۔اس سلسلہ میں فرزنددہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا قصہ کافی مشہور ہے حدیث‘قتل الموذی“ کی سند بھی مختصر ہوگئی ہے ۔جبکہ وہ ملاقات بڑی مختصر تھی ۔یہاں تو لمبے لمبے اسفار ہورہے ہیں لیکن کوئی ایسی معلومات بہم نہیں پہنچ رہی ہے جس کا فائدہ امت کو اس طرح ہوجس طرح کی صحابہ کرام کی شان ہوا کرتی تھی ۔
میں آپ کو بتاؤں ہمارے یہاں ایک بزرگ ہیں جن کی کتابوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی تعلیم سے پورا ہندوستان با الخصوص غیر مسلم حضرات امڈ پڑ رہے ہیں بس کوئی دم ایسا ہوگا کہ سارا ملک متشرع ہو جائیگا ۔جبکہ حقیقت یہ ہے جًم غفیر تو کجا ایک آدھ آدمی بھی کنوٹ ہو گیا تو بس اللہ ہی حافظ ہے۔ نہ ہمیں کہیں کتابوں والا ازدھام نظر آرہا ہے نہ کوئی ہلچل ۔بعض معتبر حضرات کی رائے نقل کروں توکتنے لوگ حیرت زدہ ہو جائیں۔
قصہ مختصر علامہ پُر اسراری کے مضامین میں درجنوں باتیں قابل گرفت ہیں کوئی با ہمت چاہے تو جن باتوں کی نشاندہی جناب ذیشان بھائی نے کی ان کو اور دوسری باتیں سوالنامہ کی صورۃ میں درالعلوم دیوبند بھیج کر فتویٰ منگالے۔بھرم کھل جائیگا ۔
خواجہ صاحب نے کہا تھا ۔بت پرستی دین احمد میں کبھی آئی نہیں ۔۔۔اس لئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں ۔
اللہ ہم سب کو ہدایت کی راہ پر گامزن فر مائے ۔آمین
 

اسداللہ شاہ

وفقہ اللہ
رکن
احمدقاسمی نے کہا ہے:
لیکن کوئی ایسی معلومات بہم نہیں پہنچ رہی ہے جس کا فائدہ امت کو اس طرح ہو
مولانا میں اپنے شروع کئے گئے موضوع کو ختم کئے دیتا ہوں۔
 

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
اسداللہ شاہ نے کہا ہے:
احمدقاسمی نے کہا ہے:
لیکن کوئی ایسی معلومات بہم نہیں پہنچ رہی ہے جس کا فائدہ امت کو اس طرح ہو
مولانا میں اپنے شروع کئے گئے موضوع کو ختم کئے دیتا ہوں۔

شاہ صاحب ہماری تحریر سے آپ کو اشتباہ ہو گیا میں نے یہ بات صرف جنات صحابی رسول کی حوالہ سے کہی تھی نہ کہ موضوع ختم کر دینے کے حوالہ سے ۔جاری رکھتے اچھا ہوتا۔
 
Top